Skip to playerSkip to main content
حضور ﷺ سے مروی ہے کہ سب سے زیادہ محبوب کھانا آپ ﷺ کے نزدیک وہ ہے جو مل کر کھایا جائے
یعنی اس کھانے پر زیادہ ہاتھ پڑیں، حضورﷺ نے کبھی کھانا شکم سیر ہو کر نہ ملاحظہ فرمایا۔
مستند حوالہ: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ، از قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے [سبحان اللہ] لکھیں اور فالو کریں!

ساتویں فصل | ضروریات زندگی کی اقسام سے پہلی قسم (حصہ 3)

سفیان ثوری کہتے ہیں کہ تھوڑا کھانا رات کی بیداری کا مالک بنا دیتا ہے ،سلف کے بعض علما فرماتے ہیں کہ زیادہ نہ کھاؤ اور نہ زیادہ پانی پیو اور نہ زیادہ سوؤ ورنہ تم زیادہ نقصان اور خسارہ اٹھاؤ گے۔

حضور ﷺ سے مروی ہے کہ سب سے زیادہ محبوب کھانا آپ ﷺ کے نزدیک وہ ہے جو مل کر کھایا جائے یعنی اس کھانے پر زیادہ ہاتھ پڑیں۔
(صحیح بخاری باب الطلاق ج ۷ ص ۴۱ صحیح مسلم باب العتق ج ۲ ص ۱۱۴۴)

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے کبھی کھانا شکم سیر ہو کر نہ ملاحظہ فرمایا ، اگر آپ ﷺ کا شانہ اقدس میں جلوہ فرما ہوتے تو کبھی ان سے کھانا طلب نہ فرماتے اور نہ خواہش ہی ظاہر فرماتے ، اگر وہ لوگ کھانا پیش کر دیتے تو ملاحظہ کر لیتے اور جو کچھ بھی وہ کھانا لاتے قبول فرما لیتے اور جو وہ پلاتے پی لیتے۔

اس پر حد یث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ (صحیح بخاری ج ۳ ص۶۲)سے معارضہ نہیں کیا جا سکتا کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ : ’’ کیا بات ہے میں ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھتا‘‘ ، دراصل آپ ﷺ کے اس سوال کا مقصد ان کے اس گمان کو دور کرنا تھا کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ (صدقے کا) گوشت بطور ہدیہ بھی حضور ﷺ کے لیے حلال نہیں ہے، یہ سنت کی تعلیم کے لیے سوال تھا، جب ان کو دیکھا کہ وہ آپ ﷺ کے سامنے پیش نہیں کرتے باوجودیکہ حضورﷺ خوب جانتے تھے کہ وہ لوگ اپنے آپ کو حضور ﷺ پر کسی طرح ترجیح نہیں دیتے تھے تو ان کے گمان کی تصدیق فرماتے ہوئے ان کو مسئلہ کی نا واقفیت پر آ گاہ فرمایا اور یہ فرمادیا کہ ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) کے لیے تو یہ صدقہ ہے لیکن ان کی طرف سے ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔

#Sunnah
#Seerah
#SeeratUnNabi
#IslamicShorts
#ProphetMuhammad
#Islam
#ThinkGoodGreen
#TGG
#Sunnahofeating
#eating
#غذا

Category

📚
Learning
Transcript
00:00سفیانِ سوری کہتے ہیں کہ تھوڑا کھانا رات کی بیداری کا مالک بنا دیتا ہے
00:05سلف کے بعض علماء فرماتے ہیں کہ زیادہ نہ کھاؤ اور نہ زیادہ پانی پیو اور نہ زیادہ سو
00:11ورنہ تم زیادہ نقصان اور خسارہ اٹھاؤگے
00:14حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ سب سے زیادہ محبوب کھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
00:21نزدیک وہ ہے جو مل کر کھایا جائے
00:23یعنی اس کھانے پر زیادہ ہاتھ پڑیں
00:35ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
00:39کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانا شکم سیر ہو کر نہ ملاحظہ فرمایا
00:44اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کاشانہ اقدس میں جلوہ فرما ہوتے تو کبھی ان سے کھانا طلب نہ فرماتے
00:50اور نہ خواہش ہی ظاہر فرماتے
00:52اگر وہ لوگ کھانا پیش کر دیتے تو ملاحظہ کر لیتے
00:56اور جو کچھ بھی وہ کھانا لاتے قبول فرما لیتی اور جو وہ پیلاتے پی لیتی
01:00اس پر حدیث ابو حریرہ رضی اللہ عنہ
01:04صحیح بخاری جل تین صفحہ باسٹ سے معارضہ نہیں کیا جا سکتا
01:10کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
01:15کیا بات ہے میں ہنڈیا میں گوشت نہیں دیکھتا
01:21دراصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس سوال کا مقصد ان کے اس گمان کو دور کرنا تھا
01:28کہ وہ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ صدقے کا گوشت بطور حدیعہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے
01:35لیے حلال نہیں ہے
01:36یہ سنت کی تعلیم کے لیے سوال تھا
01:40جب ان کو دیکھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش نہیں کرتے
01:45باوجود یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوب جانتے تھے
01:51کہ وہ لوگ اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کسی طرح ترجیح نہیں دیتے تھے
01:57تو ان کے گمان کی تصدیق فرماتے ہوئے ان کو مسئلہ کی نواقفیت پر آگاہ فرمایا
02:03اور یہ فرما دیا کہ ابو حریرہ رضی اللہ عنہ کی لیے تو یہ صدقہ ہے
02:09لیکن ان کی طرف سے ہماری لیے یہ حدیعہ ہے
Comments

Recommended