Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:27بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30کہ آپ نے فرمایا
00:31کوئی شہری دیہاتی سے بیعے نہ کرے
00:35اور تم مصنوعی قیمت نہ بڑھاؤ
00:37اور نہ کوئی شخص اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت پر اضافہ کرے
00:43اور نہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے
00:47اور نہ کوئی عورت اپنی سوقن کی طلاق کا سوال کرے
00:52تاکہ اس کا حصہ بھی خود وصول کر لے
00:56تو اس میں تین چار پانچ تلقینات ہیں
00:59پہلی بات تو سرکاہ نے فرمایا
01:00کہ کوئی شہری دیہاتی سے بیعے نہ کرے
01:03یہ پہلے کتاب الویوں میں گزر چکی
01:05اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض وقت ایسا ہوتا تھا
01:07کہ جو دیہاتی لوگ تھے
01:09وہ شہروں میں لاکر اپنی چیزیں بیچتے تھے
01:12کہ پھل وغیرہ لے آ رہے ہیں
01:13سبزی لے رہے ہیں
01:14تو نبی کریم نے منع فرمایا
01:16کہ کوئی ایسا نہ کرے
01:17کہ کوئی شہری باہر جا کر ان سے خرید لے
01:20اور پھر شہر میں نفع کے ساتھ خود بیچے
01:22بلکہ ان کو خود بازار میں آنے دے
01:26کیونکہ ہوتا یہ تھا
01:27کہ وہ شہری باہر جا کر
01:28ان سے بہت سستے داموں اور کم داموں
01:30کوڑیوں کے مول
01:31اور ان کو چیزیں ان سے لے لیتے تھے
01:35اور پھر شہر میں آکے بیچتے تھے
01:37اب وہ شہر والے
01:38اگر اسی طرح سیدھے کے سیدھے
01:40وہ دیہاتی ان کے پاس آتے
01:41تو ان کو بھی فائدہ ہوتا
01:43کہ کچھ بارگیننگ کر کے ان سے سستہ خرید کر
01:45پھر یہ آگے فیس سیل کرتے
01:47اس سے محروم ہو گئے
01:48اور دوسری بات یہ ہے
01:50کہ شہر کے باہر
01:53دیہاتیوں کو کم پیسہ ملتا تھا
01:55اگر وہ شہر میں آکے بیچتے تو زیادہ ملتا
01:57یوں بعض لوگوں نے اس طرح
01:59پہلے باہر جا کر مال خرید کر
02:01اور شہری لوگوں کے لیے
02:03نقصان کا باعث بنتے تھے
02:04اور دیہاتیوں کے لیے بھی
02:06اور یہ یاد رکھیں
02:07کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:09نے باز کی روزی
02:10باز کے ساتھ مقرر کر دی ہے
02:13میں نے کل عام لیے ایک جگہ سے
02:15تو وہ زیادہ قیمت میں لے لیے
02:17دوسرے جگہ جا کے پتا کیا
02:19تو کافی اس سے کم ریٹ میں
02:21وہ عام دیرات اور ویسی عام تھے
02:23تو ہم تو خیر بہرحال تقدیر مبرم پہ ہی
02:25متوجہ ہوتے ہیں
02:26یہ نہیں ہے کہ صدمہ میں بیٹھ جائے
02:28میں وہ ہو یہ ہو گیا
02:29کتنے پیسے چلے گئے کوئی بات نہیں
02:30لیکن میں ان چیزوں کو ذہن میں رکھتا ہوں
02:32کہ اللہ تعالی نے
02:34اس شخص سے ہی میرا پیسہ
02:36اس کے پاس پہنچنا تھا
02:37اس کا مال میرے پاس پہنچنا تھا
02:39میں نے کئی اور سے پتا نہیں کیا
02:41میں نے اسی میں اندازہ کیا
02:42کہ یہ صحیح دے رہا ہے
02:43تو زیادہ میرا پیسہ وہاں چلا گیا
02:45تو یہ دیکھیں کہ نظیر ہے
02:46کہ اللہ تعالی بعض کو
02:48بعض سے فائدہ پہنچاتا ہے
02:49آپ بیچ میں آ کر
02:50اس فائدے کو ختم نہ کریں
02:52تو یوں شہری جو باہر جا کے کریں گے
02:54اب یہ خیرین وہ بھی تحت تقدیر ہی تھا
02:57اس کا یہ نہیں کہ وہ تقدیر کو بدلنے پر قدرت رکھتے تھے
03:00لیکن یہ طریقہ مناسب نہیں تھا
03:02کہ اللہ تعالی نے
03:03یعنی گویا کے نبی کریم ایک اشارہ فرما رہے ہیں
03:06کہ بعض اوقات ہو سکتا ہے
03:07کہ اللہ تعالی نے اس دیہاتی کا
03:09مال ایک شخص کے لئے مخصوص کیا ہو
03:12اور اس کا پیسہ اس کے لئے مخصوص کیا ہو
03:14تم وہاں پر جا کے گربڑے کرو
03:16اگر اس میں کوئی نقصان کا پہلو نہیں ہوتا
03:18کوئی ناجائز پہلو نہ ہوتا
03:19پھر تو سرکار منع نہ فرماتے
03:21لیکن اس لئے آپ نے اس کو خاص طور پر منع فرمایا
03:24اس لئے بعض اوقات ایسا ہوتا ہے
03:26کہ ایک آدمی کسی سے سعودہ کر رہا ہوتا ہے
03:27اور آپ اس کو کہتے ہیں
03:28نہیں نہیں یہ نہیں کرو
03:29یوں کر دو یوں کر دو
03:30ایسا ہو جائے گا ویسا ہو جائے گا
03:32پھر کر رہا ہے تو کرنے دو
03:33آدمی اپنی عقل سے کر رہا ہے
03:34اور چوہ اچھا مشورہ چلے دے دیں
03:37اگر کوئی بہت زیادہ لوٹ رہا ہے
03:38لوٹ مار کر رہا ہے تو الگ بات ہے
03:40لیکن اگر بارگیننگ چل رہی ہے
03:41تو پھر یہ ہوئی ہوتا ہے
03:43کبھی دکان والا نقصان اٹھاتا ہے
03:45کچھ کم اس کو نفع ملتا ہے
03:47کبھی گاہ کو نقصان ہوتا ہے
03:49لیکن اس کو چیز اچھی مل جاتی ہے
03:50ان کے درمیان نہیں آنا چاہیے
03:53تو بس اوقات یہ گائے وغیرہ
03:55آپ نے دیکھو گا منڈی کے اندر
03:56کوئی سودا چل رہا ہوتا ہے
03:58تو پھر وہ جیسی دردر ہوتے ہیں
03:59تو اس کو گاہ کو پیچھا اٹھا کر
04:01اس کو بھیکاتے ہیں
04:02یہ نہیں لو ایسا ایسا ایسا کر رہا ہے
04:03یوں کر لو یوں کر لو
04:05بھئی کرنے دو
04:06آپ کو اس سے کیا ہے
04:08اگر وہ زیادہ قیمت میں بھی لے لے گا
04:09تو اللہ نے اس کا نفع
04:11اس کیلئے اگر رکھا ہے
04:11تو آپ کو کیا پریشانی ہے
04:13اور مشوری بھی اچھے نہیں ہوتے
04:14کوئی ایسا نہیں ہے
04:15کہ وہ لوٹ رہا ہوتا ہے
04:16وہ بھی بیچارہ اپنے
04:17سال بھر اپنے جانور کو پالتا ہے
04:19بلکہ دو دو سال
04:20تین تین سال پالتے ہیں
04:21اتنی مشقت کر کے
04:22ٹرکوں میں لے کر آتے ہیں
04:23یہاں رکھتے ہیں
04:24دبا وغیرہ کھلاتے ہیں
04:26گرمی سردی بارش وغیرہ
04:28اس سے حفاظت کرتے ہیں
04:29اس کو بھی حق خاصل ہے
04:30نفع کمانے کا
04:31ہم بیچ میں آ جائیں
04:32تو یہ چیز صحیح نہیں ہے
04:33اس کو بنا کیا
04:34دوسرا فرمایا ہے
04:35کہ تم مسنوی قیمت نہ بڑھاؤ
04:37یہ اس وقت ہوتا ہے
04:38جب نلامی ہو رہی ہوتی ہے
04:40یہ اس وقت سے متعلق ہے
04:42تو اس کا طریق جیسے
04:43یہ موبائل کون خریدے گا
04:46اس کی ہم قیمت لگاتے ہیں
04:47پانچ سو روپے
04:48اور پچاس پچاس روپے آپ بڑھائیں
04:50اب ایک نے کہا پانچ سو پچاس
04:52دوسرا نے کہا کہ جی چھ سو
04:53تو اب مسنوی قیمت کا مطلب یہ ہے
04:56کہ ایک شاہ آپ نے
04:57اپنا آدمی بٹھایا
04:57وہ خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتا
04:59لیکن قیمت کو اوپر لانے کے لیے
05:01وہ بھی بولیاں لگاتا ہے
05:03کہ اتنے پیسے
05:05یعنی آپ نے پانچ سو بلے
05:06اس نے کہا آٹھ سو
05:07ایک ساتھ تین سو
05:08تو دوسرے اس سے اوپر ہی جائیں گے
05:10اور اس کو خریدنا بھی نہیں ہے
05:11وہ بیٹھا ہی اس لیے ہے
05:12تاکہ قیمت کو بڑھائے
05:14یہ سرکار نے منع فرمایا
05:15کیونکہ اس میں دھوکہ ہے
05:16یہ غلط ہوتا ہے
05:18اسی طریقے سے نیلامی نہیں ہو رہی
05:20لیکن ایک دکاندار کسی گہاک کو کہہ رہا ہے
05:23کہ بھئی یہ لو
05:23یہ چیز جو ہے ایک ہزار کی ہے
05:26اس نے کہا یہ بڑی مہنگی ہے
05:28اپنا آدمی کھڑا کے ہوا
05:29تو اس نے آ کر کہا
05:30کہ یار یہ تم ایک ہزار میں دے دو
05:32مجھے ڈڑھ ہزار کی دے دو
05:33یہ تو بہترین یونیک چیز ہے
05:35خریدنے کے ارادہ نہیں ہے
05:37وہ گاہ کے اندر ایک شوق اور جذبہ
05:39ترغیب پیدا کرنا
05:40وہ گاہ کہتا ہے
05:41نہیں نہیں ٹھیک ہے بھئی میں لے رہا ہوں
05:42وہ بچارہ ہزار میں ہی لے لیتا ہے
05:45کہ یہ ڈڑھ ہزار میں نہ دو
05:46مجھے دو
05:47اور اس کی قیمت اصل میں ہوتی ہے
05:49فرض کہلنے ہیں سات سو روپے
05:50تو تین سو تو ویسی اس نے پروفٹ کھما لیا
05:52اور اگر پھر وہ اکڑ جا
05:54اس پر کہ نہیں میں تو ڈڑھ کس کو دے رہا ہوں
05:56اب بارہ سو کو یہ دوں گا اور زیادہ
05:57یہ جو مصنوع قیمت بڑھائی ہے نا
05:59یہ گناہ ہوتا ہے
06:01ہاں ایک ہوتا ہے مصنوع قیمت بڑھانا جائز
06:03وہ اس طریقے سے ہوتا ہے
06:05کہ مثال کے طور پر
06:07یہ گلاس میں فروفت کرنا چاہتا ہوں
06:09گاہک کو دے رہا ہوں
06:10اور میں پھر کوئی دیانہ داری سے بتا رہا ہوں
06:12کہ یہ میں نے پانچ سو روپے کا خرید آیا
06:14اور سو روپے پروفٹ رکھے
06:15میں آپ کو چھ سو کا دے رہا ہوں
06:17لیکن وہ گاہک تیار نہیں ہوتا
06:19تو اب ایک آدمی آیا
06:21اس نے کہا کہ یہ اصل
06:22یعنی وہ گاہک یہ کہہ رہا ہے
06:23چار سو کا دو مجھے
06:25اب وہ تو اصل قیمت سے بھی پیچھے لے کے جا رہا ہے
06:27اب اگر کوئی مصنوع قیمت تھوڑی بڑھا کر
06:29اس کو لاتا ہے پانچ سو تک
06:31یا ساڑھے پانچ سو تک
06:32تاکہ اس دکاندار کو پروفٹ ہو
06:34اور بچارہ نقصان کے شکار نہ ہو
06:36یہ جائز ہے
06:37کیونکہ اب دھوکہ دینا مقصد نہیں ہے
06:39کسی کے جیب خالی کرنا مقصد نہیں ہے
06:40اس کی گنجائش ہوتی ہے
06:42تیسی چیز کیا ہے
06:43کہ سرکار نے فرمایا
06:44کہ کوئی شخص اپنے بھائی کی
06:46لگائی ہوئی قیمت پر اضافہ نہ کرے
06:49اس کی صورت یہ ہوتی ہے
06:50کہ دو مسلمانوں میں سودہ چل رہا ہے
06:53اور قیمت بس وہ لگانے والے ہیں
06:55جیسے وہ گائے کی مثال لے لیں
06:57کہ کتنے کا دیر ہو
06:58یار اتنے کی دیرہ ہوں
06:59پانچ لاک کی نہیں
07:00یار کم کر لو ساڑھے چار لاک
07:02نہیں نہیں یہ تو وارہ نہیں کھاتا
07:03یہ چل رہا ہے
07:04ایک دم بیچ میں کود کے
07:06پانچ لاک کی
07:06سوا پانچ کی مجھ سے لے لو
07:08سوا پانچ مجھ سے لے لو
07:09یہ آپ نے سودہ خراب کر دیا
07:11تو جب دو مسلمان بھائی کو سودہ کر رہے ہوں
07:14قیمت پہ ان کی گفتگو چل رہی ہو
07:16تو آپ خاموش کھڑے رہے
07:17اگر وہ ہو جاتا ہے سودہ
07:19تو ٹھیک ہے
07:20نہیں ہوتا
07:21جب وہ چلا جائے
07:22پھر آپ اس کی جگہ
07:23اسی چیز کو خریدنے کا قصد و ارادہ کر سکتے ہیں
07:26اور اگلی قیمت آپ لگا سکتے ہیں
07:28جدید قیمت
07:28لیکن اس طرح نہیں کر سکتے
07:30ایک وجہ کیا ہے
07:31کہ یہ لڑائی جھگڑے کی طرف لے کر آئے گا
07:33بغض و کینہ پیدا ہوگا
07:35اس کو کہتے ہیں
07:36یہ مفضی علی المنازعہ ہوگا
07:39مفضی مانے لے جانے والا
07:40علیہ مانے طرف
07:41منازعہ مانے جھگڑے
07:42جھگڑے کی طرف یہ چیز لے کے جانے والی ہے
07:44اور شریعت ہر اس چیز کو ناپسند کرتی ہے
07:47جس سے مسلمان بھائیوں میں
07:48آپس میں جھگڑے پیدا ہو جائیں
07:52لہذا سرکار نے فرمایا
07:53کہ کوئی شخص اپنے مسلمان بھائی کی
07:55لگائی ہوئی قیمت پر اضافہ نہ کرے
07:58اگلا فرمایا
07:59اور نہ اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام دے
08:03یہ اس وقت ہے
08:04کہ جب دو لوگوں کو آپ دیکھ رہے ہیں
08:06جیسے خاندان والے ہوتے ہیں
08:07بعض اوقات کوئی قریبی دوست وغیرہ ہوتا ہے
08:09ہمیں پتہ ہے
08:10کہ ان کی کسی خاندان میں
08:11رشتے کی بات چل رہی ہے
08:13تو وہ بیٹھتے ہیں
08:14کہ بھئی آپ لوگ کیا کرتے ہیں
08:16کیا کمیونٹی وغیرہ
08:17ایک دوسروں کو جان رہے ہیں
08:18رشتے کی باتیں چل رہی ہیں
08:19اب آپ نے کہا
08:20کہ یار ان کا رشتہ خراب کرو
08:22یہ لڑکی بہت اچھی ہے
08:24لڑکا بہت اچھا ہے
08:25یہ ان کا اپس میں ہو گیا
08:26تو ہمیں نقصان
08:27اگلے دن اپنا رشتہ لے کے چلے گئے
08:29یہ غلط ہے بالکل
08:30جب دو کے درمیان چل رہا
08:32ایک تو ہوتا ہے
08:33کہ بھئی ہم خالی ویسی آئے تھے
08:34ملنے کے لئے
08:35آپ کو پتہ ہے
08:35بلکل نیشل سٹیج ہوتا ہے
08:37آئے تھے
08:37بس بیٹھا گھر بار دیکھا چلے گئے
08:39یہ ایک الگ مسئلہ ہے
08:40یہ جو صورتحال ہے
08:41اس کے ساتھ ہے
08:42کہ جب معاملہ
08:43ایک دو ملاقاتوں سے آگے بڑھ چکا ہو
08:45اور آہستہ آہستہ
08:46وہ منگنی کی تیہ کرنے کی طرف
08:48یا نکاح کے تیہ کرنے کی طرف آ رہے ہوں
08:50اس وقت اپنا پیغامے
08:52نکاح بھیج دینا بیچ میں
08:53کہ ہمارے لڑکے سے کر لو
08:54ہماری لڑکی سے کر لو
08:55وہ ان کو پھر یقنی سے بات ہے
08:57کہ ان کا معاملہ خراب کرے گا
08:59اگر آپ رشتہ لڑکے کر
09:00رشتہ لے کر گئے
09:01اور لڑکی والوں کو
09:02آپ نے پیغامے نکاح دے دیا
09:04تو سکتا ہے لڑکی والے
09:05آپ کے بیٹے کی طرف متوجہ ہو جائیں
09:06زیادہ فائدہ دیکھ کر
09:07تو ان کی دلازاری بھی ہوگی
09:09ان کے دل میں کینہ بغض بیٹھے گا
09:11دشمنی بعض وقت بیٹھ جاتی ہے
09:13اور میں نے یہاں تک دیکھا ہے
09:14قتل و غارت ہو جاتی ہے
09:16یہ طریقہ بالکل غلط ہے
09:18جب آپ سمجھتے ہیں
09:19مثلاً آپ کو پتہ نہیں ہے
09:21آپ نے کسی کے پاس گئے
09:23اور ایسے ہی
09:24کچھ تھوڑے گفتگو میں
09:25اندازہ لگا لیا
09:26کہ آپ کی بیٹی کے لئے
09:27کوئی رشتہ وغیرہ تو نہیں آئے
09:28جس پہ گفتگو چل رہی ہو
09:30اگر وہ کہتے ہیں کہ
09:30ہاں تو بس پھر ٹھیک ہے
09:32آپ پہلے وہاں دیکھ لیں
09:32اس کے بعد ہم آئیں گے
09:33یہ طریقہ کار ہوتا ہے
09:36اور یا پھر آپ کو پہلے ہی پتہ ہے
09:37کہ کسی نے رشتہ بھیجا ہوا ہے
09:39تو پھر نہیں کریں
09:39پھر آپ ان کی باتیں چل رہی ہیں
09:41اور آپ بیچ میں
09:42کود گئے ہیں
09:43اور اس طریقے سے معاملہ خراب ہوتا ہے
09:45تو اس لئے
09:46یہ طریقہ اختیار کرنا ضروری ہے
09:48آخری بات سو سرکاہ نے فرمائی
09:50کہ کوئی عورت
09:51اپنی سوکن کی طلاق کا سوال نہ کرے
09:54تاکہ اس کا حصہ بھی خود وصول کر لے
09:58تو یہ دو تین چیزیں ہیں
09:59اس میں اب اشارہ یہی ہے
10:01کہ ایک باز وقت شخص شادی شدہ ہوتا ہے
10:03کوئی ایک عورت سے
10:04اس کے افیر شروع ہو جاتا ہے
10:06وہ شادی کی آفر کرتا ہے
10:08تو وہ کنڈیشن لگا دیتی ہے
10:09کہ پہلے بیوی کو طلاق دو
10:10پھر میں تمہارے ساتھ رہوں گے
10:13تاکہ تمام شہر کی دولت وغیرہ
10:15پروپرٹی مجھے مل جائے
10:16یہ نبی کریم ایک تو منع فرما رہے ہیں
10:18ابھی وہ سوکن بنی نہیں ہے
10:19لیکن یہ بھی صورتحال
10:20اسی وجہ سے منع ہے
10:21سوکن تو اسے کہتے ہیں
10:23کہ مرد کی دو بیویاں ہوں
10:24یہ بیویاں آپس میں
10:25ایک دوسرے کی سوکن ہوں گے
10:26لیکن یہ جو حدیث کا اشارہ ہے
10:28وہ ان تمام صورتوں کو گھیرے ہوئے ہیں
10:31اس لئے میں آپ کی طرح خدمت میں
10:32یہ صورتیں ذکر کر رہا ہوں
10:35تو ایک تو یہ کہ
10:36اس شرط پر نکاح کروں گی
10:38کہ پہلے والی کو طلاق دو
10:39اور قصد و ارادہ یہ
10:41کہ شور یہ پورا میرا بن کر رہے
10:43اچھا اب اس عورت سے اگر سوال کریں
10:45کہ چلو پہلے کو طلاق دے
10:46کہ تم سے نکاح کر لیتا ہوں
10:48پھر میں ایک اور بھی نکاح کر لوں گا
10:49پھر تمہیں طلاق دے دوں گا
10:58اس کا تم رشتہ خراب کر رہی ہے
11:00اس کو طلاق دلوا رہی ہے
11:01اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں گے
11:02تو وہ رول جائیں گے
11:03ایک عورت متلقہ ہو
11:04تو معاشرے میں کیسے وہ
11:05سروائف کر سکتی ہے
11:07یعنی اپنی بچ خوشیاں کو دیکھنا ہے
11:10دوسرے کا بیڑا غرق ہو جائے
11:12ہستا بستا گھر تباہ کر کے
11:13اور خوشیاں حاصل کریں
11:14یہ راس آئیں گی کبھی
11:16کبھی بھی نہیں آتی
11:17ہم نے دیکھا ایسے عورتیں پشتاتی رہتی ہیں
11:26صحیح نہیں ہوتا
11:27مطالبہ طلاق بالکل منع ہے
11:30بلا عذر
11:31نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
11:34کہ جو عورت بغیر کسی عذر کے
11:36شہر سے طلاق کا مطالبہ کرے
11:39وہ برود قیامت
11:40جنت کی خوشب بھی نہیں پاسکتے
11:43تو جب ایک عورت
11:44اپنے شہر سے طلاق کا مطالبہ کرے
11:46تو یہ وعید
11:47اب دوسری مطالبہ کرے
11:49تو کیسے کوئی نام ملے گا
11:50ایک صورت یہ ہوتی ہے
11:51دوسری صورت ہے
11:52کہ ایک مرد نے دو شادیاں کر لیں
11:54تو اب وہ ایک عورت کہتی ہے
11:56کہ اس کو بھی دیتا ہے مکان
11:57مجھے بھی دیتا ہے
11:58اس کو نانفقہ
11:59مجھے بھی
11:59اسے بھی سوٹ دے رہا ہے
12:00اسے بھی
12:01اگر اس کو طلاق دلوا دوں
12:02تو سارا میرا ہوگا
12:04پھر وہ حد کنڈے
12:05آج کل
12:07ڈراموں میں تو بہترین تربیت ہوتی ہی ہے
12:09ہر ڈرامے میں نہیں ہوتی
12:10لیکن بہرحال
12:10بہت سے آئیڈیاز دے دیے جاتے ہیں
12:12کہ تم یہ چلاکیاں سیکھ لو
12:14ایاریاں سیکھ لو
12:15اور اس طرح شہر کو
12:17بدزن کر کے اسے
12:18نکاح کر لو
12:19یا مطلب اس کا مال ہے
12:20ایٹ لو
12:21تو پھر وہ طریقے اختیار کرتی ہیں
12:23اور پھر شہر بعض وقت
12:24ایک کو طلاق دے دیتا ہے
12:25یہ جو آپ نے طلاق کروائی ہے
12:27اور اب یہ سمجھا
12:28کہ سارا مال مجھے مل جائے گا
12:30پہلے بعد تو یہ
12:31کہ آپ کے پلاننگ تو یہ ہے
12:32آپ کی سوچ اور فکر یہ ہے
12:34کہ سارا مجھے مل جائے
12:36اور آپ کو خوش فہمی یہ ہے
12:37کہ مل بھی جائے گا
12:38لیکن ارادہ الہی کیا ہے
12:40بعض وقت ہم نے دیکھا ہے
12:42کہ اس طرح کروا دی طلاق
12:43شہر نے اس کو بھی طلاق دے
12:44کہ باہر نکالا
12:45تیسری سے نکاح کر لیا
12:46سارا مال اس کے پاس چلا گیا
12:48کیا فائدہ ہوا
12:49تو یہ مطالبہ بھی بلکل حرام ہے
12:52اسی طریقے سے تیسری صورت یہ ہوتی ہے
12:54کہ ایک آدمی نے نکاح کر لیا ہے
12:56تو جو پہلی زوجہ ہوتی ہے
12:58وہ دوسری کو برداشت نہیں کر پاتی
13:06اور چونکہ پہلی لڑکی
13:07بعض وقت ماں منتخب کر کے لاتی ہیں
13:09بہنیں بھی منتخب کر کے لاتی ہیں
13:11یعنی پورا خاندان اس میں انوالو ہوتا ہے
13:13تو اس کو زیادہ فوقت مل جاتی
13:15وہ بھی مل جاتے ہیں اس کے ساتھ
13:16کہ ہاں تم نے غلط کیا ہے
13:17تم نے اس بہو کا یا بھابی کا حق مارا ہے
13:21تو لہٰذا تم اس عورت کو طلاق دو
13:23اور اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے
13:25اس عورت کا کہ اب اگر میرا شوہر مر جاتا ہے
13:27تو آدھی پروپرٹی اس کے پاس چلی جائے گی
13:29بینک بیلنس جائے گا
13:30کیونکہ وہ بھی وارثہ ہو جائے گی
13:32تو یہ چیزیں
13:33تو یہ بہرحال اس طرح کی کوئی بھی صورت
13:35جس میں مال و مطاع حاصل کرنا
13:36دوسرے کی خوشیوں کو تباہ کر کے
13:38اپنے لئے خوشیوں کا سامان کرنا
13:40اور دیگر معاملات کے لئے
13:42کسی کی طلاق کا مطالبہ
13:43یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے
13:45ایسی جو بہنیں کام کر چکی ہیں
13:47اگر مجھے سن رہی ہیں
13:48اللہ کی بارگاہ میں توبہ کریں
13:50آپ نے ٹھیک نہیں کیا
13:51آپ کو بروز قیامت
13:53جب اللہ تعالی
13:54جس کا آپ نے گھر خراب کیا
13:56تو اس کے سامنے کھڑا کرے گا
13:57اس وقت آپ کو اندازہ ہوگا
13:59کہ آپ نے اپنے آخرت کا
14:00کتنا بڑا نقصان کیا
14:01صرف چند فائدوں
14:02چند خوشیوں کے خاطر
14:04اور جو ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں
14:07کہ ان کا کسی کے ساتھ
14:08اٹیچمنٹ ہے
14:09اور وہ
14:09کوئی شخص آفر کر رہا ہے
14:11شادی کے
14:11اور آپ یہ کنڈیشن رکھنا چاہتی ہیں
14:13کہ نہیں پہلے والی کو طلاق دو
14:14کبھی نہ کریں آپ پیسا
14:16یہ اگر آپ کریں گی
14:17تو آپ بہت بڑا نقصان کر رہی ہیں
14:19اسی طرح اگر کسی کے دو بیویاں ہیں
14:22تو دونوں پھر مل کر چلیں
14:24شہر کو تنگ نہ کریں
14:25پیار محبت سے رہیں
14:27یہ نہ کریں کہ شہر کو
14:28مطلب
14:29ٹورچر کر کر
14:30کہ ایک کو طلاق دلوا دیں
14:31تاکہ سارا کچھ میرے پاس ہو جائے
14:33تو پھر آخرت میں
14:34آپ کے لئے بھی
14:35بہت شدید قسم کی وعیدیں ہیں
14:37اللہ تعالیٰ سب کو محفوظ رکھے
14:39اگلے باپ کی طرف آتے ہیں
14:41کہ باب شروع تل لطی لا تحلو فی الحدود
14:43حدود میں جو شرطیں لگانا
14:46جائز نہیں ہیں
14:47ان کا باب
14:49حد کیا ہوتی ہے
14:50ایک آپ نے لفظ سنو گا
14:51ایک حد اور ایک تعذیر
14:53حد کا مطلب ہوتا ہے
14:55وہ سزا
14:55جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول
14:57نے کسی جرم یا گناہ کے بدلے میں
15:00مقرر کی ہو
15:00اور اس میں لوگوں کو
15:02تبدیلی وغیرہ کرنے کا
15:04کوئی اختیار نہ ہو
15:05جیسے شادی شدہ
15:07اگر کوئی شخص زینہ کرتا ہے
15:08تو ہمارے مذہب میں
15:09اس کو رجم کرنے کا حکم ہے
15:11یعنی جب زینہ کا ثبوت ہو جائے
15:13بالکل پرفیٹ
15:14ہنڈر پرسنٹ
15:14تو اس کو پتھر مار کر
15:16حلاق کرنے کا حکم ہوتا ہے
15:17اور غیر شادی شدہ
15:19اگر زینہ کرے گا
15:20تو سو کڑوں کی سزا ہے
15:21چور اگر مخصوص شرائط کے ساتھ
15:24چوری کرے گا
15:25تو اس کا ہاتھ کارٹنے کا
15:26یا گٹے سے ہاتھ کارٹنے کا حکم ہے
15:28یہ حکم ہوتا ہے
15:29اور دیگر معاملات
15:31تو یہ حدود کہلاتی ہیں
15:33اس کے مقابلے میں
15:34لفظ استعمال ہوتا ہے
15:35تعذیر
15:36تعذیر اس سزا کو کہتے ہیں
15:37جو شریعت نے مخصوص نہیں کی
15:39بلکہ بندے
15:40انسان اس سزا مقرر کرتے ہیں
15:42اور اس میں تغیر و تبدل
15:44کا بھی اختیار ہوتا ہے
15:45تو جتنا ہمارے کونسٹیوشن میں
15:47سزائیں ہیں
15:48وہ سب کو شریعت نے
15:48تو مقرر نہیں کیا ہوتی
15:49وہ ہماری ہوتی ہے
15:51کہ کس پر جسمانی سزا ہوگی
15:52کس میں جیل میں ڈالا جائے گا
15:54کس پر مالی جرمانہ لگے گا
15:56پینلٹی لگے گی
15:57یہ جو ہوتی ان کو
15:58تعذیرات کہتے ہیں
15:59یا تعذیر کہتے ہیں
16:01تو یہ یہ بیان کر رہے ہیں
16:02کہ حدود میں
16:03جو شرطیں لگانا جائز نہیں
16:05ان کا باب
16:05تو حد چونکہ
16:07اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے
16:09ایک مقرر کردہ
16:10سزا ہے
16:11تو اس میں ہم کیسے
16:12تبدیلی کر سکتے ہیں
16:13مثال کے طور پر
16:15کسی کے بیٹے سے زنا ہو گیا
16:16اور وہ شادی شدہ ہے
16:17تو رجم کیا جائے گا
16:18لیکن اس نے یہ
16:20کہا کہ رجم نہ کرو
16:21اتنے پیسے لے لو
16:23میرے بیٹے کو چھوڑو دو
16:24گویا کہ پیسے دینے کی شرط پر
16:26حد ساقت کرنے کا مطالبہ
16:28تو حد تو ساقت نہیں ہو سکتی ہے
16:30جب بالکل
16:31کنفرم پرفیکٹ ثابت ہو جائے
16:33تو سزا ضرور جاری ہوگی
16:34تو لہذا یہ شرط لگانا
16:36ٹھیک نہیں ہوگا
16:37اس پر یہ حدیث پاک ہے
16:38اور اس میں دو حدیثوں کو
16:40ایک جگہ جمع کیا
16:42مضمون چونکہ دونوں کا ایک تھا
16:44تھوڑا تھوڑا سند کے اندر
16:45تبدیلی ہوتی ہے
16:47تو امام بخاری بادوقع
16:48دو حدیثوں کو
16:49ایک جگہ جمع کرتے ہیں
16:50تو حدیث دو ہزار سات سو
16:53چوبیس
16:54اور دو ہزار سات سو پچیس
16:56یہ ایک ساتھ یہاں مذکور ہے
16:58حضرت ابو حریرہ
17:00رضی اللہ تعالی عنہ
17:01اور حضرت زید بن خالد
17:03ان دونوں نے بیان کیا
17:05کہ دیہاتیوں میں سے
17:06جو دیہاتی تھے
17:08ان کو عرابی کہتے تھے
17:09عرابی صحابیوں میں سے
17:10ایک شخص
17:11نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
17:13کے پاس آیا
17:14پس اس نے کہا
17:15کہ یا رسول اللہ
17:16میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں
17:18کہ آپ میرا فیصلہ
17:19صرف کتاب اللہ سے کریں
17:22پھر اس کے مخالف آگئے
17:24جو جس سے جھگڑا تھا
17:25انہوں نے کہا
17:26کہ اس کے مخالف نے کہا
17:28جو اس سے زیادہ ضرورت مند تھا
17:29کہ جی ہاں یا رسول اللہ
17:30آپ ہمارے درمیان
17:32کتاب اللہ سے فیصلہ کیجئے
17:36اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیں
17:39اس نے مخالف نے کہا
17:40مجھے اپنا مقدمہ ذکر کرنے کی اجازت دیں
17:42تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
17:44نے فرمایا کہ
17:44ٹھیک ہے تم بات کرو
17:45اس نے کہا
17:46کہ میرا بیٹا اس کے ہاں
17:48مزدور تھا
17:49جو میرا مخالف ہے
17:51اس نے اس کی بیوی سے زنا کیا
17:53اور بے شک مجھے بتایا گیا
17:55کہ میرے بیٹے کو
17:55سنگسار کی سزا ہوگی
17:57یعنی اس کو پتھر مار کے
17:58ہلاک کیا جائے گا
18:00میرے بیٹے کو
18:02عورت شادی شدہ تھی
18:03لڑکا غیر شادی شدہ تھا
18:04تو میرے بیٹے کو
18:05سنگسار کرنے کی سزا ہوگی
18:07تو میں نے اس کی طرف سے
18:09سو بکریاں
18:10اور ایک باندی فدیہ میں دے دی
18:12کہ سنگسار نہ کرو
18:14سو بکریاں لے لو
18:15ایک باندی لے لو
18:16اور میرے بیٹے کو چھوڑ دو
18:17وہ راضی ہو گیا
18:18اور یہ معاملہ ہو گیا
18:19پھر میں نے
18:20اہلِ علم سے سوال کیا
18:21تو انہوں نے مجھے بتایا
18:22کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں ہے
18:24میرے بیٹے کو
18:25سو کھوڑے لگائے جائیں گے
18:27اور ایک سال کے لیے
18:28شہر سے
18:29باہر نکال دیا جائے گا
18:31اور اس شخص کی بیوی کو
18:33سنگسار کیا جائے گا
18:34اس کو پتھر مارے جائیں گے
18:36تو آپ فیصلہ فرمائیں
18:37تو چونکہ اب
18:38وہ وقت ہو چکا ہے
18:39ورنہ میں اس حدیث کو
18:40کمپلیٹ کرتا ہے
18:40نیکس بورا میں انشاءاللہ
18:41کمپلیٹ کریں گے
18:42اس پر تفسر کریں گے
18:43وَاہُرُ دَعْوَانَا
18:44اَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ
18:45رَبِّ الْعَالَمِ
Comments