Skip to playerSkip to main content
حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضورﷺ سے منقول ہے کہ مجھ کو لوگوں پر چار باتوں میں فضیلت دی گئی ہے :
۱- سخاوت، ۲- شجاعت، ۳۔ کثرت جماع ، ۴- قوت گرفت ۔
اس لیے حضور ﷺ ان میں سے ہیں جن کو طاقت دی گئی اور بہت ہی دی گئی، اس لیے حضور ﷺ کو آزاد عورتوں کو نکاح میں لانے کی تعداد مباح کر دی گئی۔

یہ مستند اور ایمان افروز حقائق قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم اور مستند کتاب "الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ" (مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ) سے من و عن نقل کیے گئے ہیں، تاکہ امتِ مسلمہ تک سیرتِ پاک کا بالکل درست اور علمی پہلو منتقل ہو سکے۔

ہمارے نبی ﷺ کا یہی حال و مرتبہ تھا کہ آپ ﷺ کو بیویوں کی کثرت اپنے رب عزوجل کی عبادت سے نہ روکتی تھی۔ بلکہ آپ ﷺ کی خالص محبت ذات الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہ قدرت اور اس سے مناجات میں تھی۔ اور بلاشبہ جس نے آپ ﷺ کو پہلے نہ دیکھا ہوتا وہ آپ ﷺ کو دیکھ کر ہیبت زدہ، ترسیدہ ہو جاتا تھا۔

👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے [سبحان اللہ] لکھیں اور دین کی ترویج کے لیے فالو کریں!


#نکاح
#FazailEMustafa
#FazailEAmbiya
#ProphetMuhammad
#SeeratUnNabi
#Islam
#IslamicHistory
#AlShifaShareef
#AshShifa
#MaqamEMustafa
#AzmatEMustafa
#KhasaisEMustafa
#SeeratUnNabi
#ThinkGoodGreen
#TGG

Category

📚
Learning
Transcript
00:00حضرتِ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ مجھ
00:07کو لوگوں پر چار باتوں میں فضیلت دی گئی ہے
00:10ایک سخاوت دو شجاعت تین کسرتِ جمع چار قوتِ گرفت
00:17اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہیں جن کو طاقت دی گئی اور بہت ہی دی
00:22گئی
00:23اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آزاد عورتوں کو نکاح میں لانے کی تعداد مباہ کر دی گئی
00:29جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے لیے مباہ نہیں
00:33ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حال و مرتبہ تھا
00:37کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کی کسرت اپنے رب عزمجل کی عبادت سے نہ روکتی تھی
00:43بلکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادتی میں اور زیادتی کی
00:48کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بیویوں کو پاک دامن عفیفہ بنا دیا
00:53آپ کی خالص محبت، ذاتِ الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہِ قدرت
00:58اور اس سے مناجات میں تھی
01:00بلا شبہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے نہ دیکھا ہوتا
01:05وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر حیبت زدہ ترسیدہ ہو جاتا تھا
01:38کتاب کا مکمل نام
01:44آٹھویں فصل
01:47ضروریات زندگی کی دوسری قسم
01:50ضروریات زندگی کی دوسری قسم
01:52جس کی زیادتی اور قسرت پر بالا اتفاق تعریف کی جاتی ہے
01:57اور اس کی قسرت پر فخر کیا جاتا ہے
01:59جیسے نکاح اور بلند مرتبہ
02:02لیکن نکاح میں تو شرعن بالا اتفاق محمود ہے
02:06کہ یہ کمال اور صحت مردانگی کی دلیل ہے
02:09اس کی قسرت پر عادتا ہمیشہ فخر کیا جاتا ہے
02:13اس پر مدح کرنا پرانی خسلت ہے
02:15لیکن شریعت متحرہ میں تو یہ سنت معصورہ ہے
02:18حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا
02:22اس بات میں وہ شخص افضل ہے جس کی زیادہ بیویاں ہیں
02:25صحیح بخاری جل سات صفحہ چار
02:28اس سے ان کا اشارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے
02:32اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
02:35کہ نکاح کیا کرو اور نسل بڑھاؤ
02:37کیونکہ میں تم سے اور امتوں پر فخر کروں گا
02:40مجموع الزوائد جل تین صفحہ دو سو تری پن
02:44آپ نے تبطل یعنی نکاح کر کے
02:47معلق چھوڑ دینے کو منع فرمایا
02:48صحیح بخاری جل سات صفحہ پانچ
02:51صحیح مسلم جل دو صفحہ ایک ہزار بیس
02:54باوجود یہ کہ اس میں قطع شہوات
02:57اور غزے بسر آنکھوں کا پست کرنا ہے
02:59حالانکہ ان دونوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
03:02نے اپنے اس فرمان میں تمبیح فرمائی ہے
03:05کہ جب استطاعت ہو
03:06تو چاہیے کہ وہ نکاح کرے
03:08کیونکہ نکاح آنکھوں کو پست کر دیتا ہے
03:11اور نظر و نکاح کی حفاظت کرتا ہے
03:14صحیح بخاری جل سات صفحہ چار
03:16صحیح مسلم جل دو صفحہ ایک ہزار اٹھارہ
03:19تبرانی کبیر جل دس صفحہ ایک ہزار اوننچاس
03:22حتیٰ کہ علماء کرام نے نکاح کرنے کو
03:25زہد کے خلاف نہیں دیکھا
03:28سہل بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں
03:31کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
03:35کو بیویاں محبوب تھیں
03:37تو پھر اس میں زہد کیا ہو سکتا ہے
03:39یعنی یہ زہد کے خلاف نہیں
03:42اس طرح ابن اعینا رحمہ اللہ نے کہا
03:45کہ بلا شبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں
03:49جو زہد ہیں وہ بیویاں اور لونڈیاں رکھتے تھے
03:52یعنی وہ کسیر الازواج تھے
03:54چنانچہ اس سلسلے میں حضرت علی
03:57حضرت حسن اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم
04:01کسیر الازواج معروف ہیں
04:02اکثر علماء نے اس کو مکروح جانا ہے
04:05کہ انسان خدا کے دربار میں اس حال میں پہنچے
04:09کہ وہ ناقت خدا غیر شادی شدہ ہو
04:11اگر یہ سوال کیا جائے
04:13کہ نکاح اور کسرت ازواج کیوں کر فضیلت کا موجب بن سکتی ہے
04:18حالانکہ حضرت یحیٰ بن سکریہ رحمہ اللہ کی
04:21اللہ عزواجل نے ان کے غیر شادی شدہ
04:24حسورہ ہونے کے باوجود تاریف کی ہے
04:27پس وہ کیوں کر سنائے باری عزواجل کے مستحق ہو سکتے تھے
04:31جبکہ وہ اس فضیلت سے آجست تھے
04:34اور یہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے
04:38کہ وہ عورتوں سے الگ رہے
04:40اگر یہ عمر ایسا ہی ہوتا
04:42جیسا کہ بیان کرتے ہو
04:44تو ضرور وہ نکاح کرتے
04:46اس کا جواب یہ ہے
04:48کہ اللہ عزواجل نے
04:49جو حضرت یحیٰ علیہ السلام کے حسور
04:52یعنی غیر شادی شدہ کی تاریف کی ہے
04:55اس کا یہ مطلب نہیں
04:56کہ وہ نامرد تھے
04:58یا ان کا سر مرد تھا ہی نہیں
05:00بلکہ اس پر بڑے بڑے مفسرین
05:03اور علماء ناقدین کا انکار منقول ہے
05:05وہ کہتے ہیں کہ یہ تو نقص اور عیب ہے
05:08جو انبیاء علیہ السلام کی شان کے لائق نہیں
05:11بلکہ حسورہ کے معنی یہ ہیں
05:13کہ وہ گناہوں سے معصوم تھے
05:15اور وہ گناہ نہ کرتے تھے
05:17بعض کہتے ہیں وہ گناہ
05:19زنا سے رکے ہوئے تھے
05:21بعض نے کہا
05:22کہ وہ نفسانی خواہشات سے مجدنب
05:24یعنی الگ تھے
05:25اور بعض نے کہا
05:27کہ ان کا عورتوں کی طرف میلان تھا ہی نہیں
05:30اب تم کو یہ بات معلوم ہو گئی ہوگی
05:33کہ نکاح پر قدرت نہ ہونا
05:35عیب و نقص ہے
05:36اور فضیلت یہ ہے
05:38کہ نکاح پر قدرت ہو
05:40پھر نفسانی شہوات کا قلعہ کما کرے
05:42یا تو مجاہدہ کے ساتھ
05:44جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا
05:47یا خدا کی طرف سے کفایت ہو
05:49جیسا حضرت یحیٰ علیہ السلام کا حال تھا
05:51یہ ایک زائد فضیلت ہے
05:53کیونکہ بساوقات
05:54شہوت مجغول کر دیتی ہے
05:56اور اس کو دنیا میں ڈال دیتی ہے
05:58پھر وہ شخص جس کو یہ قدرت بھی دی گئی ہو
06:01اور اس کا مالک بھی بنایا گیا ہو
06:03اور اس میں امورِ ضروریہ کو قائم بھی کرے
06:05پھر وہ اپنے رب عز و جل سے غافل نہ رہے
06:08اس کا بڑھا درجہ ہے
06:09ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حال و مرتبہ تھا
06:13کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کی کسرت
06:16اپنے رب عز و جل کی عبادت سے نہ روکتی تھی
06:19بلکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادتی میں اور زیادتی کی
06:24کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بیویوں کو پاک دامن عفیفہ بنا دیا
06:29بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں کے حقوق قائم فرماتے
06:33ان کے معاش کی جستجو کرتے تھے
06:35اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ سراحت کے ساتھ بتا دیا تھا
06:40کہ اگرچہ بیویوں کی کسرت اہل دنیا
06:42کے لیے حض میں سے ہے
06:45مگر میرے لیے یہ دنیا کا حض نہیں
06:48حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
06:51کہ حبیبہ علیہ من دنیاکم
06:55تمہاری دنیا میں سے مجھے یہ چیزیں پسند ہیں
06:59اس سے معلوم ہوا
07:00کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:03جو عورتوں اور خوشبو کی پسندیدگی کا اظہار فرمایا
07:07یہ دونوں اگرچہ عوروں کے لیے دنیاوی لذت ہیں
07:10مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
07:13یہ دنیا کے لیے نہیں ہے
07:14بلکہ اخروی فوائد کے لیے ہیں
07:17بسبب اس کے کہ ہم نے ترویح کے سلسلہ میں ذکر کیا
07:20اور خوشبو کا استعمال فرشتوں کی ملاقات کے لیے تھا
07:24اور ایسے بھی کہ خوشبو کا استعمال
07:26جماع پر برانگختہ کرتا ہے
07:28اور اس کا مددگار ہے
07:30اور سبب جماع کا مہیج دا محرک ہے
07:32لیکن ان دونوں یعنی عورتوں اور خوشبو سے محبت
07:36ان کے مذکورہ فوائد کے لیے نہ تھی
07:38بلکہ کسی اور سبب کے لیے تھی
07:40نہ کہ قطع شہوت کے لیے
07:42آپ کی خالص محبت
07:44ذاتِ الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہ قدرت
07:47اور اس سے مناجات میں تھی
07:49اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:52دونوں محبتوں کو جدہ جدہ بیان کر کے
07:54دونوں کی حالتوں کا فرق بتا دیا
07:58پس فرمایا
07:59نماز میری آنکھوں کی تھنڈک بنا دی گئی
08:02سو اب حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا
08:06عورتوں کی آزمائش میں مبتلا ہونے سے
08:09باز رہنے میں برابر ہو گئے
08:11اور عورتوں کے ساتھ قیام فرمانے سے
08:13فضیلت میں ان سے بڑھ گئے
08:15اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
08:18ان میں سے ہیں جن کو طاقت دی گئی
08:21اور بہت ہی دی گئی
08:23اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
08:25آزاد عورتوں کو نکاح میں لانے کی تعداد
08:28مباہ کر دی گئی
08:29جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا
08:32کسی کے لیے مباہ نہیں
08:33ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی
08:37حضور صلی اللہ علیہ وسلم
08:39ایک ہی وقت میں دن یا رات میں
08:41گیارہ عورتوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے
08:43حضرت انس رضی اللہ عنہ
08:45کہتے ہیں کہ ہم باتیں کیا کرتے تھے
08:48کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
08:50تیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی
08:52نسائی نے اس کی تخریج کی ہے
08:54اسی طرح ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
08:57تاؤس سے مروی
08:59کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
09:01جماع میں چالیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی
09:04اس کے مثل
09:05صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
09:09حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد شدہ لونڈی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں
09:15کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نو بیویوں پر دورہ فرمایا
09:21اور دوسری کے پاس جانے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا
09:26اور فرمایا یہ بہت اچھا اور پاکیزے طریقہ ہے
09:30حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا
09:33کہ میں آج رات سو عورتوں کے یا ننانوے عورتوں کے پاس جاؤں گا
09:37انہوں نے ایسا کیا
09:39حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
09:42کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی پیٹھ میں سو آدمیوں کی طاقت تھی
09:46حالانکہ ان کے حبالہ اقد میں تین سو بیویاں
09:50یا ان کی تحویل میں تین سو باندیاں تھی
09:52شک راوی ہے
09:53نقاش رحمہ اللہ اور ان کے سوا دوسروں نے نقل کیا
09:57سات سو بیویاں اور تین سو باندیاں تھی
10:00اور حضرت دعوود علیہ السلام باوجود کمال زہد
10:03اور اپنے ہاتھ سے قصب معاش کے
10:05آپ علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھی
10:08اور جب ایک اور عورت سے نکاح کر کے سو پورا کرنے کا ارادہ فرمایا
10:12تو اللہ عز و جل نے اس پر خبردار کرتے ہوئے فرمایا
10:16انہذا اخی
10:18لہو تسعون و تسعون ناجتن
10:21بے شک یہ میرا بھائی ہے
10:23اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں
10:27حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے
10:30کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے
10:33کہ مجھ کو لوگوں پر چار باتوں میں فضیلت دی گئی ہے
10:37ایک سخاوت
10:39دو شجاعت
10:40تین کسرت جمع
10:42چار قوت گرفت
10:44تبرانی اوسط بسند جید
10:47کمافی مناحل صفہ
10:48صفہ چھپن
10:49لیکن جاہو مرتبہ
10:51سو اقلا کے نزدیک یہ عادتاً محمود ہے
10:54اس کے جاہو جلال کے موافق ہی
10:57لوگوں کے دلوں میں عظمت ہوتی ہے
10:59بے شک اللہ عز و جل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توصیف میں ارشاد فرمایا
11:05وَجِهَنْ فِدْدُنْيَا وَالْآخِرَةِ
11:08آلِ عِمْرَانَ 45
11:09باعزت ہوگا دنیا و آخرت میں
11:14لیکن اس کی آفتیں بہت ہیں
11:16پس وہ بعض لوگوں کے لیے
11:19آخرت کے فائدے کے لحاظ سے مزر ہے
11:22اسی وجہ سے بعض نے اس کی مزمت کی ہے
11:25اور اس کو برا کہا ہے
11:27اور اس کی زد برعکس خلاف کی مدھ کی ہے
11:31اور شریعت میں گمنامی کی مدھ
11:34اور زمین پر اترانے کی مزمت آئی ہے
11:37حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
11:39اللہ عز و جل نے وہ مرتبہ انعیت فرمایا تھا
11:43کہ زمانہ جاہلیت میں
11:45یعنی قبل اظہار نبوت
11:47اور بعد اظہار نبوت
11:49لوگوں کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
11:52بڑی عظمت و حیبت تھی
11:53حالاکہ کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے
11:59اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام
12:02رضوان اللہ علیہم اجمائین کو عیزائیں پہنچاتے
12:06اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
12:09ترہا ترہا کی تکلیفیں دیتے تھے
12:11مگر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوتے
12:15تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے
12:18اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے
12:23اس بارے میں بکسرت خبریں مشہور ہیں
12:26انقریب بعض حدیثیں آنے والی ہیں
12:30بلا شبہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے نہ دیکھا ہوتا
12:35وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر
12:39حیبت زدہ ترسیدہ ہو جاتا تھا
12:42جیسا کہ قیلہ نامی عورت سے مروی ہے
12:45کہ جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا
12:48تو وہ لرزہ براندام ہو گئی
12:51آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
13:04حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے
13:07کہ ایک مرد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا
13:12تو وہ لرزنے لگا
13:13آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
13:16اتمنان رکھ
13:17میں بادشاہ یا فرشتہ نہیں ہوں
13:20دلائل النبوہ للبیحقی جلد پانچ صفہ انہتر
13:24لیکن نبووت و شرافت
13:26منزلت و رسالت
13:28اور استفاہ ذکر امت میں
13:30جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم مرتبہ دنیا میں ہے
13:34وہ تو بہت عرفہ و عالی ہے
13:36پھر آخرت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
13:40اولاد آدم علیہ السلام کے سردار ہیں
13:42اس فصل کے معنی و مطلب کے لیے
13:45تو ہم نے اس تمام قسم کو تحریر کیا ہے
13:48اگر اس علمی و روحانی قاوش نے
13:52آپ کے قلب میں ذرہ برابر بھی تڑپ پیدا کی ہے تو
13:56اس سلسلہ خیر کا حصہ بنے
14:00اس ویڈیو کو آگے پہنچانا
14:03شیئر کرنا
14:04محض معلومات کا تبادلہ نہیں
14:07بلکہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو پھیلانا ہے
14:12اس پیغام محبت کو لائک کر کے
14:16ہماری حوصلہ افضائی فرمائیں
14:18اور چینل کو سبسکرائب کر لیں
14:20تاکہ عدب و محبت کے اس سفر میں
14:23ہم اور آپ ہم قدم رہ سکیں
14:26اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
Comments

Recommended