Skip to playerSkip to main content
ہمارے نبی ﷺ کا یہی حال و مرتبہ تھا کہ آپ ﷺ کو بیویوں کی کثرت اپنے رب عزوجل کی عبادت سے نہ روکتی تھی
آپ کی خالص محبت ذات الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہ قدرت اور اس سے مناجات میں تھی
مستند حوالہ: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ (قاضی عیاض مالکی رحمہ اللہ)
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے سبحان اللہ لکھیں اور فالو کریں!

آٹھویں فصل | ضروریات زندگی کی دوسری قسم (حصہ 4)

اب تم کو یہ بات معلوم ہو گئی ہو گی کہ نکاح پر قدرت نہ ہونا عیب و نقص ہے اور فضیلت یہ ہے کہ نکاح پر قدرت ہو پھر(نفسانی شہوات کا) قلع قمع کرے یا تو مجاہدہ کے ساتھ جیسے حضرت عیسی علیہ السلام نے کیا تھا یا خدا کی طرف سے کفایت ہو جیسا حضرت یحیی علیہ السلام کا حال تھا، یہ ایک زائد فضیلت ہے کیونکہ بسا اوقات شہوت مشغول کر دیتی ہے اور اس کو دنیا میں ڈال دیتی ہے،

پھر وہ شخص جس کو یہ قدرت بھی دی گئی ہو اور اس کا مالک بھی بنایا گیا ہو اور اس میں امور ضروریہ کو قائم بھی کرے پھر وہ اپنے رب عزوجل سے غافل نہ رہے، اس کا بڑا درجہ ہے ، ہمارے نبی ﷺ کا یہی حال و مرتبہ تھا کہ آپ ﷺ کو بیویوں کی کثرت اپنے رب عزوجل کی عبادت سے نہ روکتی تھی بلکہ اس نے آپ ﷺ کی زیادتی میں اور زیادتی کی، کیونکہ آپ ﷺ نے ان بیبیوں کو پاک دامن عفیفہ بنا دیا، بلکہ آپ ﷺ بیویوں کے حقوق قائم فرماتے ، ان کے معاش کی جستجو کرتے تھے اور آپ ﷺ نے ان کو یہ صراحت کے ساتھ بتا دیا تھا کہ اگر چہ بیویوں کی کثرت اہل دنیا کے لیے حظ (لذت) میں سے ہے مگرمیرے لیے یہ دنیا کا حظ نہیں ،

حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ
’’ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ دُنْيَاكُمْ ‘‘
تمھاری دنیا میں سے مجھے یہ چیزیں پسند ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ نے جوعورتوں اور خوشبو کی پسندیدگی کا اظہار فرمایا یہ دونوں اگرچہ اوروں کے لیے دنیاوی لذت ہے مگر حضورﷺ کے لیے یہ دنیا کے لیے نہیں ہے بلکہ اخروی فوائد کے لیے ہیں، بسبب اس کے کہ ہم نے ترویح کےسلسلہ میں ذکر کیا اور خوشبو کا استعمال فرشتوں کی ملاقات کے لیے تھا اور ایسے بھی کہ خوشبو کا استعمال جماع پر برانگیختہ کرتا ہے اور اس کا مددگار ہے اور سبب جماع کا مہیج دمحرک ہے لیکن ان دونوں یعنی عورتوں اور خوشبو سے محبت ان کے مذکورہ فوائد کے لیے نہ تھی بلکہ کسی اور سبب کے لیے تھی نہ کہ قطع شہوت کے لیے۔آپ کی خالص محبت ذات الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہ قدرت اور اس سے مناجات میں تھی، اس لیے حضورﷺ نے دونوں محبتوں کو جدا جدا بیان کر کے دونوں کی حالتوں کا فرق بتا دیا۔

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#ShanEMustafa
#ProphetMuhammad
#SeeratUnNabi
#Islam
#TGG
#Sunnah
#Seerah
#IslamicStatus
#AshShifa
#IslamicShorts
#IslamicHistory
#IslamicKnowledge
#Shorts
#QadiIyad
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اب تم کو یہ بات معلوم ہو گئی ہوگی کہ نکاح پر قدرت نہ ہونا عیب و نقص ہے اور
00:06فضیلت یہ ہے کہ نکاح پر قدرت ہو پھر نفسانی شہوات کا قلعہ کما کرے
00:11یا تو مجاہدہ کے ساتھ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا یا خدا کی طرف سے کفایت ہو
00:18جیسا حضرت یحییٰ علیہ السلام کا حال تھا
00:20یہ ایک زائد فضیلت ہے کیونکہ بساوقات شہوت مجغول کر دیتی ہے اور اس کو دنیا میں ڈال دیتی ہے
00:27پھر وہ شخص جس کو یہ قدرت بھی دی گئی ہو اور اس کا مالک بھی بنایا گیا ہو اور
00:32اس میں امورِ ضروریہ کو قائم بھی کرے پھر وہ اپنے رب عز و جل سے غافل نہ رہے اس
00:38کا بڑھا درجہ ہے
00:39ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حال و مرتبہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں
00:45کی کسرت اپنے رب عز و جل کی عبادت سے نہ روکتی تھی بلکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ
00:51وسلم کی زیادتی میں اور زیادتی کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بیویوں کو پاک دامن عفیفہ
00:58بنا دیا
00:58بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں کے حقوق قائم فرماتے ان کے معاش کی جستجو کرتے تھے اور آپ
01:05صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ سراحت کے ساتھ بتا دیا تھا کہ اگرچہ بیویوں کی کسرت اہل
01:11دنیا کے لیے حض میں سے ہے مگر میرے لیے یہ دنیا کا حض نہیں
01:17حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ حبیبہ علیہ من دنیاکم تمہاری دنیا میں سے مجھے یہ چیزیں پسند
01:27ہیں
01:27اس سے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عورتوں اور خوشبو کی پسندیدگی کا اظہار فرمایا
01:35یہ دونوں اگرچہ عوروں کے لیے دنیاوی لذت ہیں
01:39مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ دنیا کے لیے نہیں ہے بلکہ اخروی فوائد کے لیے ہیں
01:45بسبب اس کے کہ ہم نے ترویخ کے سلسلہ میں ذکر کیا اور خوشبو کا استعمال فرشتوں کی ملاقات کے
01:52لیے تھا
01:52اور ایسے بھی کہ خوشبو کا استعمال جماع پر برانگختہ کرتا ہے اور اس کا مددگار ہے
01:58اور سبب جماع کا مہیج دا محرک ہے
02:01لیکن ان دونوں یعنی عورتوں اور خوشبو سے محبت ان کے مذکورہ فوائد کے لیے نہ تھی
02:07بلکہ کسی اور سبب کے لیے تھی نہ کہ قطع شہوت کے لیے
02:11آپ کی خالص محبت ذات الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہ قدرت اور اس سے مناجات میں تھی
02:18اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں محبتوں کو جدہ جدہ بیان کر کے دونوں کی حالتوں کا
02:24فرق بتا دیا
02:25موسیقی
02:27موسیقی
Comments

Recommended