Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes of Dars e Bukhari | https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Bismillah ar-Rahman ar-Rahim
00:30عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں
00:31لیکن ہجاب کی آیت نازل ہو گئی تھی
00:34اس لئے میں ایک کجاوے میں ہوتی تھی
00:36ایک ڈولی ٹائپ میں اس میں میں بیٹھتی تھی
00:38اور اس کو اٹھا کے اونٹ پر رکھ دیا جاتا تھا
00:41اور ہم ہلکی پھلکی ہوتی تھی
00:42تو پتہ نہیں چلتا تھا
00:44کہ ڈولی میں کوئی بیٹھا بھی ہے کہ نہیں
00:45تو فرماتی ایک جگہ پڑاؤ کیا
00:48کاف لینے تو میں چلی گئی
00:50قضی حاجت کے لئے واپس آئی
00:52اس سے پہلے کہ میں بیٹھتی مجھے یاد آیا
00:54کہ میرا ہار گر گیا ہے
00:56جو ایک یمن کا سی پیوں کا ہار تھا
00:58تو میں واپس چلی گئی اور اس کو
00:59ڈھونڈنے میں دیر ہو گئی
01:00واپس آئی تو کافلہ جا چکا تھا
01:04تو میں وہیں پر بیٹھ گئی
01:05یہ سوچ کر کہ کافلے والے تلاش کرتے ہوئے
01:07واپس آئیں گے اور پھر مجھے میری آنکھ لگ گئی
01:10تو حضرت صفوان
01:11وہ پیچھے پیچھے کافلے کے آتے تھے
01:14کہ کوئی چیز بھول جائیں
01:15کوئی گر جائے
01:16تو میں اٹھا کر لے جاؤ
01:17انہوں نے جب مجھے دیکھا
01:18تو وہ مجھے آیتِ ہجاب سے پہلے
01:21چونکہ دیکھ چکے تھے
01:22تو وہ پہچان گئے
01:23اور انہوں نے
01:23اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا لِهِ رَاجِون
01:25پڑا تو میری آنکھ کھل گئی
01:27پھر انہوں نے اپنے اونٹ پر
01:28مجھے بٹھایا
01:29رو آگیا آگے چل کر
01:30حتیٰ کہ ہم
01:31اپنے قافلے سے دوپہر کے ٹائم میں
01:33جاملے
01:33وہ اس وقت پڑاؤ کی ہوئے تھا
01:35تو اس وقت
01:36جب یہ آتے ہوئے دیکھا
01:37تو عبداللہ بن عبی
01:39جو رئیس المنافقین تھا
01:41اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:43کو اپنے نفاق سے
01:44اور اسلام دشمنی سے
01:45بڑی عذیتیں دیا کرتا تھا
01:46اس نے فوراں
01:47ماد اللہ ثم ماد اللہ
01:49تحمت لگا دی
01:50اور کچھ لوگوں کو
01:51اپنے ساتھ شامل کر لیا
01:52اس میں
01:53بعض ایسے لوگ بھی شامل ہو گئے
01:55جن کو نہیں ہونا چاہیے تھا
01:57لیکن ہوتا ہے
01:57بعض اوقات
01:58محول کی رجل سے
01:59کچھ سمجھ نہیں آتی
02:00اور ایسا ہو گیا
02:01تو سیدہ عیشہ صدیقہ
02:04رضی اللہ تعالیٰ
02:04ایک ماہ تک بیمار رہی
02:06وہ ویسی بیمار تھیں
02:07پھر وہ باہر کا پتہ نہیں تھا
02:09کیا چل رہا ہے
02:10تو نبی کریم کا
02:11لطف و کرم کم ہو گیا
02:12کہتی ہیں
02:13اس سے مجھے کچھ شبہ ہوا
02:14پھر امہ مستح جو تھی
02:15ایک خاتون
02:16انہیں نے سب یہ بات بتائی
02:17اور میں اس میں
02:18بہت زیادہ بیمار ہوئی
02:20اور پھر میں
02:20اپنے والدین کے پاس سے لے گئی
02:22اور تقریبا
02:23دو تین
02:24دو دن
02:25دو راتیں
02:25اور ایک دن
02:26میں اسی تکلیف میں
02:27عذیت میں
02:28رو رو کے
02:28میرا برا حال ہو گیا
02:29اب یہ آگے سے
02:31حدیث ہے
02:32کہ سیدہ عیشہ کہتی
02:33میں بیٹھی ہوئی تھی
02:34تو سرکار تشریف لے آئے
02:35اور سرکار
02:37صلی اللہ علیہ وسلم
02:38نے
02:38کہتی ہے
02:40کہ کلمہ شہادت پڑا
02:41پھر فرمایا کہ
02:42عائشہ
02:42بے شک تمہارے متعلق
02:44مجھے اس طرح
02:45اور اس طرح
02:45خبر پہنچی ہے
02:46پس اگر تم قصور
02:48بے قصور ہو
02:49تو انقریب
02:49اللہ تبارک و تعالی
02:51تم کو بری کر دے گا
02:52یعنی اس تحمت سے
02:53بری کر دے گا
02:54اور اگر بالفرض
02:55تم سے کوئی خطہ
02:56سرزد ہوئی ہو
02:56تو تم اللہ سے
02:58مغفرت طلب کرو
02:59اور اس کی طرف
02:59توبہ کرو
03:00کیونکہ جب بندہ
03:00اپنے گناہ
03:01کا اعتراف کرتا ہے
03:02پھر توبہ کرتا ہے
03:04تو اللہ تعالی
03:04اس کی توبہ
03:05قبول فرما لیتا ہے
03:07کہتی ہے
03:08کہ جب نبی کریم
03:09صلی اللہ علیہ وسلم
03:09نے اپنی بات پوری کر لی
03:11تو میرے آنسو رک گئے
03:12حتی کہ میں نے
03:13آنسو کا
03:14ایک قطرہ بھی
03:15محسوس نہیں کیا
03:17کیونکہ سرکار نے فرمایا
03:18اگر آپ بے قصور ہیں
03:19تو برات نازل ہوگی
03:20اور آپ بے قصور تھے
03:21تو دل کو اتمنان آ گیا
03:22کہتی ہیں
03:23میں نے اپنے والد سے کہا
03:25کہ آپ میری طرف سے
03:26نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:27کو جواب دیں
03:28انہوں نے کہا
03:29اللہ کی قصور
03:30میں نہیں جانتا
03:30کہ میں سرکار سے کیا کہوں
03:32تو میں نے اپنی والدے سے کہا
03:33کہ آپ میری طرف سے
03:35نبی کریم کو
03:36اس چیز کا جواب دے دیں
03:37جو آپ نے فرمایا
03:38انہوں نے کہا
03:39اللہ کی قصور
03:39میں نہیں جانتی
03:40کہ میں سرکار سے کیا کہوں
03:42تو حضرت عائشہ صدیقہ
03:44کہتی ہے
03:44So today, I have heard that I had known about the Bible that I used to hear from the way possible here bzw. I was warned from anything about this, I had never said that in the beginning again.
03:56Or the story of the Bible that you had in the face of the Israelites to prove them and tell you about the Bible.
04:02لوگوں نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے
04:03اور اگر میں کہوں کہ اس تحمت سے
04:05بری ہوں اور اللہ خوب
04:07جانتا ہے کہ بے شک میں اس تحمت سے بری ہوں
04:10تو آپ لوگ میری اس بات
04:12کی تصدیق نہیں
04:13کریں گے یہ تو میں ہی کہہ رہی ہوں
04:16اور اگر میں آپ لوگوں
04:18کی خاطر کسی بات کا اعتراف کر لوں
04:20اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں بری ہوں
04:22تو آپ لوگ میری تصدیق
04:23کر دیں گے یعنی محول ایسا ہے کہ آپ کو
04:25بھی دل میں تھوڑا سا شعبہ ایسا کچھ پیدا ہو گیا
04:28Is that the thing that lives in Jesus in his life
04:30That they have to be in the end of the day
04:31My own way from my side
04:32I can show you
04:34That to me
04:35I find it
04:38And Allah can tell you
04:39That one of our family
04:41See that in the name of Jesus
04:42The father of Jesus
04:44Which he gave me
04:45When he confirmed
04:46You know
04:47He told him
04:49That
04:49He said
04:49That now
04:49Yes
04:51He said
04:53He said
04:54This is
04:55God
04:57That
04:57Surah Yusuf کے آیت No.18
04:59کہتے ہیں پھر میں اپنے بستر پر منتقل ہو گئی
05:02اور میں یہ امید رکھتی تھی کہ اللہ تعالی مجھے بری کر دے گا
05:05لیکن مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ اللہ تعالی میری شان میں وحی نازل فرمائے گا
05:10اور میں اپنے آپ کو اس سے بہت کم تر خیال کرتی تھی
05:13کہ اللہ تعالی میرے معاملے میں کلام فرمائے
05:16ہاں میں یہ امید رکھتی تھی کہ اللہ تعالی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:20کو نید میں ایسا خواب دکھا دے گا جس میں اللہ تعالی مجھے بری کر دے گا
05:25یہ آپ کو امید تھی کہ باقاعدہ کوئی قرآن کا حصہ بن جائے
05:29میری برات کی آیات یہ مجھے امید نہیں تھی
05:31یہ تھا کہ چونکہ خواب بھی نبیوں کا خواب وحی الہی کے ایک صورت ہے
05:35تو میرا گمان تھا کہ اللہ تعالی خواب میں اپنے محبوب کو بتا دے گا
05:40کہ یہ بری ہیں اور سرکار خدا کے اعلان کر دیں گے
05:42کہتے ہیں کہ پھر اللہ کی قسم
05:45ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مجلس کا قصد نہیں کیا تھا
05:51یعنی وہاں گئے نہیں تھے صحابہ کے پاس
05:53اور نہ گھر والوں سے کوئی باہر نکلا تھا
05:56حتیٰ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی
06:01اور جس طرح نزول وحی کے وقت آپ پسینے پسینے ہو جاتے تھے
06:05وہی کیفیت آپ پر تاری ہو گئی
06:08پسینے موتیوں کی طرح پسینے کے قطرے آپ کے جسمیں اتحر سے گرنے لگے
06:15حالانکہ وہ سردی کا دن تھا
06:18جب وہ کیفیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطع ہوئی
06:21تو آپ ہس رہے تھے
06:23خوش ہو گئے سرکار
06:24وجہ کیاتی کہتی ہیں کہ پس اس وقت جو آپ نے پہلی بات کی
06:28وہ یہ تھی کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ
06:30اے عائشہ اللہ کی حمد کرو
06:33اس نے تمہیں بری کر دیا ہے
06:35میری والدہ نے مجھ سے کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑی ہو
06:39میں نے کہا نہیں
06:40اللہ کی قسم میں آپ کی طرف کھڑی نہیں ہوں گی
06:43اور میں اللہ کے سوا کسی کی حمد نہیں کروں گی
06:47یعنی یہ خدا نہ خواستہ کوئی ایسا نہیں تھا
06:50کہ سیدہ عائشہ کسی بے عدبی کے قصد کر رہی ہوں
06:52مادلہ ایسا نہیں
06:54بلکہ یہ ایک پیار تھا
06:56ایک لارڈ کا اظہار تھا
06:58کیونکہ سرکار اپنی ازواج میں
07:00بی بی خدریت القبرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد
07:03سب سے زیادہ سیدہ عائشہ سے محبت کرتے تھے
07:06اور کیونکہ پیار کرتے تھے
07:09اس لئے
07:09میاں بی بی کے درمیان
07:11تھوڑی بہت اس طریقے سے
07:12کہ میں نہیں بات کرتی
07:14آپ نے کیوں نہیں ایسا کیا
07:16ایسا کیا
07:16اس طرح تھوڑا بہت ہوتا تھا
07:18جیسے یہ حدیث گزر چکی ہے غالباً
07:20کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
07:22سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا
07:25یہ غالباً کتاب ان نکاہ میں آئے گی
07:27سرکار نے فرمایا
07:28کہا عائشہ جب آپ مجھ سے ناراض ہوتی ہیں
07:30نہ تمہیں پہچان لیتا ہوں
07:31جب راضی ہوتی ہیں
07:32تب بھی پہچان لیتا ہوں
07:33تو انہوں نے کہا
07:34کہ یاس اللہ وہ کیسے
07:36فرمایا جب تم راضی ہوتی ہیں
07:38تو کہتی ہو
07:38رب محمد کی قسم
07:40اور جب مجھ سے راضی نہیں ہوتی
07:42تو کہتی ہو
07:42رب ابراہیم کی قسم
07:43تو سیدہ عائشہ مسکرہ دی
07:45اور عرص کی یاس اللہ
07:47لیکن خدا کی قسم
07:49میں صرف
07:49زبان سے ایسا کہتی ہوں
07:52یعنی دل سے آپ سے کبھی ناراض نہیں ہوتی
07:54یہ کہ میہ بیوی کا معاملہ ہوتا ہے
07:56کہ بعض وقت بیوی
07:57اس طرح تھوڑا سا
07:59ایوائیڈ کر کے
08:00شہر کی توجہ
08:01اور اس کے رغبت ہی چاہ رہی ہوتی ہے
08:03تو جیسے یہ حالات گزرے تھے
08:05ایک عذیتناک معاملہ تھا
08:07تو سیدہ عائشہ نے اس وجہ سے ایسا کہا
08:09اور اگر آپ دیگر احادیث کا مطالعہ کر لیں گے
08:12تو آپ سمجھ جائیں گے
08:14کہ یہ ایسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:16اور سیدہ عائشہ کے معابین
08:18پیار محبت کی باتیں
08:19اور اس طریقے سے معاملات چلتے تھے
08:22اب اللہ تعالیٰ رحم نازل فرمائے
08:24ایسے لوگوں پر
08:26جو اس طرح کی کوئی بھی ایک بیچ کی روایت اٹھا کر
08:28یا جملہ اٹھا کر
08:29اور اس کے بارے میں
08:30ماذا اللہ پیش کر کے
08:32بدگمانیاں پیدا کرے
08:33اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ فرمائے
08:35کہتی ہیں تب اللہ تعالیٰ نے
08:37یہ آیات نازل فرمائیں
08:39بے شک جن لوگوں نے
08:40تحمت لگائی ہے
08:41وہ تم ہی میں سے ایک جماعت ہے
08:43سورہ نور کی آیت نمبر گیارہ سے
08:46آپ پڑھ لیجئے گا
08:47اور اس کے بعد دس آیات
08:48لگتار دس آیات
08:50اللہ تعالیٰ نے
08:52سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ
08:54انہا کی شان میں نازل فرمائی ہیں
08:56یعنی اللہ نے آپ کی برات ظاہر فرمائی
08:59اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
09:01یہی چاہتے تھے
09:02اگر سرکار دیں گے خود فرمائے ہیں
09:04کہ میں جانتا ہوں اپنے زوجہ کو
09:06وہ خیر کے علاوہ
09:07میں نے کبھی کوئی نہیں دیکھا
09:08لیکن اگر آپ صرف یہ بات کہہ کے
09:10رک جاتے
09:11اور آیات الہیہ
09:13اس باب میں نازل نہ ہوتی
09:14تو جو
09:16نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
09:18اہلیہ پر
09:20اور امہات المومنین قرار دی
09:22اللہ نے
09:22اپنی خود والدہ پر ایسی تحمت لگائیں
09:25کیا وہ اس سے بڑھ کر باتیں نہیں کرتے
09:27وہ یہ کہتے کہ
09:28جی دیکھیں اپنے گھر کا معاملہ آیا
09:29تو ہم سب کو خاموش کروا دیا
09:31حالانکہ یہ ہونا چاہیے تھا
09:33یہ ہونا چاہیے تھا
09:34لیکن یہ سورہ نور کی جب آیات نازل ہوئیں
09:37تو یہ یاد رکھیں
09:38کہ
09:39اگر کوئی کسی پر مادللہ
09:41سمہ مادللہ
09:42زینہ کی تحمت لگاتا ہے
09:43تو اس پر لازم ہے
09:45کہ وہ چار گواہ پیش کریں
09:47اور چاروں مرد ہونے چاہیے
09:48اور چاروں کو
09:50الگ الگ حاکم اسلام بلا کر پوچھے گا
09:53تم نے کیا دیکھا تھا
09:54کیا وقت تھا
09:56کیا حالت تھی
09:57مقام کیا تھا
09:59ایسی دوسرے سے
10:00ایسی تیسرے سے
10:01ایسی چوتھے سے
10:02اگر چاروں کا بیان ایک جیسا ہو
10:05تب پھر زینہ کی حد جاری ہوتی ہے
10:07اور اگر ان کے بیان میں تضاد ہو
10:10تو پھر بالکل ثابت نہیں ہوگا
10:12اب جس نے تحمت لگائی ہے
10:14چونکہ وہ گواہ تو قابل قبول نہ ہوئے
10:16تو پھر اس کا مطلب ہے
10:18اس نے زینہ کی جھوٹی تحمت لگائی
10:19جس کو قذف کہتے ہیں
10:21قوف ذال فقذف
10:23اور جھوٹی تحمت جب ثابت ہو جاتی ہے
10:26تو اس کو حد لگتی ہے
10:27اور اس کی حد ہے
10:28یعنی سزا ہے شریلیہ سے
10:30اسی کوڑے
10:31لہذا جو جو اس میں شامل ہوا تھا
10:34پھر ان کو اسی اسی کوڑے لگائے گئے تھے
10:37اور اللہ تعالی نے
10:38سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی
10:41انہا کی شان میں
10:42دس آیات نازل فرما کر
10:43قیامت تک کے لئے
10:45آپ کی عزتوں کو اور بلندوں بالا کر دیا
10:48لہذا کہتی ہے
10:49کہ بے شک
10:50جب یہ ہو گیا
10:51جب اللہ نے میری برات میں
10:53یہ آیات نازل فرما دی
10:54تو حضرت ابو بقر صدیق نے فرمایا
10:57اور وہ حضرت مستح پر
10:59اپنی قرابت داری کی وجہ سے
11:01خرچ کرتے تھے
11:02تو یہ تھوڑے غریب تھے
11:03تو حضرت ابو بقر ان کو
11:05نانفقہ دیا کرتے تھے
11:06اور یہ خود
11:07جیسے ام مستح نے فرمایا تھا
11:09یہ خود
11:09الزام لگانے والوں میں شامل ہو گئے تھے
11:13تو حضرت ابو بقر صدیق ناراض ہو گئے
11:15اور آپ نے کہا
11:16کہ اب آئندہ میں
11:16اس کو صدقہ وغیرہ
11:17اور نانفقہ نہیں دوں گا
11:19کیونکہ اس نے میری بیٹی پر تحمت لگائی
11:21اب دیکھئے
11:22حضرت ابو بقر نے کہا
11:24کہ اللہ کی قسم مستح نے
11:25آئیشہ پر جو تحمت لگائی ہے
11:27اس کے بعد میں
11:28اب کبھی بھی مستح پر
11:29کوئی چیز خرچ نہیں کرو گا
11:30تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی
11:32اور تم میں سے
11:34اصحاب فضل اور عرباب وسعات
11:36یہ قسم نہ کھائیں
11:38کہ ہم خرچ نہیں کریں گے
11:40وہ جاری رکھیں
11:41یہ پھر
11:42یہ ایسور نور کے آیت نمبر بائیس
11:44تو جب اللہ تعالیٰ نے
11:46کیونکہ بڑوں کی یہ شان نہیں ہے
11:48کہ حضرت ابو بقر صدیق رضی اللہ تعالیٰ
11:52انہوں کے قلب میں
11:53اور یہ ایک فطری تقاضہ ہے
11:55ایک کسی کی بچی کے اوپر
11:57الزام لگ جائے
11:58تو غصہ تو آتا ہے
11:59جلال آتا ہے
12:00آپ کی توجہ اس طرف نہیں رہا
12:02اور آپ نے سوچا
12:03کہ مجھ پہ کوئی فرضیہ واجب بھی نہیں ہے
12:04اس کے نانفقہ دینا
12:06یا اس کے مدد کرنا
12:07تو لہٰذا میں آئندہ نہیں کروں گا
12:09لیکن جو بڑے لوگ ہوتے ہیں
12:11وہ ان کو ہمیشہ اپنے
12:13ان معاملات پر قائم رہنا چاہیے
12:15تو اللہ تعالیٰ نے
12:17یہ آیات نازل فرما کر
12:19گویا کہ آپ کے لئے
12:21آپ کی شان میں اضافہ فرمایا
12:23کہ آپ کی یہ شان نہیں ہے
12:25کہ آپ ان باتوں کی وجہ سے
12:26کسی پر اپنا احسان منقطع کر دیں
12:29احسان جاری رکھیں
12:30تو لہذا تب حضرت ابو بقر صدیق
12:32رضی اللہ تعالی عنہ نے
12:34یہ آیات سن کر کہا
12:35کیوں نہیں
12:35اللہ کی قسم میں ضرور یہ پسند کروں گا
12:38کہ اللہ میری مغفرت فرما دے
12:39کیونکہ اس میں
12:40اللہ تعالی نے یہ فرمایا تھا
12:42لہذا حضرت ابو بقر صدیق
12:46رضی اللہ تعالی عنہ نے
12:47حضرت مستح پر خرچ کرنے کے طرف
12:49رجوع کر لیا
12:50اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:52نے حضرت زینب بنت جہش
12:54یہ بھی ام المومنین ہے
12:55سے میرے معاملے کے متعلق سوال کیا
12:59پس فرمایا کہ اے زینب
13:01تم نے جو کچھ سنا ہے
13:03اس کے متعلق تمہارا کیا علم ہے
13:05اب دیکھیں آگے خود بتائیں گی
13:07اور میں اس کی وضاحت بھی کر دوں گا
13:09کہ زینب بنت جہش رضی اللہ تعالی عنہ
13:12یہ بھی
13:14مطلب چونکہ سرکار کی زوجہ ہیں
13:15اور جب ازواج ہوتی ہیں
13:17تو ایک غیرت کا مادہ ہوتا ہے
13:20غیرت کا مادہ ان کے اندر ہونے کا مطلب یہ ہے
13:23غیرت اسے کہتے ہیں
13:24کہ جو چیز آپ کے ساتھ خاص ہو
13:27جب آپ اس میں کسی اور کی شیئرنگ دیکھتے ہیں
13:30تو دل میں ایک ناپسندیدگی سے پیدا ہوتی ہے
13:33جو غیر اختیاری ہوتی ہے
13:35اس کو غیرت کا نام دیتے ہیں
13:37ہاں اس ناپسندیدگی کے بعد
13:39انتقامی کارروائیوں پر اتارانا
13:41شرارتے کرنا
13:42کسی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا
13:44یہ سب برا ہے
13:45لیکن صرف اس کیفیت کا پیدا ہونا
13:47یہ کوئی برا نہیں ہے
13:49جیسے ایک شخص شادی شدہ ہے
13:51وہ دوسری شادی کر لے
13:53تو جب پہلی خاتون کو پتہ چلتا ہے
13:55تو ان کو بہت تکلیف ہوتی ہے
13:57دکھ ہوتا ہے
13:58اور وہ نرازگی کا اظہار بھی کرتی ہیں
14:01یہ اتنا تو ایک فطری تقاضہ ہوتا ہے
14:03اور یہ کیونکہ وہ شوہر ان کا اپنا تھا
14:05اس میں کسی کی شیئرنگ نہیں تھی
14:06ان کے ساتھ خاص تھا
14:08اب شیئرنگ ہو گئی
14:08تو زینب بنت جہش رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:12اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
14:15یہ دونوں کے اندر
14:16اس طرح کی غیرت کا مادہ بہت زیادہ تھا
14:19اب سرکار نے انہی سے پوچھ لیا
14:21کہ آپ سیدہ عائشہ کے بارے میں کیا کہتی ہیں
14:23تو سرکار نے فرمایا
14:25زینب تم نے جو کچھ سنا ہے
14:27اس کے متعلق تمہارا کیا علم ہے
14:29تو انہوں نے کہا
14:29یا رسول اللہ
14:30میں اپنی سماعت کو اور اپنی بسارت کو
14:33اس شر سے محفظ رکھتی ہوں
14:35کہ جو کچھ میں نے دیکھا
14:36یا سنا ہو وہ آپ سے بیان کروں
14:38اور اللہ کی قسم میں نے
14:40میں ان کے متعلق سوائے نیکی کے
14:43اور کچھ نہیں جانتی
14:45سیدہ عائشہ کہتی ہیں
14:47کہ یہی میری وہ سوکن تھی
14:49جو میری ہمسری کی دعوے دار تھی
14:51یعنی میرے برابر ہونے کوشش کرتی تھی
14:53لیکن ان کو ان کے تقوی کی وجہ سے
14:56اللہ نے تحمت لگانے سے محفوظ رکھا
14:58تو یہ ایک طویل حدیث تھی
15:01جو میں نے آپ کی فدمت میں ذکر کی
15:03تو اس میں چند باتیں دیکھ لیتے ہیں
15:05پہلی بات تو یہ
15:06کہ اگر ایک سے زیادہ ازواج ہوں
15:08تو ایک مرد کو
15:10ان کے اندر باری مقرر کرنا لازم ہوتا ہے
15:13یعنی ایک دن ایک زوجہ کے پاس
15:15دوسرے دن دوسرے زوجہ کے پاس
15:16اگر مطلب
15:18جیسے تو رات کا لکھا ہے
15:20اگر رات کی ریوٹی ہے
15:21تو دن کے اندر اس طرح باری مقرر کی جاتی ہے
15:24لیکن جب سفر میں کوئی جائے
15:25تو پھر جس کو چاہے وہ لے جائے
15:27پھر وہ سفر کے اندر باری مقرر کرنے کا معاملہ نہیں ہوتا
15:31اور افضل یہ ہوتا ہے
15:32کہ قرآن دازی کر لیں
15:34جیسے نبی کریم نے قرآن دازی کی
15:36تو سیدہ عیشہ کا نام نکل آیا
15:38دوسری بات یہ ہے
15:40کہ سیدہ عیشہ فرماتی ہے
15:41کہ اس زمانے میں عورتیں کم کھاتی تھی
15:43تو ہلکے پھلکی ہوتی تھی
15:44بعد میں بھاری بھر کم ہوئی
15:46یعنی زیادہ وزن ہو گیا تھا
15:48اور اسی زمانے میں یہ حدیث بھی موجود ہے
15:51کہ سیدہ عیشہ کہتی ہے
15:52یہ حضرت شیخ عبدالق حق محدد سے دیلوی رحمت اللہ نے بیان فرمایا
15:56کہ چلے پھر پھر میں آپ کو بعد میں ارز کرتا ہوں
16:00وہ غیر مطالق ہو جائے گی
16:02تو سیدہ عیشہ کہتی ہے
16:03کہ اس ٹائم حجاب کی آیات نازل ہو گئی تھی
16:06تو اس کا مطلب ہے کہ
16:07آپ ام المومنین ہیں
16:10لیکن اس کے باوجود پردہ ہوتا تھا
16:13آپ پردہ کیا کرتی تھی
16:15اس سے پتہ چلا
16:16کہ جن کو
16:17اللہ تعالیٰ نے
16:19ہماری والدہ قرار دیا
16:22وہ روحانی والدہ ہے
16:23لیکن ان سے پردہ لازم
16:25جب پردے کے آیت نازل ہوئی
16:27تو میں گزارش کرتا ہوں ان بہنوں سے
16:30کہ جو کسی کی مو بھولی بہن بن جاتی ہیں
16:32مو بھولی والدہ بن جاتی ہیں
16:34یا کوئی مرد حضرات
16:36یہ وہ میری مو بھولی والدہ ہے
16:38یہ مو بھولی بہن ہے
16:39اور پھر کوئی پردہ نہیں ہے
16:40گھر میں آ رہے ہیں جا رہے ہیں
16:42ان کی بچیاں جی وہ میری
16:43تو مو بھولی بہن کی بچیاں ہیں
16:45تو میں مامو ہو گیا
16:46مو بھولا مامو
16:47تو میں گھر میں داخل ہو جاؤں
16:48بالکل حرام اور گناہ کبیرہ ہے
16:50یاد رکھیں
16:51مو بھولا کوئی رشتہ نہیں ہوتا
16:53پہلی بات تو ہمارے مذہب میں
16:55مو بھولا کا
16:55اس طرح کے مو بھولے
16:57کہ نامحرم کی طرح ہو جائے
16:59اس کا کوئی تصور نہیں ہے
17:01اور دوسری بات یہ ہے
17:03کہ اگر کہہ بھی دیا ہے
17:04تو پردے کا حکم باقی رہے گا
17:06تمام قوائد شرعیہ کا لحاظ رکھنا ہوگا
17:09اس لئے جو ہماری بہنیں
17:11اس طرح کی حرکتیں کر رہی ہیں
17:12یا جو مرد حضرات
17:13اس طرح آدن دنا کے
17:15نامحرموں کے پاس جا رہے ہیں
17:17چاہے ان کی نیت پاکیزہ ہی کیوں نہ ہو
17:19لیکن نیت کی پاکیزگی
17:21کہ باوجود آپ کے لئے شرعن جائز
17:23نہیں ہوگا
17:24اللہ تعالی ہمیں
17:25سمجھنے کے توفیق عطا فرمائے
17:27انشاءاللہ نیکس پرگرام میں
17:28اس پر تفصیلی مزید کلام چلے گا
17:30کوشش کیجئے
17:31کہ ہمارا اس سے پشلے والا
17:33یعنی ایک یہ
17:34اور ایک اس سے پشلے والا
17:42وآخر دعوانا
17:43ان الحمدللہ رب العالمين
Be the first to comment
Add your comment

Recommended