Skip to playerSkip to main content
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
🔴Supreme Court: Big Win from Supreme Court || Only One Case Left || Imran Riaz Khan VLOG

#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi

Like us on Facebook: / imranriazkhan2

Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h

Follow us on Twitter: / imranriazkhan

Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis

Category

🗞
News
Transcript
00:00موسیقی
00:30بہت سارے ختم ہو گئے بہت ساروں میں ان کی زمانت کنفرم ہو گئی بہت ساری سزائیں ان کی موتتل ہو گئی اور اس کے بعد اب عمران خان صاحب پہ جو ہے وہ نو مقدمات باقی تھے نو میں سے آٹھ مقدمات فارغ ہو گئے ہیں اب عمران خان صاحب پہ صرف ایک مقدمہ باقی ہے جس کی وجہ سے وہ اڈیالا جیل میں موجود ہے
00:47ویسے مقدمات کی وجہ سے تو عمران خان صاحب اڈیالا جیل میں نہیں ہے عمران خان صاحب کو بے گناہ جیل کے اندر رکھا گیا صرف اس لیے کہ پاکستان کی جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے وہ انہیں اپنا دشمن سمجھتی ہے اور وہ یہ چاہتی ہے کہ عمران خان صاحب معافی مانگے جیدہا کہ فیلڈ مارشل کے سٹیٹمنٹ میں بھی آپ نے دیکھا
01:03ڈی جی آئی ایس پی آر کے سٹیٹمنٹ میں بھی آپ نے دیکھا ہر دوسرے دن ٹاؤٹس آتے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ سچے دل سے پاکستان طریقہ انصاف معافی مانگے ورنہ یہ کر دیں گے وہ کر دیں گے
01:13تو یہ ایک پرانی کہانی ہے جو چل رہی ہے ایک بات تو ثابت ہو گئی اس فیصلے سے کہ دو سال تک عمران خان صاحب کو نو مئی کے آٹھ کیسز میں ناحق قید رکھا گیا ہے
01:24یہ جو نو مئی کے آٹھ کیسز میں عمران خان صاحب کو دو سال تک جیل کے اندر رکھا گیا یہ ناحق قید رکھا گیا ہے یہ بات آج سپریم کورٹ آف پاکستان سے ثابت ہو گئی
01:35اور یہ بھی ثابت ہو گئی کہ پاکستان کی عدالتوں نے ایک آلے کے طور پر کام کیا اسٹیبلشمنٹ کا وہ ہتھیار بنی اور اس ہتھیار نے پاکستان طریقہ انصاف کو کچلنے میں اپنا پورا کردار ادا کیا
01:49اب چاہیے لوئر جوڈیشری ہے چاہیے ہائی کورٹس ہیں یہ سارا معاملہ آپ کے سامنے ہے یہ عدالت نے فیصلہ دیا کیوں دیکھیں
01:57اب ہر طرف ججز کنٹرول کر دیئے گئے ہیں سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک کمپرومائز قسم کے ججز کو پہنچایا گیا ہے
02:03لیکن معاملہ یہ بھی ہے نا کہ ججز پہ بھی دباؤ ہوتا ہے
02:08ایک دن پہلے دو معزز ججز سہبان نے خط بھی لکھا کہ جناب غلط طریقے سے عدالت چل رہی ہے نا انصافی ہو رہی ہے
02:15قانون اور آئین کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کو چلنا چاہیے انہوں نے نشان دے کی
02:20وکلا کا دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے ججز کے اندر سے دباؤ بڑھتا چلا جا رہا ہے
02:24یہ جب ساری چیزیں ہوتی ہیں اور اس کے اوپر سویل وڑائی صاحب آرمی چیف کی خواہش لا کے چاپ دیتے ہیں
02:30کہ جناب عبران خان اس لیے تو جیل کے اندر بند نہیں ہے کہ اس نے جرم کی ہوئے
02:35وہ تو جیل میں اس لیے بند ہے کہ وہ آسیم منیر صاحب سے معافی نہیں مانگ رہا
02:38یا وہ سچے دل سے معافی نہیں مانگ رہا
02:41اگر وہ سچے دل سے معافی مانگ لے تو معاملہ آگے بڑھ سکتا ہے
02:44تو سویل وڑائی صاحب کی تحریروں پر تحریریں آنا شروع ہو جاتی ہیں
02:47یورپ کے دورے کے اوپر ہم یہ آپ سیر کریں
02:50لیکن وہاں پہ بھی ڈیوٹیز نہیں سکتا کہ وہاں سے وہ تحریریں لکھ لکھ کے دے رہے تھے
02:54خواہشات کو جو ہے وہ عملی جمعہ پینانے کے لیے
02:57اور خواہشات کس کی ہیں ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہیں
02:59فیلڈ مارشل سے ان کی ملاقات ہوتی ہے
03:01یہ ساری چیزیں مل کر عدلیہ کے اوپر ایک بہت پریشر بنا گئی تھی
03:05اور عدلیہ جو ہے بہت بری طرح ایکسپوز ہو گئی تھی
03:09پھر ایک کے بعد ایک تاریخ ہو رہی ہے
03:11ایک کے بعد ایک تاریخ ہو رہی ہے
03:12عدالت کے اندر کیا ہو رہا ہے ڈیالا جیل میں
03:15وہاں پہ چوتھی مرتبہ تاریخ دے دی گئی ہے
03:18عمران خان صاحب کا کیس لگنے نہیں دیا جا رہا وہاں پہ
03:21یہ وہاں پہ صورتحال ہے
03:22سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس میں بار بار کی تاریخ دی
03:25اور بلاخر عمران خان صاحب کو بیل دینا پڑی
03:27لیکن اس کیس میں ایک دو چیزیں میں آپ کو بتاؤں
03:30جو میں نے بات کی ہے صحافیوں سے انہوں نے یہ بتایا
03:34کہ جان بوجھ کر چیف جسٹس آف پاکستان نے بار بار
03:38یہ جو کیس تھا اس کے میرٹس کے اوپر جانے سے روکا
03:42یعنی کیس کے آپ نے میرٹس دیکھنے ہوتے ہیں نا
03:45کہ بھئی یہ گوائی سچی ہے یا جھوٹی ہے
03:47تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے میرٹس کے اوپر جانے نہیں دیا موقلا کو
03:51ایسا لگتا ہے سپریم کورٹ آف پاکستان نہیں چاہتی تھی
03:53کہ پنجاب حکومت یا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ
03:57یا جو عدلیہ ہے لاہور ہائی کورٹ ہو گئی
04:00یا جو دہشتگردی کی عدالتیں ہیں
04:02ان کے سارے ججز ایک ساتھ متنازع ہو جائیں
04:04کیونکہ انہوں نے نائنصافی پر مبنی فیصلے دیے ہیں
04:07وہ پولیس ہلا ٹیبل کے نیچے گز گیا
04:09سوفی کے نیچے گز گیا
04:10پولیس والا پردے کے بیجے چھپ گیا
04:12وہ اتنی دور سے چار چار پانچ پانچ بیریئر کروس کر کے
04:15ساری سیکیورٹی میں سے گزرتا ہوا
04:17سلمانی ٹوپی پہل کے وہ عمران خان صاحب کے سامنے پہنچ گیا
04:20بہی اس طرح کی گواہیوں کے اوپر کون کھڑا ہوتا ہے
04:23اور ایک شہر میں گواہی کچھ اور ہے
04:24دوسرے میں کچھ اور ہے تیسرے میں کچھ اور ہے
04:26تو تحریکہ انصاف تو تیاری کر کے گئی ہوئی تھی
04:29لیکن چیف جسٹس نے ان میریٹس کے اوپر بات چیت نہیں ہونے دی
04:32اس سے پوری کی پوری عدلیہ جو ہے
04:34اس کے کبڑے اتر جاتے ہیں
04:35لیکن عدلیہ
04:37یہ اس کا کریڈٹ جاتا کہ اس کو
04:39دیکھیں اس کا ایک تو کریڈٹ پاکستان کے عوام کو جاتا ہے
04:41جنہوں نے ہار نہیں مانی
04:43آٹھ فرمی دوہزار چوبیس کے بعد سے لے کر
04:45اب تک ہار نہیں مانی اور وہ آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑے
04:48دوسرا پاکستان کے سوشل میڈیا کو بھی ایک کریڈٹ جاتا ہے
04:52لیکن سب سے بڑا کریڈٹ جاتا ہے عمران خان صاحب کی
04:54جو قانونی ٹیم ہے اسے
04:56وہ ٹکریں مارتے رہے بارتے رہے
04:59انہوں نے پتا ہے کمپرومائیت جات لیا
05:00لیکن انہوں نے اس میں سے بھی اپنا کام نکالا
05:03انہوں نے اتنی ٹکریں ماریں گے
05:05بلاخر بود روادہ کھل گیا
05:06اور اس میں بیریسٹر سلمان صفدر جو ہے
05:09وہ بہت تعریف کے لائک ہیں
05:10عمران خان صاحب کی جو پوری وکلا کی ٹیم ہے
05:12وہ سبھی ببارکبات کے لائک ہیں
05:15بیریسٹر سلمان صفدر صاحب ہیں
05:16سلمان اکرم راجہ صاحب ہیں
05:19ان لوگوں نے بڑا اچھا کام کیا
05:20لیکن جو ایک پروفیشنلی میں نے دیکھا
05:24کہ جس وکیل نے بہت اچھی ہینڈلنگ کی
05:26تمام معاملات کی
05:27اور مقدمات کی
05:29وہ بیریسٹر سلمان صفدر ہیں
05:30کمال انہوں نے کیسز لڑے ہیں
05:32اور جن جن لوگوں نے ان کو کیسز لڑتے ہوئے دیکھا
05:35جن صحافیوں نے بھی دیکھا
05:37انہوں نے بتایا جی کہ وہ زبردست قسم کی شبائد سامنے رکھتے ہیں
05:41بڑا ٹو دی پوائنٹ آتے ہیں
05:43اور بڑے اچھے انہوں نے مقدمات ہینڈل کیے ہیں
05:46بڑی پروفیشنلی انہوں نے ان معاملات کو ڈیل کیا
05:48کہ ایک طرف اسٹیبلشمنٹ ہے
05:50پورا کا پورا ایک ادارہ اس کام پر لگا ہوا ہے
05:52انٹیلیجنس ایجنسیاں اس کام پر لگی ہوئی ہیں
05:54عدلیہ کو کمپرومائز کر دیا گیا ہے
05:56چبیسویں آئینی ترمیم کے بعد پورے نظام کو جکڑ دیا گیا ہے
06:00لیکن پھر بھی وہ لگے رہے لگے رہے لگے رہے
06:02بلاخر عمران خان صاحب کے اب
06:04نو میں سے ایک مقدمہ باقی رہ گیا
06:06اب صرف ایک ایسا مقدمہ ہے
06:08جس میں عمران خان صاحب کو جیل میں رکھا ہوا ہے
06:11اس مقدمہ میں جانے سے پہلے میں آپ کو بتاؤں
06:14کہ لوگوں نے بڑا جشن منایا
06:15وکلا نے بڑی خوشیاں منائی ہیں
06:17کئی جگہوں میں وکلا مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں
06:19بار کانسلز کے اندر لوگ خوش ہو رہے ہیں
06:21نوجوان خوش ہو رہے ہیں
06:23تو ایک سوشل میڈیا پہ ہر جگہ پہ ایک سیلیبریشن ہے
06:25لوگ اس کے مرجشن منا رہے ہیں
06:26کہ عمران خان صاحب کے نو میں والا بیانیاں بھی
06:29جو ہے وہ اُلٹ گیا
06:30وہاں پہ بھی ان کی اب زمانت ہو گئی ہے
06:33عمران خان صاحب کی
06:34نون لیگ بڑی عجیب و غریب صورتحال میں
06:36اسے سمجھ نہیں آرہی ان ججوں کو گالیاں دینی ہے یا نہیں دینی
06:39کیونکہ یہ وہی ججز ہیں
06:41جنہوں نے ہر طرح کی سہولتکاری اس نظام کے لیے کی ہے
06:43یہ وہی ججز ہیں
06:45جنہوں نے وہ سارے کام کی ہیں
06:47جو اسٹیبلشمنٹ نے اور نون لیگ نے ان سے گندے کام کروائے ہیں
06:50یہ سارے وہ ججز ہیں
06:52جنہوں نے ملٹری کوٹس جیسے
06:53ایک گھٹیا کام کو بھی
06:56انہوں نے جواز فرام کر دیا
06:58اور اس کے حق میں فیصلہ دے دیا
07:00اب جب صبح جج تبدیل ہوئے نا
07:02تو اس میں یہ پوچھا گیا
07:04عمران خان صاحب کی فیملی سے
07:05کہ جناب آپ کو کوئی اعتراض ہے
07:07انہوں نے کوئی اعتراض نہیں ہے
07:08جو بھی ججز ہمیں انصاف دو صرف
07:10اچھا کیا انہوں نے
07:11وردہ کئی جنرلسٹ اور باقی لوگ یہ کہہ رہے تھے
07:14کہ جناب اعتراض صاحب کو لانا چاہیے تھا
07:16یا شہدار صاحب کو لانا چاہیے تھا
07:18جو دیگر ججز ہیں جو نیوٹرل ججز ہیں
07:20ان کو لے کر آنا چاہیے تھا
07:22یہ جو ججز لائے گئے ہیں
07:24عرضی صاحب ان کے بارے میں کہا گیا
07:26کہ جناب یہ
07:26ملٹری کوٹس کے حق میں انہوں نے فیصلہ دیا ہوا ہے
07:30یہ بہت غلط ہو جائے گا
07:32لیکن یہ پاکستان تحریک انصاف
07:34اور عمران خان صاحب کی فیملی نے بڑا دل کیا
07:36اور نے کہی جو مرزی جج جا جا ہمیں انصاف تھے
07:38اب کئی کیسید ایسے ہوتے ہیں
07:40جن میں ججز کیلئے بھی رستہ کوئی نہیں بجتا
07:42تو بلاخر عمران خان صاحب کی زمانتیں ہو گئی
07:45نون لی کی صورتیہ لجیب ہے
07:47ججزوں کو گالیاں دینی ہے
07:49نہیں دینی وہ اس مخمسے میں
07:50یہ اسٹیبلشمنٹ کل کو
07:52اگر ان کے اوپر دے ہاتھ اٹھا لے گی
07:54یہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی گالیاں نہیں دے سکیں گے
07:56کیونکہ جس لیول کے انہوں نے جوتیں پالش کر دی ہیں
07:59ان کے بعد پیچھے اٹھنے کا رستہ نہیں ہے
08:00اور جس لیول پہ انہوں نے اس عدلیہ کو اٹھا کے رکھا ہے
08:04ان کے بعد پیچھے اٹھنے کا رستہ نہیں ہے
08:06اب یہ کیسے کہہ سکتے ہیں
08:08کہ جناب یہ ججز
08:09کیونکہ یہ ججز یہ لوگ خود لے کر آئے ہیں
08:11تحریک انصاف نے تو ان کی مخالپت کی تھی
08:13وہ تو منصور علی شاہ صاحب کی بات کر رہے تھے
08:16یہ ججز یہ حکومت خود لے کر آئی ہے
08:19لہذا ان سے تو یہ گلہ کر ہی نہیں سکتے
08:21اب آجے ناظرین نے
08:23اس بات پہ کہ ابنان خان صاحب
08:26اب جیل میں کیوں ہیں
08:27صرف ایک کیس ہے
08:28القادر یونیورسٹی والا
08:30اب قیدی نمبر 804 جو ہے
08:32وہ صرف اس لیے جیل میں ہے
08:34صرف اور صرف اس لیے جیل میں ہے
08:37کہ اس نے ایک یونیورسٹی بنائی ہے
08:39قیدی نمبر 804
08:41اور اس کی اہلیہ
08:42صرف ایک یونیورسٹی بنانے کے جرم میں
08:45اس وقت جیل میں بند ہے
08:46اور وہ جو پیسہ جس کا نام لیا جاتا ہے نا
08:49کہ وہ اتنے ملین پاؤنڈ ہیں
08:51وہ پیسہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی اکاؤنٹ میں پڑھا ہے
08:54جنہیں کسی نے نہیں پوچھا
08:55اور انٹرسٹنگلی
08:57وہ پیسہ موجودہ حکومت نے نکال کے
08:59استعمال کرنا بھی شروع کر دیا ہے
09:01تو آپ اندازہ کیجئے
09:03کہ ایک آدمی کو ایسے جرم میں
09:05جیل میں رکھا گیا ہے
09:06جو جرم ہوا ہی نہیں
09:07اور وہ ایک ٹرسٹ ہے وہ یونیورسٹی وہاں پہ بنی ہوئی ہے
09:10بچے وہاں پہ تعلیم حاصل کرتے ہیں
09:12یہ کیس فوری طور پہ اڑے جائے گا
09:14عمران خان صاحب کے وگلہ نے دعویٰ کیا
09:16بیریسٹر سلمان صفدر صاحب کہتے ہیں
09:18کہ لمبے عرصے سے کئی مہینوں سے
09:21یہ والا کیس
09:22اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگ نہیں رہا
09:24اور ہم بہت کوشش کر رہے ہیں
09:26لگاتار کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح یہ کیس
09:28اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگ جائے
09:30اگر یہ کیس
09:32اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگ جاتا ہے
09:34تو پندرہ منٹ میں وہ کہتے ہیں جی عمران خان صاحب باہر آ جائے گی
09:36پندرہ منٹ میں عمران خان صاحب کا ان کا دعویٰ ہے
09:39کہ اگر یہ کیس لگ جاتا ہے
09:41تو یہ پندرہ منٹ کا کیس ہے اس سے زیادہ کا نہیں ہے
09:42لیکن ایک بات آپ اور ناظرین ذہن میں رکھیں
09:45کہ عوامی دباؤ کے بغیر یہ ممکن نہیں ہے
09:47پاکستان کی جو ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے
09:50یہ کیونکہ ایکسٹینشنز کا ٹائم چل رہا ہے
09:52ڈی جی آئی ایس آئی ہوں
09:53یا پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل آسیم منیر ہوں
09:56ان کی ایکسٹینشنز کے معاملات ہیں
09:59اور اس میں ایک بڑا اہم سٹیٹمنٹ ہے
10:02بڑا چھوٹا سا سٹیٹمنٹ ہے لیکن بڑا مانی خیز ہے
10:04ہم نے تھوڑے دن پہلے اس پر ڈسکشن کی تھی بہنے
10:06سابر شاگر صاحب نے اور شاداد اکبر صاحب نے
10:10کہ کیا ایک نیا نوٹیفکیشن چاہیے ہوگا آرمی چیف کو
10:13تو آج سلمان اکرم راجہ صاحب نے کہا
10:16کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے نوٹیفکیشن کی ضرورت ہے
10:20کنفرم کیا انہوں نے
10:22کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کے ایک نوٹیفکیشن کی ضرورت ہے
10:26لیکن یہ ایک قانونی معاملہ ہے
10:28اس پر غور ہوگا تو بات کریں گے
10:30بات تو ہو گئی اب
10:32اور بات باہر نکل آئی
10:34تو یہ ایکسٹینشنز کا محول ہے
10:36اس میں بہت ساری سیاست ہوگی
10:38جو موجودہ پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ ہے
10:41وہ حکومت کے اوپر دباؤ بھی ڈالے گی
10:43اور دباؤ ڈالنے کے لیے
10:44ان کے بعد جو سب سے بڑا ہتھیار ہے
10:46وہ جیل میں بیٹا ہوا قیدی نمبر آٹھ سو چار ہے
10:48اسٹیبلشمنٹ یہ کوشش کرے گی
10:51کہ نون لیگ کو ڈرائے
10:52کہ جناب ہم ججوں کو دبانا چھوڑ دیں گے
10:55ہم نائنصافی کرنا چھوڑ دیں گے
10:57اور عمران خان باہر آ جائے گا
10:59اور اگر قیدی نمبر آٹھ سو چار باہر آ گیا
11:02تو وہ آپ ساروں کو کھا جائے گا
11:04لہذا چوپکر کے جو اسی کہہ رہے ہیں نا
11:07وہ کام کر دیں آپ
11:07تو یہ ایکسٹینشنز کا موسم ہے
11:10دباؤ ڈالنے کے لیے بھی ان چیزوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے
11:13زیادہ لوگوں کو خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے
11:15لیکن اگر عوامی دباؤ بڑا
11:17اور بیرونی اور اندرونی دباؤ نے مل کر کام کیا
11:20اور عدلیہ اسی طرح سے
11:23فیصلے دینے پر مجبور رہی
11:25تو عمران خان صاحب پھر باہر بھی آ جائیں گے
11:28یہ باہر بھی آ سکتے ہیں
11:29یہ زلدی ہو سکتا ہے
11:30لیکن یاد رکھئے گا کہ جو کچھ بھی اگلے دو تین چار مہینوں میں ہوگا
11:34وہ آرمی چیف کی اور ڈی جی آئی ایس آئی کی ایکسٹینشنز کے ساتھ
11:38جڑا ہوا معاملہ ہوگا
11:39اس سے الگ معاملہ نہیں ہوگا
11:42ناظرین نے جو ایک خواہش کا اظہار کیا گیا تھا
11:50اور سویل وڑائچ صاحب نے وہ خواہشات ایڈیٹیف چھاپ دی تھی
11:53بجائے اس کے کہ وہ آرمی چیف سے سوالات کرتے
11:56ان سے یہ پوچھتے
11:57اور بجائے سویل وڑائچ کا دیکھیں
11:58ان کو تو جو کہا گیا انہوں نے ڈاکیہ کا کام کیا
12:00صحافی والا کام نہیں کیا
12:02ورنہ وہ پوچھتے کہ جناب آٹھ فرمی کے الیکشن میں آپ نے کیا کیا
12:05اصل میں سویل وڑائچ کا قصور یہ نہیں ہے
12:07کہ انہوں نے جو آرمی چیف نے کہا بولا کے چھاپ دیا
12:09قصور یہ ہے کہ انہوں نے گندے مشورے دینا شروع کر دیا
12:12کہ مانگلو مافی گر جاؤ پیروں میں
12:14یہی رفتیں بہتر ہیں
12:16مافی مانگنا ہی حل ہے
12:17یو ٹرن لے لیجئے
12:19یہ جو انہوں نے مشورے دیئے نا
12:21یہ مشورے ان کے نہیں بنتے تھے
12:22کیونکہ نواز شریف کو وہ مشورے دیتے تھے
12:24ڈٹ جانے کے جو نہیں ڈٹا
12:26عمران خان کو وہ مشورے دیتے تھے ہٹ جانے کے
12:29جو نہیں ہٹ رہا
12:30تو یہ سوہیل وڑائچ صاحب کا قصور اگر کئی ہے
12:32تو وہ یہاں پہ ہے مجھے لگتا ہے
12:33وہ جو آرمی چیف نے انہیں کہا
12:35اسے ایز اٹ از
12:37چھاپ دینا
12:38یہ تو کوئی جرم نہیں ہے
12:40اب سوہیل وڑائچ کے خلاف جو ہے وہ
12:42ڈی جی ایس پی آر نے
12:43سٹیٹمنٹ دے دیا
12:44ڈی جی ایس پی آر کا جو سٹیٹمنٹ ہے وہ بڑا انٹرسٹنگ ہے
12:48میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں
12:49وہ کہہ دیں جی برسلز میں آرمی چیف نے
12:52عمران خان یا پی ٹی آئی کا کوئی ذکر نہیں کیا
12:54نمبر ایک
12:55نمبر دو
12:57سوہیل وڑائچ نے اپنے ذاتی فائدے کے لیے
13:01من گھڑت کہانی گھڑ لی ہے
13:04من گھڑت کہانی
13:06سوہیل وڑائچ صاحب میں نے آپ سے کہا تھا نا
13:08ایک پچھلے وی لاغ میں
13:09کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کی عادت ہے
13:13جیسے زمین گرم ہوتی ہے نا
13:15تو یہ اپنے بچے اپنے پیروں تلے دبا لیتی ہے
13:17اور یہی آج آپ کے ساتھ ہوا ہے
13:20کہ جیسے ہی انہوں نے مارکیٹ میں
13:22خبر لانچ کروائی ہے آپ کے ذریعے سے
13:23یہ بڑے لمبے عرصے سے کروارہے ہیں
13:25میں ابھی ثابت بھی کر دوں گا
13:26انہوں نے آپ کے ذریعے سے خبر لانچ کروائی
13:29اور جیسے ہی عوامی رییکشن دیکھا
13:31تو یہ دوڑ گئے
13:32اب ان کے بھاگنے کے بعد
13:35آپ بتائیں آپ کیا کریں گے
13:37سویل وڑائچ صاحب کے بعد
13:38آپشن بہت تھوڑے ہیں
13:38دیکھیں ذاتی فائدہ بھی قرار دے دیا
13:41مفاد پرس قرار دے دیا سویل وڑائچ کو
13:42اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ جھوٹ بھی بولتا ہے
13:45من گھڑت کہانی انہوں نے خود ہی گھڑ لی ہے
13:47اور ساتھ یہ بھی کہا کہ جناب وہ ملاقات تو
13:50لوگوں کے بیچ میں ہوئی تھی سویل وڑائچ کی
13:52الگ سے ہوئی نہیں
13:52پھر انہوں نے نہ صرف سویل وڑائچ کو رکھنا دے دیا
13:55بلکہ جنگ گروپ کو بھی رکھنا دے دیا
13:57انہوں نے کہا جی میر شمیلوڑ ایمان کا ادارہ
13:59انہوں نے کہا جی کہ ادارے کو بھی
14:01ذمہ داری کا ثبوت دینا چاہیے تھا
14:03اب سوال یہ ہے کہ
14:05ڈی جی آئیس پی آر
14:05آپ کے آرمی جیف کے حوالے سے مقال
14:08آپ کے جھوٹی خبریں چھپ رہی ہیں
14:10تو یہاں تو چھوٹی چھوٹی بات کے اوپر
14:12پیکا آرڈیننس لگ جاتا ہے
14:13کیا اب آپ جنگ اور جیو گروپ کے اوپر
14:16اور سوال بڑائیس کے اوپر پیکا آرڈیننس لگائیں گے
14:18یہ نہیں لگے گا
14:19لگا بھی تو ایک نورہ کچھتی ہوگی
14:21اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوگی
14:23یہ مجھے آئیڈیا ہے
14:24ذرا آپ یہ سنیں کہ
14:26یہ مافی والی بات سے بھاگ کیوں نے
14:28عوام کا ردعمل بڑا خوفناک آیا
14:30مافی والے معاملے کو لے کر
14:31جو عوامی ردعمل ہے
14:32وہ بڑا خوفناک ہے
14:34ذرا میں آپ کو سناتا ہوں کہ
14:36رانہ سناولہ صاحب نے
14:39ایک دن پہلے
14:40اسی معاملے پہ
14:41جو سویل بڑائیس صاحب نے لکھا
14:43اور جو ڈی جی ایس پی آر نے بھی پہلے کہا تھا
14:45وہ بھی سناوں گا آپ کو میں
14:46انہوں نے کیا کہا
14:48رانہ سناولہ نے یہ درہ سنیں آپ
14:49جو بات اس وقت
14:52ڈی جی پی آر نے
14:53جو کی تھی
14:54غالباً آٹھ مئی دوہزار چوبیس کو
14:56یہ ایک سال بعد
14:57اور جو اب
14:59سویل بڑائیس صاحب کے
15:00فون میں انہوں نے جو بات کی ہے
15:02بڑے سیڈر صحافی ہیں
15:03اور میں
15:04یقین رکھتا ہوں کہ جو اور انہیں بات کی ہے
15:06وہ درست ہوگی
15:06تو اس میں جو ہے وہ
15:08اگر پی ٹی آئی کا یہ
15:10سوچ ہو
15:11تو انہیں اس بات کو پھر آگے بڑھانا چاہیے
15:13پھر متعلقہ لوگ ہیں ان سے بات کریں
15:15اچھا جی یہ
15:18مہر بخاری صاحبہ سے بات کر رہے تھے
15:19رانہ سناولہ صاحب
15:21اور انہوں نے جناب کنفرم کر دیا
15:23کہ سویل بڑائیس صاحب نے جو بات کی
15:24یہ اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے
15:26اور نہ صلاب یہ اسٹیبلشمنٹ کی خواہش ہے
15:28بلکہ انہوں نے
15:29یہ بھی کہا
15:31کہ ڈی جی آئی اس پی آر پہلے یہ بات کر چکے ہیں
15:33لیکن انہوں نے جو ڈیٹ دی وہ غلط دے دی
15:36میں ذرا آپ کو وہ ذرا دوبارہ سناتا ہوں
15:38کہ ڈی جی آئی اس پی آر نے کیا کہا تھا
15:39وہ سننے پھر آپ کو ڈیٹ بھی بتاتا ہوں
15:41ایسے سیاسی انتشاری طولے کے لیے
15:44صرف ایک ہی راستہ ہے
15:46کہ وہ سب کے دل سے معافی مانگے
15:48قوم کے سامنے
15:56افرد کی سیاست کو چھوڑ کے
15:58تعمیری سیاست
15:59بھی سا لے
16:00یہ جناب ڈی جی آئی اس پی آر تھے
16:03انہوں نے خود کہا تھا کہ معافی مانگے
16:06پھر انہوں نے اپنے بے شمار
16:08ٹاؤٹس کے ذریعے یہ بات کروائی
16:09کہ معافی مانگے اور وہ بھی سچے دل سے
16:12پھر کئی جگہ پہ لوگوں نے رپورٹ کیا
16:14کہ آرمی چیف بھی یہی چاہتے ہیں
16:15کہ معافی مانگے عمران خان سچے دل سے
16:18اور اب جو ہے وہ سہیل وڑائش صاحب
16:20نے بقاعدہ تحرینیں لکھ کے ثابت کر دیا
16:22آرمی چیف سے ملاقات کے بعد
16:23ایک انہوں نے آپس میں ایک سیلفی ٹائپ کی فوٹو
16:26بھی بجوائی ہے اور بتا رہے ہیں کہ جناب
16:28معافی مانگے وہ بھی سچے دل سے
16:29تو یہ جو خواہش ہے یہ بہت پرانی ہے
16:31یہ جب میں آئی اس آئی کی قید میں تھا تو مجھے بھی آکے
16:34انہوں نے پوچھا تھا کہ عمران خان کب تک ٹوٹ جائے گا
16:36میں نے پوچھا کیا مطلب ہے اس کا انہوں نے کہا جی
16:37اس کا مطلب ہے معافی مانگے
16:38عمران خان گڑ گڑا کے معافی مانگے ہم سے
16:41تو یہ خواہش بڑی پرانی ہے
16:43خارش بہت پرانی ہے معافی کی
16:45اور یہ لگاتار بڑھتی چلی جا رہی ہے
16:47اور اب اس سے یہ بھاگ رہے ہیں کہ نہیں نہیں ہم نے تو کہا ہی نہیں
16:49کہ عمران خان معافی مانگے یہ کیوں کہا ہے
16:51انہوں نے کہ یہ بھاگنا کیوں پڑھا
16:53پیچھے کیوں ہٹے اس معاملے سے
16:56یہ ایک
16:57بڑا سوال ہے پیچھے
16:59عوامی رد عمل کی وجہ سے ہٹے
17:01اور عمران خان صاحب کا کیس
17:03نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پہ بہت
17:05مضبوط ہو گیا کہ انہیں وکٹمائز
17:07کیا جا رہا ہے عمران خان
17:09صاحب کا کوئی تعلق نہیں ان مقدمات سے
17:11جنہیں انہیں جنوں میں رکھنے کے لیے
17:13استعمال کیا گیا ہے
17:14ناظرین ڈی جی ایس پی آر کا سٹیٹمنٹ کا ایک اور
17:16بڑی الٹی گنگا بہ رہی ہے
17:18اب ڈی جی ایس پی آر کہہ رہے ہیں قومی استحقام کے لیے
17:21سیاسی قیادت اور عوام کو
17:31سددانوں کو اور حکومت
17:33بناتے ہیں یہ حکومت
17:35ریاست کو چلاتی ہے اور یہ
17:37ادارے حکومت کے انڈر آتے ہیں
17:38اداروں کا کام ہے جو انہیں حکم دیا جائے
17:41وہ حکم بجا لائے
17:42ادارے کوئی مامے چاچے نہیں بن گئے پاکستان کے
17:45یہ ادارے پاکستان کی عوام کی
17:47خدمت کے لیے ہیں پاکستان کی عوام
17:49کی نوکری اور چاکری کے لیے ہیں
17:51ہم تنخواہ دیتے ہیں ان اداروں کو اور
17:53ان میں بیٹھوئے لوگوں کو کہ تم ہماری نوکری
17:55کرو ہماری خدمت کرو نہیں کرنی تو گھر جاؤ یہ ہے پاکستان کا آئین
17:59کہتا ہو یہی ہے قانون بھی کہتا ہے پوری دنیا میں یہی ہوتا ہے پاکستان
18:03میں الٹی گنگا بیاری ہے جی عوام بھی اداروں کے ساتھ کھڑی ہو جائے
18:06آکے جی ساری سیاسی قیادت بھی آکے اداروں کے ساتھ کھڑی ہو جائے
18:09بھئی ادارے ملازم ہیں تنخواہیں ادارے والے لے رہے ہیں عوام کے
18:13ساتھ اداروں نے کھڑے ہونا ہے جو عوام نے حکم کرنا ہے جو
18:16سیاستدانوں نے حکم کرنا ہے اداروں نے اسے بجاہ لانا ہے یہاں
18:21پہ الٹی گنگا بیاری ہے اور ڈی جی ایس پی آر جو ہے دھڑلے سے یہ
18:23بات کہہ بھی رہے ہیں ساتھ میں یہ کہتے ہیں کہ یہ نو میں ایک قوم
18:26کا مقدمہ ہے اور بھئی قوم کا مقدمہ انیس سو اکتر میں پاکستان
18:30دو ٹکڑے ہو گیا اسے قوم کا مقدمہ اپنے نئی بننے دیا گیا فاطمہ
18:34جناہ کے ساتھ جو ہوا اسے قوم کا مقدمہ اپنے نئی بننے دیا
18:37ظلفکار لی بھٹو کو شہید کر دیا گیا اسے قوم کا مقدمہ اپنے
18:41نئی بننے دیا یہ کون سا قوم کا مقدمہ ہے قوم کا اس وقت صرف
18:45ایک بڑا مقدمہ ہے اور وہ آٹھ فروری دوہزار چوبیس کا
18:49الیکشن ہے جو پورا کا پورا الیکشن چوری کر کے نو سربازوں کے
18:54حوالے کر دیا گیا یعنی اس الیکشن میں جو لوگ جیتے ہیں انہیں
18:58باہر بٹھا دیا گیا اور جو لوگ بترین شکست ہوئی جنہیں
19:01عوام نے مستند کیا انہیں لاکر مسلط کر دیا عوام کے اوپر یہ
19:04ہے آج قوم کا سب سے بڑا مقدمہ ناظرین سلاف زدہ علاقوں کی
19:08صورتحال کے حوالے سے بھی مجھے آپ سے تھوڑی بات کرنی ہے اس میں
19:11ایک پیغام ہے جو شیری زادہ صاحب نے مجھے بھجوایا ہے بڑے اچھے
19:14سینئر جنرلسٹ ہیں وہاں کس قسم کی امداد کی ضرورت ہے یہ
19:18پیغام آپ سن لیجئے اور میری گزارش ہے کہ سب لوگ مدد کرنے
19:23کے لیے جائیں انہیں افرادی قوت کی ضرورت ہے اور فیوچر میں جن
19:26چیدوں کی ضرورت ہوگی اس کے اوپر ہم انشاءاللہ بی لاغ بھی
19:29کریں گے جو ہم سے ہو پائے گا ہم وہ کریں گے انشاءاللہ پاکستانیوں
19:32کے لیے اپنے بہن بھائیوں کے لیے آٹھ دن ہو گئے اور ابھی بھی لوگوں
19:37کے مکاناتوں میں ریت موجود ہے بجری موجود ہے سڑکے بند ہے گلیا
19:42بند ہے تو لوگوں کو ابھی جو اس وقت ضرورت ہے وہ افرادی قوت
19:46ہے اور اس کے ساتھ ساتھ چونکہ املاک کو بہت زیادہ نقصان پہنچا
19:50ہے تو ان لوگوں کو بحالی کے لیے ضروری ہے کہ نقد رقم ہو تو
19:54ناظرین اب تک کے لیے اتنی اپنا خیال رکھی گا اپنے چینل کا بھی
19:57اللہ حافظ
Comments

Recommended