Skip to playerSkip to main content
حضور اکرم ﷺ نے ان دونوں ( غذا و نیند کی) قسموں میں بہت ہی کم حصہ لیا ہے
اولا د آدم علیہ السلام نے پیٹ سے بڑھ کر برا کوئی برتن نہیں پر کیا
مستند حوالہ: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ مصنف ابوالفضل قاضی عیاض مالکی
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے سبحان اللہ لکھیں اور فالو کریں!


ساتویں فصل | ضروریات زندگی کی اقسام سے پہلی قسم (حصہ 2)

حضور اکرم ﷺ نے ان دونوں ( غذا و نیند کی) قسموں میں بہت ہی کم حصہ لیا ہے، یہ آپ ﷺ کی وہ عادت کریمہ ہے جس پر کسی کو مجال انکار نہیں اور یہ وہی عادت ہے جس کا حکم حضورﷺ نے دیا ہے اور اس کی ترغیب دلائی ہے، خصوصاً ان دونوں میں باہمی ربط ہے۔

حدیث : مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بالاسناد مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’ اولا د آدم علیہ السلام نے پیٹ سے بڑھ کر برا کوئی برتن نہیں پر کیا حالانکہ اولاد آدم علیہ السلام کے لیے چند لقمے کافی تھے جو اس کی زندگی باقی رکھ سکتے تھے اور اگر وہ کھانے پر اتنا ہی مجبور ہے تو ( بھوک کے تین حصے کرے) ایک ثلث غذا، ایک ثلث پانی اور ایک ثلث سانس کے لیے رکھے اور نیند کی زیادتی دراصل کھانے پینے کی کثرت کی وجہ سے ہوتی ہے‘‘ ۔

(سنن ترمذی ج ۲ ص ۱۷،سنن ابن ماجہ ج ۲ ص ۱۱۱، حاکم ج۴ ص ۳۳۱)

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#ProphetMuhammad
#SeeratUnNabi
#Islam
#PropheticDiet
#AlShifaShareef
#IslamicShorts
#AshShifa
#HadithShorts
#HadithShareef
#Hadees
#IslamicHealth
#ThinkGoodGreen
#TGG
#غذا
#نیند

Category

📚
Learning
Transcript
00:00حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں غزہ و نین کی قسموں میں بہت ہی کم حصہ لیا
00:07ہے
00:07یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عادتِ کریمہ ہے جس پر کسی کو مجالِ انکار نہیں
00:14اور یہ وہی عادت ہے جس کا حکم حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے اور اس کی ترغیب
00:20دلائی ہے
00:20خصوصاً ان دونوں میں باہمی ربط ہے
00:24حدیث
00:26مقدام بن معدِ یقرب رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بالإسناد مروی ہے
00:31کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:35اولادِ آدم علیہ السلام نے پیٹ سے بڑھ کر برا کوئی برطن نہیں پر کیا
00:41حالانکہ اولادِ آدم علیہ السلام کے لیے چند لقمیں کافی تھے جو اس کی زندگی باقی رکھ سکتے تھے
00:47اور اگر وہ کھانے پر اتنا ہی مجبور ہے تو بھوک کے تین حصے کرے
00:52ایک سولوس غزہ، ایک سولوس پانی اور ایک سولوس سانس کے لیے رکھے
00:57اور نیم کی زیادتی دراصل کھانے پینے کی کسرت کی وجہ سے ہوتی ہے
01:01سونا نے ترمیزی جل دو صفہ سترہ سونا نبنے ماجہ جل دو صفہ ایک سو گیارہ
01:08حاکم جل چار صفہ تین سو اکتیس
01:11سونا نبنے مجھے
Comments

Recommended