Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:01بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:03اللہ تعالیٰ کے پاکزہ نام سے آغاز کرتے ہیں
00:06جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے
00:09درس بخاری کا سلسلہ کتاب شروط تک پہنچا تھا
00:13اور اس میں باب بیان کیا تھا
00:15باب شروط اللہ تی لا تحلو فی الحدود
00:18حدود میں جو شرطیں لگانا جائز نہیں ان کا باب
00:25یہ آپ کو بتایا تھا کہ
00:27جو سزائیں ہوتی ہیں وہ دو طرح کی ہوتی ہیں
00:30ایک حد کہلاتی ہیں
00:33حدود اس کی جمع ہے
00:34اور ایک تعذیر ہوتی ہے
00:36اس کی جمع تعذیرات ہیں
00:37اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے
00:42اگر کوئی سزا اس طرح مقرر کر دی جائے
00:44کہ اس میں انسانوں کو تغیر و تبدل کا کوئی اختیار نہ ہو
00:49تو اس کو حد کہتے ہیں
00:51اور جو سزائیں انسان کسی کے لیے مقرر کرتا ہے
00:55جیسے حاکم اسلام ہیں
00:56یا ججز ہیں
00:58جو شرعی حدود کے علاوہ
01:00کوئی سزا مقرر کرتے ہیں
01:02اس کو تعذیر کہتے ہیں
01:03تو یہاں حدود کا بیان ہے
01:05کہ حدود میں جو شرطیں لگانا جائز نہیں
01:08ان کا بیان
01:09حدیث نمبر دو ہزار سات سو چوبیس
01:12اور دو ہزار سات سو پچیس
01:15یہ ایک ہی حدیث
01:16چونکہ راوی دونوں
01:17سندے تھوڑی سی مختلف تھیں
01:19لیکن مطن بلکل ایک تھا
01:20تو امام بخاری نے اس کو
01:22دونوں کو ایک جگہ جمع کیا ہے
01:25حضرت ابو خریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
01:27اور حضرت زید بن خالد
01:30رضی اللہ تعالیٰ عنہ
01:32دونوں نے بیان کیا
01:33کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص
01:36رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا
01:39اس نے کہا
01:40یا رسول اللہ میں آپ کو
01:41اللہ کی قسم دیتا ہوں
01:43کہ آپ میرا فیصلہ صرف
01:45کتاب اللہ سے کریں
01:46پھر اس کے مخالف نے کہا
01:49کہ جو اس سے زیادہ ضرورت مند تھا
01:52کہ جی ہاں آپ ہمارے درمیان
01:55کتاب اللہ سے فیصلہ کریں
01:57اور مجھے اجازت دیں
01:59یعنی کچھ بات کرنے کی اجازت دیں
02:02تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:04ٹھیک ہے تم بات کرو
02:06اس نے کہا
02:07کہ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں
02:09مزدور تھا
02:10اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا
02:12اور بے شک مجھے بتایا گیا
02:14کہ میرے بیٹے کو
02:15سنگسار کرنے کی سزا ہوگی
02:19تو میں نے اس کی طرف سے سو بکریاں
02:21اور ایک کنیز
02:23بطور فدیہ دے دی
02:25پھر میں نے اہل علم سے سوال کیا
02:27تو انہوں نے مجھے بتایا
02:29کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے
02:32اور ایک سال کے لیے
02:33شہر بدر کیا جائے گا
02:37اور اس شخص کی بیوی کو
02:38سنگسار کیا جائے گا
02:40تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:42کہ ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے
02:46میں ضرور تمہارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کروں گا
02:50اور وہ فیصلہ یہ ہے
02:51کہ باندی اور بکریاں
02:53تو تم کو واپس کر دی جائیں گی
02:54اور تمہارے بیٹے کو
02:56سو کوڑے بارے جائیں گے
02:58اور ایک سال کے لیے
03:00شہر بدر کیا جائے گا
03:03پھر سرکار نے فرمایا
03:04اے انہیں صبح کو اس عورت کے پاس جاؤ
03:07اگر وہ اعتراف کر لے
03:08تو اس کو رجم کر دینا
03:11راوی کہتے ہیں
03:12کہ پھر وہ صبح اس کے پاس گئے
03:14تو اس نے زنہ کا اعتراف کر لیا
03:15پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
03:17اس کو رجم کرنے کا حکم دیا
03:20سو اس کو رجم کر دیا گیا
03:22رجم کہتے ہیں
03:23پتھر مار کر کسی کو ہلاک کرنا
03:27یہ حدیث میں نے پہلے بھی بیان کی تھی
03:29لیکن تھوڑی سکی تشریحات باقی تھی
03:31اس لئے اس کو ذکر کیا ہے
03:33پہلی بات تو یہ کہ
03:34وہ دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
03:37اور ایک شخص نے یہ بات کہی
03:38کہ میں آپ کو
03:40اللہ کی قسم دیتا ہوں
03:42کہ آپ میرا فیصلہ صرف کتاب اللہ سے کریں
03:47یہ بظاہر ایک عدب والا جملہ نہیں تھا
03:50وجہ اس کی یہ تھی
03:51کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:53قرآن سے ہٹ کر کوئی فیصلہ فرمائیں گے
03:56یہ خنیسی بات ہے
03:57کہ ایسا نہیں ہوگا
03:58تو اس شخص نے بہرحال یہ بات کہی
04:01اور اس کی وجہ یہ ہے
04:02کہ پہلے ہی دیکھیں
04:03راوی نے ذکر کیا
04:04کہ دیہاتیوں میں سے ایک شخص سرکار کے پاس آیا
04:07اس کا مطلب یہ ہے
04:09کہ وہ بھی ایسے تھے
04:10کہ جو زیادہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہنے والے نہیں تھے
04:14اور اس طرح کے جو دور دراز کے رہنے والے تھے
04:17وہ اکثر آدابیں
04:19مجلس مصطفیٰ اور دیگر آداب نہیں جانتے تھے
04:22تو وہ اس طرح کی باتیں کر دیا کرتے تھے
04:24اور ان کا مقصد خدا نہ خواستہ بالکل یہ نہیں تھا
04:26کہ اگر ہم آپ کو قسم نہیں دیں گے
04:28تو آپ کتاب اللہ کے علاوہ فیصلہ کر دیں گے
04:30اس لئے ہم قسم دے کر آپ کو کوئی اکے
04:33مقید کر رہے ہیں بانڈ کر رہے ہیں
04:34یہ ان کا ارادہ نہیں تھا
04:36ان کا ارادہ یہی تھا
04:37وہ اپنی ایک قلبی تسلی کے لیے جیسے کہتے ہیں
04:40انہوں نے جملہ کہا
04:41اور نبی کریم نے بعد میں یہی فرمایا
04:43کہ ہاں میں تمہارے درمیان
04:45اللہ کی کتاب سے ہی فیصلہ کروں گا
04:48اب اس شخص نے دوسرا جو مخالف تھا
04:50اس نے کہا کہ میرا بیٹا اس کے ہاں کام کرتا تھا
04:53اور اس کی زوجہ سے زنا کر لیا
04:55اب وہ لڑکا تھا کمارہ
04:56اور یہ اقنی سی بات ہے
04:58اس کی بیوی تھی
04:59تو وہ شادی شدہ تھی
05:00اور حکم شرع یہ ہوتا ہے
05:02کہ اگر کوئی کمارہ زنا کر لے
05:05اور جرم ثابت ہو جائے
05:07تو اس کو سو کوڑے لگائے جائیں گے
05:10اور اگر کوئی شادی شدہ ہے
05:12اور اس کا جرم ثابت ہو جائے
05:13تو اس کو سنگسار کیا جائے گا
05:15جس کو ایرابک میں رجم کرنا کہتے ہیں
05:21لہذا اس شخص نے کسی سے ایسا مسئلہ معلوم کیا
05:24اس نے پہلے یہ بتا دیا
05:25کہ آپ سو بکریاں دے دیں
05:28اور ایک باندی بطور فدیہ دے دیں
05:32تو آپ کا کفارہ ادا ہو جائے گا
05:35لیکن پھر وہ کہتا ہے
05:37کہ میں نے اہل علم میں سے کسی سے پوچھا
05:39تو انہوں نے کہا کہ سو کوڑوں کی سزا ہوگی
05:41یعنی پھر کسی نے صحیح بتایا اہل علم نے
05:43تو اس سے بھی ایک نتیجہ مرتب ہوا
05:45کہ پہلی بات تو یہ کہ
05:47ہمیں اتنا علم ہونا چاہیے
05:48کہ ہم اپنے مسائل ضروری مسائل خود حل کر سکیں
05:52اور اگر کچھ اس کے علاوہ ہے
05:54تو اس کے لیے ایسے لوگوں سے
05:56یقیناً رابطے میں رہیں
05:57کانٹیکٹ میں رہیں
05:58کہ جو اہل علم کہلاتے ہیں
06:01کیونکہ اگر آپ صرف اپنے خاندان والوں
06:04محلے والوں دوستہ باب سے
06:06مسائل معلوم کریں گے
06:07تو ہر ایک صاحب علم نہیں ہوتا
06:09کوئی کہتا ہے جی میں نے سنا تھا
06:11ایسا تھا میں ایک فلع علم کے پاس تھا
06:12اس نے ایسا کہا
06:13اچھا علم نے کیا کہا
06:15اور اس نے کیا سنا
06:16کوئی گارنٹی نہیں ہے
06:17اور اس میں بعض اوقات غلط سلط مسائل بتا کر
06:20کسی کو تباہ و برباد کیا جاتا ہے
06:22جیسے کہ یہاں ہوا
06:23کہ اگر وہ اس طرح کر لیتے
06:24کہ سو بکریاں دے دیں
06:25اور ایک کنیز بطور فیدیہ دے دیں
06:28اور اس کے بعد معاملے کو ختم کر دیتے
06:31تو لازم بات ہے کہ
06:32یہ معاملہ اپنی جگہ رہتا
06:34شرع سزا جاری نہ ہوتی
06:36اور ایک خلاف شرع طریقے سے
06:38اس مسئلے کا حل نکلتا
06:40اور اس طرح جہاں پر شرع تعلیم موجود ہو
06:43اپنی اقل اور فہم کو استعمال کر کے
06:46اس کے خلاف فیصلہ کرنا
06:47یقینا یہ گناہ کی صورت بنتی
06:50تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
06:52انہوں نے باقاعدہ اقرار کیا
06:54کہ ایک اہل علم سے پوچھا تو ایسا تھا
06:56اب رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
06:58نے پھر فیصلہ فرمایا
06:59کہ ہاں جس نہ
07:00یعنی گویا کہ یہ کہا
07:02کہ جو اہل علم نے آپ کو بتایا
07:04وہ بالکل ٹھیک تھا
07:05سو بکریاں اور باندیاں
07:06تمہیں واپس ملیں گی
07:07اور تمہارے بیٹے نے چونکہ اقرار کیا ہے
07:10کہ مجھ سے زنہ ہوا
07:11اور وہ کمارہ ہے
07:13تو اس کو سو کوڑے لگیں گے
07:14اور ایک سال کی جلہ وطنی ہوگی
07:18اچھا یہ پہلے بحث گزر چکی ہے
07:20ہم نے آپ کو بتایا
07:21کہ یہ
07:22ویسے تو
07:24قرآن کے اندر بھی سزا صرف سو کوڑے ہے
07:27ایک سال کی جلہ وطنی
07:29یا وطن سے دور کرنا
07:30یہ قرآن سے ثابت نہیں ہے
07:32اور بہت سے ایسے معاملات ہوئے
07:34کہ صرف سو کوڑے لگے
07:36اور جلہ وطنی نہیں ہوئی
07:37اس لئے فقہ حنفی کے روشنی میں
07:39یہ جلہ وطنی موقوف ہوگی
07:41حاکم اسلام کی سیاست
07:44اور تدبر پر
07:45یعنی اگر حاکم اسلام یہ سمجھتا ہے
07:48کہ میں اس کو صرف سو کوڑوں کی سزا دوں گا
07:50تو شاید یہ ناکافی ہوگی
07:52تو وہ یہ کر سکتے ہیں
07:53کہ سیاستاً حکمتاً مزید ایک سال
07:56ان کے اوپر ایک سزا مقرر کریں
07:58کہ تم اس شہر سے دور رہو گے
08:00اس میں ایک سال تک داخل نہیں ہو سکتے
08:03لیکن اگر ایسا نہیں ہے
08:05کوئی شخص ویسے ہی تائب ہے
08:06اور سو کوڑے لگنے کے بعد
08:08یقین ہے کہ یہ اپنی حالت کو سوار لے گا
08:11تو پھر سو کوڑوں کے بعد
08:14ایک سال کی جلہ وطنی
08:15یہ حد میں داخل نہیں ہوگی
08:17یا تازیراً داخل نہیں ہوگی
08:19اور صرف سو کوڑے ہی کافی ہوں گے
08:22دوسری بات یہ ہے
08:24کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:26نے شاد فرمایا
08:27کہ صبح جاؤ
08:29اور اس کی بیوی سے معلوم کرو
08:31اگر وہ اقرار کر لیتی ہے
08:33کہ ہاں میں نے
08:35واقعی زنا کیا ہے
08:36تو اس کو رجم کر دینا
08:37یہ سرکار نے کیوں فرمایا
08:40اگرچہ لڑکے نے اقرار کر لیا تھا
08:42لیکن کسی ایک شخص کا اقرار
08:44اس کے اپنے حق میں ویلڈ مانا جائے گا
08:46یعنی لڑکے نے کہا
08:47مجھ سے زنا ہوا ہے
08:48تو اس کو تو سزا ملے گی ملے گی
08:51لیکن آپ غور کریں
08:52تو یہ اپنے لیے
08:53اس اقرار کے ساتھ ساتھ
08:55دوسرے پر ایک الزام لگانا ہے
08:56کہ جب اس کے ساتھ میں نے زنا کیا ہے
08:59تو کیا ایک شخص کے اقرار کے بعد
09:02اس کا الزام بھی اتنا پاورفل ہو جاتا ہے
09:04کہ جس کے بارے میں انگلی اٹھا دے
09:06اس کو سزا دے دیں
09:07ایسا نہیں ہوگا
09:08اگر ایسا ہوتا
09:09تو کوئی آدمی اقرار کرتا
09:11اپنا
09:11کہ واقعی
09:12اور کسی کو بچانے کے لیے
09:14دوسرے کوئی بارے میں کہہ دیتا ہے
09:15کہ اس کے ساتھ میں نے زنا کیا ہے
09:17تو وہ بے گناہ بچارہ خامخہ مارا جاتا
09:19اس لیے ہمارا مذہب اسلام
09:21اس کی اجازت نہیں دیتا ہے
09:22اب جو خدود ہوتی ہیں
09:24وہ دو طریقے سے ہی ثابت ہوتی ہیں
09:26خصوصا جیسے یہ زنا کا مسئلہ ہے
09:28کہ یا تو
09:30مرتقیبِ گناہ
09:31خود اقرار کر لے
09:32یعنی زنا کرنے والا خود اقرار کرے
09:34جیسے نوجوان نے کیا
09:36اور یا پھر
09:37اگر کسی پر الزام لگایا جائے
09:39اور وہ انکار کر رہا ہو
09:41یا تو یہ قرار کر لے
09:42تو پھر ٹھیک ہے سزا ملے گی
09:44لیکن اس نے انکار کیا
09:45کہ میں نے تو ایسا نہیں کیا
09:46تو الزام لگانے والے سے کہا جائے گا
09:48کہ آپ اس پر چار گواہ پیش کریں
09:51اور چاروں کے چاروں مرد ہونے چاہیے
09:54اور چاروں سے قاضی
09:56الگ الگ انیورسٹیگیشن کرے گا
09:58یعنی پہلے ایک کو بلائے گا
09:59پھر اسے پوچھے گا
10:00یہ بتاؤ
10:01کس کا نے کس کے ساتھ زنا کیا
10:03تم کس کی گواہی دے رہے ہو
10:05کس ٹائم تم نے دیکھا
10:06کس جگہ پہ کھڑے ہو کر دیکھا
10:08وغیرہ وغیرہ
10:09پھر دوسرے گواہ کو
10:10پھر تیسرے کو
10:11پھر چوتھے کو
10:12اگر ان کے بیان میں
10:13ذرا بھی ٹکراؤ اور تضاد پیدا ہوا
10:15ایک نے دس بجے کہا
10:16دوسرے گیارہ بجے
10:17بس حد ساقیت ہو جائے گی
10:19اور یہ گواہ قابل قبول نہیں ہوں گے
10:22اور اب جس نے الزام لگایا تھا
10:24الٹا اسے حد قضف لگے گی
10:26حد قضف قضف کا مطلب ہوتا ہے
10:29زنا کی جھوٹی تحمت لگانا
10:31یا تو آپ صحیح چار گواہ پیش کریں
10:33اور نہیں کر سکے
10:34تو آپ نے جھوٹا الزام لگایا تھا
10:36لہٰذا الٹا اس کو
10:37اسی کوڑے لگے گے
10:38یہ ہمارے مذہب اسلام کا
10:40سخت موقف ہے
10:42تاکہ کوئی کسی کی عزت کو
10:43پامال نہ کر سکے
10:44اگر ایسے سخت معاملات نہ ہوتے
10:47تو کوئی بھی کسی پہ الزام لگا دیتا ہے
10:49جی اس نے فلنگ ساتھ زنا کیا ہے
10:50تو خیاء اس کے الزام پر ہی خالی سزا
10:53تو اس لئے تم گواہ پیش کرو
10:55آپ فرض کر لیں
10:56کہ ایک شخص نے صحیح کہا
10:58کہ بھئی میں نے دیکھا ان کو
10:59تو قاضی کو تو نہیں پتا
11:01کہ واقعی سچ کہہ رہا ہے
11:02جھوٹ کہہ رہا ہے
11:03قاضی کو کوئی علم غیب تو حاصل نہیں ہے
11:05ہمیں مکلب بنایا گیا ہے
11:07ظاہر کا
11:09شریعت یہ حکم دیتی ہے
11:10کہ باطن پر نہیں
11:12ایسا نہیں کہ آپ زائچہ نکال کے
11:13کوئی عامل کے پاس پہنچ جائے
11:14رو کہ ہاں میرے زائچے میں آگیا
11:16کہ اس نے زنا کیا
11:17تو اس پر کر دیں
11:18ایسا نہیں ہے
11:19ہماری شریعت ظاہر کو دیکھتی ہے
11:21لہذا اگر قاضی کے پاس
11:22کسی شخص نے آ کر کہا
11:23کہ میں نے ان دو کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے
11:26تو قاضی کو غیب کا علم تو نہیں ہے
11:28وہ اس سے کہہ گا
11:28اگر ٹھیک ہے
11:28اگر دیکھا ہے تو گوہ لاؤ
11:30اب وہ آدمی کہتا ہے
11:31جی گوہ تو میرے پاس نہیں ہے
11:33تو قاضی کہے گا
11:34بس ظاہر شرعہ کے مطابق
11:37تمہارا جھوٹا ہونا ثابت ہوگا
11:39اگرچہ اگر تم سچ کہہ رہا ہو
11:41تو آخرت میں تم
11:41اللہ کی بارگاہ سے انعام پاؤ گے
11:44لیکن ظاہرا
11:45چونکہ تم گوہ پیش نہیں کر سکے
11:47لہذا اس کو اسی کوڑے کی سزا ملے گی
11:50اس پر وہی ہمارے جیسے بھائی ہوتے ہیں
11:52بعض کے ایک جہد سے مسئلے کو دیکھ رہے ہوتے ہیں
11:54دوسری طرف سے دیکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی
11:56کہتے ہیں یہ کیا بات ہے
11:58ایک آدمی بیچارہ آکے گناہ کا بتایا
11:59الٹا اس کو سزا ملے گی
12:01اچھا اگر وہ یہی گناہ کے بارے میں
12:03آپ کے والد کے بارے میں بتا دیں
12:05آ کر کہے کہ بین کے والد کو زینہ کرتا ہوئے دیکھا ہے
12:07سزا جاری کرو
12:08اب آپ بتائیں کہ اس ایک آدمی کی گواہی پر
12:12آپ کے والد صاحب کو
12:14سنگسار کیا جائے یا نہ کیا جائے
12:16اب آپ کہیں گے نہیں نہیں میرے والد
12:17گواہ لے کر آؤ
12:18ثبوت فرام کرو
12:19ماشاءاللہ آپ کا ذہن بڑا اچھا کام کرنے لگا ہے
12:22پس یہ ہمارا مذہب کہتا ہے
12:23کہ اگر کوئی کسی پر ایسے الزام لگا دے
12:25اب ہمیں تو نہیں پتا نہ کہ یہ سچ کہہ رہا ہے
12:28جھوٹ کہہ رہا ہے
12:28ہم تو وہی ظاہر شرح کے پابند ہیں
12:31اسی طریقے سے پچھلے دنوں
12:33کافی پہلے چند سال پہلے
12:35یہ ایک مسئلہ چلا تھا
12:36کہ اگر کسی عورت کے ساتھ
12:37کوئی زینہ بلجبر کر دیتا ہے
12:39اور وہ آ کر
12:40قاضی کے پاس کہتی ہے
12:41یا کوٹ میں کہتی ہے
12:42کہ میرے ساتھ ایسا کیا گیا ہے
12:46اور
12:47اس کا کوئی بظاہر
12:49اس کے پاس گواہ نہیں ہے
12:50تو یہ
12:51ملزمہ کہلائے گی
12:52الٹی کہ تمہارے پر گواہ نہیں ہے
12:54تو لہٰذا
12:55تمہیں کوڑے لگیں گے اسی
12:58اب یہ کے بات کہتے ہیں
12:59کہ بھئی دیکھیں
13:00ایک عورت پر پہلی ظلم ہوا ہے
13:02اور الٹا اس پر اسی کوڑے
13:05لیکن آج کل کی میں
13:06ہم بعد میں بات کرتا ہوں
13:07جدید ٹکنوجی کے بارے میں
13:08لیکن آپ غور کریں
13:09کہ یہی عورت
13:10آپ کے والد پہ الزام لگائے
13:11آپ کے بھائی پہ الزام لگائے
13:13تو
13:13کیا اب بھی یہ بیچاری کہلائے گی
13:15یا مظلومہ کہلائے گی
13:16یہ خنی سے بات ہے کہ نہیں
13:17آپ کہیں گے گواہ پیش کرو
13:19کچھ ثبوت دو
13:20بلکہ اب تو آپ بھی یہ کہیں گے
13:21اپنے والوں کو بچانے کے لیے
13:23بھئی شریعت تو اس میں کہتی ہے
13:25چار گواہ لے کر آؤ
13:25نہیں ہے تو
13:26ٹھیک ہے
13:27اسی کو سزا ملے گی
13:28تو یہ ہمارا
13:29زاویہ نظر تھوڑا سا غلط ہے
13:30ہاں آج کل کے دور میں
13:32ایسا ہو سکتا ہے
13:32اگر عورت آکے الزام لگاتی ہے
13:34تو
13:34اس کا ٹیسٹ کروائے جائے
13:36ڈی ای نی ٹیسٹ کروالیا جائے
13:37پھر جس پہ الزام لگا رہی ہے
13:38اس کا ڈی ای نی ٹیسٹ کروائے جائے
13:40اور دونوں کا
13:41اگر میچ ہو جاتا ہے
13:42ثابت ہو جاتا ہے
13:45سینٹیویک پوائنٹ آف یو سے
13:46کہ ہاں اس نے اس کے ساتھ
13:48زنا کیا ہے
13:48تو قاضی اس پر جبر کروا سکتا ہے
13:51کہ پولیس والوں کو کہے
13:52ابھی بھی سزا جاری نہیں کر سکتا
13:54کیونکہ شرعی طور پر
13:55یہ رپورٹ کا آنا
13:57یہ زنا کی سزا جاری کرنے کے لیے
14:00شرعی ثبوت نہیں کہلائے گا
14:02شرعی ثبوت دو ہی ہیں
14:03اقرار
14:04اور یا پھر
14:05چار گواہ
14:07اب یہ ہو سکتا ہے
14:08کہ چونکہ
14:08دین ایٹ میچ ہو گیا ہے
14:10تو قاضی کہے
14:11تم اقرار کر لو
14:12تمہارے حق میں بہتر ہے
14:13ورنہ دوسرے طریقے سے
14:14اقرار کروایا جائے گا
14:16اب اگر وہ اقرار کر لیتا ہے
14:17تو بس ٹھیک ہے
14:18یہ شرعی طقاضہ پورا ہو گیا
14:19نہیں کرتا
14:20تو پھر اس کو
14:21ضد و قوب کیا جا سکتا ہے
14:22جبکہ رپورٹ
14:23بلکل دیانت داری سے بنائی ہو
14:25یہ نہیں کہ جھوٹی رپورٹ
14:26بنا کے اس کو مار پیٹ کر کے
14:28اور اسے اقرار کروالیا جائے
14:29یہ اچھی طرح یاد رکھیں
14:30ان کوئی اداعات کا لحاظ
14:31رکھنا ہوگا
14:33تو سرکار نے شاہد فرمایا
14:34کہ جا کر اس ورد سے پوچھ
14:36اگر وہ اقرار کرتی ہے
14:37تو اس کو رجم کر دینا
14:38انہوں نے جا کر پوچھا
14:39اس نے اقرار کر لیا
14:40کہ ہاں مجھ سے زنہ ہوا ہے
14:42تو اس کو رجم کر دیا گیا
14:45اب دیکھیں یہ زمانہ رسول ہے
14:47بعض لوگ اس پر بھی
14:48ایک اپجیکشن کر دیتے ہیں
14:49کہ دیکھو بھی
14:50زمانہ رسول میں ایسا ہوا
14:52تو زمانہ رسول میں دیکھیں
14:54مشرقین بھی تھے
14:55کفار بھی تھے
14:56منافقین بھی اسی دور میں تھے
14:58اسی دور میں
14:59کسی نہ کسی جگہ
15:00بتوں کو پوجھا جا رہا تھا
15:02تو یہ کس نے کہہ دیا
15:04کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:06کہ اگر کوئی قریب رہے گا
15:07تو وہ کبھی گناہ نہیں ہو سکتا
15:10یہ یاد رکھیں کہ
15:11اہل سنت کے نزدیک
15:13جمہور علماء اسلام کے نزدیک
15:16صرف فرشتے معصوم ہیں
15:19اور یا پھر
15:20انبیاء علیہ السلام معصوم ہیں
15:22اور اس کے علاوہ کوئی معصوم نہیں
15:25معصوم اسے کہتے ہیں
15:26کہ جس میں اللہ تعالیٰ گناہ پیدا ہونے نہیں دیتا
15:30باقی رہے جو
15:31اصحاب رسول تھے
15:32اور جو اولیع عظام ہوتے ہیں
15:34بڑے مشتہد مفتیانے کرام
15:36تو یہ محفوظ ہوتے ہیں
15:38یعنی اللہ تعالیٰ ان کی گناہ سے حفاظت فرماتا ہے
15:42لیکن ان سے گناہ کا ارتکاب ہو سکتا ہے
15:45تو اگر زمانہ رسول میں
15:47کسی سے کوئی ایسی خطا ہوئی ہے
15:48تو یہ کوئی تاجب خیز بات نہیں ہے
15:50کہ ہم کہے کہ یہ کیسے ہو گیا
15:52یعنی کیا آپ نے کسی کو معصوم سمجھا تھا
15:55معصوم پہ گناہ نہیں پیدا ہو سکتا
15:57اللہ تعالیٰ اس کو بالکل پاک و صاف رکھتا ہے
16:00لیکن آپ نے
16:01جب خود یہ غلط عقیدہ ذہن کے اندر رکھا
16:04اب اگر کسی سے ایسا ہوا
16:06تو ہم کہتے ہیں
16:06یعنی ایسا کیسے ہو گیا
16:07تو لہٰذا ایسا ہو سکتا ہے
16:09لیکن
16:11جو یہ کہا جاتا ہے
16:12کہ تمام صحابہ عادل تھے
16:14ان میں کوئی غیر عادل نہیں تھا
16:17اس کی وجہ یہ تھی
16:18کہ خدا نہ خواستہ کبھی کوئی خطا ہوئی ہے
16:20تو انہوں نے فوراں توبہ کی ہے
16:21اگر علانیہ ہے
16:23تو علانیہ توبہ کی ہے
16:24اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
16:26تعائب ہونے کے ساتھ ساتھ
16:28اپنے آپ کو سزا کے لئے پیش کیا ہے
16:30کوئی ایسا واقعہ ہمیں نہیں ملتا
16:32کہ کسی نے گناہ کی
16:33اپنے آپ کو چھپا کر رکھا
16:34اور مطلب فسق کی حالت میں
16:37ماذا اللہ سمہ ماذا اللہ
16:38فوت ہو گیا ہو
16:39صحابہ کرامے سے نہیں تھے
16:41کہ فسق کو فجور کرتے
16:42وہ بلکل عادل تھے
16:43نیک تھے
16:44پریزگار تھے
16:45متقی تھے
16:46کبھی کبار ایسا ہوتا ہے
16:47کہ بتقاضائے بشریت
16:49ایک بہت ہی نیک شخص بھی
16:51کبھی اس قسم کے معاملات میں
16:52انوالف ہو جاتا ہے
16:54اس کی روشنی میں
16:56ذرا غور کریں
16:57اچھا پھر ایک بات میں
16:58نکتہ یہاں پر ذکر کر دیتا ہوں
16:59کہ اللہ تبارک و تعالی کی
17:01جیسی ذات
17:03قدیم ہے
17:03یعنی ہمیشہ سے ہے
17:04کبھی اس پر فنا تاری
17:06یا عدم
17:06نہ ہونا تاری نہیں تھا
17:07ایسی اس کی صفات بھی قدیم ہے
17:09اللہ تعالی کا علم
17:11یہ اللہ کی صفت ہے
17:12اس کا ارادہ
17:13اللہ کی صفت ہے
17:14یہ دونوں قدیم
17:15اللہ کا کلام
17:16تیسرے صفت
17:17یہ بھی قدیم
17:18ابھی مخلوق پیدا بھی نہیں ہوئی
17:20اور اللہ تبارک و تعالی کے علم میں ہے
17:22کہ کون کیا کیا کرے گا
17:24اور کس کے لئے کیا کرنا
17:26اس کا ارادہ بھی اللہ نے کیا
17:27اور کلام بھی فرما دیا
17:28تو لہٰذا صحابہ کے بارے میں
17:30اللہ نے
17:31ازل سی فیصلہ فرما دیا
17:32جو قرآن میں ذکر کیا گیا
17:33کہ رضی اللہ عنہم
17:35و رضو عنہ
17:36اگر ان سے کوئی خطا ہوئی بھی تھی
17:38اللہ نے
17:38پہلے جاننے کے باوجود
17:40اعلان فرما دیا
17:40کہ اللہ ان سے راضی
17:41کیونکہ اللہ بھی جانتا ہے
17:42اس سب توبہ کرنے کے بعد
17:44یعنی کوئی بھی ایسا ہوگا
17:45تو توبہ کر کے
17:46اللہ کی طرف رجوع کریں گے
17:47یہ بات سمجھنے کے ضرورت ہے
17:49نیکس پرگرام میں
17:50تھوڑی سی اور ہم پہ کلام کریں گے
17:52آپ ضرور اس کو دیکھیں
17:53دوسروں کو ترغیب دیں
17:54اللہ تعالیٰ توفیق تفرمائے
17:56آمین
17:56و آخر دعوانا
17:57ان الحمدللہ رب العالمين
Comments