تصور کریں! ایک ایسی معجزاتی زبان مبارک جو ہر قبیلے کے مخصوص محاورے اور بلاغت کے عین مطابق ہو۔
آپ ﷺ نے یمن کے امیر وائل بن حجر اور عطیہ سعدیؓ سے ان کے اپنے قبائلی طرزِ خطاب میں کلام فرمایا تاکہ اللہ کا پیغام ان کی اپنی بول چال میں واضح ہو جائے۔
امام قاضی عیاضؒ کی 'الشفا شریف' اور ابونعیم کی 'دلائل النبوۃ' کے مطابق یہ آپ ﷺ کی بے مثل فصاحت و بلاغت کی عظیم دلیل ہے۔
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" لکھیں اور چینل سبسکرائب کریں!
پانچویں فصل | آپ ﷺ کی فصاحت و بلاغت (حصہ 3)
وائل بن حجر این سرداران یمن کے امیر تھے، غور کرو یہ خطوط اس خط سے کہاں ملتے ہیں جو حضرت انس رضی اللہ عنہ کو لکھ کر دیا تھا اور وہ فرائض میں مشہور ہے ، چونکہ ان لوگوں کی بول چال ہی ایسی تھی اور ان کی بلاغت ہی یہ تھی اور ان کے محاورات ہی یہ تھے، اس لیے حضور ﷺ نے ان کے لیے ان ہی کا طرز خطاب روا کیا تا کہ لوگوں پر وہ باتیں ظاہر کریں جو آپ ﷺ پر اللہ عز وجل نے نازل فرمائی ہیں اور یہ کہ لوگوں کو آپ ﷺ اسی طرح تعلیم دیں جس طرح ان کی بول چال ہے۔
(دلائل النبوۃ لابی نعیم کما فی مناہل الصفاء للسیوطی ص ۴۸)
جیسا کہ عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ
’’ فَاِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَاھِيَ الْمَنْطِيَةُ وَالْيَدُ السُّفْلٰى هِيَ الْمُنْطَاةُ ‘‘ ۔
اوپر کا ہاتھ دینے والا اور نیچے کا ہاتھ لینے والا ہے ،
عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری لغت میں کلام فرمایا۔
(مستدرک ج ۴ ص ۳۲۷ ،سنن بیہقی کتاب الزکوۃ ج ۴ ص ۱۹۸)
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#WailBinHujr
#PropheticEloquence
#AtiyaSaadi
#Seerah
#ProphetMuhammad
#SeeratunNabi
#SeerahShorts
#FasahatEMustafa
#IslamicShorts
#IslamicHistory
#KalamENabawi
#ShifaShareef
#AshShifa
#TGG
#ThinkGoodGreen
Comments