00:00حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں غزہ و نین کی قسموں میں بہت ہی کم حصہ لیا
00:07ہے
00:07یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عادتِ کریمہ ہے جس پر کسی کو مجالِ انکار نہیں
00:14اور یہ وہی عادت ہے جس کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے اور اس کی ترغیب
00:20دلائی ہے
00:20خصوصاً ان دونوں میں باہمی ربط ہے
00:24حدیث
00:26مقدام بن معدِ یقرب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بالإسناد مروی ہے
00:31کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:35اولادِ آدم علیہ السلام نے پیٹ سے بڑھ کر برا کوئی برطن نہیں پر کیا
00:41حالانکہ اولادِ آدم علیہ السلام کے لیے چند لقمیں کافی تھے جو اس کی زندگی باقی رکھ سکتے تھے
00:47اور اگر وہ کھانے پر اتنا ہی مجبور ہے تو بھوک کے تین حصے کرے
00:52ایک سولوس غزہ، ایک سولوس پانی اور ایک سولوس سانس کے لیے رکھے
00:57اور نیم کی زیادتی دراصل کھانے پینے کی کسرت کی وجہ سے ہوتی ہے
01:01سونا نے ترمیزی جل دو صفہ سترہ سونا نبنے ماجہ جل دو صفہ ایک سو گیارہ
01:08حاکم جل چار صفہ تین سو اکتیس
01:11سونا نبنے مجھے
Comments