00:00حضرتِ انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ مجھ
00:07کو لوگوں پر چار باتوں میں فضیلت دی گئی ہے
00:10ایک سخاوت دو شجاعت تین کسرتِ جمع چار قوتِ گرفت
00:17اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے ہیں جن کو طاقت دی گئی اور بہت ہی دی
00:22گئی
00:23اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آزاد عورتوں کو نکاح میں لانے کی تعداد مباہ کر دی گئی
00:29جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی کے لیے مباہ نہیں
00:33ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حال و مرتبہ تھا
00:37کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کی کسرت اپنے رب عزمجل کی عبادت سے نہ روکتی تھی
00:43بلکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادتی میں اور زیادتی کی
00:48کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بیویوں کو پاک دامن عفیفہ بنا دیا
00:53آپ کی خالص محبت، ذاتِ الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہِ قدرت
00:58اور اس سے مناجات میں تھی
01:00بلا شبہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے نہ دیکھا ہوتا
01:05وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر حیبت زدہ ترسیدہ ہو جاتا تھا
01:38کتاب کا مکمل نام
01:44آٹھویں فصل
01:47ضروریات زندگی کی دوسری قسم
01:50ضروریات زندگی کی دوسری قسم
01:52جس کی زیادتی اور قسرت پر بالا اتفاق تعریف کی جاتی ہے
01:57اور اس کی قسرت پر فخر کیا جاتا ہے
01:59جیسے نکاح اور بلند مرتبہ
02:02لیکن نکاح میں تو شرعن بالا اتفاق محمود ہے
02:06کہ یہ کمال اور صحت مردانگی کی دلیل ہے
02:09اس کی قسرت پر عادتا ہمیشہ فخر کیا جاتا ہے
02:13اس پر مدح کرنا پرانی خسلت ہے
02:15لیکن شریعت متحرہ میں تو یہ سنت معصورہ ہے
02:18حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا
02:22اس بات میں وہ شخص افضل ہے جس کی زیادہ بیویاں ہیں
02:25صحیح بخاری جل سات صفحہ چار
02:28اس سے ان کا اشارہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے
02:32اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
02:35کہ نکاح کیا کرو اور نسل بڑھاؤ
02:37کیونکہ میں تم سے اور امتوں پر فخر کروں گا
02:40مجموع الزوائد جل تین صفحہ دو سو تری پن
02:44آپ نے تبطل یعنی نکاح کر کے
02:47معلق چھوڑ دینے کو منع فرمایا
02:48صحیح بخاری جل سات صفحہ پانچ
02:51صحیح مسلم جل دو صفحہ ایک ہزار بیس
02:54باوجود یہ کہ اس میں قطع شہوات
02:57اور غزے بسر آنکھوں کا پست کرنا ہے
02:59حالانکہ ان دونوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم
03:02نے اپنے اس فرمان میں تمبیح فرمائی ہے
03:05کہ جب استطاعت ہو
03:06تو چاہیے کہ وہ نکاح کرے
03:08کیونکہ نکاح آنکھوں کو پست کر دیتا ہے
03:11اور نظر و نکاح کی حفاظت کرتا ہے
03:14صحیح بخاری جل سات صفحہ چار
03:16صحیح مسلم جل دو صفحہ ایک ہزار اٹھارہ
03:19تبرانی کبیر جل دس صفحہ ایک ہزار اوننچاس
03:22حتیٰ کہ علماء کرام نے نکاح کرنے کو
03:25زہد کے خلاف نہیں دیکھا
03:28سہل بن عبداللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں
03:31کہ حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
03:35کو بیویاں محبوب تھیں
03:37تو پھر اس میں زہد کیا ہو سکتا ہے
03:39یعنی یہ زہد کے خلاف نہیں
03:42اس طرح ابن اعینا رحمہ اللہ نے کہا
03:45کہ بلا شبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں
03:49جو زہد ہیں وہ بیویاں اور لونڈیاں رکھتے تھے
03:52یعنی وہ کسیر الازواج تھے
03:54چنانچہ اس سلسلے میں حضرت علی
03:57حضرت حسن اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم
04:01کسیر الازواج معروف ہیں
04:02اکثر علماء نے اس کو مکروح جانا ہے
04:05کہ انسان خدا کے دربار میں اس حال میں پہنچے
04:09کہ وہ ناقت خدا غیر شادی شدہ ہو
04:11اگر یہ سوال کیا جائے
04:13کہ نکاح اور کسرت ازواج کیوں کر فضیلت کا موجب بن سکتی ہے
04:18حالانکہ حضرت یحیٰ بن سکریہ رحمہ اللہ کی
04:21اللہ عزواجل نے ان کے غیر شادی شدہ
04:24حسورہ ہونے کے باوجود تاریف کی ہے
04:27پس وہ کیوں کر سنائے باری عزواجل کے مستحق ہو سکتے تھے
04:31جبکہ وہ اس فضیلت سے آجست تھے
04:34اور یہی حال حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے
04:38کہ وہ عورتوں سے الگ رہے
04:40اگر یہ عمر ایسا ہی ہوتا
04:42جیسا کہ بیان کرتے ہو
04:44تو ضرور وہ نکاح کرتے
04:46اس کا جواب یہ ہے
04:48کہ اللہ عزواجل نے
04:49جو حضرت یحیٰ علیہ السلام کے حسور
04:52یعنی غیر شادی شدہ کی تاریف کی ہے
04:55اس کا یہ مطلب نہیں
04:56کہ وہ نامرد تھے
04:58یا ان کا سر مرد تھا ہی نہیں
05:00بلکہ اس پر بڑے بڑے مفسرین
05:03اور علماء ناقدین کا انکار منقول ہے
05:05وہ کہتے ہیں کہ یہ تو نقص اور عیب ہے
05:08جو انبیاء علیہ السلام کی شان کے لائق نہیں
05:11بلکہ حسورہ کے معنی یہ ہیں
05:13کہ وہ گناہوں سے معصوم تھے
05:15اور وہ گناہ نہ کرتے تھے
05:17بعض کہتے ہیں وہ گناہ
05:19زنا سے رکے ہوئے تھے
05:21بعض نے کہا
05:22کہ وہ نفسانی خواہشات سے مجدنب
05:24یعنی الگ تھے
05:25اور بعض نے کہا
05:27کہ ان کا عورتوں کی طرف میلان تھا ہی نہیں
05:30اب تم کو یہ بات معلوم ہو گئی ہوگی
05:33کہ نکاح پر قدرت نہ ہونا
05:35عیب و نقص ہے
05:36اور فضیلت یہ ہے
05:38کہ نکاح پر قدرت ہو
05:40پھر نفسانی شہوات کا قلعہ کما کرے
05:42یا تو مجاہدہ کے ساتھ
05:44جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا
05:47یا خدا کی طرف سے کفایت ہو
05:49جیسا حضرت یحیٰ علیہ السلام کا حال تھا
05:51یہ ایک زائد فضیلت ہے
05:53کیونکہ بساوقات
05:54شہوت مجغول کر دیتی ہے
05:56اور اس کو دنیا میں ڈال دیتی ہے
05:58پھر وہ شخص جس کو یہ قدرت بھی دی گئی ہو
06:01اور اس کا مالک بھی بنایا گیا ہو
06:03اور اس میں امورِ ضروریہ کو قائم بھی کرے
06:05پھر وہ اپنے رب عز و جل سے غافل نہ رہے
06:08اس کا بڑھا درجہ ہے
06:09ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حال و مرتبہ تھا
06:13کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیویوں کی کسرت
06:16اپنے رب عز و جل کی عبادت سے نہ روکتی تھی
06:19بلکہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادتی میں اور زیادتی کی
06:24کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان بیویوں کو پاک دامن عفیفہ بنا دیا
06:29بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیویوں کے حقوق قائم فرماتے
06:33ان کے معاش کی جستجو کرتے تھے
06:35اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ سراحت کے ساتھ بتا دیا تھا
06:40کہ اگرچہ بیویوں کی کسرت اہل دنیا
06:42کے لیے حض میں سے ہے
06:45مگر میرے لیے یہ دنیا کا حض نہیں
06:48حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
06:51کہ حبیبہ علیہ من دنیاکم
06:55تمہاری دنیا میں سے مجھے یہ چیزیں پسند ہیں
06:59اس سے معلوم ہوا
07:00کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:03جو عورتوں اور خوشبو کی پسندیدگی کا اظہار فرمایا
07:07یہ دونوں اگرچہ عوروں کے لیے دنیاوی لذت ہیں
07:10مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
07:13یہ دنیا کے لیے نہیں ہے
07:14بلکہ اخروی فوائد کے لیے ہیں
07:17بسبب اس کے کہ ہم نے ترویح کے سلسلہ میں ذکر کیا
07:20اور خوشبو کا استعمال فرشتوں کی ملاقات کے لیے تھا
07:24اور ایسے بھی کہ خوشبو کا استعمال
07:26جماع پر برانگختہ کرتا ہے
07:28اور اس کا مددگار ہے
07:30اور سبب جماع کا مہیج دا محرک ہے
07:32لیکن ان دونوں یعنی عورتوں اور خوشبو سے محبت
07:36ان کے مذکورہ فوائد کے لیے نہ تھی
07:38بلکہ کسی اور سبب کے لیے تھی
07:40نہ کہ قطع شہوت کے لیے
07:42آپ کی خالص محبت
07:44ذاتِ الہی اور اپنے مولا کے مشاہدہ قدرت
07:47اور اس سے مناجات میں تھی
07:49اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:52دونوں محبتوں کو جدہ جدہ بیان کر کے
07:54دونوں کی حالتوں کا فرق بتا دیا
07:58پس فرمایا
07:59نماز میری آنکھوں کی تھنڈک بنا دی گئی
08:02سو اب حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا
08:06عورتوں کی آزمائش میں مبتلا ہونے سے
08:09باز رہنے میں برابر ہو گئے
08:11اور عورتوں کے ساتھ قیام فرمانے سے
08:13فضیلت میں ان سے بڑھ گئے
08:15اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم
08:18ان میں سے ہیں جن کو طاقت دی گئی
08:21اور بہت ہی دی گئی
08:23اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
08:25آزاد عورتوں کو نکاح میں لانے کی تعداد
08:28مباہ کر دی گئی
08:29جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا
08:32کسی کے لیے مباہ نہیں
08:33ہم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی
08:37حضور صلی اللہ علیہ وسلم
08:39ایک ہی وقت میں دن یا رات میں
08:41گیارہ عورتوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے
08:43حضرت انس رضی اللہ عنہ
08:45کہتے ہیں کہ ہم باتیں کیا کرتے تھے
08:48کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
08:50تیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی
08:52نسائی نے اس کی تخریج کی ہے
08:54اسی طرح ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
08:57تاؤس سے مروی
08:59کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
09:01جماع میں چالیس مردوں کی طاقت دی گئی تھی
09:04اس کے مثل
09:05صفوان بن سلیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
09:09حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد شدہ لونڈی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں
09:15کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات نو بیویوں پر دورہ فرمایا
09:21اور دوسری کے پاس جانے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا
09:26اور فرمایا یہ بہت اچھا اور پاکیزے طریقہ ہے
09:30حضرت سلیمان علیہ السلام نے کہا
09:33کہ میں آج رات سو عورتوں کے یا ننانوے عورتوں کے پاس جاؤں گا
09:37انہوں نے ایسا کیا
09:39حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
09:42کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی پیٹھ میں سو آدمیوں کی طاقت تھی
09:46حالانکہ ان کے حبالہ اقد میں تین سو بیویاں
09:50یا ان کی تحویل میں تین سو باندیاں تھی
09:52شک راوی ہے
09:53نقاش رحمہ اللہ اور ان کے سوا دوسروں نے نقل کیا
09:57سات سو بیویاں اور تین سو باندیاں تھی
10:00اور حضرت دعوود علیہ السلام باوجود کمال زہد
10:03اور اپنے ہاتھ سے قصب معاش کے
10:05آپ علیہ السلام کی ننانوے بیویاں تھی
10:08اور جب ایک اور عورت سے نکاح کر کے سو پورا کرنے کا ارادہ فرمایا
10:12تو اللہ عز و جل نے اس پر خبردار کرتے ہوئے فرمایا
10:16انہذا اخی
10:18لہو تسعون و تسعون ناجتن
10:21بے شک یہ میرا بھائی ہے
10:23اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں
10:27حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے
10:30کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے
10:33کہ مجھ کو لوگوں پر چار باتوں میں فضیلت دی گئی ہے
10:37ایک سخاوت
10:39دو شجاعت
10:40تین کسرت جمع
10:42چار قوت گرفت
10:44تبرانی اوسط بسند جید
10:47کمافی مناحل صفہ
10:48صفہ چھپن
10:49لیکن جاہو مرتبہ
10:51سو اقلا کے نزدیک یہ عادتاً محمود ہے
10:54اس کے جاہو جلال کے موافق ہی
10:57لوگوں کے دلوں میں عظمت ہوتی ہے
10:59بے شک اللہ عز و جل نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توصیف میں ارشاد فرمایا
11:05وَجِهَنْ فِدْدُنْيَا وَالْآخِرَةِ
11:08آلِ عِمْرَانَ 45
11:09باعزت ہوگا دنیا و آخرت میں
11:14لیکن اس کی آفتیں بہت ہیں
11:16پس وہ بعض لوگوں کے لیے
11:19آخرت کے فائدے کے لحاظ سے مزر ہے
11:22اسی وجہ سے بعض نے اس کی مزمت کی ہے
11:25اور اس کو برا کہا ہے
11:27اور اس کی زد برعکس خلاف کی مدھ کی ہے
11:31اور شریعت میں گمنامی کی مدھ
11:34اور زمین پر اترانے کی مزمت آئی ہے
11:37حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
11:39اللہ عز و جل نے وہ مرتبہ انعیت فرمایا تھا
11:43کہ زمانہ جاہلیت میں
11:45یعنی قبل اظہار نبوت
11:47اور بعد اظہار نبوت
11:49لوگوں کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی
11:52بڑی عظمت و حیبت تھی
11:53حالاکہ کفار مکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلاتے
11:59اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام
12:02رضوان اللہ علیہم اجمائین کو عیزائیں پہنچاتے
12:06اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو
12:09ترہا ترہا کی تکلیفیں دیتے تھے
12:11مگر جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاضر ہوتے
12:15تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کرتے
12:18اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے
12:23اس بارے میں بکسرت خبریں مشہور ہیں
12:26انقریب بعض حدیثیں آنے والی ہیں
12:30بلا شبہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے نہ دیکھا ہوتا
12:35وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر
12:39حیبت زدہ ترسیدہ ہو جاتا تھا
12:42جیسا کہ قیلہ نامی عورت سے مروی ہے
12:45کہ جب اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا
12:48تو وہ لرزہ براندام ہو گئی
12:51آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
13:04حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے
13:07کہ ایک مرد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا ہوا
13:12تو وہ لرزنے لگا
13:13آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
13:16اتمنان رکھ
13:17میں بادشاہ یا فرشتہ نہیں ہوں
13:20دلائل النبوہ للبیحقی جلد پانچ صفہ انہتر
13:24لیکن نبووت و شرافت
13:26منزلت و رسالت
13:28اور استفاہ ذکر امت میں
13:30جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم مرتبہ دنیا میں ہے
13:34وہ تو بہت عرفہ و عالی ہے
13:36پھر آخرت میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
13:40اولاد آدم علیہ السلام کے سردار ہیں
13:42اس فصل کے معنی و مطلب کے لیے
13:45تو ہم نے اس تمام قسم کو تحریر کیا ہے
13:48اگر اس علمی و روحانی قاوش نے
13:52آپ کے قلب میں ذرہ برابر بھی تڑپ پیدا کی ہے تو
13:56اس سلسلہ خیر کا حصہ بنے
14:00اس ویڈیو کو آگے پہنچانا
14:03شیئر کرنا
14:04محض معلومات کا تبادلہ نہیں
14:07بلکہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو پھیلانا ہے
14:12اس پیغام محبت کو لائک کر کے
14:16ہماری حوصلہ افضائی فرمائیں
14:18اور چینل کو سبسکرائب کر لیں
14:20تاکہ عدب و محبت کے اس سفر میں
14:23ہم اور آپ ہم قدم رہ سکیں
14:26اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو
Comments