Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:28بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30مسجد نبوی میں دونوں کی ملاقات ہوئی
00:31اور وہ چونکہ قرض
00:33طلبی میں تھوڑا سا شدید ہوئے
00:35تو آواز تھوڑی بلند ہوئی
00:37اور بلند آوازوں کی وجہ سے نبی کریم
00:39صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے بہر تشریف لائے
00:42اور اسی وقت میں حضرت قعب
00:44سے حضرت عبداللہ
00:45یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ مجھے قرض میں
00:48کچھ کمی کر دیں یا مجھے
00:49مزید محلت دے دیں تو حضرت قعب
00:52کی زبان سے نکلا کہ خدا کی قسم
00:53نہ میں کمی کروں گا
00:55نہ میں محلت دوں گا
00:58تو نبی کریم نے اس کو سن لیا
01:00تو آپ نے فرمایا کون ہے وہ جو
01:02نیکی نہ کرنے پر
01:03اللہ کی قسم کھا رہا ہے
01:05تو حضرت قعب نرسیہ صلی اللہ میں ہوں وہ
01:07اور دوسری روایت کے مطابق پھر سرکار نے فرمایا
01:10کہ آپ یوں اشارہ کر دیا گویا
01:12کہ آدھا کر دیں قرضہ
01:13فوراں وہ صحابی راضی ہوئے قرضہ آدھا کر دیا گیا
01:16اس پر ہم تفسرہ کر رہے تھے
01:18کہ حضرت قعب رضی اللہ عنہ قرض خواہ تھے
01:21اور آپ کی آواز تھوڑی بلند ہوئی
01:23اور آپ نے ذرا شدت سختی کرنا چاہی
01:26اس کا مطابق قرض خواہ کو اس کی اجازت ہے
01:28ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
01:30منع فرماتے کیونکہ نبی پر فرض ہے منع کرنا
01:33جیسے انہوں نے نیکی نہ کرنے پر قسم کھائے
01:36تو سرکار نے فوراں آکر ذکر کیا
01:37کہ وہ کون تھا جو قسم کھا رہا تھا
01:39نیکی نہ کرنے کی قسم نہ کھاؤ
01:41لیکن سرکار نے آکر یہ کیوں نہیں کہا
01:43کہ تم جھگڑا کیوں کر رہے تھے
01:44آوازیں نہیں سخت کیوں ہو گئے
01:45تمہاری لہجہ اوپر کیوں ہو گیا
01:46اس میں سرکار نے گویا کہ منع نہیں فرمایا
01:49یہ ایک فطری تقاضی ہوتا ہے
01:51کہ جب ایک شخص یہ سمجھتا ہے
01:53کہ سامنے والا میری چیز نہیں دے رہا
01:55اور میں مسلسل تکلیف عضیت میں ہوں
01:57تو فطری لحاظ سے غصہ بھی آ سکتا ہے
01:59اور آواز بلند ہو سکتی ہے
02:01لہجہ سخت ہو سکتا ہے
02:02لیکن جیسے کہ میں نے پچھلے پرگرام میں
02:04لاست میں گزارش کی تھی
02:05بعض اوقات سامنے والا واقعی بچارہ تنگ دست ہوتا ہے
02:09مجبور ہوتا ہے
02:10اور وہ آپ کا پیسہ نہیں دے پاتا
02:12اس میں پھر نرمی ہی واجب ہوتی ہے
02:13نرمی ہی کرنی چاہیے
02:15اور خاص طور پر اس کی عزت نفس کو خراب نہیں کرنا چاہیے
02:18کہ ہم بعض اوقات کہتے ہیں
02:20اچھا پھر میں آرہوں مارکیٹ میں
02:21سب کے سامنے تجھے زلیل کروں گا نا پھر دے گا
02:23ایسی طرح محلے میں آرہوں تو
02:25زلیل ہوگا نا پھر دے گا
02:26اب آپ نے اگر زلیل کر بھی دیا اس کو مارکیٹ میں گندہ کر دیا
02:30محلے میں جا کی کر دیا
02:31اور پھر بھی نہیں دے سکا
02:32کیا فائدہ ہوا آپ کو بتائیے
02:33اب میدان معاشر میں جواب دینا پڑے گا
02:35اگر کچھ عرصے بعد آپ کا پیسہ واپس کر دیتا ہے
02:38تو آپ کو تو پیسے کے بدلہ پیسے مل گیا
02:41اور آپ جو زلیل کر کے آئے تھے وہ کہاں گیا
02:43کیا آپ کے لئے اجازت تھی
02:45کہ آپ اگر نے پیسہ دیا ہے
02:46تو کسی کی عزت اتار سکتے
02:48نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:50نے واسع طور پر فرمایا
02:51کہ اللہ تعالی نے ایک مسلمان پر
02:54دوسرے مسلمان کی جان مال
02:56اور عزت و عبرو کو حرام فرما دیا ہے
02:59اچھا ہمارے سارا کلام اس پر ہے
03:01جب سامنے والا مجبور محضو
03:02پھر یہ بالکل نہیں کرنا چاہیے
03:04اب لیکن صورتحال یہ ہے
03:06کہ لوگوں نے قرضیں لیا ہوا ہیں
03:08میں بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوں
03:09لوگ سینکڑا اپنے مسائل
03:11ڈیلی مجھے بیان کرتے ہیں
03:13قرض لیا ہوا ہے
03:14عمرے کر رہے ہیں
03:16باہر آوٹنگ ہو رہی ہے
03:18کھانے کھانے جا رہے ہیں
03:20شاپنگ ہو رہی ہے
03:21لیکن قرض ادا نہیں کر رہے ہیں
03:23اب یہ ایک بڑا غلط رویہ ہے
03:25ایسے شخص کے ساتھ
03:26اگر کوئی سختی کا رویہ رکھتا ہے
03:28ایسے شخص کے اگر محلے میں جا کے
03:30شور مچاتا ہے تھوڑا بہت
03:31تو پھر اس کی گنجائش
03:33مزید نکلتی ہے
03:34کہ ہاں یہ اس قابل ہے
03:36کہ جب تم قرض ادا کرنے پر قادر رکھتے ہو
03:38تو ایک شخص کو مسلسل
03:39تم نے عزیت اور تکلیف میں مبتلا کیا ہوا ہے
03:42جب وہ آتا ہے
03:43تم ٹالیمٹولی کر دیتے ہو
03:44جب وہ کال کرتا ہے
03:45تم کال اٹینڈ نہیں کرتے ہو
03:47جب وہ مطالبہ کرتا ہے
03:48تم الٹے غصہ دکھانا شروع کر دے
03:50تو یار دے دیں گے تمہارا پیسے ہے
03:51تم تو پیچھے پڑ گئے ہو
03:53کہیں بھاگ کے جا رہا ہوں کیا
03:54اچھا جب مانگ رہے تھے
03:55تب تو تمہارا ایسا لے جانی تھا
03:56پھر تو تم بڑے نرم اور پاؤں میں گر رہے تھے
03:59اور بڑے پیارے پیارے الفاظ کہہ رہے تھے
04:01آج تم نے اس کا پیسہ لے لیا
04:02اس کو بیچارے کو ذلیل و خار کر دیا
04:04اسے بھی ضرورت ہو سکتی ہے
04:05بعض اوقات لوگ اپنے گھر والوں سے
04:07لڑ جھگڑ کے قرضہ دے دیتے ہیں
04:09پھر گھر والے تانہ دے رہے ہوتے ہیں
04:10اور دو پیسہ اور دو پیسہ
04:12وہ بیچارہ ڈپریسٹ ہوتا ہے
04:14اور تم اپنے مزے کر رہے
04:15اور اس کو دے نہیں رہے ہو
04:16اس شخصی ریایت نہیں ہوتی ہے
04:17اس کے ساتھ اگر کوئی منفی رویہ بھی
04:20تھوڑا سا رکھا جائے
04:21تو اس میں شرن کوئی حرج نہیں ہے
04:22کہ خود اس نے اپنے آپ کو زلد پر پیش کیا
04:24لیکن جو پہلی صورت حال ہے
04:26کہ ایک آدمی تنگ دست ہے
04:27ڈیفالٹر ہے
04:28وہ بیچارہ نہیں دے سکتا
04:30اس کے ساتھ نرمی کا سلوک کرنا چاہیے
04:32بلکہ جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:34نے اپنے صحابی کو فرمایا
04:35کہ تھوڑا آدھا کر دو
04:36اس کے اوپر نرمی کر دو
04:37اگر آپ قرض معاف کر سکتے ہیں پورا
04:39معاف کر دیں
04:40کمی کر سکتے ہیں
04:42کمی کر دیجئے
04:43لیکن میرا مشورہ ہوگا
04:44کہ نہ معاف کریں نہ کمی کریں
04:45محلت دے دیں
04:47کیونکہ جب تک
04:48کوئی آپ کا مقروض ہوتا ہے
04:49یاد رکھیں
04:50آپ کے نام عامال میں
04:52روزانہ بے شمار نیکیاں
04:54لکھی جاتی ہیں
04:54اس لئے
04:55بعض اکابرین کا یہ طریقہ تھا
04:57کہ وہ کسی کی مالی مدد
05:00نفلی صدقے سے نہیں کرتے تھے
05:02قرض دے دیا کرتے تھے
05:03کہ یعنی ویسے نہیں دیں گے
05:04اگر کوئی مانگتا ہے
05:05ویسے نہیں دیں گے قرض لے لو
05:06اور اس میں تمہیں اجازت ہے
05:08جب چاہو تم دے دینا
05:09تو وہ لے لیتا تھا
05:10تو یہ یاد رکھیں
05:11کہ حدیث میں ہے
05:12کہ قرض کا ثواب
05:14صدقے کے ثواب سے بھی زیادہ ہوتا ہے
05:16یہ الفاظ یہ نہیں ہیں
05:17لیکن نتیجہ معال یہی ہے
05:19یاد رکھیں
05:19اس لئے اکابرین قرض دے کر
05:21محلت دیتے تھے
05:22تاکہ زیادہ نیکیاں ملیں
05:23اس لئے محلت دے دیں
05:24ماف کرنا چاہیں
05:25تو آپ کی مرضی ہے
05:26نہ کریں
05:27اور محلت دے دیں
05:28تو آپ کو نیکیاں بہت ساری ملتی رہیں گی
05:30اور جب مطالبہ کریں
05:31پیار سے کریں
05:32ہاں جب آپ بہت زیادہ تنگ دست ہیں
05:33خود پریشان ہیں
05:34پھر آپ بالکل مطالبہ
05:36لگتار بھی کر سکتے ہیں
05:37اور اگر وہ بھی تنگ دست ہے
05:39تو پھر ذرہ نرمی
05:40اور تنگ دست نہیں ہے
05:40تو تھوڑی سختی بھی کی جا سکتی ہے
05:42اب اس بات کی طرف آ جائیں
05:44کہ سرکار نے فرمایا
05:45کہ کون ہے وہ شخص کہاں ہیں
05:47جو اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہا تھا
05:49کہ وہ نیکی نہیں کرے گا
05:50اس کا مطلب ہے
05:51کہ یہ بات شریعت کو سخت ناپسند ہے
05:53بعض وقت ایسا ہوتا ہے
05:54ہم کسی غریب کی مدد کر رہے ہوتے ہیں
05:56وہ ہم سے اکڑ کر بات کر لیتا ہے
05:58ہمیں پتہ چلتا ہے
05:59کہ اسی نے میری کسی کے ساتھ
06:02غریبت چغلی کر دی ہے
06:03تو ہم فوراً اپنے احسان کا سلسلہ
06:05منقطع کر دیتے ہیں
06:07اب نہیں بھیجیں گے راشن
06:08اب نہیں دیں گے اس کو زکاة
06:09اب نہیں پیسے دیں گے
06:11حالانکہ وہ واقعی تنگ دست تو ہوتا ہے
06:13ایسا نہ کیا کریں
06:14اور پھر بعض وقت
06:15ہم قسم کھا لیتے ہیں
06:16جیسے یہاں غلطی سے ایک دم تیزی سے
06:19قسم نکل لگے
06:19خدا یہ قسم آئندہ
06:20اسو خوش نہیں دیں گے
06:21ایسا نہ کریں
06:22احسان بہت بڑی چیز ہوتی ہے
06:24اگر اس نے آپ کے ساتھ
06:25منفی رویہ رکھا ہے
06:26اس کو احساس دلا دیں
06:28تم غیبت نہ کرو
06:28چغلیہ نہ کرو
06:29اس سے ہمیں عذیت تکلیف ہوتی ہے
06:31لیکن اپنے احسانات کا سلسلہ
06:33جاری اور ساری رکھیں
06:34کیونکہ ہو سکتا ہے
06:36آپ تو اس وقت
06:37غیر مہتار سے نظر آ رہے ہیں
06:39آپ نے کہا میں نہیں بھی دوں گا
06:40مجھے کیا فرق پڑے گا
06:42لیکن حقیقت حال تو
06:43اللہ جانتا ہے
06:44ہو سکتا ہے
06:45آپ کی کوئی ایسی خطہ ہو
06:46کہ جس پر آپ کی آخرت میں
06:48شدید غریفت ہونے والی ہو
06:50اور اس کا کفارہ فقط یہ ہو
06:52کہ آپ اس کی مدد کریں گے
06:54تو اللہ تعالیٰ اس صدقے سے
06:55آپ کا اس گناہ کا
06:57یا اس خطہ کا کفارہ کر دے گا
06:58اب آپ نے پیسہ روک لیا
07:00تو اس سے آپ کی نیکیاں بھی کم ہو گئیں
07:03اور دوسری وہ خطہ وہ گناہ باقی رہا
07:05اس لئے رازِ خداوندی کو سمجھیں
07:08اور نیکیوں کے سلسلے کو منقطع نہ کریں
07:10ہاں اگر آپ یہ سمجھتے ہیں
07:12کہ میں اس کو پیسہ دیتا ہوں
07:13زائع کر رہا ہے
07:14کوئی غلط جگہ استعمال کر رہا ہے
07:15وہ ایک الک چیز ہے وہ ٹھیک ہے
07:17لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہو کر
07:19احسانات کے سلسلوں کو منقطع کر دینا
07:22یہ طریقہ صحیح نہیں ہے
07:23اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:25اس کو ناپسند فرماتے ہیں
07:27آخری پوائنٹ دیکھیں
07:28سرکار نے حضرتِ قعب بن مالک سے فرمایا
07:30نصف کر دو آدھا کر دو
07:33اس سے پہلے وہ منع کر رہے تھے
07:35قسم تھا کات چکے تھے
07:36خدا یہ قسم میں کچھ کم نہیں کروں گا
07:39نہ محلت دوں گا
07:39لیکن جب سرکار نے کہا فوراں مان گئے
07:42اس کا مطلب یہ ہوا
07:43کہ صحابہ اکرام علیہ مردوان
07:45نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:47کی زبردست قسم کے اطاعت کرتے تھے
07:49اس میں نہ اپنی جان دیکھتے
07:51نہ مال دیکھتے
07:52نہ کوئی اور چیز دیکھتے
07:53آرام اور سکون
07:54فوراں سرکار کے حکم کو پورا کیا کرتے تھے
07:57اس لئے ان کے درجات زبردست قسم کے ہیں
07:59اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں
08:01انبیاء علیہ السلام کے بعد
08:02صحابہ اکرام علیہ بیت اطھار وغیرہ کا
08:05مقام و مرتبہ ہے
08:06تو ہمیں بھی اس بات کو سمرنا چاہئے
08:08کہ جب مالی اخراجات کی باری آتی ہے
08:10اس وقت ہمیں اللہ اور اس کے رسول کے
08:12احکامات اتنے اچھے نہیں لگتے
08:15ہاں مل رہا ہو تو بہت اچھے لگتے
08:17تو میں نے دیکھا ہے
08:18کہ جس کو یہ امید ہو
08:20کہ کوئی رشتدار فوت ہوا ہے
08:21اس کی وراست میں میرا حصہ بن سکتا ہے
08:23وہ فوراں بھاگتا ہے علماء کی طرف
08:26مستحب ذرا دیکھئے گا میرا حصہ اس میں بنتا ہے
08:28کہ نہیں بنتا
08:29اس پر مجھے ریٹن فتوہ دے دیں
08:30اگر ہم کہتے ہیں نا مجھے ریٹن فتوہ دے دیں
08:32فوراں فتوہ بھی پسند آ جائے گا
08:35مفتی صاحب بھی پسند آ جائیں گے
08:36اور غلط نہیں ہے میں اس کو غلط نہیں کہہ رہا ہوں
08:38لیکن ایک رویہ غلط ہے اس کی طرف
08:40میں اشارہ کرنا چاہتا ہوں
08:42لے کے فوراں اپنا پیسہ
08:43لیکن اگر یہی شخص جس اپوزٹ ہو
08:46کچھ لوگ خاندار میں مطالبہ کرے
08:48بھی تمہارے اببہ فوت ہوئے ہیں
08:49ان میں ہمارا بھی حصہ بنتا ہے
08:51اب یہ ڈرتا ہے کہ
08:52میں علماء کے پاس نہ چلا جاؤں
08:54جاؤں گا تو ایسا نہ ہو
08:55ان کا حصہ بن جائے
08:56منع کر دیں گے صاحب
08:58سگی بہنوں کو حصہ نہیں دیتے
09:00ایک صاحب نے
09:01مطلب کہا ہمارے اببہ وسیعت کر کے گئے تھے
09:03صرف بیٹوں کو ملے گا بیٹیوں کو نہیں ملے گا
09:05یار آپ کے اببہ کوئی شارعہ تھے
09:07ماذا اللہ سمہ ماذا اللہ
09:09وہ شریعت بیان کرنے والے تھے
09:11یعنی آپ کو اتنا اپنے باپ کے ساتھ
09:13اپنے والد کے ساتھ
09:14اتنی بھی محبت نہیں ہے
09:15کہ وہ خلاف شرعہ حکم کر کے گئے
09:17جو ان کے لئے عذاب قبر
09:18اور میدانِ معاشر میں
09:20زلط اور رسوائی کا سبب بن سکتا ہے
09:21اور آپ مال کے لئے
09:22ڈھیڑ بن کے اپنے باپ کو چاہتے ہیں
09:24وہ جہنم میں چلا جائے
09:25اگر والد صاحب نے غلط
09:27کوئی وسیعت کی تھی
09:27تو آپ جائیں علماء کے پاس
09:28پوچھیں کہ بھئی
09:29ہماری بہنوں کا حصہ بنتا ہے
09:30کہ نہیں بنتا
09:31بنتا ہے
09:31تو ٹھیک ہے اببہ نے وسیعت کی تھی
09:32اببہ اپنے جگہ پہ جائے
09:33ہم تو اللہ رسول کا کہنا مانیں گے
09:35نہیں
09:35ادھر اببہ بہت اچھے لگتے ہیں
09:37براہ اببہ نے منع کیا تھا
09:38اچھا اببہ نے تو یہ بھی کہا تھا
09:40کہ نواز نہ چھوڑو
09:40وہ تم نے نہیں مانی
09:41اببہ نے تو کہا تھا
09:43کہ آوار اگر لڑکوں کے ساتھ نہ رہا ہو
09:44وہ بھی نہیں مانی
09:45اببہ نے تو کہا تھا
09:46دھاڑی رکھ رہو
09:47وہ بھی نہیں مانی
09:48وہاں تو اببہ پسند نہیں آئے
09:49جہاں مال بچانے کی باری
09:51اور مال کھانے کی باری
09:52وہاں اببہ حضور کے فرمان
09:54ذہن پر مسلط ہو گئے
09:56تو یہ بڑے غلط رویہ ہیں
09:57کہ ہم بعض اوقات
09:59یہ جو ہماری بہنیں خاص طور پر
10:00زکاة ادا نہیں کر رہی ہیں
10:02سولہ سولہ سال سے قربانی نہیں دے رہی تھی
10:05بعض بہنیں یاد رکھیں
10:06جب ہم نے مسائل بتائے
10:07ان کو پتہ چلے
10:08اوہوہ سولہ سال سے
10:09مجھ پہ تو قربانی واجب ہو رہی تھی
10:11تو وہ تو بہت اچھی بہنیں ہیں
10:13کہ جنہوں نے سننے کے بعد
10:14سولہ سال کی قربانی کی بھی
10:16کفار ادا کر دی
10:17اللہ ان کو آباد رکھے
10:18وہ بج گئی میدان مہاشر کے
10:20اطاب سے اور سزا سے
10:22لیکن بعض ایسے بھی ملے ہیں
10:24جنہوں نے کہا
10:24اللہ معاف کرنے والا ہے
10:25ہم تو نہیں ادا کرتے
10:26نہ زکاة دیتی ہیں
10:27نہ قربانیاں کرتی ہیں
10:29یہ جاننے کی بھی
10:30زحمت گوارہ نہیں کرتے ہیں
10:31کہ مجھ پہ زکاة فرض تو نہیں ہو گئی
10:33مجھ پہ قربانی لازم تو نہیں ہو گئی
10:35اپنے خود ساختہ اصول بنائے ہوئے
10:37قربانی کون کرے گا
10:38میرا شہر میرے ابا
10:39زکاة کون دے گا
10:41میرا شہر میرے ابا
10:42یا میرا بیٹا میرا بھائی
10:43میں کیوں دوں
10:44یا آپ نے کہاں سے نکالا
10:46میں کیوں دوں
10:46آپ کی رائے سے
10:48آپ کے کہنے سے
10:49شریع مسائل چلیں گے
10:50یا دین چلے گا
10:52یا اللہ اس کے رسول کی تعلیم سے چلے گا
10:54تو اگر آپ کہتے ہیں
10:55اللہ اس کے رسول کی تعلیم سے
10:57تو آپ اپنی باتیں کیوں کر رہے
10:58اس کو چھوڑ دیں
10:59آپ علماء سے پوچھیں
11:00مجھ پہ قربانی بنتی کی نہیں بنتی
11:01زکاة بنتی کی نہیں بنتی
11:03حج مجھ پہ فرض تو نہیں ہو گیا
11:05اور اسی طرح بہت سے بھائی بہن
11:07عمرہ کرتے ہیں
11:08حج کرتے ہیں
11:08اور دم لازم ہو جاتے ہیں
11:10جب ان کو کہتے ہیں
11:11کہ آپ دم دیں
11:11وہ کیلکولیشن کرتے ہیں
11:13کتنے کا جی
11:14پانچ سو اسی ریال کا اچھا بکرہ آ رہا ہے
11:16یعنی پانچ سو کہی
11:17اور خرچہ ورچہ بلا کے
11:18پانچ سو اچھے ریال
11:19پھر اس کو پاکستانی روپیز میں
11:21کنورٹ کرتے ہیں
11:21تو اتنوں سارے بنتے ہیں
11:22ہم تو نہیں کر رہے ہیں
11:24اللہ معاف کرنے والا
11:26یعنی اللہ فرما رہا ہے
11:27رسول فرما رہا ہے
11:28جب مال کی باری آئی
11:29تو اللہ رسول ماد اللہ
11:31ان کے احکام ہمیں
11:32حکیر کمتر سے نظر آئے
11:34مال کی مقدار
11:35بہت بڑی نظر آئی
11:36مال عظیم ہو گیا
11:38حکم حقیر ہو گیا
11:39حکم کو پھیک دیا
11:41مال کو سینے سے لگا لیا
11:42ارے میری بہنوں
11:44کب تک کھالیں گے آپ یہ پیسہ
11:46اور ہماری یہ بہنیں
11:47کیوں کر رہی ہوتی ہیں
11:49سونا بچایا ہوا ہے
11:50کیش ہے
11:51سیونگ ہے
11:52پیسہ کئی خرچ نہیں کر رہی ہیں
11:53اسی طرح شرح احکام میں
11:55میری بیٹیوں کے کھام آ جائے گا
11:56میرے بیٹوں کے کھام آ جائے گا
11:58کون بیٹا بیٹی
11:59جو انہیں نماز پڑھتے ہیں
12:00اگر آپ کے پاس مال نہ ہو
12:02تو شاید آپ سے بتمیزیاں
12:03کرنا شروع کر دیں
12:04ہر ایک نہیں کرتا
12:05جو ہے ایسے باز ہے
12:07کہ وہ مال و مطع سے
12:09اپنے ماباپ کی ویلیو
12:10کا اندازہ کرتے ہیں
12:11اگر ماباپ کے پاس مال ہے
12:12پیسہ ہے
12:13پروپرٹی ہے
12:14پینشن اچھے آ رہی ہے
12:15تو روئے کچھ اور ہیں
12:17ماباپ نے اپنا پورا مکان
12:19اپنا مال سب بچوں میں بانڈ دیا
12:21پینشن بند ہو گئی
12:22اس کے بعد روئے بدلتے دیکھ لیجئے گا
12:24نہ کریں تو آپ
12:25میرا نام بدل دیجئے گا
12:26لاکھ میں سے کوئی دو تین اولاد ہوگی
12:28چار پانچ اولاد ہوں گی
12:29جو اچھا روئے رکھیں گی
12:30باقی سب کے روئے بدل جائے کرتے ہیں
12:32تو آپ اس اولاد کے لیے
12:36اللہ کو ناراض کر رہے ہیں
12:37رسول کا ناراض کر رہے ہیں
12:38مرنے کے بعد جب آپ قبر میں جائیں گی
12:40اولاد آپ کے ساتھ نہیں جائے گی
12:41اللہ رسول کا کرم ہوگا
12:43تو آپ کی قبر جنت کے باغوں میں سے
12:45ایک باغ بنے گی
12:46اگر اللہ رسول کا کرم ہوگا
12:48تو میدانِ معاشر میں
12:49پروٹوکول ملے گا
12:50عزت ملے گی
12:51سیدھے ہاتھ میں عمال نامہ
12:52نبی کریم شفاعت فرمائیں گے
12:54اور آپ آسانی سے جنت میں جائیں گی
12:56اور اگر آپ نے
12:57اللہ رسول کو ناراض کر دیا
12:58اسلام کی تعلیمات کو پامال کیا
13:01قرآن کی تعلیمات کو
13:02پسے پش اٹھا کر پھیک دیا
13:03حدیثوں کے احکام پر
13:05آپ نے عمل نہیں کیا
13:06تو یہ بیٹا بیٹی کام آئیں گے
13:08جو نہ نمازیں پڑھتے ہیں
13:09اور آپ ہی کے سنت پر چلتے ہوئے
13:11اللہ رسول کے احکام کو پامال کر رہے ہیں
13:14کیونکہ آپ ہی نے تو عادت ڈالی ہے
13:15پھر کیا ہوگا سوچئے
13:17اس لئے میری بہنوں
13:18اور میرے بہت سارے بھائیوں
13:20اللہ کے حکم مانے رسول کا
13:22یہ نہ دیکھیں کہ مال خرچ ہو رہا ہے
13:23یہ مال آپ کو کس نے دیا
13:25یہ نعمتیں کس نے دی ہیں
13:26اللہ نے دی ہیں
13:26اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:29اشارت فرماتے ہیں
13:30کہ خدا کی قسم
13:31صدقے سے تمہارا مال کم نہیں ہوتا
13:34اس کا مطلب کیا ہے
13:36کہ جب آپ صدقہ کرتے ہیں
13:37بظاہر مال کے ایک مقدار نکلتی ہے
13:39لیکن اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں
13:41اس کا بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے
13:44دنیا میں برکت ہوتی ہے
13:45اور مال آتا ہے
13:46ہم ایک انجوز بنے ہوئے ہیں
13:47کہ اللہ اس کے رسول کی بارگاہ
13:49ہمیں مال خرچ کرتے ہوئے
13:50سوچنے اتنا مال نکل جائے گا
13:51بھائی نکل جائے گا تو اور ملے گا
13:54اور جتنا آپ نے یہ رکھا ہوا ہے
13:55کیا یہ پڑے پڑے بچے
13:56انڈے بچے دینا شروع کر دے گا
13:58کہ بہت سارا سونے کے ساتھ بن جائیں گے
13:59یہ ایسی پڑا رہے گا
14:00بات پچوری ہو جاتی ہے
14:02لٹ جاتے ہیں
14:03اولاد کو دیا
14:04اولاد کھا پی گئی
14:05اور پھر روتے رہتے ہیں بیٹھ کر
14:07نہ اللہ راضی ہوا
14:08نہ رسول نہ اولاد ملی
14:09ایسا نہ کیجئے
14:11بلکہ ان صحابی کی طرح
14:15صحابی کی طرح
14:16کہ نصف کم کر دو
14:17فوراں نصف کم کر دیا
14:19اب یہ کتنا مال تھا
14:20اس کا آدھا کتنا بنتا تھا
14:22اب کیا ہمیں اندازہ نہیں
14:24کتنا ہوگا مال
14:25لیکن ایک نبی کے فرمان پر فوراں کر دیا
14:27یہ ہے ایمان کے علامت
14:30اور اسی کو پر میں
14:31اپنے بیانات میں درد کا اظہار کرتا ہوں
14:33کہ ہم کہتے ہیں
14:34کہ ہم محب رسول ہیں
14:36ہم عاشق رسول ہیں
14:38محب اور عاشق وہ ہوتا ہے
14:40جو اپنے محبوب کی بات کو رد نہیں کرتا
14:44اپنے محبوب کی رضا حاصل کرنے کے لئے عمل کرتا ہے
14:47اگر ہم نبی کے عاشق ہیں
14:49واقعی نبی کریم سے محبت کرتے ہیں
14:51تو سب سے پہلی بات تو ہے
14:52کہ آپ کے زبان سے جو نکل گیا
14:54بس وہ پتھر پر لکیر ہے
14:56کہ عشق کا تقاضی یہ ہے
14:57کہ اس کو پورا کیا جائے
14:59اور دوسرا جیسے صحابہ تھے
15:01کہ وہ زبان سے نکلنے کا
15:02بعض وقت انتظار نہیں کرتے تھے
15:04وہ مزاج رسول کی معافقت کرتے تھے
15:06کہ یہ سرکار کو پسند ہے
15:08یہ ناپسند ہے
15:08وہ پہلے ہی ناپسندیدگی والے کام
15:11چھوڑ دیا کرتے تھے
15:12اور پسند والے اختیار کرتے تھے
15:13چاہے سرکار زبان سے نہ کہیں
15:15ہونا تو یہ چاہیے
15:16لیکن جب چلو اس حد تک نہیں پہنچے
15:19تو کمسکم یہاں تک تو ہو جائے نا
15:21کہ اللہ کے نبی نے حکم فرمایا
15:22میں وہ کروں گا
15:23کیونکہ عشق علامت ہے
15:24نہیں عاشق رسول ہمیں کہتے رہے
15:26محبی رسول کہتے رہے
15:28اور یہ ایسا عاشق
15:29ایسا محبت کرنے والا
15:31اور ایسا غلام رسول ہے
15:33نبی کی سننے کے لئے تیار نہیں ہے
15:35بھائی یہ عجیب و غریب عشق ہے
15:37اللہ تعالیٰ
15:38کم از کم مجھو اور میری نسلوں کو
15:39تو اس قسم کے
15:42غیر مناسب عشق سے محفوظ فرمائے
15:45ہمیں کامل عشق کرنا چاہیے
15:46نبی کریم سے
15:47اور اس کی سب سے پہلی شرط یہ ہے
15:48کہ نبی کا حکم ماننا
15:50اس پر توجہ کریں
15:51بابو فضل الاصلاحی بین الناس والعدل بینہم
15:54لوگوں کے درمیان
15:55اصلاح کرنے
15:56اور عدل کرنے کی
15:58فضیلت کا باب
15:59دو ہزار سات سو
16:00سات نمبر حدیث پاک
16:02حضرت ابو حریرہ
16:03رضی اللہ تعالیٰ انہوں بیان کرتے ہیں
16:05کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:07نے اشارت فرمایا
16:08کہ ہر جس روز سورج طلو ہوتا ہے
16:10لوگوں کے
16:11ہر جوڑ پر صدقہ
16:14واجب ہوتا ہے
16:15اور فرمایا کہ
16:16دو آدمیوں کے درمیان
16:18عدل کرنا بھی صدقہ ہے
16:20یعنی جتنے ہمارے جوڑ ہیں
16:22جیسے بعض اوقات کہا گیا ہے
16:24کہ تین سو جوڑ ہیں
16:25کوئی کہتے ہیں
16:25تین سو ساٹھ جوڑ ہیں
16:26ہر جوڑ کے بدلے
16:28صدقہ کرنا واجب ہے
16:29اب یہاں صدقے سے مراد
16:31مالی صدقہ نہیں ہے
16:32یاد رکھیں
16:33بلکہ صدقہ
16:34بہت ساری حدیثوں میں آیا
16:35جیسے کہ یہ مسلم کی ایک حدیث ہے
16:37کہ حضرت ابو حریرہ
16:39رضی اللہ تعالیٰ انہوں
16:40بیان کرتے ہیں
16:41کہ رسول اللہ
16:42صلی اللہ علیہ وسلم
16:43نے اشارت فرمایا
16:44لوگوں کے ہر جوڑ پر
16:46اس دن صدقہ واجب ہوتا ہے
16:48جس دن میں ان پر
16:51سورجتلو ہوتا ہے
16:52پھر آپ نے فرمایا
16:53کہ تم دو آدمیوں کے درمیان
16:55عدل کرو
16:56تو یہ صدقہ ہے
16:57کوئی شخص اپنی سواری پر
16:59کسی کو سوار کر لے
17:00تو یہ بھی صدقہ ہے
17:02کسی کا سامان
17:03اپنے پر اٹھا لے
17:04یہ بھی صدقہ ہے
17:05کسی سے نیکی کی بات کہنا
17:08یہ بھی صدقہ ہے
17:10نماز پڑھنے کے لئے
17:12ہر قدم کو اٹھا کر
17:13چلنا بھی صدقہ ہے
17:14اور راستے سے
17:16کسی تکلیف دے
17:17چیز کو ہٹانا بھی
17:18صدقہ ہے
17:19گویا کے سرکاری فرما رہے ہیں
17:21کہ جتنے جوڑ ہیں
17:22کوشش کریں
17:23کہ ان کے بدلے صدقہ دیں
17:24اور صدقے کی مختلفی صورتیں ہیں
17:26اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق
17:27اطاف فرمائے
17:28آمین
17:28وآخر دعوانا
17:29ان الحمدللہ رب العالمین
Comments