Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:02اللہ صلی اللہ علیہ محمد والا آنہی و صحبہی و صلی اللہ علیہ وسلم
00:16بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:17اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ترین نام سے آغاز کرتے ہیں
00:20جو بہت مہربان نہایت الرحم والا ہے
00:23کتاب السلح چل رہی ہے بخاری شریف کا درس ہے
00:26اور میں آپ سب سے گزارش کرتا ہوں جتنے میرے بھائی بہن دیکھ رہے ہیں
00:29آپ خود بھی غور سے دیکھیں سمجھیں
00:31اور دوسروں تک اس کو پہنچائیں
00:33اور کوشش کریں کہ ایر وائی کیو ٹی وی کی طرف سے
00:36یو ٹیوب پر یہ ریکارڈڈ ڈل جاتا ہے
00:39آپ ترغیب دے لوگوں کو ہو سکے تو
00:41اس کا لنک شیئر کر دیا کریں
00:43کہ زیادہ سے زیادہ فیض حدیث حاصل کرنے میں آسانی ہو
00:47ہمارا یہ علمیہ ہے
00:48کہ ہمارے گھروں میں قرآن ہے
00:50لیکن مادرت کے ساتھ کھلتا نہیں ہے
00:53اور اگر کھلتا ہے
00:54تو صرف عربیق عبارت ہم پڑھ دیتے ہیں
00:56ہم سمجھتے نہیں ہیں
00:57ہمیں یہ تک نہیں پتا ہوتا
00:59کہ قرآن میں کیا لکھا ہوا ہے
01:00حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے
01:03کہ جب میں چاہتا ہوں
01:05کہ اللہ تعالی سے باتیں کروں
01:06کلام کروں
01:07میں نماز پڑھتا ہوں
01:08اور جب میں چاہتا ہوں
01:09کہ میرا رب مجھ سے کلام کرے
01:11تو میں قرآن پڑھتا ہوں
01:12کیونکہ وہ جانتے تھے
01:13قرآن میں کیا لکھا ہوا ہے
01:15جب وہ پڑھتے تو
01:15انہیں ایسا لگتا تھا
01:16اللہ تعالی باتیں کر رہا ہے
01:17اللہ تعالی ان سے کر رہا ہے
01:18ہم جب پڑھتے ہیں
01:19تو ہمیں کچھ پتا نہیں ہوتا
01:21کیونکہ عربیق تو پڑھیں نہیں
01:22تو قرآن تو ویسے ہی
01:23اس کا فیض گیا
01:25حدیثیں ہمارے گھر میں ہیں نہیں
01:27شاید ہی مجھے سننے والے
01:28کوئی بھائی بہنیں ایسے ہوں گے
01:29جن کے گھر میں
01:30بخاری مسلم ترمیزی نسائی
01:32ابو دعوت ابن ماجہ
01:33مشکات شریف
01:34اور کوئی حدیث کی کتابیں ہوں
01:36لیکن نہیں ہوتی
01:37ہی نہیں ہمارے گھروں میں
01:39اور ہم پڑھتے نہیں ہیں
01:40چلیں نہیں ہیں
01:40بڑوں کی طرف سے نہیں آئی
01:42کوئی بات نہیں
01:43پشتانے کے بجائے
01:44اور افسوس کرنے کے بجائے
01:46عملی قدم اٹھا لیں
01:47اب کر لیں نا
01:48ہمارے درس بخاری
01:49الحمدللہ
01:50کئی سال ہو گئے ہیں
01:51تسلسل سے ہم حدیث
01:52نمبر ایک سے شروع ہوئے تھے
01:53اور ارادہ تو یہ ہے
01:55کہ اگر زندگی رہی
01:56تو انشاءاللہ
01:57آخری حدیث تک کلام چلے گر
01:58پوری بخاری کی شرعہ بیان ہوگی
02:00تو اسی کو دیکھ لیں
02:01تو آپ ڈیلی دیکھیں
02:03مطلب
02:05یوٹیوب پہ جا کر دیکھ لیں
02:06کیو ٹی فی پہ دیکھ لیں
02:07اور اس کے علاوہ
02:08زیادہ سے زیادہ لوگوں کو
02:10فیض حدیث حاصل کروانے کے لیے
02:12ترغیب دیں
02:13لنک شیئر کریں
02:14اپنے وٹس ایپ گروپ میں کریں
02:16میرا اس میں کوئی ذاتی فائدہ نہیں
02:18یاد رکھیں
02:18آپ کا فائدہ ہوگا
02:19نبی کا پیغام پہنچے گا
02:21اور میری کوشش ہوتی ہے
02:21کہ حدیثوں سے
02:22وہ نکات نکال کر
02:24ان پر تفسر کریں
02:25جو ہماری اصلاح تربیت کے لیے
02:26درجات کی بلندی کے لیے
02:29معاون ہوں
02:29اور اسی طرح غلطیوں کی نشاندہی ہوتی ہے
02:31بعض اوقات ہمیں احساس ہوتا ہے
02:33ہم غلط کر رہے ہیں
02:34ہم اصلاح کی طرف آتے ہیں
02:35توبہ کی طرف مائل ہوتے ہیں
02:36بہت سارے فائدے ہوتے ہیں
02:38اگلے باب کی طرف آتے ہیں
02:40بابن اذا اشار الامام بسلح فعبا حکم علیہ بالحکم البین
02:45اس جب سربراہ صلح کا اشارہ کرے
02:49اور کوئی شخص نہ مانے
02:50تو پھر وعدے کے مطابق فیصلہ کرے
02:54آگے حدیث یہ پہلے بھی بیان ہوئی ہے
02:56اصل میں اس میں یہ ہے
02:57کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:59ایک صحابی تھے
03:01ان کا باغ تھا
03:02اور اس میں سے جیسے قدرتی نالیاں ہوتی
03:04یعنی نہر جاری ہوتی ہے
03:06وہ ہوتی ہے
03:07تو جس کے باغ سے پہلے گزر رہی ہوتی ہے
03:09اس کا حق ہوتا ہے پانی کا
03:10پھر آگے والے کا ہوتا ہے
03:12اور یہ ہوتا ہے
03:13کہ آپ نے چونکہ پانی پہلے آپ کے پاس آتا ہے
03:15تو شرعی لحاظ سے حق ہوتا ہے
03:17کہ نالی کا مو بند کر دیا جائے
03:19اور وہ جو نہر ہوتی ہے
03:20اس کو بھرنے دیا جائے
03:21حتیٰ کہ اوپر تک وہ بھر جائے
03:23پھر وہ اپنے باغ کو پانی دیں
03:25پانی دے چکے ہیں
03:26اب وہ کھولیں
03:26اب اگلے والے کا حق ہوگا
03:28تو ایک
03:29اب یہ نام آ جائیں گے سامنے
03:31تو ایک سرکار کے رشتہ دار صحابی تھے
03:34اور دوسرے انصاری صحابی تھے
03:36رشتہ دار جو صحابی تھے
03:37ان کا پہلے باغ پڑھتا تھا
03:39اور ان کو حق حاصل تھا
03:41کہ وہ پہلے نہر کو فل کر دیتے
03:42اور پھر پانی آرام سے لیتے
03:44پھر آگے چھوڑتے
03:45لیکن نبی کریم نے ان کو تلقین کی
03:48کہ آپ کھول دیا کریں
03:49چاہے پورا اوپر تک نہ آئے
03:50تاکہ آپ کے انصاری صحابی بھی
03:52آپ کے دوست جو ہیں
03:53یا ساتھی ہیں
03:54انہیں بھی پانی پہنچ جائے
03:56اب یہ تو بہت اچھا فیصلہ تھا
03:57حالانکہ ان کا حق تھا
03:59کہ پہلے پوری نہر کو بھرا جائے
04:00اور اس کے بعد پانی چھوڑا جائے
04:02لیکن سرکار نے تو کم بھریوی نہر کے اندر بھی حکم دے دیا
04:05اس پہ انصاری صحابی جلال میں آگئے
04:08اور ان کی زبان سے
04:10نادانستہ طور پہ نکل گیا
04:11کہ یہ آپ کے پھپی کے بیٹے ہیں
04:13اس لئے ان کے حق میں آپ نے فیصلہ کیا
04:14اس پر سرکار کو پھر جلال آگیا
04:17کیونکہ نبی کے کسی چیز کے اوپر
04:19اس طرح انکار نہیں کرنا چاہیے
04:22یہ صلحتی سرکار نے جو کی تھی انہوں انکار کیا
04:24تو حضرت زبیر کو پھر پورے حق کے ساتھ
04:27سرکار نے فرمایا
04:28اب آپ ایسا کریں گے
04:29نالی کا مو بند کر دیں گے
04:30جب دیواریں مکمل طور پہ بھر جائیں
04:32آپ پانی استعمال کریں
04:34پھر ان کے لئے چھوڑیے گا
04:35اب کر لیں جو کرنا ہے
04:36تو یہ مسئلہ یہ باب کے اندر قائم کیا
04:39کہ جب امام اشارہ کر دے
04:41صلح کی طرف اور سامنے والا انکار کر دے
04:43تو پھر امام اپنے اسی پہلے والے قول کی طرف
04:46یا وعدے کی طرف جو اس نے پہلے کیا تھا
04:48پہلے حق بیان کیا تھا
04:49اس کی طرف جا سکتا ہے
04:51تو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا
04:53لیکن بہرحال ہوا
04:54اس کو ہم بیان کرتے ہیں
04:55دوہزار سات سو آٹھ نمبر حدیث پاک ہے
04:57حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ نو
05:00سرکار کے فپیزاد ہیں
05:01ان کا اور ایک انصاری صحابی کا
05:04جو غزوہ بدر میں شریک تھے
05:06مدینہ کی پتھریلی زمین کی
05:09نالی کے متعلق جھگڑا ہو گیا
05:11وہ اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:13کے پاس لے گئے
05:14وہ دونوں اس نالی سے
05:16اپنے باہ کو پانی دیا کرتے تھے
05:19تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:21نے حضرت زبیر سے فرمایا
05:23کہ اے زبیر
05:23پہلے تم اپنے زمین کو سیراب کر لو
05:27پھر پانی اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو
05:30تو وہ انصاری غزبناک ہو گیا
05:32اس نے کہا
05:33یا رسول اللہ
05:34یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا ہے
05:36کہ یہ آپ کے پھوپی کے بیٹے ہیں
05:37اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:40کا چہرہ وائے انور کا رنگ
05:42متغجر ہو گیا
05:44پھر آپ نے حضرت زبیر سے فرمایا
05:46کہ پہلے تم سیراب کرو
05:47پھر پانی کو روک لو
05:49حتیٰ کہ وہ پانی دیواروں تک پہنچ جائے
05:52یعنی وہ اصل حق کی طرف لے گئے سرکار
05:54پس اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:56نے حضرت زبیر کو
05:58ان کا پورا حق عطا فرمایا
06:00اور سرکار نے پہلے
06:02اپنی رائے سے ایسرا فیصلہ کیا تھا
06:04جس میں حضرت زبیر اور اس انصاری
06:07دونوں کی ریایت تھی
06:08پھر جب اس انصاری نے سرکار کو جلال دلایا
06:11تو آپ نے حضرت زبیر کو
06:14مکمل واضح قائدے کے مطابق پورا حق دیا
06:17عروا کہتے ہیں جو راوی ہیں اس حدیث کے
06:19کہ حضرت زبیر نے بیان کیا
06:21کہ میرا گمان ہے
06:21کہ یہ آیت اسی موقع پر نازل ہوئی تھی
06:23جس کا ترجمہ یہ ہے
06:25تو اے نبی مکرم
06:26آپ کے رب کی قسم
06:28وہ لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے
06:31جب تک آپ کو اپنے ہر جھگڑے میں
06:33حاکم نہ مان لیں
06:35یعنی کامل مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک نبی کریم فیصلہ فرمائے
06:39اور وہ اس کے اوپر کوئی اعتراض نہ کریں
06:41دل میں کوئی ملال پیدا نہ ہو
06:42تب انسان کامل مسلمان بنتا ہے
06:45اس کے مطلب یہ ہوا
06:46کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے
06:49بعض ایسے تھے
06:49جو آپ نے اپنے رائے اور اشتہات سے کیے
06:52اور اس میں آپ فریقین کی بہت زیادہ
06:54ریایت کیا کرتے تھے
06:56ایک آدمی کا حق بنتا تھا
06:57لیکن آپ اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے
07:00ان کو ترغیب گویا کے دیتے تھے
07:01کہ اپنے حق میں سے بھی تھوڑا کم کر دو
07:03پیار بڑھے گا محبت بڑھے گی
07:05لیکن جب ایک شخص ایک حق کے فیصلے کو
07:07اس طرح ندر انداز کرے
07:08پھر حاکم کو مکمل اختیار ہے
07:10کہ سریح قائدے کے مطابق
07:12وہ ایسا فیصلہ کرے
07:13کہ جس میں حقدار کو اس کا پورا حق مل رہا
07:16اور اپنا حق چھوڑنا اس کو لازم نہ آ رہا
07:17جسے کہ حضرت زبیر کے لیے
07:19سرکار نے ایسا کیا
07:21اور ہی یاد رکھیں کہ
07:23کوئی بھی نبی ہوتے ہیں
07:24وہ اقربہ پروری کبھی نہیں کرتے
07:27یعنی ایک اقربہ پروری کرنے کا مطلب
07:29کہ ایسا نہیں ہے
07:31کہ رشتہ داروں سے پیار نہ کرنا
07:32محبت نہ کرنا ایسا نہیں ہے
07:34ہر نبی کو اپنے رشتہ داروں سے محبت ہوتی ہے
07:36اور سرکار کو بہت زیادہ اپنے گھر والوں سے پیار اور محبت تھا
07:39مراد وہ اقربہ پروری ہے
07:41جو حکم شرع کے خلاف ہو
07:43یہ نبی سے بعید ہے
07:45کوئی بھی سامنے ہوگا سرکار حق کا فیصلہ فرمائیں گے
07:48لہذا نبی کے بارے میں خدا نہ خاصتہ یہ گمان کرنا
07:51کہ آپ اپنے کسی رشتہ دار کی وجہ سے شرعی حق میں
07:54کوئی کوتاہی کریں گے
07:56کسی کا شرعی حق پورا نہیں ہوگا
07:58یا شرعی حکم میں تبدیلی کر دیں گے
08:00اس اقربہ پروری کے وجہ سے ایسا کبھی بھی نہیں ہوگا
08:03اچھا وہ انصاری صحابی بھی بدری صحابہ ہیں
08:05صحابہ میں سے ہیں
08:06ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے
08:07ماذا اللہ سمہ ماذا اللہ
08:09کوئی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کو بے انصاف کہا یہ
08:12ان کو محسوس ایسا ہوا
08:13کہ شاید یہ جو پھپی کے بیٹے ہیں
08:16اس وجہ سے ان کو زیادہ دے دیا گیا ہے
08:18نبی کریم نے پھر وضاحت فرما کے
08:20اور پھر جو حق بیان کیا اس کے مطابق کر لیا
08:23تو لہذا اسی لئے میرے عاقص صلی اللہ علیہ وسلم
08:25نے ان صحابی کو یہ نہیں کہا
08:27کہ آپ میرا کہنا نامان کے
08:29اس طرح ہو گئے اس طرح ہو گئے
08:30ایسا نہیں ہوا
08:32بدری صحابہ کا بہت بڑا مقام و مرتبہ ہے
08:34لہذا اس سے کوئی منفی نتیجہ نکال کر
08:37یہ نہ سوچیں
08:37کہ شاید صحابہ میں سے کوئی ایسا منفی خیالات رکھتا تھا
08:41ایسا نہیں
08:41یہ منافقین تھے جو کرتے تھے
08:44باقی بدری صحابہ کے بارے میں تو
08:45خود یہ روایات میں موجود ہے
08:48کہ اللہ تبارک و تعالی نے اشارت فرمایا
08:50کہ اللہ نے ان کی ہر چیز سے درگزر فرما لیا
08:53اور ان کی اللہ نے بخشش فرما دی ہے
08:56اور بڑا مقام و مرتبہ تھا
08:58بدری صحابہ کا
08:59لیکن وقتی طور پر کیفیت تاری ہوئی
09:01اور ان کو محسوس ہو اور انہیں ذکر کیا
09:03اور یہ خنن آگے کہ تمام معاملات تو نہیں ہیں
09:05ایک غصے میں آدمی بعض وقت بات کہتا ہے
09:07اور پھر وہ معافی بھی مانگ لیتا ہے
09:09شرمندہ بھی ہوتا ہے
09:10ایسا معاملات ہوتے ہیں
09:11لیکن حدیثوں میں پوری چیزیں منقول نہیں ہوتی
09:14خلاص کلام یہ ہے
09:16کہ یہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ تھا
09:19صحابہ پر لازم تھا
09:20کہ سرکار کوئی فیصلہ کر دے
09:22تو بس پھر سر تسلیم ہم ہی کرنا ہے
09:24اب آجائیں آج کے دور پر
09:26یاد رکھیں کہ نبی کریم نے فرمایا
09:28کہ العلماء ورثت الانبیاء
09:31علماء نبیوں کے وارث ہوتے ہیں
09:34تو لہذا جو ایسا کوئی عالم دین ہوں
09:37جو صاحب تقوی ہیں متقی ہیں پریزگار ہیں
09:40اور فتوہ دینے کے قابل ہیں
09:43اور وہ واقع اپنے علم میں مستند ہیں
09:46تو پھر یاد رکھیں کہ ان کی اطاعت بھی ایسی ہے
09:49جیسے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنا
09:52کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا
09:54یا ایوہ الذین آمنو
09:56اتیو اللہ و اتیو رسول و اولیل امری منکم
10:01اے ایمان والو
10:04اللہ کی اطاعت کرو
10:05اس کے رسول کی اطاعت کرو
10:07اور ان کا حکم مانو
10:08جو تم میں حکم والے ہیں
10:11یعنی حکم والوں سے مراد یہی مشتہدین
10:14علماء مفتیان کرام
10:15جو لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں
10:17ان کو دین سکھاتے ہیں
10:18علم سکھاتے ہیں
10:19اس لئے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں
10:21کہ علماء کی بات کو بڑے معمولی سمجھتے ہیں
10:23وہ کہتے ہیں
10:24میں قرآن و حدیث سے دکھاؤ
10:26اب اگر قرآن و حدیث میں
10:28کوئی بات براہ راست بیان نہیں ہوئی ہے
10:30تو یہ علماء کا کام ہوتا ہے
10:32کہ وہ اپنے رائے دیں گے
10:33جیسے کہ یہ آیت میں نے آپ کو سنائی
10:36کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
10:37یا ایوہ الذین آمنو
10:48اس کا مطلب یہ ہوا
10:49اگر سب کچھ قرآن میں ہوتا
10:51تو نبی کی اطاعت کی ضرورت کیا تھی
10:52اور سب کچھ قرآن و حدیث میں ہوتا
10:55تو پھر اولی الامری من کم کی اطاعت کیوں
10:57ضروری قرار دی
10:58اس کا مطلب ہے کچھ چیزیں قرآن میں ہوں گی
11:01اس میں جو نہیں ہیں
11:02ان کا بیان حدیث میں ہوگا
11:04اور پھر جو اس میں نہیں ہیں
11:06اس کا بیان علماء کریں گے
11:08کیونکہ اس دین کو قیامت تک رہنا ہے
11:11اور یقیناً قرآن و حدیث میں
11:13قیامت تک کی تمام چیزیں تو بیان نہیں ہوئیں
11:15نئینی چیزیں ہوتی رہیں گی ہر زمانے میں
11:17اس کی ذمہ داری دی ہے علماء کے اوپر
11:19تو لہذا ہمارے بعض بھائی بہن
11:21علماء کی بات نہیں مانتے
11:22بلتا ہے تو مغلویوں کا قول ہے
11:24ہم نہیں مانتے
11:24اچھا مغلویوں کا قول ہے
11:26آپ نے نہیں مانا
11:27اور اس چیز کا ذکر قرآن و حدیث میں بھی نہیں ہے
11:30اب آپ کیا کریں گے بتائیے
11:32اپنے ذہن سے فیصلہ کریں گے
11:34اگر آپ کہتے ہیں کہ
11:35یا ہم اپنے ذہن سے فیصلہ کریں گے
11:37تو میں سوال کروں گا
11:38کہ آپ کا ذہن بڑا ہے
11:39یا واری سے نہ بھی بڑا ہے
11:41اس کی رائے شریعت میں زیادہ اہم ہے
11:43یا آپ کے ذہن کی رائے
11:45فیصلہ آپ خود کر لیں
11:46یا پھر بعد وقت ایسا ہوتا ہے
11:48ہم مغلویوں کی نہیں سنیں گے
11:49اچھا آپ نے نہیں سنی
11:49پھر کس کی سن رہے ہیں
11:50ابباجان
11:51چچا جان
11:52دوست
11:53کوئی کینٹین میں بیٹھا ہوا آدمی
11:55بس میں چلتا ہوا
11:57کوئی مسافر
11:57پپو پان والا
11:59ٹٹا جلیبی والا
12:00البلہ دودھ والا
12:01ان سے معلوم کر رہے ہیں
12:03ساپ بیٹھ بیٹھ کر
12:04یعنی آپ کے نزدیک
12:05ایک وارث نبی تو حقیر ہے
12:07اس کی بات نہ مانیں
12:08یہ لوگ بتائیں گے
12:09جن کے پاس زیادہ علم نہیں ہے
12:12اس سے بھی یہ دیکھیں
12:13خرابی ہیں کہ شیطان
12:14اس طرح ہمارا دماغ گھما دیتا ہے
12:16کہ دینداروں سے نہیں پتا کرنا
12:18بلکل غلط ہے
12:18علماء سے رابطہ رکھیں
12:20آپ کی موبائل
12:22کانٹیکٹ لسٹ میں
12:23علماء کے نام بھی ہونے چاہیے
12:25مفتیانی کرام کے نام بھی ہونے چاہیے
12:27اچھا یہ بھی وضاحت کر دو
12:29جب میں ایسے ترغیب دیتا ہوں
12:30تو لوگ میرے موبائل پر رجوع کرتے ہیں
12:32میرے نمبر عام ہے
12:33اور میں اپنی کسرت
12:34مصروفیات کی بنا پر
12:35اگر جواب نہیں دے پاتا ہوں
12:37کہ کتنوں کو دوں گا
12:37ہزاروں میں سے جاتے ہیں
12:39بلا مبالغہ
12:40ڈیلی ہزاروں میں سے جاتا ہے
12:41میل
12:42مسید
12:42تو پھر بعض ہمارے بھائی بہن
12:45بہت جل کر
12:45اور نراز ہو کر
12:47ایک جملہ لکھتے ہیں
12:48کہ پھر آپ اپنے پرغیم میں
12:49ترغیب کیوں دیتے ہیں
12:50کہ علماء سے رجوع کریں
12:51پہلے ترغیب دیتے ہیں
12:53پھر ہم سوال بھیجتے ہیں
12:54تو جواب بھی نہیں دیتے
12:55تو میرے بھائی اور بہنوں
12:57یہ بھی وضاحت کر دیتا ہوں
12:58میں یہ کہتا ہوں
12:58علماء سے رجوع کرو
12:59علماء میرا نام نہیں ہے علماء
13:02میں یہ تو نہیں کہہ رہا ہوں
13:03کہ میرے پاس ہی بھیجیں
13:04اپنے اطراف میں دیکھیں
13:05بہت سارے عالم ہوتے ہیں
13:07مفتیانی کرام ہوتے ہیں
13:08آپ ان سے رجوع کریں
13:09اور اگر نہیں ہیں
13:10تو پھر آپ فکر کیوں نہیں کرتے
13:12آپ کیوں نہیں خود عالم مفتی بن جاتے
13:14اپنے بچوں میں سے
13:15ایک کو دو کو تین کو
13:17عالم بنائیں
13:18بچیوں کو عالم بنائیں
13:19تاکہ یہ کمی پوری ہو
13:21خالی یہ دین کے کام کا
13:22ہم بعض افراد کو
13:24اگر ٹھیکہ دے دیں گے
13:25تم ہی کرو گے
13:25اور نہیں کرو گے
13:27تو ہم تمہیں برا بھلا بھی کہیں گے
13:28اور خود اس میں کردار ادا نہ کریں
13:29مناسب نہیں ہوتا
13:30میں سب کو گزارش کرتا ہوں
13:32آپ عالم بنیں
13:33مفتی بنیں
13:34اپنے بچوں کو
13:35بچیوں کو عالمہ بنائیں
13:37بچوں کو عالم بنائیں
13:39بچیوں کو مفتیہ بنائیں
13:40بچوں کو مفتی بنائیں
13:41اگر آپ کو طریقہ نہیں پتا
13:43میرا کانٹرنمبر لے لیں
13:44کانٹرول روم سے
13:46میں آپ کو پوری بریفنگ دیتا ہوں
13:47خدارہ ایک کو خاندان میں بنا دیں
13:49میں بھی جانتا ہوں
13:50واقعی افراد کی
13:51اتنی کمی ہے
13:52کہ میں ہم جواب نہیں دے پاتے
13:54بہت سے کوئسن آتے ہیں
13:55میں بڑا مجبور ہو جاتا ہوں
13:56ہم بھی انسان ہیں
13:58بہت سارے اور چیزیں ہیں
13:59بہت کمی ہوتی ہے
14:00بہرحال
14:01لیکن جن کو مؤثر میں
14:02ان سے گزارش کر رہا ہوں
14:03کہ جب علماء موجود ہیں
14:05آپ کو حل بتاتے ہیں
14:06اور آپ رد کر دیتے ہیں
14:07یہ بات پتن غیر مناسب ہے
14:09اور اس سے
14:10اللہ تعالیٰ اس کے رسول کے
14:11ناراضگی ہماری طرف متوجہ ہوتی ہے
14:13علماء سے مسائل کے حل معلوم کرنا
14:15اس کے تقاضے کے مطابق چلیں
14:16آپ کا رب قرآن میں
14:18کیا ارشاد فرما رہا ہے
14:22اگر تم نہیں جانتے
14:24اہل علم سے پوچھو
14:25اور آپ کے نبی نے فرمایا
14:27کہ
14:30علم کا حاصل کرنا
14:31ہر آقل بالغ
14:33مسلمان مرد و عورت پر لازم ہے
14:35تو اس کے مطابق جب آپ پہ
14:37علم سیکھنا لازم ہے
14:38تو کس سے سیکھیں گے آپ
14:39علماء سے سیکھیں گے
14:40تو یہ بھی دیکھیں
14:41رجوع علماء کی طرف اشارہ ہے
14:44کوشش کیجئے
14:45ان باتوں پر عمل کریں
14:47اگلی حدیث کی طرف آتے ہیں
14:48دو ہزار سات سو نو نو نمبر حدیث پاک ہے
14:51حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ
14:54انہو بیان کرتے ہیں
14:55کہ میرے والد فوت ہو گئے
14:56اور ان پر قرض تھا
14:58تو میں نے اپنے قرض خانوں کو یہ پیشکش کی
15:01کہ وہ میرے کھجور کے درخت
15:03کھجوروں سمیت لے لیں
15:05کہ بھئی تمہارا قرض ہے نا
15:07تم میرے کھجور کے درخت لے لو
15:08جس کھجور ہے وہ بھی لے لو
15:09اور قرض پورا گھر لو
15:10انہوں نے انکار کیا
15:12اور انہوں نے یہ گمان کیا
15:14کہ اس سے ان کا قرض پورا نہیں ہوگا
15:16آ کر دیکھا ہوگا درخت دیکھے
15:18کم نظر آرہے ہیں
15:19پھل بھی کم
15:20ہمارا قرض ہے کہاں پورا ہوگا
15:21نقصان کا سودہ ہے بھئی
15:23پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:25کے پاس آیا
15:26اور آپ سے اس کا ذکر کیا
15:28تو آپ نے فرمایا
15:28کہ جب تم کھجوریں درختوں سے اتار لو
15:31اور ان کو کھلیان میں جمع کر لو
15:34یہ شکاتے تھے وہاں پر جمع کر لو
15:36تو مجھے خبر دینا
15:38پس آپ
15:39میں نے پھر خبر دی
15:40پس آپ آئے
15:41اور آپ کے ساتھ
15:42حضرت ابو بکر
15:43حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہما بھی تھے
15:46نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:48کھجور کے
15:48دھیر پر بیٹھ گئے
15:50اور برکت کی دعا کی
15:51پھر فرمایا
15:52کہ اپنے قرص خانوں کو بلاؤ
15:54اور ان کو ناپ ناپ کر
15:56کھجوریں دو
15:57یعنی جس کا جتنا قرض ہے
15:59اتنی کھجوریں دیتے جاؤ
16:02سو جن کا میرے والد پر قرض تھا
16:04میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا
16:07مگر اس کا قرض ادا کر دیا
16:08اور تیرہ وسق کھجوریں پھر بھی بچ گئیں
16:11ان میں سے سات وسق اجوہ تھیں
16:14اور چھے وسق دیگر
16:15مختلف نو کی کھجوریں تھیں
16:17یا راوی کہتے ہیں
16:18چھے وسق اجوہ تھیں
16:19اور سات وسق دی کر
16:21مختلف اقسام کی کھجوریں تھیں
16:23یعنی ساری کھجوریں ہو گئیں
16:25نبی کریم کے بیٹھنے کی برکت
16:27تیسی تھی ایسا مورسہ ہوا
16:29کہ اس کے بعد بھی تقریبا
16:30ساٹھ من کے قریب
16:32اور ستر من کے قریب
16:33کھجوریں اب بھی پڑی ہوئی تھی
16:34اور قرضے بھی اتر گیا
16:35حالیٰ کہ ان سب نے آ کر پہلے فیصلہ کیا تھا
16:37کہ انہیں کھجوریں کم ہیں
16:39اور جو کھجوروں کو انہیں درخت بھی کہا تھا
16:40درخت اور کھجوریں کم ہیں
16:41ہمارا قرض ادا نہیں ہوگا
16:42درخت اپنے جگہ کھڑے ہیں
16:45کھجوریں اتنی ہیں
16:46اور سرکار نے سب کو دلوا بھی دیا
16:47قرض بھی ادا ہو گئے
16:49پس میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
16:51مغرب کی نماز ادا کی
16:53بس میں نے نبی کریم کے ساتھ
16:55مغرب تک ان کا قرض ادا کر دیا
16:56As ever sinceidade as yay
16:59There are
17:00Why are you doing this
17:00So I'm now
17:03I'm to book
17:05We have all
17:11We can whip it
17:19We can ACtrack
17:21We will see you in the next program
17:25We will see you in the next program
Comments

Recommended