Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00انہی وصببہی وصببہی
00:31حضرت سحل بن سعاد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کے راوی ہیں
00:34وہ کہتے ہیں قبیلے کے اندر کچھ اختلاف پیدا ہوا
00:36تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم صلح کروانے کے لئے تشریف لے گئے
00:40وہاں آپ لیٹ ہو گئے یہاں ظہر کی نماز کا وقت ہو گیا
00:43صحابہ کرام آ گئے
00:44حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ازان دے کر صدیقہ قبر سے ایک ویسٹ کی
00:48کہ آپ نماز پڑھا دیں لگتا ہے سرکار تشریف نہیں لاسکیں گے
00:51تو آپ نے کھڑے ہو کر نماز پڑھانا شروع کر دی
00:54اتنے میں سرکار تشریف لے آئے اور آپ صفوف سے آگے ہوتے ہوئے پہلی صف میں تشریف لے آئے
00:59تو صحابہ کرام نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوشیار کرنے کے لئے
01:05ہاتھ پر ہاتھ مارا جس کو تصفیق کہتے ہیں
01:07اور صدیق اکبر چونکہ استغراق میں نماز پڑھتے تھے
01:10پہلے تو توجہ نہیں کی جب بہت زیادہ تصفیق ہوئی
01:13تو پھر آپ نے تھوڑا پیچھے دیکھا تو نحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف توجہ ہو گئی
01:18تو آپ حالت نماز میں ہی پیچھے ہٹ گئے اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم آگے چلے گئے
01:24حالانکہ جب وہ پیچھے ہٹنے لگیتے تو سرکار نے اشارہ کیا کہ آپ نماز پڑھاتے رہیں
01:28لیکن وہ نہیں رکے اور پیچھے آگئے اور نبی کریم نے آگے پڑھ کر نماز پڑھائی
01:32نماز پڑھا کے پھر سرکار نے پہلے صحابہ کو سمجھایا
01:35یہ جو ہاتھ پر ہاتھ مار کر کسی کو ہوشیار کرنا کوئی معاملے کی خبر دینا
01:39یہ عورتوں کے لئے ہوتا ہے یہ تصفیق مرد جو ہے وہ سبحان اللہ وغیرہ کہے
01:44پھر آپ نے حضرت صدیق اکبر سے پوچھا کہ جب میں نے اشارہ کر دیا تھا
01:49تو کس چیز نے آپ کو پھر نماز پڑھانے سے روکا
01:52انہوں نے اس کی اصول اللہ ابو قحافہ کے بیٹے کے لئے لائق نہ تھا
01:55کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نماز پڑھاتا رہتا
01:58تو یہ حدیث تھی طویل باقی پوائنٹس پہ تو ہم نے کلام کر لیا ہے
02:02جن بہن بھائیوں نے نہ سنا ہو وہ پچھلا پروگرام یوٹیوب پر دیکھ لیں
02:06ائر وائی کا چینل ہے
02:09اس کو آپ سرچ کریں گے ائر وائی لکھ لے گا درس بخاری بے مفتی اقمل ائر وائی
02:13تو وہ آ جائے گا سامنے اور اس کو سن لیجے گا
02:16یہاں پر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:19ہم آپ کو سمجھا رہے تھے
02:20کسی دیکھے پر پیچھا ٹے سرکار آگے بڑھائے
02:22تو یہ عمل قلیل کے ساتھ ہوا
02:24لہذا حالت نماز میں
02:26تھوڑا بہت بقدر ضرورت چلنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی
02:31ہاں فقہ نفی کے روشنی میں تین قدم لگتار ہے
02:34آپ چلیں گے تو نماز ٹوڑ جائے گی
02:37تو یہ ہم کہیں گے کہ یہ اس سے کم درجے کا سفر تھا
02:40اب یہ اس سے قطع نظر اگر آپ کہیں بھی نماز میں کون چلے گا
02:45بعض اوقات ہوتا ہے ضرورت پیش آ جاتی ہے
02:46جیسے اکیل آدمی نماز پڑھ رہا ہے مسئل کے طور پر
02:49ایک اور آیا تو اس کے ساتھ کھڑا ہو جائے گا
02:52اب اگر ایک اور آیا
02:54تو حکم یہ ہوتا ہے اگر امام کے آگے جگہ ہے
02:57تو امام آگے بڑھ جائے
02:58یہ افضل ہوتا ہے
03:00اور اگر امام کے آگے جگہ نہیں ہے
03:02تو یہ اس کو اشارہ کرے
03:03یہ پیچھے ہڑ جائے
03:04اور یہ دونوں پچھلی صف میں کھڑے ہو جائیں
03:07لیکن اگر یہ ساتھ کھڑا بھی ہو گیا
03:08تو مقروع تنظیحی ہے
03:09لیکن اگر ایک اور آگیا
03:10اور وہ کھڑا ہوا
03:11تو مقروع تحریمی کے درجہ ہوتا ہے
03:13اس لئے اب دیکھیں
03:14یہ امام آگے بڑھ گیا
03:15یا یہ پیچھے ہڑ گئے
03:16یہ نماز میں چلنے کا موقع ہوتا ہے
03:19بعض اوقات ضرورت پیش آ جاتی ہے
03:20ایسی بساوقات ایسا ہوتا ہے
03:22کہ کوئی اگلی صف میں شخص ہے
03:23اس کو وضو ٹوٹ گیا
03:25تو حکم یہ ہوتا ہے
03:26کہ اگر نماز میں وضو ٹوٹ جائے
03:28تو ناک پر ہاتھ رکھ کر
03:29نکل جائے
03:29اسے لگے جیسے نقصیر پھوٹ گئی ہے
03:31اور وہ چلا جائے
03:32اب جو جگہ خالی ہو گئی
03:34یا تو سارے ادھر والے مل جائیں
03:36اور کونے سے کوئی شخص آگے بڑھ جائے
03:38یہ ادھر والے مل جائیں
03:39ادھر کونے سے آگے بڑھ جائے
03:40یا اگر وہ جگہ چھوڑی ہوئے
03:42تو یہ پیچھے والا آگے بڑھ کر
03:43اس جگہ کو پر کر دے
03:45اس کی جگہ خالی ہوگی
03:47پیچھے صف والا
03:47اس کی جگہ پر آجا
03:48اور اس طریقے سے
03:49حالت نماز میں چلنے کا تصور موجود ہے
03:53لیکن جب کبھی آپ کو ایسا موقع ملے
03:55تو تین قدم لگتار ناکے جئے گا
03:58دو لمبے قدم اٹھائیں گے
04:00آپ آرام سے اگلی صف میں داخل ہو جائیں گے
04:04اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:05نے اشارت فرمایا
04:06کہ جب میں نے تمہیں اشارہ کیا تھا
04:08تو آپ پیچھے کیوں ہٹیں
04:10دو باتیں یہاں پر
04:11ایک تو یہ کہ
04:12کیا یہ اشارہ حکم کا درجہ رکھتا تھا
04:14یا ایک مشورہ تھا
04:15یاد رکھیں کہ جب بڑا کوئی حکم دیتا ہے
04:17تو اس پر عمل کرنا واجب ہے
04:19اس کے مخالف جانا
04:21اس کو نہ ماننا
04:23حکم عدولی کرنا
04:24حرام اور گناہ کبیرہ
04:25اور خصوصاً اللہ کے نبی ہوں
04:27تو یہ بہت بڑا گناہ ہے
04:28اور ایک ہوتا ہے مشورہ
04:30مشورہ ماننے نہ ماننے کا اختیار ہوتا ہے
04:32حکم اور مشورے میں فرق کیسے ہوگا
04:35اگر کوئی ہمیں کسی بات کے بارے میں کہتا ہے
04:37اور ہمیں یقین ہے
04:38کہ اگر ہم اس بات کو نہیں مانتے
04:40تو یہ نراز ہوگا
04:41اس کی دلازاری ہوگی
04:43یہ اپنے لئے حقارت محسوس کرے گا
04:46یا سزا جاری کرے گا
04:47تو وہ حکم کا درجہ ہے
04:48اور اگر ہم سمجھتے ہیں
04:50کہ نہ مانوں
04:51تب بھی ان کے کوئی دلازاری نہیں ہوگی
04:53یہ کوئی برا محسوس نہیں کریں گے
04:55تو وہ ایک مشورہ ہے
04:57جیسے والدہ بعض وقت کہتے ہیں
04:58بیٹا ذرا جلدی آ جانا گھر پر
04:59آج کے لئے حالات ٹھیک نہیں ہیں
05:01جی امی اچھا
05:01بچے چلے جاتے ہیں
05:04اب یہ جو ماں نے کہا ہے
05:05کہ یہ حکم ہے
05:06اگر بچے بعد وقت لیڑ بھی ہو جاتے ہیں
05:08ماں کچھ بھی نہیں کہتے ہیں
05:09تو بچوں کو بھی پتا ہوتا ہے
05:11کہ کب کو والدہ یا والد
05:12ہمیں کچھ کہہ رہے ہیں
05:13اگر ہم نہیں مانیں گے
05:14تو یہ نراز ہوں گے
05:15دلازاری ہوگی
05:16بس وہ حکم ہوتا ہے
05:17اور اگر ایسا نہیں ہے
05:18تو مشورہ ہوتا ہے
05:19تو یہاں جو تھا یہ مشورہ تھا
05:22کیونکہ حکم مدولی کرنا
05:23تو نبی کی حرام اور گناہ کبیرہ
05:25اور یہ لائق سزا ہوتا
05:27اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:28لازم اظہار نرازگی فرماتے
05:31لیکن یہاں نہیں فرمایا
05:32تو یہ ایک مشورہ تھا
05:34جیسے ایک مسئلہ ہوتا ہے
05:35کہ اگر کوئی کنیز ہو
05:37عورت
05:38آقا کی کنیز ہو
05:39اور شادی شدہ ہو
05:41اور آقا اس کنیز کو آزاد کر دے
05:44تو اس کنیز کو
05:45خیارِ عطق حاصل ہوتا ہے
05:47خیارِ عطق کا مطلب یہ ہے
05:49عطق کہتے ہیں آزادی
05:50کو خیار مانے اختیار
05:51ایک آزادی کا اختیار حاصل ہوتا ہے
05:54کہ وہ چاہے تو اپنے شوہر کے ساتھ رہے
05:55اور چاہے تو علیدہ ہو جائے
05:57تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی کنیز تھی
06:00حضرتِ بریرہ
06:01آپ نے ان کو آزاد کیا
06:03وہ شادی شدہ تھی
06:03انہیں خیارِ عطق حاصل ہوا
06:05سرکار نے فرمایا
06:06کہ بریرہ
06:07آپ چاہے تو اپنے شوہر کے ساتھ رہے ہیں
06:09چاہے تو آپ آزادی لے لیں
06:10ان کا میں نہیں رہنا چاہتی
06:11آزاد ہو گئی
06:12ان کے شوہر جو حضرتِ مغیس تھے
06:15وہ ان سے بڑی محبت کرتے تھے
06:16تو ان کے پیچھے پیچھے مدینے کی گلیوں میں
06:18بعض وقت روتے ہوئے چلتے تھے
06:20اور یہ
06:21راضی نہیں تھی ان کے ساتھ رہنے پر
06:23تو ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:25نے حضرتِ بریرہ سے فرمایا
06:27کہ آپ اپنے شوہر کو اختیار کر لیں
06:29تو انہوں نے آزادی اللہ
06:31کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں
06:32سرکار نے فرمایا کہ نہیں
06:34یہ صرف ایک مشفرہ ہے
06:36انہوں نے کہا
06:36ایسا اللہ پھر میں انہیں اختیار نہیں کرتی ہوں
06:39یہ دیکھیں یہ سے آپ زیادہ فرق
06:41محسوس کریں گے
06:42کتنے خوبصورت انداز سے انہیں پوچھ لے
06:43اگر آپ حکم دیتے ہیں
06:44تو آپ کے حکم کے سامنے
06:46تو ہماری پسند نا پسند
06:48ہمارا اختیار ختم
06:49پھر میں اس کو اختیار کر لیتی ہوں
06:51آپ بس حکم کر دیں
06:52اور حکم نہیں ہے
06:53تو پھر میری مرضی تو یہ ہے
06:55اور رحمتِ کون ہے
06:56انہوں نے ان کے مرضی پر رکھا
06:57اس کا مطلب ہے کہ
06:58مشفرے اور حکم کے اندر فرق ہوتا ہے
07:00اچھی طرح یاد رکھیں
07:01اس فرق کو
07:02اس لیے
07:03اگر پیر صاحب کوئی بات کہتے ہیں
07:05استاد کوئی بات کہتے ہیں
07:07ماں باپ کہتے ہیں
07:08شہر بیوی کو کچھ کہتا ہے
07:09تو پھر یہ دیکھ لیا کریں
07:12کہ کیا یہ حکم کا درجہ رکھتا ہے
07:13یا مشورہ ہے
07:14تو یہ اشارہ ایک مشورے کی حد تک تھا
07:16کہ آپ نماز پڑھا لیں
07:18انہوں نے نئی مانا پیچھے ہٹ گئے
07:19تو یہ حکم ادولی نہیں کہلائے گی
07:22اور اس کی دلیل یہی ہے
07:23کہ سرکار نے
07:24اظہار ناراضگی نہیں فرمایا
07:26اچھا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ نے
07:28پیچھ ہٹے سرکار آگے بڑھ گئے
07:29اگر میں آپ سے پوچھوں
07:31کیوں ایسا ہوا تھا
07:32آپ آرام سے کہیں گے
07:33بھئی عدب کی وجہ سے
07:34کہ اللہ کے نبی پیچھے کھڑے ہوں
07:36میں آگے نماز پڑھاؤں
07:37وہ عدب کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے
07:39اچھا جب آپ
07:40عام آدمی کو
07:41مجھ جیسے عام آدمی کو
07:43یہ پتہ چل گیا
07:43تو نبی کریم کو
07:45پھر کیوں سوال کرنے کی
07:47ضرورت پیش آئی
07:49ابو بکر آپ پیچھے کیوں ہٹے
07:50جبکہ میں نے اشارہ کر دیا تھا
07:52اس کا مطلب یہ ہے
07:53کہ نبی کریم
07:54ہم جب عام آدمی سمجھ رہے ہیں
07:56تو آپ تو
07:56اللہ تعالیٰ کے نبی ہیں
07:59اور نبی کی عقل
08:01ان کا علم پوری امت سے زیادہ ہوتا ہے
08:03نبی کریم نے سوال کیوں کیا
08:05اس کی وجہ بیان کی گئی
08:06کہ آپ یہ چاہتے تھے
08:07کہ میں سوال کروں
08:08اور صدیق اکبر
08:10اس کا اظہار کریں
08:11اور اس سے کئی مسئلے نکلیں
08:13جو میں ابھی آپ کو عرض کروں گا
08:14تو آپ نے اس لئے
08:15کوئی کوئی کوئی کوئی کوئی کوئی کرنا
08:17کوئی عدم علم کی وجہ سے نہیں تھا
08:19حکمت سے ناواقفی کی بنا پر نہیں تھا
08:21یہ نہیں ہے
08:22کہ سرکار کو معلوم نہیں تھا
08:23پتہ نہیں کیوں پیچھے ہٹ کر آگئے
08:25ایسی بات نہیں ہے
08:26سرکار سب جانتے تھے
08:27لیکن چاہتے تھے
08:28کہ صدیق اکبر
08:28اپنی زبان سے اس بات کو بیان کریں
08:31اب انہوں نے کیا بیان کیا
08:32کہ ابو قحافہ کے بیٹے کی
08:33یہ کوئی لائق نہیں تھا
08:35کہ نبی کے سامنے کھڑو کر نماز پڑھائے
08:37یعنی آپ آلہ ہیں
08:39افضل ہیں
08:39میں آپ کے مقابلے میں حکیر ہوں
08:41کمتر ہوں
08:42اس لئے میں پیچھے ہٹا
08:43اور آپ کو موقع دیا
08:44اس سے معلوم ہوا
08:45کہ صدیق اکبر یہ کہنا چاہتے تھے
08:46کہ عدب اور احترام یہ تھا
08:48کہ نبی کریم آگے ہوں
08:49میں پیچھے ہوں
08:50اور یہ عدب اور احترام کا معاملہ
08:53آپ بجا لائے نماز میں
08:55اور یاد رکھیں
08:56جب اللہ کے نبی کے سامنے
08:58کوئی عمل ہو
08:59اور اللہ کے
09:00یا کوئی بات کہی جائے
09:01اور اللہ کے نبی اس کو نہ روکیں
09:03اسے غلط قرار نہ دیں
09:05تو وہ اس عمل
09:06یا اس قول
09:07یا اس بات کے
09:07جائز ہونے کی دلیل ہوتی ہے
09:10اس کو کہتے ہیں
09:11حدیث تقریری
09:12تقریر معنی ہوتا ہے
09:14پختہ کرنا
09:16جب نبی کسی چیز کو
09:17برائی کو دیکھے نا
09:18تو اس پہ فرض ہے
09:19کہ وہ فوراں روکے گا
09:21ہم تو
09:22بعض وقت
09:23صرف نظر کر سکتے ہیں
09:24کہ ابھی نہیں
09:25بعد میں کہہ دوں گا
09:25اللہ کے نبیوں کے لئے
09:26ایسا نہیں ہو
09:27تو انہیں فوراں
09:28اصلاح کرنی ہوتی ہے
09:29لہذا اگر نبی کریم
09:30کسی بات کو سن کر
09:31خاموش رہے
09:33کسی عمل کو دیکھ کر
09:34خاموش رہے
09:34اس کو ناجائز نہ کہیں
09:36اس کو روکے نہیں
09:36تو آپ کو یہ خاموش رہنے
09:38اس بات کے دلیل ہے
09:39کہ وہ قول
09:40یا وہ عمل
09:40بلکل جائز ہے
09:42گویا کہ
09:42اس عمل کے
09:43یا قول کے
09:44جواز کو
09:44آپ اپنی خاموشی سے
09:46پختہ کر دیتے ہیں
09:47اور پختہ کرنے
09:48کو تقریر کہتے ہیں
09:49تو اس طرح کی خاموشی
09:51کو حدیث تقریری
09:52کہا جاتا ہے
09:53تو یہ گویا کہ
09:54حدیث تقریری ہو گئی
09:55کہ نبی کریم نے
09:56یہ ثابت فرما دیا
09:57کہ حالت نماز میں
09:59اللہ کے نبی کی
10:01تعظیم کرنا
10:02ان کا خیال
10:03اپنے دل میں لانا
10:04بلکہ
10:05فیزیکلی طور پر
10:07تعظیم والا
10:08عمل اختیار کرنا
10:09بلکل جائز ہے
10:11اور اس میں
10:12شرک اور
10:13گناہ کا
10:13کوئی تصور نہیں ہے
10:15لہٰذا یاد رکھیں
10:16کہ حالت نماز میں
10:17اگر نبی کریم
10:18صلی اللہ علیہ وسلم
10:19کا خیال
10:20اقدس آ جاتا ہے
10:22بلکہ کوئی
10:23جان بوجھ کر
10:23بلے آتا ہے
10:24اس سے کوئی نماز
10:25پر فرق نہیں پڑے گا
10:27جب آپ
10:27اتیاد پڑھتے ہیں
10:28السلام علیکہ
10:29ایوہن نبی
10:30کہتے ہیں
10:30تو نبی
10:31کوئی خیال آئے گا
10:31لازم بات ہے
10:32اور تعظیم
10:33کے ساتھ ہی آئے گا
10:35توہین کے ساتھ
10:36تو نہیں آسکتا
10:36یا تعظیم کے ساتھ
10:37آئے گا ہے
10:38توہین کے ساتھ
10:39اور یقین ہے
10:40کہ کسی مومن
10:40کے دل میں
10:41ماذا اللہ
10:41یا ایوہن نبی
10:42کہہ کہ
10:42توہین کا تصور
10:43تو نہیں آسکتا
10:44تعظیم
10:44کہ ہی آئے گا
10:45اب اگر کسی کے ذہن
10:46میں وصفص آئے
10:47کہ نماز میں
10:48تو اللہ کی تعظیم
10:49ہونی چاہیے
10:50اب نبی
10:51کا خیال آیا
10:51وہ بھی تعظیم
10:52کے ساتھ
10:53تو یہ شرک ہو گیا
10:53اس میں ایسا
10:55کوئی شرک نہیں ہوتا
10:55اللہ کی تعظیم
10:56بلند و بالا ہے
10:57نبی کریم
10:58صلی اللہ علیہ وسلم
10:59کی تعظیم میں
11:00اس کے مقابلے میں
11:00بڑا فرق ہے
11:01اور ورنہ
11:02کہ اگر
11:03ماباپ کا نماز میں
11:04خیال آئے تو
11:04توہین کے ساتھ آئے گا
11:05تعظیم کے ساتھ
11:06تو کیا یہ شرک ہوگا
11:08کعبت اللہ کی
11:08ہم تعظیم کریں گے
11:09کی نہیں کریں گے
11:10مسجد کی تعظیم کرتے ہیں
11:11ماباپ کی کرتے ہیں
11:13قرآن پاک کی کرتے ہیں
11:16معظم دینی
11:17کوئی بھی ہوتا ہے
11:17عالم ہیں
11:18مفتی
11:18ان کی تعظیم کرتے ہیں
11:19کی نہیں کرتے ہیں
11:20کھڑے ہو جاتے ہیں
11:21تو اگر مطلقاً
11:22تعظیم
11:23تعظیم الہی کے
11:24منافی بن کر
11:25یا مخالف بن کر
11:26شرک کو پیدا کر دیتی
11:27تو پھر کسی کی بھی
11:28تعظیم نہ کریں
11:29ماباپ کے سامنے
11:30بھی بتعمیز دے کریں
11:31قابط اللہ کے سامنے
11:32حلعبازی کریں
11:33ماذا اللہ
11:33سمہ ماذا اللہ
11:34مسجدوں میں جا کر کریں
11:35کیوں
11:36بھئے اگر ہم تعظیم کریں گے
11:37تو تعظیم الہی میں
11:37فرق آ جائے گا
11:39اب خاص نماز کے اندر دیکھئے
11:41کہ صدی کے گھر پیچھا اٹھ رہے
11:42نبی کی تعظیم
11:43یعنی نبی کا خیال آنا
11:45نمبر ایک
11:45پھر دل میں تعظیم کا پیدا ہونا
11:47پھر اس تعظیم کے لئے
11:49فیزیکلی طور پر
11:50کمار اختیار کرنا
11:51اور نبی کریم کا منع نہ فرمانا
11:53اور پھر اللہ تعالیٰ کا فوراں
11:55کو وحی نازل نہ کرنا
11:56کہ حبیب شاید آپ کی توجہ نہیں رہی
11:58یہ تو شرک مرتقب ہو گئے
11:59حالت نماز میں
12:01تو میری تعظیم ہونے چاہیے
12:02آپ کی تعظیم کر رہے ہیں
12:03کوئی وحی نازل نہیں ہوئی
12:05اس کا مطلب ہے
12:05اللہ بھی اس سے راضی ہے
12:06رسول بھی اس سے راضی ہیں
12:08کہ حالت نماز میں
12:10نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:12کا تعظیم کے ساتھ خیال آئے
12:14نماز میں کوئی فرق نہیں پڑے گا
12:16بلکہ اگر فرض کرنے
12:17کوئی ایسا معاملہ ہوتا
12:18کہ حالت نماز میں
12:20نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے
12:22تعظیمی عمل اختیار کیا جاتا
12:25تب بھی نماز کامل و اکمل رہتی
12:27جس سے کہ صدیق اکبر
12:29رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے رہی ہے
12:30امید ہے کہ اس سے آپ
12:32بہت سی باتیں سمجھیں گے
12:34اگلے حدیث کی طرف آتے ہیں
12:36دو ہزار چھ سو اکانوے نمبر
12:37حدیث پاک ہے
12:39حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:41اس کے راوی ہیں
12:43وہ کہتے ہیں
12:44کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:45سے عرض کیا گیا
12:46کہ اگر آپ
12:48عبداللہ بن عبی کے پاس
12:49تشریف لے جائیں
12:51تو اچھا ہو
12:52یہ بڑا پکا منافق تھا
12:54رئیس المنافقین
12:56تو کوئی ایسی وجہ ہوئی تھی
12:57کہ نزہ یا جھگڑا سا ہوا
12:58تو عرض کی کہ
13:00اگر آپ تشریف لے جائیں گے
13:01تو ان کے قلوب کو
13:03مائل کرنے میں آسانی ہوگی
13:04اور یہ فضا ختم ہو جائے گی
13:06لے جائے تو اچھا ہو
13:07پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:09اس کے طرف روانہ ہوئے
13:10اور دراز گوش پر سوار ہوئے
13:13دراز گوش
13:15عام الفاظ میں اس کو
13:17گدھا کہا جاتا ہے
13:18حمار بھی کہتے ہیں
13:20اردو میں دراز گوش کہتے ہیں
13:21تو یہ عدبا لکھتے ہیں
13:22تاکہ گدھے کا لفظہ
13:24اچھا سنے لکھتا
13:25تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
13:26سوار ہوئے
13:27اور مسلمان بھی
13:29آپ کے ساتھ روانہ ہوئے
13:30یہ کہتے ہیں
13:32کہ وہ شور والی زمین تھی
13:33راوی کہتے ہیں
13:34شور سے مراجس میں
13:35نمک آ جاتا ہے
13:36اوپر ویسی
13:36جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:38اس کے پاس گئے
13:39تو اس نے کہا
13:40ماذا اللہ سمہ
13:41ماذا اللہ
13:41بدتمیز تو تھا
13:42منافق تھا
13:43کہ میرے پاس سے ہڑ جائیں
13:45اللہ کی قسم
13:46آپ کے گدھے کی بدبو
13:48مجھے تکلیف دے رہی ہے
13:51یعنی اس میں
13:52سمیل آ رہی ہے مجھے
13:53پھر انہی میں سے
13:54ایک انساری نے کہا
13:55اللہ کی قسم
13:56رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
13:58کے دراز گوش کی بو
14:00تو اس سے زیادہ خوشبودار ہے
14:02پھر عبداللہ بن عبی کی قوم
14:04کے اخشص غضب میں آ گیا
14:05اس نے اس صحابی کو برا کہا
14:07پھر ہر دو طرف کے
14:09اصحاب غضب میں آ گئے
14:10اور ایک دوسرے کو
14:11درخت کی شاخوں
14:12ہاتھوں اور جوتوں سے مارنے لگے
14:15ایک لڑائی سے شروع ہو گئی
14:17پس ہمیں یہ خبر پہنچی
14:18کہ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی
14:20اور اگر ایمان والوں کی
14:21دو جماعتیں آپس میں لڑیں
14:23تو تم ان میں
14:24صلح کروا دو
14:26سورہ خجرات آیت نمبر نو
14:30اس سے بھی چند باتیں پتہ چلیں
14:31کہ ایک تو
14:32عبداللہ بن عبی
14:33یہ رئیس المنافقین تھا
14:36نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:37نے ابتدا میں
14:38جب آپ مدینہ تشریف لائے
14:39تو منافق دو طرح کے تھے
14:42بعض تو یہود تھے
14:43اور بعض مشرک تھے
14:44جب انہوں نے دیکھا
14:46کہ نبی کریم تشریف لائے ہیں
14:47اور مسلمانوں کی
14:48طاقت قوت میں
14:49اضافہ ہو رہا ہے
14:49اور انقریبی
14:51انقریبی علاقے فتح کریں گے
14:53مال غنیمت آئے گا
14:54تو ہمیں بھی
14:54اس میں سے حصہ مل جائے گا
14:55اور اگر ہم
14:56ان کے ساتھ نہیں ملتے ہیں
14:58کسی بھی طریقے سے
14:59تو پھر یہ ہمیں بھی مار دیں گے
15:00ہمیں قید کریں گے
15:01یا جیلہ وطن کر دیں گے
15:02تو ان دو گروہ میں سے
15:03بہت سارے لوگوں نے
15:05مسنوئی طور پر
15:06زبانی کلمہ پڑھ لیا
15:08نبی کریم کو نبی تسلیم کر لیا
15:10لیکن دل سے
15:11آپ کو نبی تسلیم
15:13نہیں کرتے تھے
15:14اور اللہ نے جا بجا
15:15ان کے عراض قرآن میں
15:16ظاہر فرمائے ہیں
15:17تو جو ظاہری طور پر
15:19مسلمان بنے
15:20لیکن دل میں کافر ہو
15:21اس کو
15:22منافق اعتقادی کہتے ہیں
15:24یعنی اعتقاد
15:26عقیدے کے اعتبار سے
15:27منافق
15:27منافق ہوتا ہے
15:28اس کے ظاہر باطن جدہ ہو
15:29اگر یہ اعتقاد کے اعتبار سے ہے
15:32تو
15:32منافق اعتقادی کہلاتا ہے
15:34اور یہ بدترین قسم ہے
15:36اور یہ جہنم میں
15:37سب سے نشلت طبقے کے اندر ہوں گے
15:39ان کا جو سردار تھا
15:40وہ عبداللہ بن عبید تھا
15:42شروع میں
15:43نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:44کو حکم یہی تھا
15:45کہ فیلحال
15:46چونکہ حکمت الہیہ یہ تھی
15:48مسلمانوں کی تعداد کم تھی
15:50اگر مسلمان شروع سے
15:51ان سے
15:52لڑنا شروع کر دیتے
15:54تو دشمنوں کو موقع ملتا
15:55اور وہ حملہ کرتے
15:56اندرونی بھی سادش
15:57باہر کی سادش
15:57مسائل پیدا ہوتے
15:59اس کا مطلب ہے
16:00کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے
16:01نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:03کو اللہ نے بڑے موجزات دیئے ہیں
16:04یعنی طاقت اور قوت میں
16:06کوئی کمی نہیں
16:06لیکن اس کے باوجود
16:08اختیار حکمت
16:09ظاہر کرتا ہے
16:11کہ یہ کوئی
16:11حکمت کو اختیار کرنا
16:13تدبیر کو اختیار کرنا
16:14مزدلی کی علامت
16:16نہیں ہوتی ہے
16:17اس لئے بعض لوگ
16:18کہتے ہیں
16:18ہم کیوں فلہ چیز مانے
16:19ہم تو لڑیں گے
16:20لڑنا کوئی حل نہیں ہوتا
16:22نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:24سے زیادہ شجع
16:24بہادر
16:25اور اللہ کی تعاید
16:27حاصل کرنے والا
16:28کون ہوگا
16:28اس کے باوجود آپ کا
16:30اللہ کے حکم سے
16:32ایک عرصے تک
16:33ان منافقین کو
16:34اپنے درمیان
16:35رہنے دینا
16:36جبکہ اللہ بار بار
16:37ان کے راز ظاہر کر رہا تھا
16:39یہ ظاہر کرتا ہے
16:40کہ سرکار نے
16:41ہماری تعلیم کے لیے
16:43حکمت کو اختیار کیا
16:45اب جب صحابہ نے
16:46کچھ معاملہ ہوا
16:47تو عرصیہ صلی اللہ
16:48اگر وہاں تک آپ تشریف لے جائیں
16:49تو یہ بڑی بات ہے
16:50ہم جیسے کوئی ہوتا
16:52شاید آج کے دور کا آدمی
16:53گولتا میں جاؤں وہاں پر
16:55میں جاؤں گا
16:56تمہارا دماغ خراب ہے
16:58اسے چل کر آنا چاہیے
16:59ہمارے پاس ذرا پیسہ آ جاتا ہے
17:01تو ہمارے دماغ خراب ہو جاتے ہیں
17:04مادرت کے ساتھ
17:05ہی لفظ میں کہہ رہا ہوں
17:05ہم اپنے
17:07جس کو ستہ ہی لفظ کہتے ہیں
17:08اوقات بھول جاتے ہیں
17:10اپنا ماضی بھول جاتے ہیں
17:11ہم غریب رشتہ داروں سے
17:13ملنا چھوڑ دیتے ہیں
17:14ان کی شادی بیعہ میں جانا چھوڑ دیتے ہیں
17:16اگر کوئی عورت دولت پا جائے
17:20اور کوئی خاندان والی کہہ دے
17:22آپ وہاں سے گزرے تو
17:23میرے پاس ہی بھی ہو کے چلے جائیے گا
17:24تو ہم کہتے ہیں
17:25بہنیں کہتے ہیں
17:26میں جاؤں گی اس کے پاس
17:27ہے
17:28اس پہ ذرا توجہ کرنی چاہیے
17:30انشاءاللہ
17:31اس حدیث کو مکمل کریں گے
17:32نیکس بغرام میں
17:33وآخر دعوانا
17:34ان الحمدللہ رب العالمین
Comments

Recommended