Skip to playerSkip to main content
#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI
Engineer Mirza Arrested – Shocking Reasons Behind the Case || Imran Riaz Khan VLOG

#Pakistan #PakistaniPolitics #PTI #ImranKhan #Establishment #Political #Economy #Crisis #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #supremecourt #ptijalsa #SupremeCourt #imranriazkhan #imrankhanpti #imrankhanyoutubechannel #imrankhan #news #pakistan #currentaffairs #aliamingandapur #arifalvi

Like us on Facebook: / imranriazkhan2

Subscribe to our Channel: https://bit.ly/3dGeB3h

Follow us on Twitter: / imranriazkhan

Pakistan Pakistani Politics
PTI
Imran Khan
Establishment
Political
Economy
Crisis

Category

🗞
News
Transcript
00:00موسیقی
00:30موسیقی
01:00موسیقی
01:30موسیقی
02:00موسیقی
02:02موسیقی
02:30موسیقی
02:32موسیقی
02:59اور یہ میں داتی دور پہ جانتا ہوں کہ نیپ کو بقاعدہ اس وقت ملٹری جنرلز کنٹرول کرتے تھے
03:04ایجنسیاں کنٹرول کرتی تھیں جیسے آج بھی ایجنسیاں ہی نیپ کو کنٹرول کرتی ہیں
03:08تو خواجہ عاصف صاحب نے کہا اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواجہ عاصف صاحب پھر چپ کیوں رہے
03:14تب سے لے کر اب تک خواجہ عاصف صاحب نے ایسی کوئی بات نہیں کی
03:17آج تک خواجہ عاصف صاحب نے اس بارے میں ایک لفظ نہیں بولا
03:20اس کے بعد اسی جنرل باجوہ کے مرہونے منت ہو کر اسی جنرل فیض کے جوتوں میں گر کر انہوں نے اقتدار حاصل کر لیا
03:30اور عمران خان صاحب کی حکومت گرا کر خود اقتدار میں آ کر بیٹھ گئے
03:33اگر وہ جنرل اتنے برے تھے تو ان کو چاہیے درہ انہیں ایکسپوز کرتے
03:38یا کم سے کم وزیر دفاع بننے کے بعد خواجہ عاصف کو چاہیے تھا
03:42کہ اس شخص پہ کانونی کاروئی کرتے جس نے انہیں دھمکی دی تھی
03:46کہ میں تمہیں گرفتار کروا دوں گا یا تمہیں گرفتار کر لیا جائے گا
03:50اور تم پہ نیب کا کیس بنا دیا جائے گا
03:53اگر تم نے اپنے آپ کو اس سے الگ نہ کیا اور اس کی مضمت نہ کی تو
03:57تو خواجہ عاصف صاحب نے ایک تو بہت دیر سے یہ بات کی
04:00یعنی ریٹائر جنرلوں کو ان کے رشتہ داروں کو مارنا بہت آسان ہوتا ہے
04:05ان کو حاضر ڈیوٹی ماہی باپ چاہیے ہوتا ہے
04:08روزانہ کی بنیاد پہ آپ دیکھیں کہ ابھی کل کی بات ہے
04:11وہ کیپٹن سفدر نے جو ہے وہ ندیم انجم صاحب کو دھویا بیٹھ کے
04:14سابق ڈی جی ہائی ایس آئی
04:15اور اب جو ہے وہ خواجہ عاصف صاحب جنرل باجوہ کو دھوتے ہیں
04:20ہر دوسرے چوتھے دن
04:21اب ان کے سوسر کی بھی دھولائی کی ہے
04:24جنرل فیض کو بھی ریٹائرمنٹ کے بعد سے یہ ٹکاکت ہو رہے ہیں
04:27تو معاملہ یہ ہے کہ جس وقت یہ جنرل موجود تھے
04:31تب تو ان کے جوتوں کے تسموں کے ساتھ لٹک کے یہ لوگ اقتدار میں آئے تھے
04:35یہ ایک سچے لیکن چلے ایک اچھی بات ہے
04:37کہ خواجہ عاصف صاحب نے عمران خان صاحب کے حق میں گوائی دی
04:40اور یہ کہا کہ اس وقت بھی جرنیلوں نے ان کے ساتھ جو کیا تھا وہ کیا تھا
04:44اور عمران خان صاحب یہ کہہ جو گیا ہے کہ جناب نیب تو وہ کنٹرول کرتے تھے
04:48اور جب عمران خان صاحب نے چیزوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی
04:51تو اسٹیبلشمنٹ کو بسان نہیں آیا
04:53جیسے کہ ہمیشہ نہیں آتا
04:55جو بھی آدمی اپنی ڈومین واپس مانگتا ہے
04:58یا پولٹیکل سپیس کو بڑھانے کی کوشش کرتا ہے
05:00اس کی حکومت پاکستان میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ گرہ دیتی ہے
05:04بارال یہ ایک دوسرے کے پول خود ہی کھولیں گے
05:07اور زیادہ کسی اور کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی
05:10چیزیں خود ہی کھلتی رہیں گی
05:11ایک اور ناظرین خواجہ عاصف صاحب نے مافی کا ایک نیا فارمولا بھی دے دی ہے
05:16یہ بڑا انٹرسٹنگ ہے
05:18خواجہ عاصف صاحب نے کہا کہ مافی
05:19بچتاوے
05:21یا شرمندگی کا اظہار
05:22ان تین چیزوں میں سے ایک چیز کرنی پڑے گی
05:25اب نو مہی پر طریقہ انصاف ایک آپشن چن لے
05:28مافی
05:30بچتاوہ
05:31یا شرمندگی کا اظہار
05:32اب چاہے یہ پارلیمنٹ میں کہہ دیں
05:35چاہے یہ عدالت میں کہہ دیں
05:36چاہے یہ قوم سے مافی مانگ لیں
05:38یا ادارے سے مانگ لیں
05:40سیاست کرنی ہے
05:42تو یہ کرنا پڑے گا
05:44اب خواجہ عاصف نے بھی آج اس بات کی تصدیق کر دی
05:47کہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان ٹیریک انصاف سے
05:50مافی مگوانی ہے
05:51اس کے علاوہ رستہ کوئی نہیں ہے
05:53اگر سیاست کرنی ہے تو ورنہ سیاست وہ کر ہی نہیں پائیں گے
05:56لیکن سیاست وہ کیسے کرے
05:58مقصود نشستیں ان کی چھین لی گئیں
06:00سترہ نشستیں جیتنے والوں کو حکومت دے دی گئیں
06:03ان کی آدھی سے زیادہ سیٹے
06:05قومی اسیمبلی کی اور اسی طرح سبائی اسیمبلی کی بھی
06:07چھین لی گئیں
06:08یعنی تین صوبہ میں کم سے کم ان کی حکومت بنتی تھی
06:12سٹیٹ وے
06:13وہ ان کی نئی بننے دی گئی
06:15چوتھے صوبے میں ان کی ایک اتحادی حکومت بنتی تھی
06:17وہ بھی نئی بننے دی گئی
06:19تو پاکستان طریقہ انصاف کو دیوار کے ساتھ لگایا گیا
06:22اور جتنے زمنی الیکشن ہوتے ہیں
06:24ان میں فارق کیا جاتا ہے
06:25ان کے ایمنیت پر مقدمات کیے جاتے ہیں
06:27سنائے جاتے ہیں مقدمات کے فیصلے
06:29فارق کیا جاتا ہے
06:30تو سیاست تو انہیں نہیں کرنے دی جاری
06:32اور یہ اسٹیبلشمنٹ کا کام ہے
06:34تو خواجہ عاصف یہ کہتے ہیں
06:35کہ جناب معافی جب ہی مانگ لو
06:36یا آپ یہ کہہ دیں کہ جناب ہمیں شرمندگی ہے
06:40یا آپ یہ کہہ دیں کہ ہمیں پشتاوہ ہے
06:42تو یا پھر آپ معافی مانگ لیں
06:44اس کے علاوہ جو ہے وہ کوئی آپشن نہیں ہے
06:47ان میں سے تینوں میں سے ایک آپشن
06:49خواجہ عاصف صاحب کہتے ہیں کہ چننی پڑے گی
06:51اب اس پہ جو ہے وہ ایک ردعمل اعتزاد احسن صاحب کبھی ہے
06:55وہ بڑا انٹرسٹنگ ہے
06:56اعتزاد احسن صاحب کہتے ہیں
06:58کہ یہ کیا حصول ہے کہ سیاست دان سے کہا جا رہا ہے
07:00کہ معافی مانگے
07:01عمران خان کس بات کی معافی مانگے
07:03نو مہی پر انتظامیہ اور آئی جی پنجاب
07:06کو معافی مانگنی چاہیے
07:08آئی جی بتائے کہ بارہ گھنٹے
07:10کور کمانڈر ہاؤس جلتا رہا
07:12اس کے تھانے دار کہاں تھے
07:13موقع پر کیوں نہیں پہنچے
07:15اور سی سی ڈی وی فوٹیج کہا گئی
07:17باقی چیزیں کہا گئی
07:18یہ وہ بہت سارے سوالات ہیں
07:19جن کے جواب کوئی بھی نہیں دے رہا
07:22یا شاید کسی کے پاس ان کے جواب ہے ہی نہیں
07:24بس سزائیں دیے جا رہے ہیں
07:26اب رانہ سناؤلہ صاحب کے
07:28ڈیڑے پہ حملے والا جو معاملہ ہے
07:29اس کے اوپر جناب
07:31بڑا رولہ پڑ گیا ہے
07:33کہ جناب ڈیڑے کے اوپر اتجاج ہو رہا تھا
07:36اور توڑ پھوڑ ہوئی ہے
07:37تو اس کا مقدمہ درج کیا گیا
07:38تو مدعی رانہ صاحب کو بننا چاہیے تھا
07:40کچھ لوگ کہہ رہے ہیں جی ریاست مدعی بن گئی ہے
07:42وہ کیوں ہوا
07:42چلے یہ تو اب چھوڑے بات
07:45معاملہ یہ ہے کہ توڑ پھوڑ کا جو کیس ہے
07:47اس میں جو سزائیں دی جا رہی ہیں
07:49وہ تو ایسے دی جا رہی ہیں
07:50کہ کوئی قتل و قارت گری ہو گئی ہے
07:52دس دس سال کی سزائیں دے دیں اٹھا کے
07:55ساٹھ کے گریب بندوں کو
07:57اور اس کے علاوہ کئی بندوں کو جو ہے
07:59وہ تین تین سال کی سزائیں دے دیں
08:00نہ کوئی ایک بندہ زخمی ہوا
08:03نہ کوئی ایک بندہ جانبہ ہک ہوا
08:05نہ کوئی قتل ہوا
08:06نہ کوئی زخمی ہوا
08:07اور سزائیں دے دیں دہشت گردی والے معاملات ڈال کے
08:09اب یہی رانہ صناح اللہ ہے
08:11جب یہ وزیر قانون تھے
08:13اور پنجاب کی پولیس کو
08:15اور سارے نظام کو کنٹرول کرتے تھے
08:17تو ان لوگوں کے آرڈر کے اوپر
08:18گولی چلائی گئی مارڈل ٹاؤن میں
08:20اور جب وہاں گولی چلتی ہے
08:23تو اس میں چودہ لوگ شہید ہو جاتے ہیں
08:25جانبہ ہو جاتے ہیں
08:27اور اس میں
08:28درجنوں لوگوں کو گولیاں لگ جاتی ہیں
08:31لوگ اسپتالوں میں پہنچ جاتے ہیں
08:33خواتین کے موہ کے اوپر گولیاں ماری جاتی ہیں
08:35حاملہ خاتون جو ہے اسے شہید کر دیا جاتا ہے
08:37آج گیارہ سال گزر گئے
08:40اس معاملے میں اب تک انصاف نہیں ہو سکا
08:42یعنی جب اسٹیبلشمنٹ چاہے
08:46تو آپ یہ دیکھیں
08:47کیسے وہ نائنصافی کو بھی انصاف بنا دیتے ہیں
08:50اور جب اسٹیبلشمنٹ ساتھ کھڑی ہو جائے
08:52تو جو انصاف کرنا بھی ہوتا نا
08:54اسے بھی روک دیتے ہیں
08:55یعنی وہاں لاشیں گری تھی
08:57چودہ لاشیں تھی
08:59درجنوں زخمی تھے
09:00قتل اور اقدام قتل کے معاملات تھے
09:03کسی کو سزا نہیں ہوئی
09:04اور یہاں پہ جناب کیا ہوا
09:06کہ کوئی ایک بندہ بھی زخمی یا حلاک نہیں ہوا
09:09اور یہاں پہ دڑا دڑ سزائیں سنائی جا رہی ہیں
09:12ریاست ہے نا
09:14جس طرف مرضی معاملہ لے جائے
09:15خواجہ عاصف کیب کہتے ہیں نا
09:16کہ پھر سیاست نہیں کرنے دیں گے
09:18کوئی بھی کام نہیں کرنے دیں گے
09:19اور معاملہ اسی طرف چل رہا ہے
09:21عمر عیوب صاحب نے اس سزا کے اوپر اپنا رد عمل دیا ہے
09:24عمر عیوب صاحب کہتے ہیں
09:26کہ مجھے دیگر تحریک انصاف کے رانماؤں اور کارکنوں کو
09:29آج ایٹی سی فیصلہ باد کے جج جعوید اقبال شیخ نے
09:32رانہ سناؤلہ کے گھر پر مبینہ حملے کے جھوٹے الزام میں
09:35دس سال قید کی سزا سنا دئیے
09:37میں اس جگہ کبھی موجود ہی نہیں تھا
09:40اور اس تغاثہ کے کسی گواہ نے میرا نام تک نہیں لیا
09:43مزید یہ کہ انہی گواہوں کی گواہی کو
09:45گزشتہ سال ایٹی سی سرگودہ نے
09:48مسترد کر دیا تھا
09:50اور انہیں جھوٹا قرار دیا تھا
09:52اس فیصلے کے بعد میرے خلاف مجموعی طور پر قید کی سزائیں
09:55چالیس سال کی ہو گئی ہیں
09:57اب وہ یہ کہتے ہیں کہ
09:58اٹھائیس دسمبر دوزار ساتھ کو
10:01بیندزر بھٹو جب قتل ہوئی
10:03تو ان کی شہادت کے بعد
10:05پیپس پارٹی کے کارکنوں نے
10:06ہریپور میں میرے گھر پر حملہ کیا
10:08اور جلانے کی کوشش کی
10:10مگر اس وقت نہ کوئی گرفتاری ہوئی
10:13اور نہ ہی کسی کو
10:14سزا سنائی گئی
10:16اب آگے وہ اینڈ میں جا کے کہتے ہیں
10:18کہ جناب یہ تو فستائیت ہو رہی ہے
10:20اور بکترین فستائیت ہو رہی ہے
10:22مگر میں ہمیشہ
10:23تحریک انصاف اور اپنے قائد عمران خان کا سپائی رہوں گا
10:26انشاءاللہ عمران خان
10:28پاکستان کے وزیراعظم بنے گے
10:30یہ جناب کہہ رہے ہیں
10:32عمر ایوب صاحب
10:33ان کا رد عمل ہے
10:33وہ کہے ہی نہیں اس طرف
10:34جس طرف مقدمان پہ ڈال دیا پکڑ گئے
10:36تلہ کی کوئی نہیں
10:36اور جتنا نقصان
10:38بیندزر کی شہادت کے اوپر
10:40پیپس پارٹی نے کیا تھا
10:41اس کی تو مثال ہی کوئی نہیں ملتی
10:42تو بھائی وہ بربادی پھیر دی تھی
10:44پیپس پارٹی نے
10:44اربو ڈالر کا رقصان کرتی ہے تھا پاکستان کا
10:47لیکن کچھ نہیں کیا گیا
10:48ریاست خاموش ہو گئی
10:51کہ آگے بڑھنا
10:52لیکن یہ نو مہی کے اندر جو ہے نا
10:54ایک زد بکڑی ہوئی
10:55اور اس کو بہانہ بنا کر
10:56ایک پولیٹیکل پارٹی کو
10:57وکٹمائز کیا جا رہا ہے
10:58دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے
10:59یہ بہانہ ہے اور کچھ نہیں ہے
11:01اب اسد کیسر صاحب جیسے ایک
11:03یعنی اسد کیسر جیسا بندہ
11:06جو زیادہ شدت میں بھی نہیں جاتے
11:08یہ تو وہ بندہ ہے جس نے
11:10رولنگ بھی نہیں دی تھی
11:12کاظم سوری صاحب کو دینی پڑی تھی
11:14بڑے محتاط رہتے ہیں
11:15اب ان کے گھر پہ چھاپیں مارے جا رہے ہیں
11:17اسد کیسر صاحب کہتے ہیں کہ
11:18تھوڑی دیر پہلے تقریباً
11:19ساڑھے دس مجھے رات کا وقت تھا
11:21اب میرے اسلام آباد والے گھر پر
11:24پولیس نے غیر قانونی طور پر چھاپا مارا
11:25میرے پاس پشاور ہائی کورٹ کی طرف سے
11:28دی گئی زمانت موجود ہے
11:29لیکن اس کے باوجود پولیس
11:31حراسہ کرنے سے باز نہیں آتی
11:33اگر ان کا یہ خیال ہے کہ
11:35ہم ان اوچھے ہتکندوں سے ڈر جائیں گے
11:37تو یہ ان کی غلط فہمی ہے
11:38ہم نہ پہلے ڈرے ہیں
11:39اور نہ آگے ڈریں گے
11:41ہم اس ظالم نظام کے سامنے
11:43ڈٹ کر کھڑے ہیں
11:44اور کھڑے رہیں گے
11:46دیکھیں یہ نہ پاکستان تحریک انصاف
11:49کو کچھ کا کچھ بنا رہے ہیں
11:50یہ چلے جانا ہے ان اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں نے
11:53یہ پی ایم ایل این اور پی پل پارٹی کے سمجھنے کی بات ہے
11:55کہ یہ جو اسٹیبلشمنٹ کی ابھی ایک حرارکی ہے نا
11:59جس میں فیلڈ مارشل صاحب ہیں
12:00ڈی جی آئیس ہے
12:01یا دو چار پانچ ہے
12:02اور سیکٹر کمانڈرز
12:04یا کوئی سینئر آفیسرز ہیں
12:05انہوں نے ہمیشہ نہیں رہنا
12:07انہوں نے چلے جانا ہے
12:08لیکن آپ نے اور آپ کے بچوں نے
12:09یا آپ کی پولٹیکل پارٹیز نے
12:11یہیں پہ سیاست کرنی ہے
12:12یہ آپ کی سیاسی مخالف جماعت
12:16جو پاکستان تحریک انصاف ہے
12:17اس کے اوپر آئرن کوٹنگ کر رہے ہیں
12:19انہیں لوئے کا بنا رہے ہیں
12:21وہ انہیں اتنا مضبوط کر دیں گے
12:24کہ کل آپ کئی دھائیوں تک
12:25پھر ان کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے
12:27اگر اسی طرح پاکستان تحریک انصاف
12:30مزید مار کھاتی رہی نا
12:31کچھ عرصہ اور
12:33تو وہ ایک لوئے کی جماعت بن جائے گی
12:36لوئے کی جماعت انہیں بنا تو دیا
12:38تو جو کچھ ان کے ساتھ
12:40ظلم اور فستائیت کی جاری ہے
12:41جتنے لوگ کو
12:42یعنی جو لوگ نرم بھی تھے نا
12:43پاکستان تحریک انصاف میں
12:45ان کو بھی مضبوط بنایا
12:46خواتین کو بہادر بنا دیا
12:48کوئی اور پولٹیکل پارٹی
12:50ان کا مقابلہ کرنے کا سوچ ہی نہیں سکتی
12:51مذہبی سیاسی جماعتوں کے علاوہ
12:53یہ بات پیپس پارٹی اور پی ایم ایل این
12:56کے سوچنے کی ہے
12:57یہ بات باقی پولٹیکل پارٹیز کے سوچنے کی ہے
13:00جمہوری پولٹیکل پارٹیز ہیں
13:01کہ اسٹیبلشمنٹ
13:02ان کا بھلا کر رہی ہے
13:04یا ان کے لیے ایک
13:06مستقل
13:07بہت طاقتور
13:09مخالف پیدا کر رہی ہے
13:10اب یہ تو ہو رہا ہے
13:12بہرحال یہ لوگ تو چلے جائیں گے
13:14اپنی نوکریوں سے ریٹائر ہو کے
13:15تو باقی جنہوں نے نمٹنا ہے
13:17وہ جانے اور ان کا کام جانے
13:18حسان نیادی صاحب کی جو والدہ ہے
13:21نورین خان نیادی صاحبہ
13:23انہوں نے سٹیٹمنٹ دیا ہے
13:25ایک انٹریو انہوں نے دیا
13:26یہ ایمپارٹنٹ سٹیٹمنٹ ہے
13:28میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں
13:29اور ساتھ میں ایک سٹیٹمنٹ جو ہے
13:31وہ شاہد خٹک صاحب نے بھی دیا
13:33اب یہ دونوں سٹیٹمنٹ شیر افضل مروت کے بارے میں ہیں
13:36اچھا
13:37یہ حسان نیادی صاحب کی جو والدہ ہے
13:40وہ کہتی ہے کہ شیر شاہ نے کہا
13:41کہ ملک سے باہر ریکر میں تنگ آگیا ہوں
13:43اب چاہئے مجھے پکڑیں
13:44میں واپس آ رہا ہوں
13:46شیر مروت جیسوں کو جو میسج آتا ہے
13:48انہوں نے بول دینا ہے
13:49میں اس کی بات نہیں کرنا چاہتی
13:52ان لوگوں نے شیطانیہ کی
13:53کہ حسان پکڑا گیا
13:55شیر شاہ کو بھی پکڑو
13:56اب یہ حسان کی والدہ کہہ رہی ہیں
13:58شیر افضل کا
14:00میں نام تک نہیں لینا چاہتی
14:02یہ ہر وہ کام کر رہے ہیں
14:04جو انہیں فیڈ کیا جاتا ہے
14:05حسان میرا بیٹا ہے
14:07تو شیر شاہ بھی میرا بیٹا ہے
14:08حسان نو میں ایک اور تقریر کر رہا تھا
14:11کیونکہ پاس کھڑے مظاہرین میں سے
14:13ایک نوجوان کو گولی لگی تھی
14:15میں ہوتی تو شاید زیادہ سخت تقریر کرتی
14:18شاید کھٹک صاحب نے کیا کہا
14:20شیر افضل کو کون جانتا تھا
14:23اس کی کیا حیثیت تھی
14:25ایک وکیل تھا
14:27اس سے پہلے بلدیاتی الیکشن میں
14:29پینتالیس ووٹ لیے تھے
14:30پی ٹی آئی نے اسپیس دی
14:32سیاسی جماعت میں ایک دوسرے کو عزت دینی ہوتی ہے
14:35لوگوں نے نو میں سے پہلے بھی
14:37اور نو میں کے بعد بھی بڑی قربانیاں دی ہیں
14:39غیر ذمہ دار بیانات
14:41نہیں دینے چاہیے تھے
14:42یہ شیر افضل مروت صاحب کے بارے میں
14:44اور حقیقت تو یہی ہے نا
14:46کہ اصل میں ووٹ تو عمران خان کا ہے
14:48شیر افضل مروت کو کون ووٹ دیتا ہے
14:49یہاں پاکستان طریقہ انصاف میں بے شمار لوگ یہ کہتے ہیں
14:52کہ ہماری اپنی کوئی حیثیت نہیں
14:53ہمیں عمران خان صاحب کا ووٹ پڑا ہے
14:55اور اس کے علاوہ تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے
14:57کہ ہمیں اتنے ووٹ پڑھیں گے
14:58یہ بہت سارے لوگ مجھے کہتے ہیں
15:00لیکن شیر افضل مروت صاحب شاید یہ بات
15:02اپنے اندر تسلیم نہیں کر پا رہے
15:04یا وہ یہ حوصلہ پیدا نہیں کر پا رہے
15:07کہ وہ اس بات کو تسلیم کر سکیں
15:09ناظرین
15:10ایک سال پہلے کی یہ خبر ہے
15:12یہ اخبار آپ دیکھیں
15:22سال ہونے والا ہے اس خبر کو
15:23سوا سال سے اوپر ہو گیا
15:24یہ خبر چپی جناب اخبار کے اندر
15:27اور خبر یہ تھی کہ
15:30یو اے ای
15:31یعنی متحدہ عرب امارات
15:33پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے
15:35دس عرب ڈالرز انہوں نے مختص کر دی ہیں
15:37شہباز شریف نے بتایا تھا
15:39اس دن کہ ہم نے جناب کشکول توڑ دیا ہے
15:42اور
15:43شہباز شریف صاحب نے کہا لیے کشکول ٹوڑ گیا
15:45ہم عوام کو تربیت دیں گے
15:48وزیر آزم
15:49آئی ٹی کمپنیوں کی مفامتی آد داشتوں پر دستگت ہو گئے
15:52اور
15:53چینی کی قیمت میں اضافہ قبول نہیں ہے
15:56اور
15:57یعنی ایک سو چالیس روپے
16:00پورا سال ایک سو چالیس روپے چینی
16:02فرامی کی جائے اس کو یقینی بنایا جائے
16:04اور بہت ساری اور باتیں کی انہوں نے
16:06اب
16:08یہ شہباز شریف صاحب کے دعوے تھے
16:10لیکن آج تقریباً سوا سال گزر گیا
16:12کوئی ایک عرب ڈالر بھی آیا
16:14کدھر ہے کانا آیا
16:16دس ارب ڈالر کے دعوے کی ہے شہباز شریف نے
16:18انہوں نے قوم کو ٹرک کی بطی کی پیچھ ہی لگایا
16:20وہ چینی جو اس کے اندر بیان لگاوا ہے
16:23ایک سو چالیس والی وہ دو سو سے اوپر کی بکتی رہی
16:25اور ابھی اور اوپر جائے گی
16:27جو یہ باہر سے کارنامہ کر کے امپورٹ کر رہے ہیں
16:29پہلے باہر ایکسپورٹ کر دی
16:31اب واپس امپورٹ کر رہے ہیں
16:33یہ ان کی حرکتیں ہیں جن کی وحثیں پاکستان
16:35یہاں تک پہنچ گیا ہے
16:36اور یہاں بھی ایک جج صاحب کا بیان ہے ناظرین
16:38وہ بڑا انٹرسٹنگ ہے
16:39جج صاحب یہ کہتے ہیں کہ آرٹیکل ٹین اے کے تحت
16:43فیر ٹرائل ایک بنیادی حق ہے
16:45یہ دیکھیں آپ
16:46یہ ایکسپریس نیوز کے اوپر خبر چپی ہوئی ہے
16:49اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے
16:51معزز جج نے یہ بات کی ہے
16:54کہ جسٹس محمد علی مزر
16:56یہ کیس سن رہے تھے انہوں نے کہا جی
16:59کہ فیر ٹرائل کا حق
17:00آئین کے آرٹیکل ٹین اے کے تحت
17:03ایک بنیادی حق بن گیا ہے
17:05مناسب قانونی عمل ایک لازمی شرط ہے
17:08جس کا ہر سطح پر احترام کیا جانا چاہیے
17:11فیر ٹرائل کا حق اس بات کا تقاضہ کرتا ہے
17:13کہ کسی کو اس وقت تک سزا نہیں دی جانی چاہیے
17:15جب تک اسے جواب دینے
17:17اور اپنا مقدمہ پیش کرنے کا
17:19مناسب اور منصفانہ موقع نہ دیا جائے
17:22کیا عمران خان کو یہ موقع ملے
17:25یہاں سپریم کورٹ آف پاکستان یہ فیصلہ دے رہی ہے
17:27اور اس کے اندر یہ چیزیں سامنے آ رہی ہیں
17:29لیکن معاملہ یہ ہے
17:32کہ کیا عمران خان کو فیر ٹرائل کا حق ملا ہے
17:34عمران خان کو تو یہ حق ملا ہی نہیں
17:35جرا کرنے کی اجازت نہیں ملتی
17:37ان کے وکیلوں کو
17:38میڈیا کو اور فیملیز کو
17:40اندر جانے کی اجازت نہیں ملتی
17:43بعض اوقات وکلا کو بھی باہر کر دیا جاتا ہے
17:45راتوں کو دیر دیر تک
17:47عدالتیں لگائی جاتی ہیں اور ٹرائل چلائے جاتے ہیں
17:50جیل میں
17:51ایک ہوسٹائل قسم کے انوائرمنٹ کے اندر
17:53ٹرائل چلائے گئے
17:54ٹرائل اتنے فیر تھے
17:57کہ ججز بچاروں کی بار بار حالت خراب ہو جاتی تھی
17:59ایسے ظالمانہ ٹرائل کیے گئے
18:02پاکستان طریقہ انصاف کے لیڈر
18:04عمران خان کے
18:04اور اب یہاں جج صاحب کہہ رہے ہیں سپریم کورٹ میں
18:07کہ فیر ٹرائل کا حق جو ہے یہ بنیادی حق ہے
18:09بنیادی انسانی حق ہے یہ
18:11تو یہ بنیادی حق سے
18:13عمران خان صاحب کو محروم کر دیا گیا
18:15ویدے ایسا لگتا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف
18:17اور عمران خان صاحب کے بنیادی حقوق
18:19محتل ہو گئے ہیں
18:20ناظرین جاپان سے کچھ ویڈیوز آئیں
18:22تصاویر آئیں
18:24اول تو مریب نواز صاحبہ کو جاپانیوں نے مو ہی نہیں لگایا
18:27جو مجھے دکھائی دے رہا ہے
18:28جاپانیوں نے کیا مو لگانا تھا
18:30انہیں وہاں پاکستانیوں نے بھی مو نہیں لگایا
18:32جو مجھے دکھائی دے رہا ہے
18:33مجھے انفورچنیٹلی یہ کہنا پڑ رہا ہے
18:35میں اس طرح کے الفاظ بولنے کا عادی نہیں ہوں
18:37مجھے کہنا بھی نہیں چاہیے تھا
18:39لیکن حقیقت یہی ہے
18:40وہاں پہ چند لوگوں کے علاوہ
18:42وہی شکلیں تھیں وہ گھوم گھوم کے آتی تھی
18:44یا میسی کے تھوڑے سے لوگ تھے
18:46یا کوئی تھوڑے سے پاکستانی تھے
18:47جن کو انہوں نے عوضے دیئے ہوئے
18:48وہ گھوم گھوم کے آتے تھے
18:50ائرپورٹ پہ بھی وہی ہوتے تھے
18:51اس جگہ بھی وہی ہوتے تھے
18:52اس جگہ بھی وہی ہوتے تھے
18:53ہر جگہ انہی کو گھوم گھوم آگے
18:54اوہ بار بار گلدستے لے کے پہنچ جاتے تھے
18:56تو اس طرح گھوم پھر آگے چکر دے کے
18:59انہوں نے یہ اپنا دورہ بڑی مشکل سے مکمل کیا ہے
19:01لیکن میں جاپان کی ویڈیوز اور وہ دیکھ رہا تھا
19:04امیر ترین ملک ہے
19:05وہ پاکستان کو قرضہ دیتا ہے
19:07لیکن ان کی ٹیبل
19:08ان کی کرسیاں
19:09ان کے کانفرنس روم
19:11جہاں پہ مریم نواز کو بٹھا کے بریفنگز دی گئیں
19:13وہ جگہ اتنی صرف بنیادی فیسلیٹیز تھی
19:16کوئی لگجری وہاں نہیں تھی
19:19صرف کام کے لیے آتے ہیں وہ لوگ
19:22اور جتنا ضرورت ہو
19:24اتنا ہی استعمال کرتے ہیں
19:25یہاں پہ آپ وزیر اللہ ہاؤس میں گھسیں
19:27تو کیا لیوش قسم کے صوفے ہیں
19:29کیا شاندار قسم کی ٹیبلز ہیں
19:32کیا زبردست قسم کی
19:33وہاں چیئرز لگی ہوئی ہیں
19:35کمال زبردست محول بناتے ہیں
19:38وی وی آئی پی قسم کا کلچر ہے پاکستان
19:39جاپان میں میں وہ ٹیبلز اور چیرز دیکھ کے
19:42حیران رہ گیا
19:42سارے کے سارے ایک ہی طرح کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے
19:45اور آپ اس میں باتچیت کر رہے ہیں
19:46یہاں تو جناب جب تک صدارت والی کرسی
19:49کوئی ایک فٹ انچی نہ ہو جائے
19:50تب تک کسی کو سکونی نہیں آتا
19:52پاکستان کی ویڈیوز آپ دیکھ لیں ان کی
19:55اور جاپان کی ویڈیوز آپ دیکھ لیں ان کی
19:57پاکستان کے مناظر دیکھ لیں
19:59اور دیکھیں جاپان ایسے ہی آگے نہیں نکل گیا
20:01انہوں نے یہ فیصلہ کیا
20:03کہ پیسہ جہاں خرچ کرنا ہے وہیں خرچ کرنا ہے
20:05جہاں خرچ نہیں کرنا وہاں خرچ نہیں کرنا
20:07کرزے لے لے کر صوبے چل رہے ہیں
20:10اور ان کی عیاشیاں ختم نہیں ہوئی اندازہ کریں
20:11جاپانیوں نے دیکھا ہوگا
20:13کہ یہ اپنا لاو لشکری پورا لے کر آگئے ہیں
20:15اپنی بیٹیاں لے آئے
20:25اپنے بیروگریڈز کے بچوں کو لے کر آگئے
20:26اپنے وزیروں کے بچوں کو لے کر آگئے
20:28اپنی بیٹیوں کی سہیلیوں کو لے کر آگئے
20:30وہ بہی خاننا خراب
20:31وہ تم لوگ کسی ملک کے بادشاہ ہو
20:34وہ کرزہ دے نہ ہمارے ملک نے دنیا کا بھائی
20:37یہ مو اٹھا کے سارا لٹرم پٹرم
20:39پورا ٹبر لے کے ان کے رشتہ داروں کو
20:41دوستوں کو لے کے یہ پانچ گئے جناب جاپان کے
20:43دارے کے اوپر حد ہو گئی
20:45جاپانی بھی دیکھ کے حیران ہوتے ہوں گے
20:47اور انہیں بڑے آرام سے سمجھ آ جائے گی
20:49کہ ہمارے زوال کے اسباب کیا ہے
20:51ہم پڑھا کرتے تھے نا
20:53ماضی میں
20:54مغل سلطنت کے زوال کے اسباب
20:57یہ معاشر دلو کی کتاب میں ہوتا تھا
20:59یہ مستقبل میں
21:01جب ہمارے بچے کتابیں پڑھا کریں گے نا
21:03تو پاکستان کے زوال کے اسباب میں
21:06اس قسم کے گھٹیا سیاستدان
21:08اور یہ خاندانی سیاست کا
21:09جو گھٹیا پان ہے
21:11یہ ایک بہت بڑی وجہ ہوگا
21:13اب تکلیت نہیں اپنا خیال رکھیے گا
21:14اپنے چینل کا بھی
21:15اللہ حافظ
Be the first to comment
Add your comment

Recommended