Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:14بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:17اللہ تعالیٰ کے پاکیزہ ترین نام سے آغاز کرتے ہیں
00:20جو بہت مہربان
00:21نہایت رحم والا ہے
00:24درست بخاری کا سلسلہ جاری اور ساری ہے
00:26اور کتاب السلح تک ہم پہنچے تھے
00:29پچھلے پرگرام میں
00:31دو ہزار چھ سو چورانوے نمبر
00:33حدیث پاک پر کلام کیا تھا
00:34آج اگلے باپ کی طرف آتے ہیں
00:37بابن ازا اصطلحو
00:39الا صلح جورن
00:41فصلح مردودن
00:43اگر فریقین
00:45ظلم پر صلح کر لیں
00:46تو وہ صلح مردود ہے
00:49سمجھ لیجئے
00:50کہ صلح آپ کو بتایا تھا
00:53کہ جب جھگڑا اختلاف
00:55نزع پیدا ہو جائے
00:56تو ایسا کوئی معاہدہ کرنا
00:58ایسی ڈیل کرنا
01:00اس طرح ان دونوں کو
01:01کسی چیز پر راضی کر دینا
01:03کہ جھگڑا ختم ہو جائے
01:04اس کو صلح کہا جاتا ہے
01:06تو صلح جائز چیزوں کی ہوتی ہے
01:09ناجائز چیزوں پر صلح جائز نہیں ہے
01:12مثال کے طور پر
01:13اب تو ہمارے خیر ای چلان یہاں چل رہا ہے
01:16بہت کم دیکھا جا رہا ہے
01:17کہ کانسٹیبل وغیرہ روکیں
01:19ہوتا ہے اب بھی کم ہوتا ہے
01:21پہلے ایسا ہوتا تھا
01:22کہ فرض کہلے
01:23کسی نے سگنل توڑ دیا
01:24کانسٹیبل نے روک لیا
01:25اور کہا آپ کا چالان ہوگا
01:27تو ہمارے بعض بائیس پر صلح کر لیتے ہیں
01:30کہ پانچ سو روپے نہ لو
01:31تم پچاس روپے لے کے مجھے چھوڑ دو
01:33یہ صلح ناجائز ہے
01:34کیونکہ یہ گناہ پر صلح ہے
01:36یہ رشوت پر راضی ہونا ہے
01:38اس طرح کے جائز نہیں ہوتا
01:40یوں ہی اپنا ناجائز کام کرانے کے لیے
01:43رشوت دینا
01:45یہ بھی تو ایک طرح کی صلحی ہے
01:46وہ مان رہا نہیں ہوتا
01:47کہ کام نہیں ہوگا
01:48جیسے بہت ادارے ہوتے ہیں
01:51گورنمنٹ کے جہاں پر رشوتیں چلتی ہیں
01:53تو وہ کام نہیں کر رہے ہوتے
01:54اور یہ جھگڑا کر رہا ہوتا ہے
01:56کہ کام کرو
01:56پھر یہ کہتے ہیں
01:57صلح کر لیتے ہیں
01:58چلو تھوڑا سو
01:59ایک لاکھ دو لاکھ دو کام ہو جائے گا
02:01یہ صلح بھی ناجائز ہوتی ہے
02:03یاد رکھیں
02:03کہ جس میں آپ ناجائز کام پر کر رہے ہوں
02:06ہاں اگر ایک طرف سے آپ کا حق ثابت ہے
02:09اور دوسرا شرانت کر رہا ہے
02:12اور اس حق ثابت کو حاصل کرنے کے لیے
02:14آپ رشوت دیتے ہیں
02:15یہ بھی ایک طرح کی صلح ہے
02:17اور اس میں دینے والا گناہگار نہیں ہوگا
02:20لینے والا ہوگا
02:21جیسے مثال کے طور پر
02:23میں ایسی مثال دے رہا ہوں
02:24کہ کسی کی پینشن ہے
02:25اب پینشن اس کا حق ہے
02:27گورنمنٹ نے اس کے لیے پینشن مقرر کی ہے
02:29لیکن بعض وقت سنا گیا ہے
02:31میں کنفرم نہیں کہتا ہوں
02:33سنا گیا ہے
02:37کہ وہ کہتے ہیں
02:38جب تک مثال اگر ساٹھ روپے پینشن ہے
02:40ساٹھ ہزار ہے
02:41تو کہتے ہیں پانچ ہزار ہمیں نہیں دو گے
02:43تو تمہیں پینشن نہیں ملے گی
02:44رولاتے رہتے ہیں
02:45بار بار بلاتے رہتے ہیں
02:47بیچارے دھکے کھلاتے رہتے ہیں
02:49تو وہ بیچارہ پانچ ہزار روپے رشوت دے کر
02:51پچپن ہزار لے کے چلا جاتا ہے
02:53تو یہ پینشن تو حق ثابت تھا
02:55جو گورنمنٹ نے اس کے لیے مقرر کیا
02:57اور یہ اس کا حق ثابت دینی رہا
03:00تو ان کے لیے رشوت دینا جائز
03:02لیکن لینا
03:02اب بھی حرام رہے گا
03:05اسی طریقے سے مثال کے طور پر یہ منع کیا
03:08کہ جیسے
03:08کسی عورت کو کسی نے ٹچ کر لیا
03:10برے عرائدے سے
03:12اب عورت نے کہا میں شور مچا دوں گی
03:13ورنہ مجھے
03:14دس ہزار روپے دے دو
03:16تو اس نے دے دیا
03:17اب یہ بھی ایک
03:19غلط بات پر صلاح ہے
03:20گناہ کے اوپر صلاح ہے
03:21تو ایسا نہیں ہونا چاہیے
03:23اسی کے بارے میں یہ حدیث پاک ہے
03:25اور اس سے ہمیں
03:26یہ نتائج حاصل ہوتے ہیں
03:28حضرت ابو حریرہ حضرت زید بن خالد
03:32جوہنی رضی اللہ تعالیٰ انہوں
03:34دونوں بیان کرتے ہیں
03:36کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس
03:39ایک دہاتی نے آ کر عرض کی
03:41یعنی آرابی تھے
03:43یا رسول اللہ ہمارے درمیان
03:44کتاب اللہ سے فیصلہ کیجئے
03:46تو اس کا فریق مخالب بھی کھڑا ہو گیا
03:49اور اس نے کہا کہ
03:51اس نے سچ کہا
03:52ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ کیجئے
03:55اب دہاتی نے اپنا مسئلہ بیان کیا
03:57اس نے کہا کہ میرا بیٹا
03:59اس شخص کے ہاں مزدور تھا
04:01اس نے اس کی زوجہ سے
04:03ماد اللہ زنا کیا
04:05پس لوگوں نے
04:06مجھ سے کہا کہ تمہارے بیٹے کو
04:09رجم کیا جائے گا
04:10پتھر مار کے ہلا کیا جائے گا
04:13تو یہ دہاتی کہتا ہے میں نے یہ آفر کی
04:15کہ میں سو بکریوں اور ایک باندی کو
04:18کنیس کو
04:19اپنے بیٹے کے فیدیے میں دیتا ہوں
04:22پھر میں نے
04:23اہلِ علم سے سوال کیا
04:25تو انہوں نے کہا کہ تمہارے بیٹے کو
04:27سو کوڑے مارے جائیں گے
04:29رجم تو تھا ہی نہیں سو کوڑے تھے
04:31کیونکہ لڑکا غیر شادی شدہ تھا
04:33اور جس عورت سے زنا کیا وہ تھی شادی شدہ
04:37تو اگر زنا ہو جائے
04:38تو جو غیر شادی شدہ ہوتا
04:40اس کو سو کوڑے لگتے ہیں
04:41اور جو شادی شدہ ہوتا اس کو رجم کیا جاتا ہے
04:44رجم کے مطلب پتھر مار کے ہلاک کر دینا
04:47تو یہ دیہاتی کہتا ہے
04:48کہ پھر بعد میں مجھے پتہ چلا
04:50کہ اس کو تو سو کوڑے لگیں گے
04:52اور ایک سال کے لئے شہر بدر کیا جائے گا
04:55جلہ وطن کر دیا جائے گا
04:56تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
04:59کہ میں تم دونوں کے درمیان
05:00کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا
05:03رہی باندی اور بکریاں
05:05تو اے شخص وہ تجھے واپس دی جائیں گے
05:07اور تمہارے بیٹے کو
05:09سو کوڑے مارے جائیں گے
05:11اور ایک سال کے لئے شہر بدر کیا جائے گا
05:13اور آپ نے ایک مرسے فرمایا
05:16کہ اے انیس
05:17صبح اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ
05:19اور اس کو سنگسار کر دو
05:22پھر صبح کا حضرت انیس
05:24نے اس عورت کو رجم کر دیا
05:27تو دیکھیں پہلی بات
05:28تو یہ کہ وہ ایک شخص تھے
05:30دیہاتی تھے
05:31اتنا زیادہ دیہات میں
05:33اس وقت تک دین کی تعلیمات نہیں پہنچی تھی
05:36تو بیٹے نے
05:38کسی کی ہاں مزدوری کی زنا ہو گیا
05:41اب کسی نے کہا
05:42کہ اب پتہ نہیں ہوگا
05:43انہوں نے بول دیا
05:43کہ جس کو تو
05:44رجم کیا جائے گا
05:45پتھر مار کے ہلاک کیا جائے گا
05:48اب کیا کریں جی
05:49چلو جی فدیہ دے دو
05:50اب یہ فدیہ کا مشورہ کس نے دیا
05:52یہ بھی ایسی لوگوں نے دے دیا ہوگا
05:55کہ بھئی سو بکریاں
05:57اور ایک باندی بطور فدیہ
05:59یہ دینے کے بعد
06:00پھر عرابی نے
06:01اب اہل علم سے پوچھا
06:02تو انہوں نے کہا
06:04کہ یہاں رجم تو تھانی
06:05سو کڑے تھے
06:06اور ایک سال کے لیے
06:07اس کو یہاں شہر سے
06:08باہر نکالا جائے گا
06:09جلوطن کیا جائے گا
06:11اب تزبزب پیدا ہوا
06:12ایک یہ کہہ رہے ہیں
06:14اہل علم یہ کہہ رہے ہیں
06:15تو فیصلہ یہ ہوا
06:16کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:18کے پاس آ کر فیصلہ کروایا جائے
06:19اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
06:21نے قرآن کے موافق فیصلہ کیا
06:23کیونکہ دونوں سزائیں قرآن میں ہیں
06:25غیر شادی شدہ کو سو کڑے
06:35کہ آیت کی تلاوت منصوخ ہو گئی
06:37حکم اب بھی باقی ہے
06:39تو لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:41نے وہی حکم بیان فرمایا
06:42کہ تمہارے بیٹے کو
06:44سو کڑے لگیں گے
06:45اور جب حد جاری ہوتی ہے
06:47کوئی گناہ ہوتا ہے
06:48اور ثابت ہو جاتا ہے
06:49تو وہ گناہ پھر پیسوں سے نہیں مٹتا
06:52کہ آپ پیسے دے کر
06:53فدیہ دے کر گناہ سے بچا لیں
06:55اب سزا ہی جاری ہوگی
06:56لہذا سرکار نے
06:58بکریاں اور باندیاں واپس دلوائیں
07:00اور اس کے بیٹے کو
07:01سو کڑے لگانے کا حکم دیا
07:03جبکہ اس شخص کے چونکہ بیوی
07:05شادی شدہ تھی
07:06تو ایک شخص کو ذمہ داری دی
07:08انہیں ان کا نام تھا
07:09کہ اس کو رجم کرو
07:10تو آپ نے جا کر پھر
07:11دوسروں کو ملایا ہوگا
07:13حکم یہ ہوتا ہے
07:14کہ پھر رجم کیا جاتا ہے
07:16اور اس میں ہم بارہا کلام کر چکے ہیں
07:18پہلے بھی میں نے بات کی تھی
07:20کہ بعض لوگ کہتے ہیں
07:21کہ یہ تو بڑی خطرناک سزا ہے
07:23کہ ایک آدمی کو پتھر مار مار کے
07:25ہلا کر دیا جائے
07:27دیکھیں پہلی بات تو یہ ہے
07:28کہ ہمارے مذہب اسلام میں
07:30زنا کا ثبوت
07:32دو ذرائع سے ہوتا ہے
07:33اگر آپ غور کریں
07:35تو یہ دو ذریعے بہت ہی مشکل ہیں
07:36کہ ایک تو یہ ہے
07:37کہ کوئی شخص خود آ کر
07:38اقرار کرے
07:39کہ میں نے زنا کیا ہے
07:40اور مجھ پر سزا جاری کر دو
07:42بہت مشکل ہے
07:43بڑی ہمت کا کام ہے
07:44کہ کوئی اس طرح کی سزا
07:45اپنے پر جاری کروائے
07:47چنانچہ اگر یہ نہیں آتا
07:48سزا جاری نہیں کرواتا
07:50خاموش رہتا ہے
07:51اللہ کی بارگاہ میں
07:52کامل توبہ کرتا ہے
07:53تو اس کا معاملہ
07:54اللہ کے سپرد ہے
07:55میدانِ معاشر میں بخشے
07:57یا سزا دے تھوڑی بہت
07:58وہ اللہ کی ذمہ ہو جائے گی
08:00لیکن دنیا میں بڑی ذمہ ہے
08:01یعنی حد کیسے جاری کریں
08:03جب اقرار ہی نہیں کیا
08:05اور اگر خود اقرار نہیں کرتا
08:06کسی نے کہا
08:07کس نے زنا کیا
08:08تو جس نے یہ الزام لگایا ہے
08:11اس کے لئے لازم ہے
08:12کہ زنا کو ثابت کرنے کے لئے
08:14چار مرد بطور گواہ پیش کریں
08:17چار مرد
08:18عورت بھی نہیں ہوگی اس میں
08:19اور وہ چاروں سے
08:21امام یا قاضی
08:23الگ الگ انویسٹیگیشن کرے گا
08:25یعنی جرہ کرے گا
08:26ان کو الہدہ بلائے گا
08:27ایک کو بلائے گا
08:28تم نے کیا دیکھا تھا
08:30کس کس کو دیکھا تھا
08:31وقت کیا تھا
08:32مقام کیا تھا
08:33تم کہاں کھڑے تھے
08:34یہ ساری چیزیں
08:35روشنی تھی نہیں تھی
08:37پھر دوسرے کو پھر تیسرے کو
08:38اگر ان کے بیان میں
08:40تھوڑا بھی تضاد ہوا
08:41ٹکراؤ پیدا ہوا
08:42ایک نے گیارہ بجے کہا
08:43دوسرے نے ڈیڑھ بجے
08:44فرق آ گیا بہت بڑا
08:45تو یہ گواہ باطل
08:48گواہ باطل ہو گئے
08:50پھر اس سے جو
08:50جس نے الزام لگایا تھا
08:51کہا جائے گا
08:52اور گواہ ہے نہیں
08:53اس کا مطلب ہے
08:54تمہارا الزام جھوٹا ثابت ہوا
08:55خود اس کو اسی کڑے کی سزا لگی گی
08:57اس کو حد قضف کہتے ہیں
08:59زنا کی جھوٹی
09:00تحمت لگانے کی سزا
09:02اس کا مطلب ہے
09:03کہ گواہ
09:04چار گواہ
09:04وہ بھی مرد ملنا
09:05بہت مشکل ہے
09:06تو زنا ثابت کرنا
09:08بہت مشکل ہوا
09:09تو سزا سے قطع نظر پہل
09:11تو ثبوتی طرح
09:12مشکل کر دیا
09:13شریعت نے
09:13اب فرض کر لیں
09:14ایک آدمی نے آکے
09:15اقرار کر لیا
09:17اقرار کر لیا
09:18اگر شادی شدہ ہے
09:19تو رجم اس کے سزا ہے
09:20اب اگر ایک سزا جاری ہو جائے
09:23اور یہ سرعام دکھا دی جائے
09:25اور یہ سرعام ہی ہوگا
09:26لیکن جیسے آج کل کے دور میں
09:27میڈیا پر دکھا دی جائے
09:29اس کے بعد کوئی حمد کر سکے گا
09:31زنا کرنے کے
09:31تو بعض اوقات ایسا ہوتا ہے
09:34کہ ایک ضرر خاص کو
09:35برداشت کیا جاتا ہے
09:37تاکہ عام ضرر ختم ہو جائے
09:40یہ جو بچیوں کے ساتھ
09:41ماد اللہ زیادتیاں کرتے ہیں
09:43بچوں کے ساتھ کرتے ہیں
09:44اور پھر ان کو قتل کر دیتے ہیں
09:46آپ کے کیا خیال ہے
09:48ان کو لڈو کھلانے چاہیے
09:51ان کو پیار محبت سے رکھنا چاہیے
09:53ان کے لئے بھی حمدردیاں جاگ جاتی ہیں
09:55لیکن جو حمدردی کا اظہار کر رہا ہوتا ہے
09:57اگر خود اسی کے بچی کے ساتھ ایسا کر دیئے
09:59اسی کے بہن بیٹی کے ساتھ کرے
10:01تو پھر جو درد اٹھے گا
10:03وہ کچھ اوری قسم کا ہوگا
10:05جو اپنے گاڑی پر
10:06ایک کیل سے کسی کے اسکریچ کو معاف نہ کرے
10:09کہ میری گاڑی کی دو لاکھ قیمت کم کر دی
10:11تو نے اور پکڑ کے مارے پیٹے
10:13نوکر غلط کام کر دے
10:15نوکرانی گلاس تھوڑے تو موہ پہ تماشیں ماریں
10:17وہ بعض اوقات یہ کہہ رہے ہوتے ہیں
10:19کہ جی دیکھیں تو بڑی زیادتی والی چیز ہے
10:22ہو گیا قصور اتنی سخت سزا بھی نہیں ہونی چاہیے
10:24ماشاءاللہ
10:25آپ تو تھوڑا سا معاف کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے
10:28گلاس
10:29معمولی ساتھ دس بیس پچاس روپے کا گلاس
10:31اور یہاں کسی کی بچی کی زندگی لے لی
10:34اور آپ کے دل میں ہمدردی جاگ رہی ہے
10:37ایسے شخص کو اگر پکڑ کر ایک دفعہ
10:39نشان عبرت بنا دیا جائے
10:41اور تازیرات کے تحت
10:43کیونکہ اس پہ حد تو نہیں ہوگی اس پہ تازیر ہوتی ہے
10:45اس پہ سخت سزا جاری کر دی جائے
10:47اس کے بعد کوئی حمد کرے گا
10:50تو یہ اصل میں معاملہ یہ ہے
10:51کہ الزامات لگانا
10:53اسلام پہ ٹونٹنگ کرنا
10:54حالانکہ یہ سزا بنانے والا کون ہے
10:56قائم کرنے والا کون ہے
10:58حکم دینے والا کون ہے
11:00اولاً
11:00اللہ تبارک و تعالی
11:02پھر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:04جو اللہ کی بارگاہ سے اس حکم
11:06تو ہم تک پہنچانے کا ایک وسیلہ بنے
11:10تو کیا اللہ ظالم ہے ماذا اللہ
11:12وہ تو ارحم الراحمین
11:14میرے آقا ظالم ہے ماذا اللہ
11:15وہ تو رحمت اللہ العالمین ہے
11:17تو کیا آپ کی رحمت ان سے بھی زیادہ ہو گئی
11:19اس لئے یہ بالکل غلط خیالات ہوتے ہیں
11:22اور یہ اصل میں دین سے متنفر کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے
11:26دین سے نفرت نہ کریں
11:28دین کے احکام اللہ رسول کے بتائیں ہوئے ہیں
11:30جن میں ہزار ہا حکمتیں ہیں
11:33تو لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق
11:36اس عورت کو سنگسار کیا گیا
11:39اب ایک بات یاد رکھیں
11:40یہاں پر دو سزائیں سرکار نے
11:42اس لڑکے کے لئے منتخف فرمائیں
11:44ایک سو کوڑے
11:46اور دوسرا ایک سال کی جلہ وطنی
11:48قرآن عظیم میں سو کوڑوں کا ذکر ہے
11:51جلہ وطنی کا نہیں
11:52لہذا احناف جو ہیں
11:54وہ قرآنی سزا کے مطابق کہتے ہیں
11:56کہ اگر کسی غیر شادی شودہ نے
11:59زنا کیا ہے
12:00تو صرف سو کوڑے لگیں گے
12:02اسے شہر سے باہر نہیں نکالا جائے گا
12:04تو دیگر اور بہت ساری حدیثیں ہیں
12:06جن میں صرف کوڑوں کا ہی ذکر ہے
12:08لیکن اس حدیث میں ہے
12:09کہ ایک سال کے لئے
12:10جلہ وطن بھی کیا جائے
12:12تو جب قرآن میں حدیث میں
12:15ٹکراؤ پیدا ہو جائے
12:16یا دو حدیثیں آپس میں ٹکراؤ جائیں
12:18تو اب یہ نہیں ہوتا
12:19کہ ہم کہے
12:20اس کو چھوڑو
12:21یہ غلط ہے یہ صحیح ہے
12:22یا ماذا اللہ قرآن غلط ہے
12:23حدیث صحیح ہے
12:24یا قرآن کمزور ہے
12:26حدیث طاقتور ہے
12:27ایسا نہیں ہوتا
12:29بلکہ
12:29ہر دلیل کا
12:31سب سے پہلے
12:32ایک ایسا
12:32مانا لینے کی کوشش کرتے ہیں
12:35کہ اس مفہوم کو لینے کی بنا پر
12:36اس پر بھی عمل ہو سکتا ہو
12:38اور اس پر بھی ہو سکتا ہو
12:40جیسے یہ حدیث ہے
12:41تو علماء نے فرمایا
12:42کہ یہ
12:43جلہ وطنی کی سزا
12:44اس کے لئے ہوگی
12:45کہ جس کے بارے میں
12:46گمان ہو
12:47کہ اگر اس کو
12:48سو کڑے لگا بھی دی جائیں گے
12:49نہ ڈھیٹ اتنا ہے
12:50کہ پھر یہ کرے گا
12:52دوسرے سے زنا کر لے گا
12:54اس کے لئے
12:54سو کڑے بھی آسان ہو گئے
12:57جیسے میں ایک مثال دیتا ہوں
12:58یہ جتنے موبائل سنیچرز ہوتے ہیں
13:01بلکہ گولیاں مار دیتے ہیں
13:02ٹانگ کے اوپر
13:03چاکو مار دیتے ہیں
13:04دیگر
13:04یہ ان کے لئے
13:05جیل جانا کوئی مشکل کام ہے
13:08یہ جیل جاتے ہیں
13:09ان کو تو
13:10وہاں پہ بھی نشاہ مل جاتا ہے
13:11کیسے بھی کچھ بھی کر لیتے ہوں گے
13:13یہ کر لیتے ہیں
13:13بلکہ
13:14تو یہ در خوشی سے جاتے ہیں
13:16کہ پرانا آدمی اندر سے ملنے جا رہے ہیں
13:18ایک ہفتے بعد باہر
13:19دو ہفتے بعد
13:19سال بعد
13:20دو سال بعد
13:21ان کے لئے جیل میں جانا آنا
13:24یا تھوڑا بہت پولیس کے تھپڑ کھانا
13:26بلکل آسان ہو گیا
13:27اگر یہی سزائیں ان کو دی جائیں
13:30تو کبھی بھی یہ جرم نہیں چھوڑیں گے
13:32کیونکہ اس سزا کے تو یہ عادی ہو گئے
13:34اس کا مطلب یہ ہوا
13:35کہ ان کو سزا چھڑوانی ہو
13:37یعنی جرم چھڑوانا ہو
13:38تو سزا میں اضافہ کرنا ہوگا
13:41بہ ایسی یہاں ہے
13:42کہ جس کے بارے میں حاکم یہ گمان کرے
13:45کہ اگر ہم اس کو صرف کوڑے لگائیں گے
13:47اور اس کے بعد یہ سدھر جائے گا
13:49بلکل
13:49کیونکہ ایک شریف آدمی اگر پکڑا جائے
13:51اور اس کو سرعام کوڑے لگا دی جائیں
13:53لوگوں کے سامنے
13:54اس کے بعد کبھی وہ حمد کر سکے گا
13:57وہ تو شرم سے سر اٹھا کے نہیں چل سکتا
13:59تو پھر اس کے لئے جلہ وطنی ضروری نہیں ہوگی
14:02لیکن اگر اتنا ڈھیٹ ہے
14:04کہ پہلے بھی دو دفعہ کوڑے لگ چکے ہیں
14:06پھر عورتوں سے مراسم پیدا کر لیتا ہے
14:08تو پھر اس کو ایک سال کے لئے
14:10علاقے سے باہر نکال دیا جائے
14:11تاکہ اس کے کچھ تک کچھ عبرت حاصل ہو
14:14اور فرض کر لیں آپ کہیں
14:16اگر کوئی کوئسن کر لے
14:17کہ ایک سال کے لئے نکالا
14:18پھر واپس آگے شروع ہو گیا
14:19تو اس کا مطلب ہے
14:21کہ پھر یہ اور زیادہ سزا کا مستحق ہے
14:25تو یہ ہم نے آپ کو پہلے بھی سمجھایا تھا
14:27کہ اگر اللہ اس کے رسول کے طرف سے
14:29کوئی سزا مقرر ہو
14:30تو اس کو حد کہتے ہیں
14:32جس میں بندوں کو تصرف کا اختیار نہیں ہوتا
14:35ہم ختم نہیں کر سکتے
14:36تبدیلی نہیں کر سکتے
14:37اور ایک ہوتا ہے
14:38کہ حاکم اسلام اپنی ثواب دیت پر
14:41حکمتاً سیاستاً
14:42کوئی سزا مقرر کرتا ہے
14:43اس کو تعذیر کہتے ہیں
14:46اور تعذیر میں بڑی گنجائش ہوتی ہے
14:49تعذیر میں آپ قید بڑھا سکتے ہیں
14:51کوڑے لگا سکتے ہیں
14:53تعذیر میں قتل تک کر سکتے ہیں
14:55یعنی موت کی سزا بھی دے سکتے ہیں
14:57تو پھر تعذیراً اس شخص کے لئے
14:59سزا زیادہ ہوگی
15:00کہ جو کوڑے کھا کر
15:02جلہ وطن ہو کر بھی واپس آکے
15:04وہی شرارت کر رہا ہے
15:05تو اب قاضی چاہے
15:06تو اس کی سزا میں ایسا اضافہ کر دے
15:09کہ آئندہ کے لئے
15:09یہ عبرت حاصل کرے
15:11اور دوبارہ ایسا گناہ نہ کرے
15:12تو گویا کہ ہمارا مذہب
15:14کوئی آجز مذہب نہیں ہے
15:15یہ سب سے پہلے
15:16صلاح کی بات کرتا ہے
15:18اگر صلاح کی گنجائش ہو
15:20جہاں صلاح کی گنجائش نہیں ہے
15:22وہاں پر سزا جاری کرتا ہے
15:24اور بعض وقت ایسا ہوتا ہے
15:25کہ بعض گناہوں کی سزا نہیں ہوتی ہے
15:27تو انسان کو توبہ کا موقع دیتا ہے
15:30لیکن
15:30اگر کوئی سرکشی کرتا ہے
15:33جیسے شیطان کو
15:34اللہ تعالیٰ نے
15:36آدم علیہ السلام کو
15:37سجدہ کرنے کا حکم دیا
15:38تو یہ جم گیا اس کے اوپر
15:40کہ میں تو سجدہ نہیں کروں گا
15:41تو پھر ہمارا اسلام
15:43سخت سزا دے دیتا ہے
15:45جیسے اللہ تعالیٰ نے
15:46شیطان کو
15:47اس کا ایمان سلب کر کے سزا دی
15:49ابا وستقبرو
15:51وکانا ملالکافرین
15:52اس نے انکار کیا
15:54تکبر کیا
15:55اور کفر کرنے والوں میں سے ہو گیا
15:57رہندہ درگا
15:58اس کا مطلب ہے
15:59جیسے جیسے سرکشی بڑھے گی
16:00سزا بھی بڑھے گی
16:02اور سزا سے باز نہیں آئے گا
16:04تو آدمی کو ہی
16:06خارج کر دیا جائے گا
16:07اسے سزا موت بھی دی جا سکتی ہے
16:10جیسے بار
16:12ایسے گناہ دار تھے
16:14جو دور صحابہ
16:15یا تابعین میں منقول ہے
16:17کہ ان پر دیوار گرا کر
16:18ان کو مار دیا گیا تھا
16:19اس طرح باز کو جلانا بھی ثابت ہے
16:22کہ انہوں نے
16:22عقیدے کے باب میں
16:24بہت ہی غلط قسم کی جرت کی
16:25اور انسان کو خدا کہنا شروع کر دیا
16:28کہ آپ خدا ہیں
16:29تو انہوں نے ہی ان کو پھر
16:31آگ میں جلانے کی سزا تجویز فرمائی
16:34تو اس طریقے سے ہمارے مذہب اسلام
16:37گنجائش نکالتا ہے
16:39کہ جرم ختم ہونا چاہیے
16:41مجرم نہیں
16:42لیکن اگر مجرم ایسا ہے
16:44کہ وہ قائم رہ کر
16:45جرم ختم نہیں ہونے دے رہا
16:46تو پھر مجرم کو بھی ختم کرنے کی
16:48اجازت دی جاتی ہے
16:50لیکن یقین سی بات ہے
16:51یہ آپ اور میں نہیں کرتے ہیں
16:52کر سکتے ہیں
16:53یہ ریاست کرے گی
16:54یہ عدالتیں کریں گی
16:56یہ ہمارا کام نہیں ہے
16:57کہ ہم سزا جاری کریں
16:58سزا جاری کرنے کا معاملہ وہاں ہے
17:00تو انہی کے لئے یہ پوری تعلیمات ہیں
17:04اگلے باپ کی طرف آتے ہیں
17:05بابن کئی فا
17:06یکتبو ہادا ما صالحا
17:08فلان ابن فلان
17:09وفلان ابن فلان
17:10وئلم ینسبہ
17:12الہ نسبہ
17:13او قبیلتہ
17:16صلح نامہ
17:17کس طرح لکھا جائے گا
17:18کیا اس طرح
17:19کہ یہ وہ صلح نامہ ہے
17:21جس پر فلان فلانہ صلح کی
17:22خواہ اس کی قبیلے
17:23یا نسب کی طرف نزبت
17:24نہ ہو
17:25انشاءاللہ نیکس پرگرام میں
17:27یہی سے آغاز کریں گے
17:28ہمارا پرگرام دیکھتے رہا کریں
17:30دوسروں کو ترغیب دیا کریں
17:32آپ کے لئے بھی سوابیں جاریہ ہوگا
17:33اللہ تعالیٰ توفیق دے آمین
17:34وآخر دعوانا
17:35ان الحمدللہ رب العالمین
Comments

Recommended