00:00حضرت لقمان رضی اللہ عنہ کی حکمت میں ہے کہ اے میرے بیٹے جب تُو میدہ کو بھرے گا تو
00:07تیری فکر سو جائے گی اور تیری حکمت گونگی ہو جائے گی اور تیرے خدا کی بندگی سے بیٹھ جائیں
00:14گے۔
00:15سہنون رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس شخص کو علم فائدہ نہیں پہنچاتا جو اتنا کھائے کہ پیٹ پھر
00:22جائے۔
00:23سہی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خبردار میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔
00:32سہی بخاری جلد ساتھ صفحہ باسٹھ سنن ابوداؤد جلد دو صفحہ ایک سو چالیس سنن ابن ماجہ جلد ایک صفحہ
00:42نواسی۔
00:43ٹیک لگانا یہ ہے کہ کھاتے وقت سہارا لے اور بیٹھنے میں مکمل ٹیک لگانا یہ ہے کہ چوکڑی مار
00:50کر بیٹھے
00:51اور اسی کے مشابہ وہ نشست ہے جو بیٹھنے والا کسی پر تکیہ لگائے۔
00:56ان صورتوں میں کھانے والا بہت کھا جاتا ہے۔
00:59حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھانا اس طرح تناول فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پاؤں کے بل بیٹھ
01:05کر دونوں گھٹنے کھڑے رکھتے۔
01:07سحی مسلم جلد دو صفحہ نمبر 1616 اور فرماتے ہیں کہ میں بندہ ہوں اس طرح کھاتا ہوں جس طرح
01:15غلام کھاتا ہے اور اس طرح بیٹھتا ہوں جس طرح غلام بیٹھتا ہے۔
01:19مسند الفردوس جلد ایک صفحہ نمبر 341، طبقات ابن ساد جلد ایک صفحہ نمبر 381، مسننف عبد الرزاق جلد دس
01:28صفحہ نمبر 115، تاریخی ابن عدی جلد پانچ صفحہ نمبر 1971
01:33اور محققین کے نزدیک ٹیک لگانے کی یہ معنی نہیں کہ کسی پہلو پر جھگ جائے۔
01:39اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم بہت کم سوتے تھے۔
01:44اس پر بکسرت آثار صحیحہ شاہد ہیں۔
01:47پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
01:50اِنَّ عِنَيَّتَنَا مَانْ وَلَا يَنَا مُقَلْبِي
01:54صحیح بخاری جلد چار صفحہ ایک سو باون، صحیح مسلم جلد ایک صفحہ پانچ سو نو
01:59بے شک میری دونوں آنکھیں سوتی ہیں لیکن میرا دل نہیں سوتا
02:04اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیند داہنے پہلو پر ہوتی تھی
02:08اس سے کم سونے پر مدد لیتے تھے
02:16کیونکہ بائیں طرف دل ہے اور وہ باطنی آزاں ہیں
02:19بائیں طرف لیٹنے سے نیند میں خوشگوار
02:22اس کا دل معلق اور بیچین رہتا ہے
02:24تو جی وہ بیدار ہو جاتا ہے
02:26اور گہری نیند اس کو مستقرق نہیں کرتی
02:28موسیقی
Comments