Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes of Dars e Bukhari | https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . . . . .
00:30. . . . .
01:00. . . . .
01:29. . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:59یعنی حالتِ نکاح
02:01اور پھر طلاق والا معاملہ خلافِ
02:03اصل کہلائے گا
02:05تھوڑی سی بات آپ کو سمجھ میں آئی ہوگی
02:07اب یہ ذہن میں رکھیں جو اصل کا دعویٰ کرتا ہے
02:10پہلی چیز کا
02:11اسے مدعا علیہ کہتے ہیں
02:13دعویٰ کیا گیا
02:15اس پر مدعا علیہ کہتے ہیں
02:17اور جو خلافِ اصل کا دعویٰ کر رہا ہوتا ہے
02:20اس کو مدعی کہا جاتا ہے
02:22دعویٰ کرنے والا
02:23تو مدعی اور مدعا علیہ کی پہچان
02:25ایسے ہوتی ہے کہ جو اصل کا دعویٰ کرتا ہے
02:27اس کو مدعا علیہ کہتے ہیں
02:29جو خلافِ اصل کا دعویٰ کرتے ہیں
02:30اس کو مدعی کہا جاتا ہے
02:33ایک مثال سے پہلے سمجھ لیں
02:34ایک عورت یہ کہتی ہے
02:36کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے
02:38شوہر کہتا ہے میں نے طلاق نہیں دی
02:40اب آپ غور کریں جب طلاق نہ ہو
02:43تو نکاح کی حالت ہوگی
02:44اور شوہر اسی کا دعویٰ کر رہا ہے
02:46اور یہ حالت پہلے ہوتی ہے
02:47عورت طلاق کے بعد کہہ رہی ہے
02:49طلاق نکاح کی حالت کے بعد ہوتی ہے
02:52تو یہ دوسری حالت ہوئی
02:53تو یہ خلافِ اصل ہوئی
02:55اور عورت اس کا دعویٰ کر رہی ہے
02:56ٹھیک ہے
02:57تو اس وقت جب خلافِ اصل کا دعویٰ
02:59عورت کر رہی ہے
02:59تو یہ مدعی کہلائے گی
03:01مدعیہ مونس کر کے کریں گے
03:03اور مرد مدعا علیہ ہوگا
03:06ایک آدمی نے آپ سے کہا
03:07کہ تم نے میرا قرضہ دینا ہے
03:09میں نے تمہیں قرض دیا
03:10آپ کہتے ہیں
03:10مجھے تو کوئی قرض نہیں دیا
03:17کہ میں نے قرض دیا ہے
03:19یہ خلافِ اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
03:21ٹھیک ہے
03:21تو یہ مدعی آپ مدعا علیہ
03:23ابھی یاد رکھیں
03:24کہ جو خلافِ اصل کا دعویٰ کرتا ہے
03:26اس کو مدعی کہتے ہیں
03:28گواہ لانا اس کا ذمہ ہوتا ہے
03:31اور جو مدعا علیہ ہے
03:32اگر یہ گواہ نہ لاسکے
03:34تو اس سے کہا جائے گا
03:35آپ قسم کھائیے
03:37اور یہ حدیث میں آگیا
03:39سرکار صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں
03:40الیمینو علی المدعی
03:42البيناتو علی المدعی
03:45والیمینو علی من انکروا
03:48گواہ مدعی پر ہیں
03:50اور قسم اس پر ہے
03:52جو اس کا انکار کریں
03:54یعنی مدعلے
03:55یہ ذہن میں رکھیں
03:56اب مثال کے طور پر
03:58شوہر کہتا ہے
03:58میں نے طلاق نہیں دی
03:59بیوی کہتی ہے
04:00اس نے طلاق دی ہے
04:01تو شوہر اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
04:03خلافِ اصل کا
04:04تو عورت سے کہا جائے گا
04:05آپ گواہ پیش کریں
04:06اگر وہ گواہ پیش کر دے
04:08تو طلاق مانیں گے
04:09اگر وہ گواہ پیش نہ کر سکے
04:11کہ وہاں کوئی تھائی نہیں
04:11ہم دونوں ہی تھے
04:12تو پھر شوہر سے کہا جائے گا
04:14آپ قسم کھائیں
04:15لہذا اب یہ نہیں کر سکتے
04:17آپ کے عورت سے کہا
04:18گواہ لاؤ کہتی
04:19گواہ تو نہیں
04:19لیکن میں قرآن پہ ہاتھ رکھے
04:21قسم کھا سکتی ہوں
04:22اور آپ نے کہا
04:23چلو ٹھیک ہے قسم کھالو
04:24نو
04:24آپ نے حدیث کے خلاف کر دیا
04:26قسم اس پر ہے
04:27جو اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
04:29اس کے اوپر تو
04:30گواہ لانا لازم ہے
04:31تو ہمیں شاید رکھیں
04:32کہ جو خلاف اصل کا دعویٰ کرتا ہے
04:34جس کو مدعی کہتے ہیں
04:35گواہ وہ لے کر آتا ہے
04:36اور مدع علیہ کے اوپر
04:38قسم ہوتی ہے
04:39یہ ذہن میں رکھیں
04:40اب یہ دیکھیں کہتے ہیں
04:41کہ حاکم کا
04:42مدعی سے سوال کرنا
04:45کہ کیا آپ کے پاس گواہ ہیں
04:47تو حاکم مدعی سے کہا گا
04:49کیونکہ گواہ اس کے ذمہ ہے
04:50یمین سے پہلے
04:52قسم سے پہلے
04:53یعنی دوسرے سے قسم اٹھوانے سے پہلے
04:55موقع دیا جاتا ہے
04:56خلاف اصل کا دعویٰ کرنے والے
04:58یعنی مدعی کو
04:59کہ گواہ ہیں تو پیش کریں
05:00اگر آپ گواہ پیش کر دیں گے
05:02تو اس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا
05:04یاد رکھیں
05:04گواہوں کے سامنے قسم غیر معتبر ہوتی ہے
05:07لہٰذا اس بیوی گواہ لی آئی
05:09اور اس نے قسم کھالی
05:10کہ نہیں طلاق نہیں دی
05:12اور یہ کہتی ہے
05:12طلاق دی ہے
05:13دو گواہ پیش کر دی ہے
05:14تو شوہر کی اب قسم کا اعتبار نہیں ہوگا
05:16گواہی کا اعتبار ہوگا
05:18زہر میں رکھئے گا
05:19اب حدیث دیکھیں
05:20دو ہزار چھے سو چھے سٹھ
05:22اور دو ہزار چھے سو سرسٹھ
05:25نمبر حدیث پاک ہے
05:26حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ
05:29بیان کرتے ہیں
05:30کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
05:33نے فرمایا
05:33جس نے کسی ایسی چیز پر حلف اٹھایا
05:37یعنی قسم کھائی
05:38جس میں وہ جھوٹا تھا
05:40تاکہ وہ اس قسم کے ذریعے
05:42کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے
05:44کھا جائے
05:45تو وہ اس حال میں
05:47اللہ تعالی سے ملاقات کرے گا
05:49کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا
05:52اللہ تعالی اپنا غضب ظاہر فرمائے گا
05:56راوی کہتے ہیں
05:57کہ حضرت عشعص بن قیس نے کہا
05:59اللہ کی قسم یہ حدیث میرے مطالق ہے
06:02حضرت عشعص بن قیس نے
06:04جب یہ حدیث سنے تو کہا
06:05کہ بھائی یہ تو واقعہ میرا تھا
06:07میرے ساتھ ہوا تھا
06:08وہ کیسے ہوا تھا
06:10وہ کہتے ہیں کہ میرے اور یہودی کے درمیان
06:12ایک زمین کا تنازع تھا
06:14جھگڑا تھا
06:15اس نے میرے حق کا انکار کیا
06:17تو میں اس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا
06:22پس مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
06:25کیا تمہارے پاس گواہ ہے
06:27تو اس کا مطلب ہے
06:29عشعص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدعی تھے
06:31خلاف اصل کا دعویٰ کر رہے تھے
06:33تو یہ کہہ رہوں گے
06:33عشعص نے مجھے زمین بیچی ہے
06:35اور وہ کہہ رہا تھا
06:36میں نے نہیں بیچی
06:37تو اپنی اگر زمین ہو
06:39تو نا بیچنا پہلے ہوتا ہے
06:40پھر بیچنا ہوتا ہے
06:41تو وہ مدعی تھا
06:43اور یہ مدعی تھے
06:44تو نبی کریم نے ان سے فرمایا
06:45آپ گواہ پیش کر دیں
06:46میں نے کہا کہ نہیں
06:48میرے پاس تو کوئی گواہ نہیں ہے
06:49پھر آپ نے یہودی سے فرمایا
06:51تم قسم کھاؤ
06:52تو حضرت عشعص کہتے ہیں
06:55جب میں نے یہ سنے
06:55تو میں تو طلب گیا
06:56میں نے ارس کی
06:57یاس اللہ یہ تو قسم کھالے گا
06:59اور میرا مال لے جائے گا
07:01اس پر نبی کریم
07:02اس پر یہ آیت نازل ہوئی
07:03یہ کہتے ہیں
07:04کتب اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی
07:06کہ بے شک جو لوگ
07:07اللہ کے احد اور اپنی قسموں کے عوض
07:10تھوڑی قیمت خریدتے ہیں
07:12تو ان کے ساتھ آخرت میں
07:13عذاب کا معاملہ ہوگا
07:15سورہ آل عمران آیت نمبر ستتر
07:17تو اس سے چند باتیں معلوم ہوئیں
07:20کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:21نے جھوٹی قسم کھانے سے
07:23ایک تو منع فرمایا
07:24کیونکہ قسم کا مطلب ہوتا ہے
07:27کسی محترم شے کا ذکر کر کے
07:29اپنی بات کو پختہ کرنا
07:31یہ قسم ہے
07:32عجلی عزہ کو کہے
07:33میری ماں کی قسم تو یہ بھی قسم تو ہے
07:35لیکن شرعی قسم نہیں ہے
07:37ماں محترم ہوتی ہے ذکر کیا
07:39تو ہم عرفن تو قسم کہہ سکتے ہیں
07:40ایک تو ہے قسم وہ یہ
07:41اور شرعی قسم یہ ہوتی ہے
07:44کہ اللہ تعالی کی ذات یا صفات سے متعلق
07:46کوئی نام وغیرہ
07:47یا کوئی صفت کا سیغہ ذکر کر
07:49کے لئے سے اللہ کی قسم
07:50اللہ کی عزت کی قسم
07:52اس طرح قرآن کی قسم
07:53اس طرح لفظ قسم اگر کہہ دیتے ہیں
07:55تو یہ شرعی قسمیں بنتی ہیں
07:57انہیں میں اگر فیوچر کے بارے میں ہیں
07:59اور آپ اس کے خلاف کر دیتے ہیں
08:01تو کفارہ بھی لازم ہوتا ہے
08:02اور اگر یہ حال یا
08:04ماضی کے بارے میں ہیں
08:05پاسٹ یا پریزنٹ کے بارے میں ہیں
08:07اور جھوٹ بولا
08:08تو گناہیں کبھی رائے بہت بڑا
08:10اور انسان پھسے گا
08:11تو بعض لوگ
08:12کوٹ کے اندر
08:13جھوٹی باتیں کر رہے ہوتے ہیں
08:15میں سے بہن بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں
08:18خدا کا خوف کر لیں
08:19اگر آپ جھوٹ بول کر
08:21ایک بڑا وکیل کر کے
08:22کسی کا پلوٹ پر
08:23کسی کے بنگلے
08:24کسی کے زمین
08:25کسی کے بلڈنگ
08:26کسی کے کھیتوں پر قبضہ کر لیں گے
08:28کتنا کھا لیں گے بھائی جان
08:30اور آپ وہاں حلف دیتے ہیں
08:32آپ جو گواہ پیش کرتے ہیں
08:35وہ جھوٹے حلف اٹھا رہا ہوتا ہے
08:36آپ کی بنیاد پر
08:38کہ میں جو کہوں گا
08:39سچ کہوں گا
08:39سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا
08:41اگر میں جھوٹ بولوں
08:42تو مجھ پر اللہ کا غضب
08:43اور لانت نازل ہو
08:44کتنی بڑی بات
08:45اور ایسے گواہ بھی
08:47چونکہ یہ میرا چاچا ہے
08:48یہ ماما ہے
08:49یہ میرے سگے بھائی
08:50یہ میرے والد کا مسئلہ ہے
08:51میری والدہ کا جھوٹی قسمیں
08:52اور جھوٹے حلف اٹھا لیتے ہیں
08:54دنیا بھی برباد ہوگی
08:55آخرت بھی برباد ہوگی
08:57اور چونکہ قسم کھا کے
08:59مال ہڑپ کرنے کے بارے میں ہے
09:01تو اس کے اور بھی صورت بن سکتی ہے
09:02کہ جیسے دکاندار بعض اوقات
09:04گندی چیز کو قسم کھا کر
09:05اچھا کر کے پیش کر دیتے ہیں
09:07آپ اس کی قسم کا اعتبار کر کے
09:09خرید لیتے ہیں
09:10اور اس بیچارے کو نقصان ہوتا ہے
09:11تو یہ جھوٹی قسم
09:13جیسے سرکار نے خاص فرمایا
09:14کہ جھوٹی قسم
09:15سودہ تو بکوا دیتی ہے
09:16لیکن برکت سے محروم کروا دیتی ہے
09:19ایسی بعض لوگ ہیں
09:21جو یوں جھوٹ بولتے ہیں
09:23کہ جیسے میں نے گلاس سیل کرنا ہے
09:25فرض کر لیں
09:25اور یہ میں نے لیا ہے پچاس روپے کا
09:27تو بعض دکاندار گاہہ کو کہتے ہیں
09:30قسم کھا کر
09:31یہ مجھے
09:32میں نے پندرہ سو میں خریدا ہے
09:34پانچ سو کا پندرہ سو میں
09:36اور صرف دو سو روپے رکھ رہا ہوں
09:38اس پر سترہ سو مجھے دے دیا
09:39آپ اندازہ کریں جھوٹ بول کر
09:41آپ نے اس کی اصل قیمت پر جھوٹ بولا
09:44اس پر اعتماد کر کے
09:45کہ سامنے والے نے کہا
09:46واقعہ ظلم زیادتی ہوگی
09:47بیچارے کو دو سو ہی بچ رہے ہیں
09:49وہ بھی سو کم کروا لیتا ہے
09:50چلو سو مجھے کم کر دو
09:51سو تم برداشت کر دو
09:53سو میں چلو چیئر سو لے سو دے دو
09:54جیسے میں بڑی سخاوت کر رہے ہیں
09:57اور یہ جھوٹ بول کے آپ نے بیج دیا
09:58یہ گلے کا پندہ ہے
10:00جتنے دکاندار مجھے سن رہے ہیں
10:01جتنے ان کی فیملی سن رہی ہیں
10:04خدارہ اپنے گھر والوں کو
10:05سربرستوں کو سمجھائیں
10:06کہ یہ آپ نہ کریں
10:08جو کچھ آپ کر رہے ہیں
10:09یہ آپ کے اوپر بھی وبال ہے
10:11آپ کی نسلوں کے اوپر وبال ہے
10:13اپنے بیوی بچوں کے پیٹ میں
10:15رزق حرام پہنچانے والا
10:17نہ دنیا میں فلاح پاتا ہے
10:18نہ آخرت میں فلاح پائے گا
10:20اللہ تعالیٰ معاف فرمائے
10:22تو ایک الگ بات ہے
10:22لیکن جو اس کا ظاہری قانون ہے
10:24وہ یہی ہے
10:25کہ ایسا آدمی بہت برا پھستا ہے
10:27اور خصوصا جب آپ یہ حقوق العباد
10:30کہ تلف کی طرف آتے ہیں
10:32کہ جھوٹی قسمیں کھا کر
10:33وراستیں دبالی ہیں
10:34قرضیں معاف کروالے ہیں
10:36کرا لیے ہیں
10:37پیمنٹ نہیں دے رہے ہیں
10:38پروپرٹیز کو قبضے میں کر لیا ہے
10:40یار کچھ خدا کا خوف کریں
10:42کتنے عرصے رہیں گے
10:43ساٹھ سال ستر سال
10:44کچھ عرصے میں آپ کے ہاتھ کانپنے لگیں گے
10:46گھٹنے درد کریں گے
10:47بیٹھ کے نمازیں پڑھیں گے
10:48آپ موں میں دانت نہیں رہیں گے
10:50پیٹ میں آنٹ نہیں رہے گی
10:51چلنا مشکل ہوگا
10:53دور سے کوئی آ رہا ہوگا
10:54کون آ رہا ہے بھئی
10:55نظر نہیں آ رہا
10:55سی طریقے سے آنکھیں مان پڑھنے لگ جائیں گی
10:58اور پھر ہم اپنے گھر والوں کو
11:00بعض اوقات ایک ایسے
11:02غلط راستے پہ لگا چکے ہوتے ہیں
11:04کہ پھر اگر آپ ہاتھ جوڑ کے بھی کہو گے
11:06نہ کہ میں مرنے والا ہوں
11:08خدا کے واسطے یہ سب چیزیں
11:09ان کے حقداروں کو دے دو
11:10تاکہ میں آخرت کے وبال سے بچوں
11:13تو ہو سکتا ہے
11:21گویا کہ وہ اعلان کر دیتے ہیں
11:23کہ آپ نے کارنامے کی ہیں
11:24تو بھکت لیجئے گا آخرت میں
11:25ہم نہیں دیں گے ایک بھی چیز
11:27ہمارے دل میں کوئی رحم نہیں ہے
11:28تو سوچئے جن کی محبت میں
11:31آپ نے یہ غلط کام کیے
11:32وہ آپ کی محبت میں
11:33صحیح کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں
11:36یہی دنیا ہے
11:37اس لئے اپنے آپ کو تباہ نہ کریں
11:39دل پہ جبر کریں
11:40کرائے کے مکان میں رہ لیں
11:42لیکن اگر کسی کا بنگلہ قبضہ کیا ہے
11:44جیسے وراثت وغیرہ کا ہوتا ہے
11:45اس کے حقدار کے حوالے کر دیں
11:47خود کرائے پر رہ لیں
11:49یہ آپ کر سکتے ہیں
11:50کہ کوئی وراثت دبا کر بیٹھے ہوں
11:51تو وارث سے پہلے ہاتھ جوڑ کے
11:53معافی مانگیں
11:54پھر ٹائم لے لیں
11:55کہ موجودہ قیمت ہم مکان کی لگا لیتے ہیں
11:57آپ کا حصہ جو ہے فرض کرنے
11:59پچاس لاکھ بن رہا ہے
12:00اگر آپ اتنی محلت دو
12:01کہ میں مکان نہیں بیشتا
12:03میں ورنہ فٹپات پہ آجا ہوں گا
12:04کہ رائے کے مکان میں
12:05ہو سکتے گھر والے تعاون بھی نہ کریں
12:07آپ مجھ سے انسٹالمنٹ پر
12:09پچاس لاکھ لے لیں
12:10لیکن وہ بھی ایسا نہیں ہے
12:11کہ بیس بیس ہزار
12:12پانچ پانچ لاکھ کر کے چلو
12:13چار دفعہ میں اس کو بیچارے کو دیں
12:15اور اسے معافی بھی مانگیں
12:17بہنوں سے
12:17خالاؤں سے
12:18پھپیوں سے
12:19جن کے ہم نے وراستیں دبائی ہوئے ہیں
12:22بعض لوگ اپنی ستیلی والدہ
12:24اور ان کے بچوں کا حق مارے ہوئے ہیں
12:27مثلا والی صاحب نے دو شادییں کر لی
12:30تو جو ان کی دوسری بیوی ہے
12:33والی صاحب کی پروپرٹی میں
12:35اس بیوی کا بھی حق ہوگا
12:36اور ان بچوں کو بھی ہوگا
12:37کیونکہ والی صاحب کی وراست ہے
12:39تو آپ کی جیسے والدہ
12:40ان کی زوجہ ہے
12:42تو دوسری عورت بھی تو زوجہ ہے
12:44جیسے آپ اولاد ہیں وہ بھی ہیں
12:45لیکن ہم نے دیکھا ہے
12:46کہ ایک طرف اگر بچے بڑے ہوتے ہیں
12:48تو ساری پروپرٹی پر قفضہ کر لیتے ہیں
12:50اور ستیلی ماں کو دھکے دے کے نکال دیتے ہیں
12:52اور دوسرے بہن بھائیوں کو بھی
12:54اور کہتے ہیں کہ جاؤ
12:55ہمارے اببہ نے شادی کی تھی
12:56اببہ سے لے لو
12:57اببہ تو فوت ہو گئے ہیں
12:58قفضہ کر لیا
12:59کتنا عرصہ کھالیں گے آپ
13:01میدان معاشر میں گریف تیار ہے آپ کے لیے
13:04بلکہ میدان معاشر بہت دور کی بات ہے
13:05جیسے ہی آپ فوت ہوں گے
13:08آپ کے ساتھ جو معاملہ شروع ہو جائے گا
13:10الامان والحفیظ
13:11میری دعا ہے
13:12میرے ہر مسلمان بھائی
13:14ہر مسلمان بہن
13:15چاہے کتنے ہی گناہگار
13:17کہ انہوں اللہ ان پر رحم نازل فرما
13:18اور انہیں بھی اور مجھے بھی
13:20اللہ تعالیٰ تو ہدایت کی طرف رہنمائی فرما
13:22اور ہم موت سے پہلے پہلے
13:24پوری حمد کر کے
13:25توبہ کر کے
13:26اخروی وبال کو اپنے سر سے اتار دیں
13:28کسی طریقے سے تو بہت بہتر ہے
13:30تو لہٰذا
13:32یہ نبی کریم نے فرمایا
13:34کہ قسم کھا کے جو کسی مسلمان کا مال
13:36ہڑپ کر لے
13:36تو برودی قیمت اللہ تعالیٰ
13:38اس پر غزبناک ہوگا
13:39تو صرف اظہار غزب نہیں ہوگا
13:41اس کی مختلف صورتیں ہیں
13:42رحمت سے دور کر دینا
13:43گرمی
13:44بھوک
13:44پیاس
13:45زلت
13:46رسوائی
13:47ندامت
13:47پشتاوہ
13:48موکبل
13:48گسیٹ کے
13:49جہنم میں داخلہ
13:50پل سرات پہ کٹ کے گرے گا
13:52آدمی جہنم کے اندر
13:53کیونکہ جب اللہ غزبناک ہوگا
13:56اور راضی نہ ہوا
13:57تو گئے پھر بیڑا غرق ہو جائے گا
13:59اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ فرمائے
14:01تو اب یہ خود بیان کرتے ہیں کہ
14:04یہ جہودی سے میرا تنازع تھا
14:06اور میرے پاس گواہ نہیں تھے
14:07سرکار نے پہلے مجھ سے گواہ مانگے
14:09کیونکہ میں مدعی تھا
14:10اور گواہ نہیں ہوتے
14:11تو پھر آپ کو پتا ہے
14:12قسم تو سرکار نے فرمایا
14:13یہ قسم کھائے گا
14:15تو آپ تڑپ گئے کہ
14:16یہ تو جھوٹ بول دے گا
14:18قسم کھائے گا
14:18اس کا مطلب میرا مال تو اس کے پاس سلا جائے گا
14:20نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
14:22جواب میں یہ نہیں فرمایا
14:23کہ بھائی
14:24چلو پھر ٹھیک ہے
14:26تمہاری بات مان لیتے
14:26تم میرے صحابی اور یہ یہودی ہے
14:28تمہاری مان لیتا ہوں
14:29نہیں
14:30ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
14:32یہاں سکوت فرمایا
14:33اور آیت نازل ہوئی
14:35تو یہ اس بات کی دلیل ہے
14:37اچھی طرح دیکھیں
14:37کہ جو جج ہوتا ہے
14:38قاضی ہوتا ہے
14:40وہ ظاہر شرعہ کا پابند ہوتا ہے
14:43یعنی ظاہر کا پابند ہوتا ہے
14:45باطن تو اس کو نہیں معلوم
14:46بعض وقت کورٹ میں ججز ہوتے ہیں
14:49وہ فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں
14:51ایک آدمی ناحق ہوتا ہے
14:52جھوٹے گواہ پیش کر دیتا ہے
14:53اور جج انہی کے حق میں فیصلہ کر دیتا ہے
14:56اور کیوں کرتا ہے
14:58جج کو کیا پتا کہ یہ جھوٹے ہیں
14:59جج نے کیا ان کا باطن کو جھانکا ہے
15:02وہ ایک انسان ہے
15:02وہ اس بات کا مکلف ہے
15:04کہ جب شرعہ تقاضی پورے ہو جائیں
15:05تو فیصلہ سنائے
15:06اب جب جج جب انہی کے خلاف فیصلہ کرتا ہے
15:10جو مظلوم ہیں
15:11صرف اس وجہ سے
15:12کہ ان کے خلاف گواہ موجود ہیں
15:14ظالم نے پیش کر دی
15:15چاہے جھوٹے ہیں
15:16تو اس کا فیصلہ ہے
15:18اس پر آخرت میں کوئی گریفت نہیں ہے
15:19اب آپ کہیں گے
15:21صاحب یہ کیا بات ہوگی
15:22دیکھیں نا
15:22مظلوم کے خلاف فیصلہ دیئے
15:23تب بھی نہیں
15:24اب میں آپ سے کہتا ہوں
15:25آپ فرض کر لیں جج ہیں
15:26آپ کیا کریں گے
15:28یہ کہیں گے نا
15:29کہ بھی اچھا جھگڑا تمہارا
15:30آپ گواہ لے کر آئیں
15:31گواہ لاؤ گے
15:32تو شریعت یہ کہتی ہے
15:33گواہوں پر فیصلہ ہوگا
15:35آپ وہ ظالم گواہ لے آیا
15:37آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کر دی
15:38کریں گے کہ نہیں کریں گے
15:39یہ آپ کہیں گے نہیں
15:39مجھے لگتا ہے کہ یہ سچیں
15:41آپ کے دل کی بات کو تو اعتبار ہی نہیں
15:43اس لیے
15:45ہاں اب یہ کہ
15:46ڈیو ججمنٹ کیوں رکھا ہے
15:47اللہ تعالی نے
15:47اس کے بہت بڑے بڑے
15:48اسباب میں سے
15:49ایک سبب یہ بھی ہے
15:50کہ جو یہاں نائنصافی کر لے گا
15:51پھر وہاں بھکتے گا
15:52اور وہاں نیکیاں نکالی جائیں گی
15:55نیکیاں نکال کر
15:56مظلوم کے نام عمال میں
15:57ڈالے جائیں گی
15:58اور حساب پورا نہیں ہوگا
15:59تو مظلوم کے گناہ
16:01ان ظالموں کے نام عمال میں
16:02ڈالے جائیں گے
16:03اور ان کو جہنم میں
16:04پھینک دیا جائے گا
16:06اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:08اگر یوں کرتے
16:09کہ فرض کر لیں
16:11اللہ تعالیٰ الہام فرماتا ہے
16:13کیونکہ نبی کا الہام
16:14وحی الہی کی ایک صورت ہوتی ہے
16:16کیونکہ شیطان مداخلت قلب میں
16:17کر ہی نہیں سکتا ہے
16:18وہ کوئی دعوت دیتا ہی نہیں سکتا
16:20تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:22اگر
16:23اللہ تعالیٰ کے الہام کی وجہ سے
16:25اس باطنی کیفیت
16:27یا باطنی خبر پر
16:28یہ کہتے کہ
16:29یہ صحیح ہیں
16:30اشخاص اور یہودی
16:31تم غلط ہو
16:31بتائیں وہ باہر جا کے کیا کہتا
16:33وہ تو یہی کہتا
16:35کہ دیکھیں اپنے صحابی کے حق میں
16:36فیصلہ کر دیا
16:37حالانکہ میں تو
16:38قسم کھا رہا تھا
16:39وہ گوا بھی نہیں لا سکا
16:40تو یہ ایسا نہیں ہوتا ہے
16:42ظاہر شرع کے
16:43ظاہر کے معافق فیصلہ کیا جاتا ہے
16:45یہ الگ بات ہے
16:46کہ اس کی قسم سے پہلے
16:47اللہ نے آیت نازل فرمائی
16:48کیونکہ یہود بھی یہ جانتے تھے
16:50کہ یہ اللہ کے نبی ہیں
16:51اقرار نہیں کرتے تھے
16:53اور قرآن کو بھی مانتے تھے
16:55کہ یہ قرآن اللہ کی کتاب ہے
16:56لیکن اقرار نہیں کرتے تھے
16:58اب اس پہ جب آیت نازل ہوئی
16:59تو یہودے کے دل میں بھی خوف پیدا ہو
17:01کرنے کے لئے
17:01اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی
17:03جس کا مفہوم یہی ہے
17:04کہ جو اللہ کے احد اور اپنی قسموں کے عوض
17:06تھوڑی قیمت لے لیتے ہیں
17:08ان کے لئے آخرت میں
17:09مثلا دردانک عذاب ہے
17:11یہ اس طرح کی آیت ہے
17:12کہ اس کے دل میں خوف پیدا ہو
17:14لیکن نبی کریم ظاہر شرع کے
17:16ظاہر کے پابند تھے
17:17حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی
17:19انہو کہا کرتے تھے
17:20کہ ہمیں لوگوں کے باطن کا نہیں معلوم
17:22ہم تو ظاہر کے مطابق فیصلہ کریں گے
17:25لیکن ہاں یہ ضرور کرتے تھے
17:26یہ کہتے تھے کہ میں کسی ایک فریق کی بات سن کر
17:28کبھی فیصلہ نہیں کروں گا
17:30جب تک کہ اس کے فریق ثانی کی
17:32یا مخالف کی بات نہ سن لوں
17:34تو اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ منصف بن کر بیٹھتے ہیں
17:37پہلے دونوں کی باتیں سنیں
17:38ایک کی بات سے فیصلہ نہ کریں
17:40نمبر دو شرع تقاضے پورے کریں
17:42جو خلاف اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
17:44اس سے گواہ مانگیں اگر گواہ نہ لائے
17:46تو جو اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
17:48پھر اس سے قسم کھلوائیں
17:49پھر فیصلہ ہوتا ہے
17:51تو امید ہے کہ آپ بات سمجھے ہوں گے
17:53اب چونکہ وقت ختم ہوا ہے
17:55انشاءاللہ نیکس پرگرام میں ملاقات ہوگی
17:56اللہ تعالی ہمیں جو باتیں سنی
17:58مجھے بھی آپ کو بھی
18:00اس پر عمل پہ رہونے کی توفیق عطا فرمائیں
18:01آمین وآخر دعوانا
18:03ان الحمدللہ رب العالمين
Comments

Recommended