Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:27بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30انہوں بیان کرتے ہیں کہ انسار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی
00:34کہ ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان
00:37یعنی جو مہاجر بھائی آئے ہیں ان کے درمیان
00:40خجور کے درخت تقسیم کر دیجئے
00:43رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں
00:46پھر انسار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ ہمارے ساتھ باغات کی مشقت میں ہاتھ بٹائیں
00:52ہم آپ لوگوں کو پھلوں میں شریک کریں گے
00:55تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اس کو سنا اور اس پر عمل کر لیا
01:00معاملہ یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کر کے
01:04اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے
01:07بعض شام کی طرف گئے اور پھر وہاں سے
01:11حفشہ کی طرف گئے اور پھر وہاں سے مدینہ آئے
01:14زوہ ہجرتین کہلاتے ہیں
01:16بعض سیدھے یہاں پر آئے
01:17کیونکہ مکہ کے اندر حالات انتہائی نازک تھے
01:20اور وہاں آزادانہ نہ تبلیغ ہو سکری تھی
01:22اور نہ کوئی آزادانہ عبادت کر سکتا تھا
01:26تو ہجرت ہوئی
01:27جب یہاں پہنچے تو لازم سی بات ہے
01:29کہ جو مکہ سے آئے تھے
01:30بہت سارے صحابہ بڑے بزنسمن تھے
01:32وہاں مال و مطا تھا
01:34باغات تھے
01:35مویشی تھے
01:36اور گھر بار تھا
01:38پورا برادری تھی
01:39اتنا بڑا سیٹ اپ چھوڑ کر آنا
01:41اور ایک نئی جگہ پر بالکل خالی ہاتھ آ کر
01:43پھر وہاں پر سیٹ ہونا
01:45بہت مشکل کام ہے
01:46آپ جانتے ہیں کہ اس دور میں
01:47جتنا مشکل ہے
01:49اس دور میں بھی اتنا ہی مشکل تھا
01:50تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
01:53نے ایک بہترین حکمت عملی اختیار کی
01:55کہ جو مدینہ کے صحابہ تھے
01:57جن کو انصار کہا جاتا ہے
01:58ان سے کہا
01:59کہ جو ایک مہاجر بھائی آئے
02:02ہر انصاری ایک ایک مہاجر بھائی
02:04کو اپنا دینی بھائی بنا لے
02:06اس کو معاخات کہتے ہیں
02:07کہ آپس میں بھائی چارہ قائم کرنا
02:10اور پھر یہ شرط بھی لگائی
02:12کہ اپنا آدھا مال اس کو دے دے
02:14لیکن انصار کے عظمت پر قربان جائیں
02:17کہ ان کے ماتھے پر شکن بھی نہیں آئی
02:19کہ ایک تو ہم نے جگہ دی
02:21اور آدھا مال دے دیں
02:22یوں سمجھ لے
02:23اگر آپ کے بعد دو کروڑ ہیں
02:24اور آپ کو کہا جائے
02:25ایک کروڑ اپنے بھائی کو دے دو
02:27تو کس قدر مشکل بات ہے
02:28لیکن وہ بالکل اس پر راضی ہوئے
02:30اور ذرہ برابر ان کے پیشانیوں پر بلنا آیا
02:33اس لئے رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
02:35نے ان کو بڑی عزت دی
02:37فرمایا انصار سے
02:39صرف مومن محبت کرے گا
02:41اور ان سے صرف منافق بغض رکھے گا
02:44اتنا سرکار نے انصار کو عزت سے نوازا
02:47تو اب ہوا یہ کہ انہوں نے
02:50چونکہ سرکار کا حکم تھا
02:52کہ آدھا آدھا دے دو
02:53تو انہوں نے آکے
02:54اس پسمندر میں اب یہ بات ہے
02:56کہ یا رسول اللہ
02:56ہم اپنے باغات ہیں
02:58ان کے درخت
02:58ہم اپنے بھائیوں
02:59محاجر بھائیوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں
03:01تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
03:03نے اس سے منع فرمایا
03:04اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہے
03:06کہ یہ
03:06کہ محاجر جو تھے
03:08وہ
03:08کھیتی باڑی میں اتنے ماہر نہیں تھے
03:10وہ تھے بزنس کے اندر ماہر
03:12یہ درخت اگر ان کو دلوا دیا جاتے
03:14تو پھر وہ اتنا زیادہ
03:15ان کی دیکھ بھال نہ کر سکتے
03:17اور درخت ضائع ہو سکتے تھے
03:18اس لئے رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
03:20نے فرمایا کہ نہیں
03:21درخت ان کے حوالے نہ کریں آپ
03:23تو اور بھی وجوہات ہیں
03:24لیکن ایک بڑی وجہ یہ ہے
03:26تو اس پر پھر انصار صحابہ نے کا
03:28پھر ایسا کر لیتے ہیں
03:29کہ یہ ہمارے ساتھ کام کریں
03:31کیونکہ اکیلے کام کریں گے
03:32ان کو دے دیں گے
03:33تو ٹھیک ہے وہ تو
03:34تجربہ نہیں ہے
03:35درخت ضائع ہو سکتے ہیں
03:36ہمارے ماتحات ہو کر کام کر لیں
03:38تو ہم ان کو عجرت دے دیں گے
03:40اس کی
03:40اس پر پھر وہ
03:41نبی کریم نے بھی بنا نہیں فرمایا
03:43اور صحابہ اکرام اس پر راضی ہو گیا
03:45تو اس کو مزارعت بھی کہتے ہیں
03:47کہ مزارعت پر زمین دے دینا
03:49اس طرح ہوتا ہے
03:50بعض اوقات کے طریقے
03:51وغیرہ سمجھا دیا
03:51اتنا پانی دینا
03:52یہ کرنا وہ کرنا ہے
03:53آپ یہ مشقت کریں
03:55جب پھل وغیرہ آئیں گے
03:56تو ہم بطور عجرت
03:57وہ پھل آپ کو دے دیں گے
03:59تو اس طریقے سے معاملہ تیہ ہوا
04:01تو آج بھی ایسا ہوتا ہے
04:03کہ ہم مزارعہ رکھ لیتے ہیں
04:05کچھ آپ نے سنا ہوگا
04:06زمین پہ وہ کام کرتے ہیں
04:08بیج ڈالتے ہیں
04:09فصل کاٹتے ہیں
04:10اس کے بعد جب پیداوار آتی ہے
04:12تو ان کا حصہ نکال کر
04:13ان کو دے دیا جاتا ہے
04:14جو تیہ ہوتا ہے
04:14اور باقی مالک کا ہوتا ہے
04:16تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:18نے بڑی حکمت کے ساتھ
04:19ان چیزوں کو اختیار کیا
04:20اس سے سوچتے ہیں چاہئے
04:22اور یہ ہمیشہ یاد رکھئے
04:24ایک ہمارا جملہ گر آپ ذہن میں رکھیں
04:26کہ ہمیشہ آپ آج سے
04:27پانچ سال
04:28دس سال
04:29پندرہ
04:30یا بیس سال کے بارے میں سوچیں
04:32کیا کچھ ہونے والا ہے
04:33یعنی میرے گھر میں کیا کچھ ہونے والا ہے
04:35میرے ساتھ کیا کچھ ہونے والا ہے
04:37اور کوشش کریں
04:38کہ اس کی تیاری پہلے سے ہی کرنے
04:41مثال کے طور پر اگر ایک طالب علم ہے
04:43وہ سوچیں
04:43کہ میں پڑھنے کے بعد
04:44میں کیا کروں گا آج سے
04:45دس پندرہ سال کے بعد
04:46یہ ایک بات ہے
04:47کہ آپ پڑھیں گے
04:48پھر فارغ ہوں گے
04:49پھر آپ کو ایک جوب کرنی ہے
04:52اپنی فیملی کرنی ہے
04:53آپ کو شادی کرنی ہے
04:54آپ کے بچے ہوں گے
04:55پھر بچوں کا خرچہ اٹھانا ہوگا
04:57تو آپ ابھی سے یہ سوچیں
04:58کہ کیسے ہوگا یہ
04:59تو شروع میں نقص رہتا ہے
05:01یا کسی اچھے مشیر سے مشاورت کر لیں
05:03پھر آدمی ایک روڈ میپ بنا لیتا ہے
05:06ضروری نہیں کہ جیسا آپ نے سوچا
05:07بیانی ہوگا
05:08لیکن جو کچھ سوچا
05:09وہ مدد آپ کو بہت دے گا
05:11اس کے برخص جو پڑھ رہے ہیں
05:14پھر کچھ نئے آئے گا
05:16پھر سوچ لیں گے اس پر
05:17جب وہ فارغ ہوتے ہیں
05:18اب جوب کی ٹینشن
05:19کیونکہ پہلے سے کوئی تیاری نہیں
05:21پھر اس کے بعد شادی
05:22اس میں پھر وہ
05:24نہیں سنبھال سکتے
05:25کہ زوجہ کو کیسے لے کے چلنا ہے
05:26بچوں کو کیسے لے کے چلنا ہے
05:28سروائف کیسے کرنا ہے
05:29نقصان ہوتا ہے
05:31پہلے سے سوچ لیں
05:32یہ تو ایک عام آدمی کے بارے میں ہے
05:34کہ نہ سوچے تو نقصان کا شکار ہوگا
05:35اب اگر کسی نے کوئی تنظیم چلانی ہے
05:37کوئی ادارہ چلانا ہے
05:38کوئی آفس چلانا ہے
05:39کوئی بزنس چلانا ہے
05:40تو اسے ان تمام چیزوں پر نظر رکھنے چاہیے
05:43ایک روڈ میپ تو پہلے تیار کر لیں
05:45آج سے پانچ دس سال بعد تک کا
05:46اور ایک ایک حالات کے تقاضے کے تحت
05:49بروقت بھی انسان کو فیصلے کرنے ہوتے ہیں
05:51لیکن جو پہلے سے سوچتا ہے
05:52وہ بہت فائدہ مند رہتا ہے
05:54کیونکہ وہ تیاری کر چکا ہوتا ہے
06:05نئے نئے معاملات کا سامنا
06:07وہ کرتا رہتا ہے
06:08اور بروقت صحیح فیصلہ کرنا
06:10کوئی اچھا مشیر مل جانا
06:11بہت مشکل ہوتا
06:12اور کتنے لوگوں کو میں نے ایسی دیکھا ہے
06:14کہ وہ شدید قسم کے نقصان کا شکار ہو جاتے ہیں
06:17تو جب رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
06:20نے ہجرت فرمائی
06:21تو یقیناً پھر آپ نے سوچا ہوگا
06:22کہ جب میں وہاں پہنچوں گا
06:23جتنے میرے کہنے پر یہاں پر آئیں گے
06:26ان کو کیسے ایڈجسٹ کرنا ہے
06:28تو ساری فیوچر پلاننگ پہلے ہے
06:30وہاں پہنچے
06:31اور فوراً اس پلاننگ کو انصار کے سامنے رکھا
06:33اور سب معاملہ بالکل ٹھیک ہو گیا
06:35اگر ایسا نہ کرتے
06:37سرکار مہاجر وہاں آ جاتے
06:38فوراً تو کوئی بزنس نہیں کر سکتا
06:40مالوں مطا تھا نہیں
06:42گھر بار چھوڑنے کو بڑی حمت کے ساتھ انہوں نے چھوڑا
06:45سرکار کے قدموں کے اوپر
06:47سب کچھ اپنا قربان کر لیا
06:49لیکن فطری تقاضے تو ختم نہیں کر سکتے
06:51صدمہ تو تھا
06:52کہ ہمارا شہر چھوڑ گیا ہے
06:54آبائی گھر
06:55پہ چاچا ماما تایا برادری
06:57پھر بزنس چل رہے ہیں
06:59تو یہ صدمہ
07:00اب یہاں پر آکے پتہ چلتا
07:02کہ کوئی بھی مدد کر نکلے تیار نہیں ہے
07:04تو پھر کھائیں گے کہاں سے
07:05پیں گے کہاں سے
07:06رہیں گے کہاں پر
07:07یہ ساری فیوچر پلاننگ تھی
07:09جو میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کر چکے تھے
07:11اگر نہ کرتے
07:12کس قدر منفی اثرات مرتب ہوتے
07:14تو اس لیے سوچ سمجھ کے کرنا چاہیے
07:17اور ہر لیڈر کو جو لیڈر بننا چاہتا ہے
07:19خاص طور پر اس کو اس طرح کی فیوچر پلاننگ میں
07:22ماہر ہونا انتہائی ضروری ہے
07:25آگے اشارت فرمایا کہ
07:26بابو شروطی فی المہری
07:28اندہ اقدت النکاح
07:30عقد نکاح کے وقت
07:32یعنی نکاح کے معاملے کے وقت
07:34ماہر میں شرطیں لگانا
07:37دو ہزار سات سو اکیس نمبر حدیث پاک ہے
07:40اور حضرت یزید بن ابی حبیب نے حدیث بیان کی ہے
07:44اور وہ
07:46ابو الخیر سے اور وہ حضرت عقبہ بن آمیر سے روایت کرتے ہیں
07:50انہوں نے بیان کیا کہ
07:52رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
07:54کہ جو شرط سب سے زیادہ پوری کی جانے کی مستحق ہے
07:58وہ وہ ہے
08:00جس کے سبب سے تم فروج کو حلال کرتے ہو
08:04فروج مطلب عورت سے تعلق
08:06ویسے تو اس کا دوسرا مفہوم ہے
08:08لیکن ہماری بہنیں بچییں بھی سن رہی ہوتی ہیں
08:10تو اس لیے
08:11محتاط یہ ہے کہ سرکار نے فرمایا
08:13کہ ایک عورت تمہارے اوپر حلال ہو جاتی ہے
08:15نکاح کے بعد
08:16تو پھر تم جو شرط اس میں لگاتی ہو
08:18کہ جس شرط کی بنیاد پر
08:20اس نے اپنے آپ کو تمہارے حوالے کیا ہے
08:22اس شرط کو پورا کرو
08:23تو امام بخاری نے تو جس کا عنوان قائم کیا
08:26اس سے مراد ہے شرط کیا
08:27مہر
08:34اب اس کا حوالہ کیا جانا
08:36بلکل بے قدر نہ رہے
08:37تو کوئی نہ کوئی تو اس کے لیے
08:39اس کے شرف کے اظہار کے لیے چیز ہونی چاہیے
08:41یہ نہیں کہ ماد اللہ مہر کے بدلے میں
08:43بچی کو بیچا جا رہا ہوتا ہے
08:45اظہار شرف
08:46اگر کوئی کہے کہ بھئی یہ چیز
08:48یہ میں آپ کو ایک شخص
08:49یہ غلام مفت میں دے رہا ہوں
08:51تو یہ ٹھیک ہے آپ نے حبا کر دی
08:52اپنے غلام کو
08:53لیکن غلام کا کیا شرف ظاہر ہوا
08:55اس کے جواب میں سامنے والے نے کہا
08:57کہ بھئی آپ نے ایک انسان کو میرے حوالے کیا ہے
09:00میں یہ آپ کو گفت میں دیتا ہوں
09:02اس نے چند کلو سونا دے دیا فرض کر لے
09:04تو غلام کی حائب بڑھے گی کی نہیں بڑھے گی
09:06اس کے مطلب اس کے اظہار شرف کا ایک بدلہ ہوا
09:09تو یہاں تو یہ خرید و فروت کا کوئی معاملہ نہیں ہے
09:12یا توفیہ کا معاملہ نہیں ہے
09:14شریعت نہیں آپ پر مہر رکھا ہے
09:15کہ ایک آدمی اپنی بچی کو کسی کے حوالے کرتا ہے
09:18تو اس کا حوالہ کیا جانا
09:20بے قدر نہ رہے
09:21کوئی بچی کا بھی شرف ظاہر ہو
09:23اس کے لئے پھر مہر ہوتا ہے
09:25تو یہ مہر کی شرط
09:26اب یہ تو ہے ایک مہر کی شرط
09:28لیکن اس حدیث سے استدلال یہ بھی کیا گیا ہے
09:31کہ اگر کوئی اور شرطیں لگائے
09:34نسال کے طور پر
09:36بعض وقت بچی والے کہتے ہیں
09:37کہ ہم یہ شرط لگا رہے ہیں
09:39ہم اس شرط پر نکاح کریں گے
09:40کہ یہ مکان بچی کے حوالے کیا جا
09:42مہر کے علاوہ
09:43اسی طریقے سے
09:45یہ لڑکی کو کہیں باہر لے کر نہیں جائے گا
09:48وہاں سٹل نہیں ہوگا
09:49بس یہی پر رہے گا
09:50شہر کے اندر
09:51یا اپنے ملک کے اندر رہے گا
09:53اس طرح کی شرطیں
09:55تو امام شافی وغیرہ تو فرماتے ہیں
09:57کہ ایسی شرطیں لگا بھی سکتے ہیں
09:58ان کو پورا کرنا لازم ہے
10:00لیکن احناف کہتے ہیں
10:01کہ یہ شرطیں جائز نہیں ہوتی ہیں
10:03نکاح کے اندر
10:04اور اگر لگا بھی لیں
10:05تو شہر کو پورا کرنا لازم نہیں ہوتا
10:09لیکن یہ بات میں
10:10اس لئے نہیں عرض کر رہا ہوں
10:11میں ایک مذہب آپ کو بیان کر رہا ہوں
10:12فقہ حنفی
10:13کہ اس سے کوئی نتیجہ نکالے
10:14کہ چلو جھوڑ بول کے
10:16شرطیں مقرر کر کے
10:17لڑکی کو قویلے لے لو
10:18اور پھر کہو جی
10:19فقہ حنفی میں تو یہ ہے
10:20کہ شرطیں پوری کرنا لازم نہیں ہے
10:23یہ آپ دھوکہ دے رہے ہیں
10:24یہ غلط چیز ہوتی ہے
10:26یہ دھوکہ دائی ہے
10:26فریب ہے
10:27فراڈ ہے
10:28ایسا نہیں کرنا چاہیے
10:29لیکن یہ ہے
10:30کہ بعض وقت شرائط
10:31ایسی لڑکی والے لگا دیتے ہیں
10:33جو عجیب و غریب قسم کی ہوتی ہیں
10:34اب اگر لڑکے نے
10:35اس شرطوں کے اوپر نکاح کر لیا ہے
10:38تو کیا لڑکے پر
10:39وہ شرطیں پوری کرنا لازم ہیں
10:40تو فقہ حنفی یہ کہتا ہے
10:41کہ لازم نہیں ہے
10:43یہ ذہن میں رکھیں
10:45حضرت امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمیزی
10:48امام ترمیزی نے اس کو کہتے ہیں
10:52اس میں وہ یہ لکھتے ہیں
10:54کہ حضرت اقبہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے
10:56اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
10:59اصحاب میں سے بعض اہل علم کا
11:01اس پر عمل ہے
11:03انہوں میں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی ہے
11:06انہوں نے کہا
11:07کہ جب کوئی مرد کسی عورت سے شادی کرے
11:09اور اس عورت کے لئے شرط لگائے
11:11کہ وہ اس عورت کو
11:13اس کے شہر سے باہر نہیں نکالے گا
11:15تو پھر مرد کے لئے
11:17اس عورت کو شہر سے باہر نکالنا
11:19جائز نہیں ہے
11:21امام تلیم نے فرماتے ہیں
11:23اور بعض اہل علم کا بھی یہی قول ہے
11:25جیسے امام شافعی امام احمد
11:27اور امام اسحاق وغیرہ
11:29اسی مذہب پر ہیں
11:30اور حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے
11:34کہ انہوں نے فرمایا
11:35کہ اللہ کی شرط اس عورت کی شرط کے اوپر مقدم ہے
11:39یعنی آپ اس کے قائل تھے
11:41کہ بھی عورت کی شرط نہیں
11:43جو مہر وغیرہ ہے وہ مقرر ہوگا
11:45گویا کہ حضرت علی کے نزدیک
11:47اس عورت کے شہر کے لیے
11:49اس عورت کو شہر سے باہر لے جانا
11:52جائز ہے
11:53چاہے اس عورت نے شرط رکھی ہو
11:55کہ وہ اس کو شہر سے باہر لے کر نہیں جائے گا
11:58اب دیکھیں عمر فاروق حدیث کے مطابق
12:00عمل کر رہے ہیں
12:01اس کے ظاہر کے مطابق
12:02لیکن حضرت علی کررم اللہ و جہہو الكریم
12:05یہ کہا کرتے تھے
12:06کہ اللہ نے جب ایک مرد کو حاکم بنایا
12:09اس کو اختیار دیا ہے
12:10تو پھر مرد کا حکم چلے گا
12:12اس طرح کی شرط سے مرد اپنے آپ کو بون نہیں کرے گا
12:16اور کہتے ہیں
12:17بعض اہل علم کا بھی یہی مذہب ہے
12:19اور یہی سفیان سوری
12:21اور بعض فقہائے
12:22کوفہ کا قول ہے
12:23امام ترمیزی کی عادت ہے
12:25کہ امام آزم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:27کا نام کبھی نہیں لکھتے
12:28اکثر بس ایسی کہتے ہیں
12:30کوفہ کے لوگوں نے یہ کہا
12:32تو امام آزم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:35بھی اسی کے قائن ہیں
12:37تو بزرگان دین نے فرمایا ہے
12:39کہ خلاصہ یہ کہ مہر کو ادا کرنا
12:41تو بالاتفاق سب کے نزدیک واجب ہے
12:43یعنی شرط کو تو پورا کرنا لازم ہی ہوگا
12:45اور مہر کے علاوہ نکاح میں
12:47جو دیگر شرائط رکھی گئی ہیں
12:49ان کو پورا کرنے میں اختلاف ہے
12:51امام شافع اور امام احمد کے نزدیک
12:54ان کا پورا کرنا لازم
12:55اور فقہائے احناف کے نزدیک
12:58ان کا پورا کرنا لازم نہیں ہے
13:00تو نفس مسئلہ آپ سمجھ گے ہوں گے
13:02تو میں گزارش یہ کرتا ہوں
13:04کہ یہ شرطے وغیرہ نکاح کے اندر
13:06اس طرح کی سخت سخت لگا دینا
13:08کہ سامنے والا اس کو پورا ہی نہیں کر سکتا
13:10یہ عمومی طور پر پھر پوری نہیں ہوتی ہیں
13:13اور آگے چل کے لڑائی جھگڑے فتنہ فساد ہوتے ہیں
13:16اس لئے ہمارا مشورہ یہ ہے
13:17کہ مہر کے شرط جو حیو شریعت نے رکھی اس کو رکھیں
13:20اور باقی معاملات کو
13:22اس طرح نہ کریں
13:23کہ نکاح ہوتے وقت ہی
13:26دلوں میں تلخیاں پیدا ہو جائیں
13:28اور کینے بغز بیٹھ جائیں
13:30میں نے ایسے سا دیکھا ہے
13:31کہ جھگڑے کی حد تک پہنچ جاتے ہیں
13:33بھائی آپ ملاب کا معاملہ کر رہے ہیں
13:36معافل ملاب کی ہے
13:37کہ ایک اجنبی مرد ایک اجنبی عورت کے لئے حلال ہو رہا ہے
13:40اور اجنبی عورت اجنبی مرد کے لئے حلال ہو رہی ہے
13:43اور آپ ملنے کے بجائے جھگڑے کی باتیں کر رہے ہیں
13:48تو نہ دولہ بول سکتا ہے
13:49اس وقت نہ دولن بول سکتی ہے
13:50یہ گھر کے بڑے آ کر
13:51بعض وقت اتنا معاملہ خراب کر دیتے ہیں
13:53ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرنا
13:56ٹانٹنگ کرنا
13:56آپ اندازہ کریں
13:58یعنی ایک شادی کے اندر
13:59مہر تھا پچاس ہزار
14:00کہا کہ نہیں ہم تو تین لاکھ پہ کریں گے
14:02ورنہ نہیں کریں گے
14:02لڑکی والے این وقت کے اوپر
14:04کہاں پچاس ہزار
14:06کہاں تین لاکھ
14:07اب اگر لڑکی والے کہتے ہیں
14:09کہ نہیں دینا ہم نے برات واپس جاتی
14:11اور فتنہ فساد ہوتا
14:13کیا فائدہ
14:13اس طرح کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانا
14:16اور اس طرح کی شرطیں لگانا
14:18اس سے نکاح بنتے نہیں
14:19اس سے نکاح چلتے نہیں ہیں
14:21رشتے بنتے نہیں ہیں
14:22بلکہ میں تلخیاں پیدا ہوتی ہوں
14:23ٹوٹنے کے زیادہ قریب آ جاتے ہیں
14:25اس لئے میری مودبانہ گزارش ہے
14:27گھر کے بڑوں سے
14:28کہ آپ بڑے رہیں
14:28چھوٹی والی بات نہ کریں
14:30رشتے کبھی پیسے سے
14:32اور ان شرائط سے آپ نہیں جوڑو سکتے
14:33یاد رکھیں
14:34رشتے پیار سے
14:35محبت سے
14:36تربیت سے
14:37شریعت سکھانے سے
14:38ایک دوسرے کا عدب و احترام کرنے سے
14:40اللہ کا حکم ماننے سے چلتے ہیں
14:42اس لئے کو فوقت دینی چاہئے
14:45آگے فرمایا کہ
14:46بابو شروطی فی المزارعاتی
14:48مزارعات یعنی کھیتی باڑی میں
14:49شرائط کا بیان
14:51دو ہزار سات سو بائیس نمبر حدیث پاک ہے
14:55اور حضرت رافع بن خدیج بیان کرتے ہیں
14:59کہ ہم میں سے اکثر انصار
15:01کھیتی باڑی کرتے تھے
15:03چنانچہ ہم زمین کرائے پر دیتے تھے
15:05تو بعض وقت زمین کا یہ حصہ
15:08یعنی اشارہ کیا
15:09کہ یہ حصہ اناج اگاتا
15:10اور وہ حصہ اناج نہ اگاتا
15:13تو ہم کو اس سے منع کر دیا گیا
15:15اور چاندی یعنی دراہم کے عوض
15:18کرائے سے منع نہیں کیا گیا
15:21تو یہ پہلے بھی حدیث ہو چکی ہے
15:23کہ زمین کو کرائے پر دینا
15:26اس طرح کہ اس کی پیداوار
15:27بطور عجرت دے دی جائے گی
15:29یہ منع نہیں ہوتا
15:31لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
15:33بعض صورتوں میں منع کیا
15:34وہ اس وجہ سے
15:35کہ بعض لوگ اپنی زمین
15:37کسی کو دیتے تھے
15:38کہ تو بھی اس میں کھیتی باڑی کرو
15:40اور اس کو پتا تھا
15:41کہ یہاں اس طرف کا حصہ ذرا زرخیز ہے
15:44اور ادھر اتنی اچھی کاشت نہیں ہوتی
15:46جیسے پانی وہاں تک صحیح نہیں پہنچتا
15:48یا مٹی وہاں کی صحیح نہیں ہے
15:49تو وہ تیعے کرتے تھے
15:51کہ بھئی آپ کھیتی باڑی کریں
15:52اور جب اجرت ہوگی
15:54تو وہ اس والی زمین میں
15:55جو اتنے پیداوار ہوگی
15:56اس کا اتنا حصہ آپ کا
15:58آپ جو بچارہ محنت کرتا تھا
16:00اس کو بعد میں پتا چلتا
16:01کہ یہاں تو پیداواری بہت کم ہوئی ہے
16:03اس میں چونکہ اس طرح دھوکہ ہوتا تھا
16:05ایک آدمی کے محنت ضائع ہوتی تھی
16:07ایک آدمی سخت محنت کے باورد
16:09اجرت بہت تھوڑی سی لیتا تھا
16:11گھر چلنا مشکل ہوتا
16:12اس کو نبی کریم نے منع فرمایا
16:15تو اس طرح کہ چونکہ اس زمانے میں
16:17بعض جگہ ہو رہا تھا
16:17تو سرکار نے منع کیا
16:19بعد میں خود ہم نے حدیثیں بیان کی تھی
16:22پیچھے ہو چکی ہے
16:23خطاب المساقات میں غالباً
16:25کہ پھر سرکار نے اجازت دی
16:26تو پھر اس کا متبادل کیا کریں
16:28تو پھر بہتر یہ ہے
16:29کہ پیسوں کے ذریعے
16:30کہ بھئی آپ یہ خدمت کریں
16:31اتنی چاندی آپ کو اتنی دراہیم دے دیں گے
16:34تو آج کل یہی دو طریقے چل رہے ہیں
16:36کہ یا تو زمین کی پیداوار سے ہی
16:38عزرت مقرر کی جاتی ہے
16:40جیسے مثلا گندم ہے
16:42کہ بھئی آپ یہ گندم مگائیں
16:44اور اس کی حفاظت کریں
16:45کٹیں
16:46اسی میں سے ہم اتنے من گندم آپ کو دے دیں گے
16:49ایک یہ طریقہ چل رہا ہے
16:50اور ایک ہوتا ہے
16:51کہ گندم بالکل نہیں دیں گے
16:52یہ جتنے کھیت ہیں
16:53اس کا حساب کر لو
16:54آخر میں آپ کو
16:55اتنے ہزار روپے دے دیں گے
16:57اس میں نوٹ پیسے وغیرہ تیہ کرتے ہیں
17:00تو پھر یہ دونوں طریقے آج کل جائز ہیں
17:02یہ وہی دھوکے والا اگر معاملہ کیا
17:05کہ بھئی یہ
17:07سولہ اکڑ ہے
17:07لیکن فلا دو اکڑ میں سے
17:10آپ کو پیداوار میں سے حصہ دیں گے
17:12جتنے بھی ہوگا اس کو چوتھا حصہ
17:13اب وہاں بہت ہی کم ہے
17:15تو یہ تو آپ ایک آدمی کے ساتھ
17:17سخت نائنصافی کر رہے ہیں
17:18اور ظلم ہے
17:19یہ اب بھی منع ہوگا
17:20تو انشاءاللہ
17:21اگلے حدیث نیکس پرگرام میں کریں گے
17:23جو کچھ آپ نے سنا
17:25اللہ تعالیٰ آپ کو
17:26اور خود مجھے بھی
17:26اس پر عمل پر رہونے کی توفیق تفرمائے
17:28آمین
17:29وآخر دعوانا
17:30ان الحمدللہ رب العالمين
Comments