Skip to playerSkip to main content
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
Floods Wreak Havoc – Help KPK || New Power Game – Establishment’s Shocking Narrative Exposed || Imran Riaz Khan VLOG

#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi

Like us on Facebook: / imranriazkhan2

Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h

Follow us on Twitter: / imranriazkhan

Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis

Category

🗞
News
Transcript
00:00موسیقی
00:30با جوڑ میں اور بونیر میں بہت زیادہ تباہی ہوئی ہے اپردیر میں لوردیر میں تباہی ہوئی ہے سوات میں تباہی ہوئی ہے شانگلہ میں سلاب آیا ہے دریائے سرن میں اور ناران جانے والے علاقوں میں بھی صورتحال خراب ہے خیبر پکتونکہ کی حکومت نے ایک طرح سے امرجنسی نافذ کر دی ہے کئی علاقوں میں عام درفت بند ہے ہیلیکپٹرز کی دریئے سے امداد دینے کی کوشش کی جا رہی تھی ایک ہیلیکپٹر تباہ بھی ہوا ہے اور اب تک کی اطلاع کے مطاب
01:00جو لوگ ہیں وہ جا بھاک ہو گئے ہیں یہ ایک قدرتی آفت ہے پاکستان ایک کلائمیٹ چینج کا شکار بلک ہے اور یہاں پہ بڑی ایفٹ کی ضرورت ہے اگر ہم نے واپس اپنے کلائمیٹ کو ٹھیک کرنا ہے ان پہاڑی علاقوں پہ بہت بڑی تباہی آ رہی ہے بار بار سلاب آ رہا ہے اور ہم ہر چند سال کے بعد اب سلاب وٹنس کرتے ہیں اس مرتبہ جو ہے وہ دیر کے علاقے میں شانگلہ کے علاقے میں بونیر کے علاقے میں بہت بڑی تباہی آئی ہے ایک
01:30باجہ خان صاحب ہے ان کی میں دیکھ رہا تھا ویڈیو ان کی فیملی کے بیس لوگ جانبک ہو گئے ہیں ان کے لیے بڑی تکلیف کی گھڑی ہے ہماری نیک تمنہ ہے ان کے ساتھ ہے دو سو پچاس قیمتی جانے گئی ہے بہت سارے لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کر رہے ہیں کئی لوگ کے بارے میں ابھی پتہ نہیں ہے سلاب کا پانی جو ہے وہ ابھی نہیں رکڑا اور بارشیں ہو رہی ہیں ساتھ ساتھ جو ہے وہ سلاب کا پانی بیتا چلا جا رہا ہے اب میدانی علاقوں میں کیا صورتحال بن
02:00کی گئی ہے اور فوری طور پہ صوبائی حکومت نے یہ احکامات جاری کی ہے کہ کوئی بھی آفیسر اپنا ظلہ یا اپنا علاقہ نہیں چھوڑے گا بغیر پیشگی اطلاع کے یا اجازت لیے بغیر تمام لوگ اپنی ڈیوٹیز پہ موجود رہیں گے امرجنسی کا نفاظ کیا گیا ہے اور دوسری جانب فوج نے اپنی ایک دن کی ترخواہ جو ہے وہ متاثرین سلاب کو دینے کا اعلان کیا ہے اور ساتھ میں جو فوج موجود ہے خبر بختون خواہ میں ان کے لیے بھی حکم دیا گیا
02:30پی ڈی ایم میں جتنے بھی میک میں ہیں زلی حکومتیں ریسکیو کی جو سروزز ہیں ان تمام کو بھرپور حصہ لینا ہوگا امدادی سرگرمیوں میں اور ساتھ ہی ساتھ جو شہری ہیں انہیں بھی جنہی سب سے بڑی جو فورس ہوتی ہے وہ مقامی افراد ہوتے ہیں جب بھی کوئی قدرتی آفت آتی ہے تو اس میں جو سب سے بڑی فورس جو سب سے زیادہ امدادی کاروائیوں کرتی ہے باقی سارے ادارے اور ڈپارٹمنٹ مل کے میکسمم پچیس فیصد کا فر
03:00لوگ حصہ لیتے ہیں وہ مقامی لوگ ہوتے ہیں کیونکہ ان کے سروائیول کا معاملہ ہے تو انہیں حمد کرنی پڑے گی ان کی حمد بندھانے کے لیے پورے پاکستان کو ان کا ساتھ دینا پڑے گا انہیں بہت سارے اب وسائل چاہیے ہوں گے میری لوگوں کے بعد جو اناج جمع تھا جو خوراک جمع تھی وہ بھی اب اس طرح موجود نہیں ہے لوگوں کے سر پر چھت موجود نہیں ہے بڑی تعداد میں اب خیمیں چاہیے ہوں گے لوگوں کو خیموں کے ساتھ ساتھ لوگوں کو خوراک کا بندوبست کرنا
03:30کہ ہر ممکن مدد ہم کریں گے یہ بڑی پوزیٹک سائیڈ ہے اور دیکھیں اس طرح کے موقعوں کے اوپر آپ سیاست کو اور باقی چیزوں کو سائیڈ پر رکھ دیتے ہیں بے شک مریم نواز کی حکومت جو ہے وہ ایک جالی حکومت ہے اور وہ وزیر اعلیٰ نہیں ہے یہاں پہ ہونا تو یہ چاہیے تھا جن کی حکومت ہے مینڈیٹ والی حکومت ہوتی پاکستان تحریک انصاف کا وزیر اعلیٰ فون کرتا علیہ مین گھنڈا پور کو یا جو وزیر اعلیٰ میں وہ تح
04:00خیبر پکتون خواہ میں جتنے بھی لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کی مدد کی جائے وفاق کو فوری طور پر خیبر پکتون خواہ کے جو واجبات ہیں وہ ادا کرنے چاہیے تاکہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ میں اور ان کی مدد میں بھرپور طریقے سے فنڈز کو خرچ کر سکے نہ صرف خیبر پکتون خواہ کی گورنمنٹ کو اپنے فنڈ خرچ کرنے چاہیے بلکہ وفاق کو وہ فنڈز جو خیبر پکتون خواہ کو دینے ہے اور واجب الادا ہے وہ فنڈز فوری طور پر ادا کر
04:30مشکل وقت میں کام نہ آئے اس کا کیا فائدہ اب یہ بہترین وقت ہے کہ خیبر پکتون کا کی حکومت کو اس کا پیسہ لٹا دیا جائے تاکہ وہ امدادی کاموں میں اس پیسے کو لگا سکے اپنی الگ الگ ایک ڈیڑھ انچ کی مسجد بنانے کی بجائے یہاں پہ بہتر یہ ہے کہ تمام ادارے ایک کوارڈینیشن کے تحت کام کرے صبحی حکومت جو ہے وہ سب کو کمانڈ کرے اور سب کے ساتھ مل کر کام کرے اور ساتھی ساتھ جو ہے وہ زلی حکومتیں اس میں بہت امپورٹنٹ رول پل
05:00ساب کی پارٹی کے ہیں یا پی ٹی آئی کے ہیں یا کسی اور پارٹی کے ہیں ان کے ذریعے سے جب آپ کام کروائیں گے تو زیادہ افیکٹیو کام ہوگا اس وقت اپنی اپنی سیاست بھول جائے اسٹیبلشمنٹ اپنی سیاست بھول جائے سیاسی جماعتیں اپنی سیاست بھول جائیں اور سب کو مل کر اس وقت سیلاب متاثرین کی مدد کرنی ہے اور اس کے لیے جو سب سے بہترین مکانیزم ہے وہ مقامی حکومتیں ہیں یعنی جس کو آپ کانسلر کہتے ہیں مقامی جو میر ہوتے ہیں یا ن
05:30بہتر کام کر سکتے ہیں وجہ یہ ہے کہ وہ گراؤنڈ کے اوپر لوگوں کے ساتھ جڑے ہوئے انہیں اگزیکٹلی بتا ہے کہ ان کے علاقے میں یونین کانسل میں کتنے گھر گرے ہیں کتنے لوگ جو ہے وہ بے گھر ہوئے ہیں کتنے لوگ جانبھاک ہوئے ہیں کتنے لوگ کا کیا نقصان ہوا ہے تو یہاں پہ مقامی نمائندگان کو جو وہاں کے لوکل لیڈرز ہیں چاہے ان کا تعلق جس بھی پلٹیکل پارٹی سے ان کو میکسیمم استعمال کیا جائے تاکہ لوگوں کی برپور طری
06:00سب کچھ ہوا ہے بلکل کسی کو سمجھ ہی نہیں آئی اتنی تیزی سے سلاب آیا ہے اور بڑے عجیب و غریب مناظر ہم نے دیکھے ہیں بڑی طبعی ہم نے دیکھی ہے خیبر پختونخواہ میں اور ابھی آداد و شمار مزید آ رہے ہیں ان کے بارے میں ہم بات کرتے رہیں گے سلاب متاثرین کے لیے سب سے زیادہ مدد پاکستانی خود کر سکتے ہیں پاکستانیوں کو بڑھ چڑھ کے اس میں حصہ لینا چاہیے اور اس کے لیے ہم ریکمنٹ بھی کریں گے کہ کون لوگ بہتر
06:30سب لوگ اور بھرپور طریقے سے مدد کریں جو میرے سے بن پڑے گا میں حاضر ہوں ہر طرح کی خدمت کے لیے اور جو باقی لوگ موجود ہیں وہ اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں
06:38ناظرین یہ سلاب کی صورتحال ہے اس پر آپ کو اپ ڈیٹ بھی کرتے رہیں گے چیزیں آپ کو بتاتے رہیں گے بین الاقوامی سطح پر ایک بہت بڑی خبر ہے ٹرمپ کی پیوٹن سے ملاقات یہ عالمی منظر نامے میں اس وقت کی سب سے بڑی خبر ہے
06:51دو سپر پاوریں جو بہت بڑے دو طاقتیں ہیں دنیا کی ان کے سربراہ اپس میں ملے ہیں کیسے ملے یہ میں آپ کو وی لاغ میں آگے چل کر داتا ہوں لیکن پاکستان کے اندر ایک نیا بیانیاں لانچ ہو رہا ہے
07:02مجھے کچھ بڑے ذمہ دار لوگوں نے یہ بتایا کہ اب ہمیں بلوایا جاتا ہے اور بلا کر ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جنہ نے یا ماضی میں جو پاکستان کے لیڈران تھے انہوں نے جو موقف رکھا عالمی ایشیوز کے اوپر
07:17خاص طور پر وہ کشمیر کی اور فلسطین کی اور دیگر کچھ اور ایشیوز ہیں ان پر بات کرتے ہیں اور اشاروں میں بات کرتے ہیں بعض لوگوں کے ساتھ کھل کر بات کرتے ہیں کہ ستر سال کی پالیسی اس وقت نہیں چل سکتی
07:29ستر سے اسی سال پرانے نظریات اور جو پالیسیز ہیں وہ اس دور کے مطابق ٹھیک تھے اب دور بدل چکا ہے وہ کہتے ہیں کہ جناب جدید دور آگیا ہے صورتحال تبدیل ہو گئی ہے
07:39لہذا اب ایک نئی پالیسی کے ساتھ پاکستان کو چلانا پڑے گا اور اس کے لیے گراؤنڈ بنانی شروع کی جارہی ہے جو انٹیلیکشولز ہیں انہیں بلایا جارہا ہے جو مختلف تجزیہ کار ہیں کولم نگار ہیں اس قسم کے لوگ ہیں ان کو بلا کر بریفنگ دی جارہی ہے کہ جدید دور ہے ہمیں ماضی کے چند اصولوں کو بدلنا پڑے گا
07:57وہ اصول جو بانیانے پاکستان کے ساتھ جا کر ملتے ہیں جن لوگوں نے پاکستان بنایا خاص طور پر قائدی اضم محمد علی جناح ان کے اصولوں کو بھی چھوڑنا پڑے گا اور آپ کو بتا ہے ابراہم اکارڈ کے طاعت اب یہ چاہتا ہے ڈانلڈ ٹرمپ کے پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے اور اس میں پاکستان کے موقف میں ایک لچک آئی ہے
08:15لچک پاکستان کے موقف میں یہ آئی ہے کہ پاکستان ٹو سٹیٹ جو ہے وہ سلوشن کی طرف جانا چاہتا ہے کہ اسرائیل کو بھی بقاعدہ ایک ملک بنایا جائے اور کچھ علاقے انہیں دیے جائیں اور فلسطین کو بھی بقاعدہ ایک ملک بنایا جائے اور کچھ علاقے ان کو دیے جائیں
08:29پاکستان کا موقف پہلے بڑا سخت رہا ہے کہ یہ سارے جو مقبودہ علاقے ہیں یہ فلسطینیوں کی ملکیت ہیں فلسطینیوں کو ان کی ہوم لینڈ واپس دی جائے لیکن اب پاکستان کا موقف تھوڑا تھوڑا ٹویسٹ کر رہا ہے اور آنے والے دنوں میں آپ یہ چیزیں دیکھیں گے کیونکہ اس بیانیہ کے اوپر کام ہو رہا ہے یہ بیانیہ لانچ کیا گیا ہے اسلام آباد کی بیٹھکوں میں راول پنڈی کی بیٹھکوں میں اور مختلف جگہوں میں پاکستان میں اس کے اوپر
08:59رکھیں گے ناظرین بیانیاں جو بھی بنایا جائے اس بیانیہ میں ایک چیز جو ہے وہ رکاوٹ رہتی ہے وہ عمران خان ہے اور اس رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے اسٹیبلشمنٹ نے پوری کوشش کیا ہے لیکن یہ رکاوٹ دور ہو نہیں رہی آج میں ایک ویڈیو دیکھ رہا تھا یہ یوم عزادی کے سلسلے میں ایک تقریب رکھی گئی تھی اس میں ایک بچہ ہے چھوٹا سا اور وہ تقریب کر رہا تھا بڑے شوق سے سب لوگ سن رہے تھے کہ اچانک سے وہ بچے نے جو ہے نا وہ عمران
09:29اور بچے سے مائک چھیننے کے اس نے کوشش کی اور اس کے بعد ویڈیو کٹ ہو گئی اب صورتحال ناظرین یہ ہے کہ عمران خان زنداباد کا نعرہ بھی نہیں لگایا جا سکتا لیکن بچے تو من کے سچے ہوتے ہیں اور بچے یہ جانتے ہیں کہ صورتحال کس طرف جا رہی ہے اب اس بچے کو بھی گالیاں دے رہے ہیں سوشل میڈیا کے اوپر جو اسٹیبلشمنٹ کے ٹاؤٹس ہیں یا کچھ صحافی ہیں حتیٰ کہ مجھے بڑی حیرت ہوئی کہ اس طرح کی گندی زبان جو ہے وہ صحافی کیسے است
09:59پاکستان میں جمہوریت ہے کوئی بھی شخص کوئی بھی نعرہ لگا سکتا ہے اور اگر اس نے یہ نعرہ لگایا ہے تو یہ اس کی چوائس ہے اس کو یہ اجادت دی جائے آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ اس ملک میں کسی بچے کو بھی بولنے کی اجادت نہیں دیں گے کیا مکمل طور پر فیرونیت لاغو کر دی گئی ہے اس ملک پر یہ بچے کی جو آواز ہے اور بچے نے جو بات کی ہے اس سے یہ آپ کو سمجھ جانا چاہیے کہ چیزیں آپ کے کنٹرول سے باہر ہیں اور اسٹیبلشمنٹ جتنی ج
10:29آج اگر اپنے اصولوں کے اوپر واپس آنے کی کوشش کریں اول تو ان کے شروع سے اصول رہی کوئی نہیں لیکن جو اصول انہوں نے آئی سے دو سال پہلے تین سال پہلے جب وہ اپوزیشن میں تھے انہوں نے کچھ اصول بنائے تھے قوم کو دکھانے کے لیے صحیح لیکن میاں صاحب آج بھی ووٹ کو عزت دو کے بیانیے میں واپس آئیں تو میرے سمیتھ سارے پاکستانی یا وہ لوگ جو جمہوریت پسند ہے وہ انہیں سپورٹ کریں گے کہ ٹھیک ہے میاں صاحب آئ
10:59سیلیکشن کروائیں اور ایک نیا مساق جمہوریت کریں جس میں اسٹیبلشمنٹ کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے باہر نکال کر پھینک دیا جائے اب پچھلے مساق جمہوریت کا آپ لوگوں نے جو حال کیا یعنی عبران خان صاحب کو تو حکومت دوزار اٹھارہ میں آ کر ملی نا آپ نے تو پچھلے مساق جمہوریت کو پہلے ہی تباہ کر دیا تھا جب آپ کالا کوٹ پہن کر عدالت میں چلے گئے تھے جب آپ نے زبردستی عدالت کے ذریعے سے گلانی کو باہر نکلوایا تھ
11:29کر دیا تھا آپ کسی اور کو بلیم نہیں کر سکتے آج آپ لوگ کی ذمہ داری ہے روایتی سیاسی جماعتیں ہیں عمران خان صاحب کو آپ لوگوں کو منانا پڑے گا اور عمران خان صاحب جو ہیں وہ یہ کئی برتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کی خاطر میں دل بڑا کرنے کے لیے تیار ہوں مجھے اپنے کسی معاملے کا بدلہ نہیں لینا لیکن پاکستان کو اگر آگے بڑھنا ہے تو اسٹیبلشمنٹ کی بے ساکھیوں کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا ہاں اسٹیبلشمنٹ کا جو کردار ہے ج
11:59اس معاملے کو ختم کرنا پڑے گا ناظرین انتخابات میں دھاندلی کے حوالے سے ایک سروے اور ہمارے پاس موجود ہے ریپبلک پولیسی کا اور وہ یہ کہتے ہیں جناب کے یہ سروے ہم نے کروایا لاہور میں کہ دوزار چوبیس کے انتخابات میں لاہور کے شہری کیا سمجھتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی سمپل کوسٹن یہ ہے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دوزار چوبیس کے انتخابات میں آٹھ فروری کو جو ہوئے ان میں دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی تو لاہور کے ایٹی سیون پرس
12:29کہ دوزار چوبیس میں جو آٹھ فرمیلی کو انتخابات ہوئے تھے اور میں دھاندری ہوئی ہے
12:33یہ تو بچارے میاں جویل لطیف صاحب خود کہتے ہیں
12:35کہ ہم تو الیکشن ہار گئے تھے ہمیں تو زبردستی لاگی حکومت میں بٹھایا گیا ہے
12:39یعنی ایک ایسا آدمی بھی ہے پی ایم ایل این میں جو کھل کر یہ بات کرتا ہے
12:42اور اس بات میں میں میاں جویل لطیف صاحب کو داد دینا چاہتا ہوں
12:47کہ چلو انہوں نے کھل کے بات تو کی کہ ہم تو الیکشن سارے ہار گئے تھے
12:50ہمیں تو زبردستی حکومت دی گئی ہے
12:52یہی بات رانہ سناولہ صاحب بھی اشاروں میں کر چکے ہیں
12:55پی ایم ایل این کے اور بہت سارے لوگ بھی یہ بات کرتے ہیں
12:58کہ جناب یہ ہمارے ساتھ زیادتی کی گئی ہے
13:00ہم تو الیکشن ہار گئے تھے
13:01میاں صاحب تو تقریر کیے بغیر واپس چلے گئے تھے
13:04پاکستان تحریک انصاف الیکشن جیت گئی تھی
13:06لیکن پھر ہمیں بلا کر زبردستی حکومت ہمارے حوالے کر دی گئی
13:09ایٹی سیون پرسنڈ لوگ کہتے ہیں
13:11کہ دھاندلی ہوئی ہے انتخابات میں
13:14صرف پانچ فیصد لوگ کہتے ہیں کہ نہیں ہوئی
13:16اب یہ پانچ فیصد لوگ کون ہیں
13:18یہ کٹر کوئی پی ایم ایل این کے لوگ ہوں گے
13:20جن کو لگتا ہوگا کہ نواز شریف صاحب الیکشن ٹھیک جیتے ہیں
13:22یا انہیں حکومت ٹھیک ملی ہے
13:24حالانکہ جو اطلاعات آ رہی ہیں
13:26ان میں مبینہ طور پر یہ بھی بتایا جاتا ہے
13:28کہ نواز شریف صاحب کے
13:30اور یاسمن راشد صاحبہ کے الیکشن میں
13:32جب آرو نے انکار کر دیا
13:34کہ وہ دھاندلی نہیں کرے گا
13:36تو اس پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا گیا
13:38اس آرو کے اوپر
13:40اور نیا آرو لائے گیا
13:42اس کے اوپر پیسہ خرچ کیا گیا
13:43اور پھر اس آرو کے ذریعے سے جالی فارم 47 جاری کروائے گئے
13:47جو انتہائی ڈھیلے قسم کے ہیں
13:50یعنی نواز شریف صاحب کو جب چاہیں
13:51بازو مرودیں ان کا
13:52جب چاہیں انہیں کنٹرول کر لیں
13:54آٹھ فیصد لوگ جو ہیں وہ یہ کہتے ہیں
13:56کہ جناب ہمیں پتہ ہی نہیں ہے
13:57کہ دھاندلی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی
13:59لیکن 87% ایک بہت بڑا فگر ہے
14:02جو اس سروے کے مطابق یہ کہہ رہا ہے
14:04کہ لاہور میں دھاندلی ہوئی ہے
14:06مریم نواز صاحبہ ناظرین پہنچ گئی ہے
14:08جاپان کے دورے پر
14:10اور جاپان کا دورہ ان کا تیہ تھا
14:13کافی عرصے سے پتا تھا
14:14کہ یہ جاپان جائیں گی
14:15اب جاپان میں مریم نواز صاحبہ کے دو پروگرام ہونے جا رہے ہیں
14:19جن کے بارے میں رولا پڑا ہوا ہے
14:21ایک امبیسی کے اندر ہونے جا رہا ہے
14:22اور ایک کوئی ہال ہے جہاں پہ پروگرام ہونا ہے
14:24ان دونوں پروگرام کے لیے
14:27بڑی عجیب و غریب شرائط رکھ دی گئی ہیں
14:28وہاں امبیسی اور سٹاف کی جانب سے
14:30یعنی ایک تو یہ ہے
14:32کہ ایک بندہ جو اس پروگرام میں شرکت کرے گا
14:35ایک ایک آدمی اس کا پورا بائیو ڈیٹا چیک کیا جائے گا
14:37اس کا سارا ریکارڈ چیک کیا جائے گا
14:40دیکھا جائے گا
14:41کہ یہ آدمی کسی دور میں بھی
14:43کہیں پہ بھی کوئی ایک پوسٹ بھی
14:44اس نے عمران خان کے حق میں تو نہیں کی ہوئی
14:46اور پوری تسلی کرنے کے بعد
14:48کسی بھی شخص کو اس بات کی اجازت دی جائے گی
14:50کہ وہ مریم نواز والے پروگرام میں شامل ہو
14:53اچھا دوسرا یہ ہے
14:54کہ جتنے بھی امبیسی کا سٹاف ہے
14:56یہ امبیسی اب ایک نئی جگہ پہ بنی ہوئی ہے
14:58پہلے جو امبیسی تھی وہ
14:59بڑی قیمتی جگہ پہ تھی
15:00بڑی شاندار امبیسی تھی
15:01زرداری صاحب کے دور میں ایک سکینڈل بھی آیا تھا
15:03اس پہ کیس کو تبدیل کر دیا گیا تھا
15:05اب ان کے گھر بھی اندر ہی ہیں
15:07جو امبیسی کا سٹاف ہے ان کے گھر بھی اندر ہی ہے
15:09اور کچھ اطلاعات یہ ہیں
15:11کہ جو امبیسی کا سٹاف ہے
15:12ان کے لوگوں کو نئے کپڑے پناہ کے
15:13اور ان کے ساتھ جو ان کی فیملی کے لوگ ہیں
15:15ان کو بٹھایا جائے گا مریم نواز کے سامنے
15:17تاکہ کوئی شخص کوئی حرکت نہ کر سکے
15:19کوئی نعرہ نہ لگے
15:20ایک شرط یہ رکھی گئی ہے
15:22کہ کوئی بھی اپنا موبائل فون
15:23یا کوئی ایسی ڈیوائس نہیں لے کر آئے گا
15:25جس سے ریکارڈنگ ہو سکے
15:26کہ مریم نواز نے کیا کہا
15:27اور سامنے لوگوں نے کیا کہا
15:29اتنے خوف کے عالم میں
15:30یہ لوگ جاپان کے اندر پروگرام کرنے جا رہے ہیں
15:33اور ایک عجیب و غریب بات آپ کو میں بتاتا ہوں
15:35ابھی تک جاپان میں
15:37کسی کو نہیں پتا
15:38کہ وہ ہال کہاں پہ ہے
15:39جہاں پہ یہ پروگرام ہونا ہے
15:41پی ایم ایل این کے لوگوں سے پوچھا گیا
15:44کہ کیا آپ جانتے ہیں
15:45کہ مریم نواز نے جو ایک پروگرام کرنا ہے جاپان میں
15:48جاپان کے اندر جو اوورسیز جاپانی ہے
15:50پاکستانی شہری جو اوورسیز وہاں رہتے ہیں
15:52جاپان کے اندر
15:53جو مریم نواز نے ایک پروگرام کرنا ہے
15:55وہ ہال کہاں پہ آ جائیں پروگرام ہونا ہے
15:57تو ان سب نے انکار کیا
15:59انہوں نے کہا ہمیں بھی نہیں بتایا گیا
16:00یعنی ہمیں اچانک بتایا جائے گا ہم اس ہال میں پہنچیں گے
16:03یا کہیں سے ہمیں کٹھا کر کے اس ہال میں لے جائے جائے گا
16:05اور کچھ بندے پاکستان سے بھی جاپان پہنچائے گئے ہیں
16:09یہ بھی میں آپ کو بتا دوں
16:10کچھ لوگ جو ہیں پاکستان سے جاپان پہنچائے گئے ہیں
16:13جنہیں اوورسیز پاکستانی بنا کر
16:15مریم نواز کے سامنے بٹھایا جائے گا
16:17اب آپ اندازہ کریں کہ اتنا خوف ہے انہیں عوام کا
16:20یہ کسی بھی ملک میں
16:21جاپان جیسے ملک میں یہ عوام کا سامنہ نہیں کر پا رہے
16:24تو یہ کہاں پہ عوام کا سامنہ کریں گے
16:26اب ناظرین اب تک کی سب سے بڑی خبر
16:27عالمی صدہ پہ
16:29ڈانلڈ ٹرمپ کی اور پیوٹن کی ملاقات ہوئی ہے
16:31اور پیوٹن جب پہنچے
16:33ڈانلڈ ٹرمپ کو ملنے کے لیے
16:34تو یہ ملاقات ایکچلی جو ٹاکس ہونے جا رہی ہیں
16:38ریشیا کی اور یوکرین کی
16:40لڑائی کے حوالے سے
16:41یہ اس حوالے سے پیوٹن پہنچا ہے
16:43امریکہ میں پلاسکا
16:45اور ساتھی جو ہے وہ
16:47وہ بھی آرہا ہے
16:49زلنسکی بھی آرہا ہے ملاقات کرنے کے لیے
16:51جو یوکرین کا پریزیڈنٹ ہے
16:52تو ان دونوں کے بیچ میں یہ ملاقات ہونی ہے
16:55اب پیوٹن جب پہنچا
16:57تو میں تھوڑا سا منظر کشی آپ کے سامنے کر دوں
16:59ڈانلڈ ٹرمپ خود
17:01رنوے کے اوپر موجود تھا
17:03پیوٹن کو ریسیف کرنے کے لیے
17:05اور خاصا چوڑا وہ ایک
17:06ریڈ کارپٹ ہے جس کے اوپر
17:09ڈانلڈ ٹرمپ موجود تھا
17:10اب پتہ نہیں انہوں نے جانبوچ کر کیا
17:12یا یہ پولیسی ہے
17:13جس کارپٹ کو بچھایا گیا
17:16پیوٹن کے جہاز تک وہ بہت باریک تھا
17:18یعنی وہاں غلطی کی گنجائش بلکل نہیں تھی
17:20جب آپ جہاز سے اترتے ہیں
17:22تو آپ کو تھوڑا سا سکنس ہوتی ہے نا
17:24جہاز سے اترنے کی
17:25آپ جہاز سے اترے ہیں
17:27اگر آپ لوگ نے جہاز میں ٹریول کیا
17:29تو جب آپ اترتے ہیں
17:29تو تھوڑا سا آپ کو
17:31آپ کتنے نارمل نہیں ہوتے
17:32جتنے آپ زمین کے اوپر ٹریول کرتے ہوئے ہوتے ہیں
17:34اگر آپ گاڑی میں بھی لبا سفر کر کے جائیں
17:36تو آپ جب اترتے ہیں
17:37تو آپ کو ایک اردہ دو منٹ لگتے ہیں پوری طرح سے نارمل ہونے میں
17:40اب یہ جہاز سے اترتے ہیں بلکل باریک کارپٹ ہے
17:43اس کے اوپر تو کیٹ واغ کی گھرنی تھی
17:45لیکن پیوٹن کے اوپر بھی شاباش ہے
17:48وہ اس کارپٹ کے اوپر ایسا بیلنس زبردست طریقے سے چل کر آیا
17:52پورا کانفیڈنٹ واغ کی انہوں نے
17:53اور ڈانلڈ ٹرمپ نے بقاعدہ کلیپنگ کی پہلے
17:56اور پھر پہلے ہاتھ بڑھایا پیوٹن سے ملنے کے لیے
18:07لیکن پیوٹن نے بڑی مضبوطی سے ڈانلڈ ٹرمپ کو ہینڈل کیا
18:10اور بڑی کانفیڈنٹلی دونوں نے وہاں پہ کڑے ہو کر بات کی
18:13تو اس میں اگر یہ شرارت تھی تو کام نہیں آئی
18:16پیوٹن کی جو واک ہے وہ بڑی شاندار رہی
18:18بڑی کانفیڈنٹ رہی
18:19بہت باریک کارپٹ کے اوپر بھی وہ بہت ٹھیک چلتے ہوئے آئے
18:22اور ڈانلڈ ٹرمپ سے انہوں نے ہاتھ میں لیا
18:24مسافہ کیا اس کے بعد ایک میٹنگ ان دونوں کے بیچ میں ہوئی ہے
18:27ڈانلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ میٹنگ کیسی رہی
18:29تو آپ کتنے نمبر دیں گے
18:31تو ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ
18:32ٹین آؤٹ آف ٹین
18:34یعنی میں اس کو دس میں سے دس نمبر دوں گا
18:36میری بڑی پوزیٹیو اور اچھی ملاقات ہوئی ہے
18:39پیوٹن سے لیکن انہوں نے دو چیزیں بولی
18:41انہوں نے کہا کہ ہیس ای سٹرانگ گائی
18:43یہ ایک بڑا مضبوط آدمی ہے
18:54کہوں گا
18:54اب مختلف میڈیا ہاؤسز جو ہیں
18:57وہ الگ الگ ریپورٹ کر رہے ہیں
18:59فاکس نیوز ریپورٹ کر رہے ہیں
19:01بڑی زبردست ملاقات ہوئی اس کا آؤٹکم بہت اچھا ہوگا
19:03جب ڈانلڈ ٹرمپ بھی اس سے امید لگا کر بیٹھے گئے
19:06آؤٹکم اچھا ہوگا
19:06ڈانلڈ ٹرمپ کی یہ خوبی ہے کہ جس سے بھی وہ ملاقات کرتا ہے
19:09اس کی تعریف کرتا ہے
19:10ڈانلڈ ٹرمپ کا یہ طریقہ کر رہا ہے
19:12بہت کم وہ ایسا کرتا ہے جیسا زلنسکی کے ساتھ اس نے کیا
19:14وہ ایک بزنس مین ہے نا
19:16تو وہ جانتا ہے کہ کسی چیز کو جس سے آپ نے حاصل کرنا ہوتا ہے
19:18تو اس کو تھوڑی سی آپ نے ڈھیل دینی ہوتی ہے
19:21تو اس نے بڑا پوزیٹیو جیسٹر دیا ہے
19:23اور ڈانلڈ ٹرمپ اتنا پوزیٹیو رہا
19:26کہ اب جو اگلی ملاقات ہونے جا رہی ہے
19:29جو ایک ٹاکس کا سیشن ہونے جا رہا ہے
19:31پیوٹن اور زلنسکی کے بیچ میں
19:33یعنی یوکرین اور رشیہ کے بیچ میں
19:35اس میں ڈانلڈ ٹرمپ کو دعوت دی گئی ہے
19:37کہ آپ بھی آئیں اور آ کر اس کو جوائن کریں
19:39تو ڈانلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا
19:42کہ میں آؤں گا اور جوائن کروں گا
19:43تو امید ہے کہ یہ جنگ رک جائے
19:45جو رشیہ اور یوکرین کے بیچ میں گزشتہ
19:47تین سالوں سے ہو رہی ہے
19:49اچھا اس میں ایک چیز اور بھی ہے
19:51ساڑھے تین سال ہو گئے ہیں
19:52اس میں ایک چیز یہ ہے کہ رشیہ نے
19:54یہ بڑی ٹاکس چکو ہونے سے پہلے
19:56بڑے زوردار طریقے سے اٹیک کیا
19:58اور دس کلومیٹر وہ گھس گئے
20:00یعنی جو ان کا ڈیفینس تھا
20:02اس کو بریک کر دیا
20:03یوکرین کے ڈیفینس کو بریک کرتے ہوئے
20:07رشیہ فوجی دس کلومیٹر اندر تک گئے ہیں
20:09ایک دن پہلے
20:10اور اس کے بعد اب آیا پیوٹن ملنے کے لیے
20:13تو یہ ایک بڑا مضبوط جیسٹر تھا
20:15وہاں گراؤنڈ پہ بھی
20:15خبروں میں بھی
20:16اور پیوٹن کا آنا
20:18یوں ملنا
20:18اور پھر بیٹھ کے بات چیت کرنا
20:20تو ٹرمپ نے کہا کہ
20:21اب زلنسکی کے اوپر کچھ چیزیں
20:22ڈیپینڈ کرتی ہیں
20:23کہ وہ اب کیا کرتا ہے
20:24ٹرمپ کے بعد جو ہتھیار ہے
20:26وہ ٹیریف کا ہتھیار ہے
20:27پابندیہ لگانے کا ہتھیار ہے
20:28اس وقت پورے یورپ نے
20:31امریکہ نے بہت ہتھیار دے کر دیکھ لیا
20:32یوکرین کو
20:33رشیہ کا مقابلہ یہ وہاں پہ نہیں کر سکے
20:36گراؤنڈ پہ رشیہ کا مقابلہ کرنا
20:38اتنا آسان نہیں ہے
20:39ان کے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار ہیں
20:41اور اگر اس وقت یہ رشیہ کے ساتھ
20:44یعنی اس کے اوپر اٹیک تو کر نہیں سکتے
20:46رشیہ کے اوپر
20:46ایٹمی پاہ رہا ہے
20:47بہت زیادہ طاقت ہے اس کے پاس
20:49تو یہ پرانا دور تو ہے نہیں
20:50اور رشیہ جہاں پہ لڑائی کر رہا ہے
20:52وہاں وہ خود بہت مضبوط ہے
20:54یوکرین کو ساری دنیا نے
20:55اتنا آسلہ دیا
20:57کہ کسی ملک کو بھی تک اتنا آسلہ نہیں ملا
20:58لڑنے کے لیے
21:00ساڑھے تین سال میں
21:01یوکرین نے دنیا بھر کے ہتھیار
21:03رشیہ کے اوپر چلا لیے
21:04لیکن رشیہ ٹس سے مس نہیں ہوا
21:06وہ بہت اگریسیب لی
21:08اس نے ڈیل کیا ہے
21:09یوکرین کو
21:09اور وہ پیچھے نہیں ہٹا
21:11علانکہ یہ پسینے چھڑا دینے والی لڑائی تھی
21:12اب اس لڑائی کے اندر میڈیا
21:14الگ الگ رپورٹ کر رہا ہے
21:15کچھ میڈیا کہہ رہا ہے
21:16کامیابی ہوئی ہے
21:16سینن یہ کہہ رہا ہے
21:17کہ ابھی تک کوئی بڑا بریک تھو نہیں ہوا
21:19لیکن آنے والے وقت میں
21:20کوئی نہ کوئی بریک تھو ہو سکتا ہے
21:23اور یہ ایک بڑی امپورٹن ڈیولپمنٹ ہے
21:25لیکن ایک بات یاد رہے
21:25عمران خان صاحب نے
21:27اسی پیوٹن سے ملاقات کی تھی
21:28تو اس کے بعد
21:28پاکستان میں ریجیم چینج ہو گیا تھا
21:31اور ریجیم چینج کی خالی وجہ یہ نہیں تھی
21:33پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے
21:34پہلے سے تیاری کی ہوئی تھی
21:36جرنل باجوہ کو ایکسٹینشن چاہیے تھی
21:38اور ایکسٹینشن عمران خان صاحب نے
21:40نہیں دینی تھی اس وقت
21:41بعد میں بیشک عمران خان صاحب نے
21:43کہا بھی کہ
21:43یار اگر یہ سارا کچھ ایکسٹینشن کی ویاس ہے
21:44تو آؤ میں دیتا ہوں
21:45لیکن ان چوروں کو تو لا کے نہ بٹھاؤ
21:47لیکن
21:58ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو قابو کرنے کے لیے
22:00کہ بھی امریکہ کا بھی آرڈر آ گیا
22:01اب ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے
22:03لہذا پاکستان میں ریجیم چینج ہو گیا
22:05اب اسی پیوٹن سے ملنے سے ریجیم چینج ہوا تھا
22:07آج وہی امریکہ
22:09رنوے پہ کھڑے ہو کر
22:11ان کا پریزیڈنٹ
22:11اسی پیوٹن کا استقبال کرتا ہے
22:13اور اس کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں
22:15اور اپنے اس ہمایتی کے اوپر دباؤ ڈال رہے ہیں
22:18صلح کے لیے اور جنگ بندی کے لیے
22:20جس کو انہوں نے دنیا بھر کے اتھیار فرام کیے تھے
22:22تو دنیا کے اندر جو ریاستیں ہیں نا
22:25وہ اپنا فائدہ سوچتی ہیں
22:26پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ
22:28اپنا ذاتی فائدہ سوچتی ہے
22:30اپنی ریاست کا یا ملک کا فائدہ
22:32وہ بعد میں سوچتی ہے
22:33یہی ایک افسوسنات پہلو ہے جس کا ہمیں دکھ ہے
22:36پورے پاکستان کو دکھ ہے
22:37یعنی اسٹیبلشمنٹ اپنے مفاد کے لیے کچھ بھی کرے گی
22:40یہ تو ہمیں پہلے ہی پتا تھا
22:42لیکن وہ اپنے مفاد کو پاکستان کے مفاد کے اوپر
22:45حاوی کر دے گی
22:46اور اپنے مفاد کو پہلے رکھے گی
22:48اور پاکستان کے مفاد کو بعد میں رکھے گی
22:50اس کا ایڈیا بالکل نہیں تھا
22:52اور اس چیز نے پوری قوم کو دھچکا دیا اور دکھ پہنچایا ہے
22:55ناظرین اس ویلوک کا وقت ختم ہو گیا ہے
22:57لیکن میری گزارش ہے کہ
22:58اپنے ہم وطنوں کی بہت مدد کرنی ہے
23:00ہم سب نے بہت کام کرنے والا باقی ہے
23:02اور ہم اس پہ بات کرتے رہیں گے
23:05سلام وطنوں کی ان کے لیے دعا بھی کریں
23:07ان کی مدد بھی کریں
23:08اور ہم اس پہ نظر بھی رکھیں گے
23:09جو ہم سے وہ پائے گا ہم سب مل کر کریں گے
23:11اب تک کے لیے اتنی اپنا خیال رکھیے گا
23:13اپنے اس چینل کا بھی اللہ حافظ
Comments

Recommended