Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00Surah Al-Fatiha
00:30نے روک دیا
00:30تو ایک معاہدہ ہوا
00:32جس کو سلائے ہدیبیہ کہتے ہیں
00:33اور حضرت علی رضی اللہ عنہ
00:35کو مکتوب لکھنے کی ذمہ داری دی گئی
00:38اور اس میں لکھا کہ یہ
00:39محمد رسول اللہ کی طرف سے
00:42تو کفار نے اعتراض کیا
00:43کہ اگر ہم آپ کو اللہ کا رسول مان لیتے
00:45تو جنگی کی ہوتی
00:46آپ اس لفظ کو ختم کریں
00:48سرکار نے حضرت علی سے فرمایا
00:50کہ علی اس کو مٹا دو
00:53حضرت علی نے عرض کی
00:54خدا کی قسم میں ایسا نہیں کروں گا
00:57سوال یہ پیدا ہوتا ہے جب اللہ کے نبی نے حکم دیا
00:59تو حضرت علی نے کیا حکم کی مخالفت فرمائی
01:02تو یہ سمجھ لیں اچھی طریقے سے
01:04کہ دو چیزیں ہوتی ہیں
01:05ایک ہوتا ہے حکم
01:07اور ایک ہوتا ہے مشورہ
01:10حکم یہ ہوتا ہے
01:11سمجھ لیجئے کہ
01:12اگر آپ سمجھتے ہیں کہ سامنے والے نے
01:14مجھے کچھ کہا ہے بڑھے ہیں جیسے کچھ کہا ہے
01:16اگر میں نہیں مانوں گا
01:18تو وہ ناراض ہوں گے
01:19کوئی سزا جاری کریں گے
01:22اور
01:25مطلب میرا مقام و مرتبہ
01:26ان کی نگاہوں میں گھڑ جائے گا
01:28سمجھ لیجئے یہ حکم ہے
01:29جیسے آپ کی والدہ نے کوئی بات کہی
01:31اور آپ سمجھتے ہیں اگر میں نہیں مانوں گا
01:33امی ناراض ہو جائیں گی
01:34رولی رویہ ہو جائے گا
01:36بددعائیں دینے لگیں گی
01:37سمجھ لیجئے وہ بڑا سخت مسئلہ ہے
01:39تو یہ حکم کا درجہ ہوگا
01:40اور آپ اگر سمجھتے ہیں
01:42کہ سامنے والے نے کچھ کہا
01:43میں اس کی بات کو رد کر دوں
01:44پھر بھی وہ کوئی ناراض نہیں ہوں گے
01:47اور
01:47مطلب کوئی
01:49دلازاری بھی نہیں ہوگی
01:50اس کو مشورہ کہتے ہیں
01:52جیسے بعض وقت
01:53ماں عمومی طور پر مشورے دیتی ہیں
01:55گھر سے باہر نکلتے ہیں
01:56بیٹا تیز نہیں چلانا گاڑی
01:57جلدی آ جانا
01:59سیدھے گھر آنا واپس
02:00وہ کہتے ہیں ہاں
02:01ٹھیک ہے بچے کہتے ہیں ہاں صحیح ہے
02:02یہ مشورے ہوتے ہیں
02:04اگر اس کے خلاب بھی
02:05کبھی کبھی بار بچے کہہ دیں
02:14یاد رکھیں کہ
02:16حکم کے خلاب جانا حرام ہوتا ہے
02:18اور وہ بھی نبی کا حکم ہو
02:19لیکن مشورے کے خلاب جانے میں
02:21کوئی مسئلہ نہیں ہوتا
02:22اور یہ پتہ کب چلتا ہے
02:24یا تو سامنے والا
02:25آپ کی مزاج کو سمجھتا تھا
02:27نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
02:28کی جیسے معلی علی
02:29کرم اللہ وجہہ الكریم
02:31انتہائی مقرب تھے
02:33تو آپ سمجھ گئے کہ
02:34سرکار یہ حکم نہیں فرما رہے
02:35ایک مشورتاں کہہ رہے ہیں
02:37اس کے منع فرما دیا
02:38اور اس کا معال اور نتیجہ بھی
02:40یہ نکلا کہ
02:40سرکار ناراض نہیں ہوئے
02:41آپ نے خود اپنے ہاتھ سے مٹا دیا
02:44اور ایک یہ ہوتا ہے
02:45کہ سامنے والا
02:46اتنا شناسہ نہیں ہوتا
02:47تو پھر ریزلٹ سے ہی پتہ چلتا ہے
02:49کہ آپ نہیں مانتے
02:51تو وہ ناراض ہو جاتا ہے
02:52اور نہیں مانتے
02:53کبھی ناراض نہیں ہوتا
02:54تو پھر آپ نتیجہ نکال سکتے ہیں
02:56کہ اس میں ناراض نہیں ہوئے
02:57تو یہ مشورہ تھا
02:58اس وقت میں ناراض ہو گئے
03:00یہ حکم تھا
03:07صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کی
03:09آزاد کردہ باندی تھی
03:11اور جب لونڈی آزاد ہوتی ہے
03:13اگر وہ شادی شدہ ہو
03:14تو اس کو اختیار ہوتا ہے
03:15کہ شوہر کے ساتھ رہے یا نہ رہے
03:17تو نبی کریم نے ان کو اختیار دیا
03:19انہوں نے کہا
03:19میں شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی
03:21ان کے شوہر کا نام مغیس تھا
03:23وہ بڑی محبت کرتے تھے
03:24تو وہ بہت زدہ ان کے لئے روتے تھے
03:26سرکار حیرت زدہ ہوتے تھے
03:28اس محبت کو دیکھ کر
03:29تو ایک دن آپ نے بریرہ سے کہا
03:31کہ تم اس کو اختیار کر لو
03:34اب غور سے دیکھیں
03:35انہوں نے
03:36عرصی رضی اللہ
03:36آپ حکم دے رہے ہیں مجھے
03:38یا ایک مشورہ ہے
03:40سرکار نے فرمایا
03:41کہ حکم نہیں ہے
03:42عرصی کے پھر میں ان کو اختیار نہیں کروں گی
03:45یہ ہوتا ہے دیکھیں
03:46کہ یہ پہچانے ہیں
03:46کہ حکم کیا ہوتا ہے مشورہ
03:48اب یہ نہیں
03:48کہ سرکار نے فرمایا
03:50مٹا دو حضرت علی نے کہا
03:51میں نہیں مٹاؤں گا
03:52یہ تو حکم عدولی ہو گئی
03:53نہیں
03:53یہ حکم عدولی نہیں ہے
03:55یہ ایک مشورہ تھا سرکار کا
03:57اور حضرت علی مزاج سمجھتے تھے
03:58تو آپ نے اس مزاج کے مطابق
04:00ایک ریایت کا پہلو دیکھا
04:02اور عدباً عرصیٰ
04:03میں اس کو نہیں مٹاؤں گا
04:05سرکار نے فرمایا
04:05ٹھیک ہے
04:06سرکار نے اپنے دست مبارک سے
04:07اس کو مٹا دیا
04:09اس کا مطلب ہے
04:10کہ بعض اوقات
04:11ہم جب کسی سے ڈیل کرتے ہیں
04:13اگر کوئی غلط بات بھی کہہ رہا ہو
04:15بظاہر غلط بات کہہ رہا ہو
04:16اور ہمیں اس غلط بات قبول کرنے میں
04:19کوئی ایسا نہیں ہے
04:19کہ مذہب کا بہت بڑا کوئی نقصان ہے
04:21یا خدا نہ خواستہ اللہ
04:22رسول کی بہت بڑی مخالفت
04:24ایسا بھی نہیں ہے
04:25کوئی حکمتاً
04:25اچھی چیز کو چھوڑنا لازم آئے
04:28تو صلح کے لئے
04:30اس وقت کے خطرات کو ختم کرنے کے لئے
04:33حکمتاً
04:33اس طرح کے معاملات کرنے میں
04:35کوئی حرج نہیں ہے
04:36بعض وقت ہم ہر طرح
04:38اپنے فائدے کی ڈیل کرنا چاہتے ہیں
04:40سامنے والا اس کو مانتا نہیں
04:41تو جھگڑا قائم رہتا ہے
04:43صلح کا تو مطلب یہ ہوتا ہے
04:45کہ بعض وقت اپنی کچھ
04:47فائدے کی چیزوں کو
04:48انسان قربان کر کے
04:50بس چاہتا ہے جھگڑا ختم ہو
04:51تو رسول اللہ
04:53یہ اللہ کے رسول سرکار نے
04:55جو لفظ تھا
04:56رسول اللہ
04:57اس کو اپنے دست اقدس سے مٹایا
04:59حالانکہ یہ ایک حقیقت تھی
05:01لیکن کفار اسرار کر رہے تھے
05:03اچھ اس کو مٹانے سے کیا ہوا
05:04کہ سرکار کی رسالت ماد اللہ
05:05زائل ہو گئی
05:06یا کوئی بہت بڑا نقصان ہوا
05:08نہیں
05:08بس اتنا ہی تھا کہ ایک حقیقت تھی
05:10اس کو مٹانا
05:11عام حالات میں
05:13بلکل مناسب نہیں تھا
05:14لیکن چونکہ یہاں کفار سے
05:16صلح کرنی تھی
05:17اور اس صلح کے اندر
05:18مسلمانوں کے لئے آگے چل کے
05:19بڑے فائدے تھے
05:20اس لئے وقتی طور پر
05:21ایک بظاہر
05:24چیز کو
05:31کتنا برا سا محسوس ہوتا
05:32لیکن
05:33حکمتاں ایسا کرنے میں
05:35حرج نہیں
05:35اس لئے پھر میں
05:36یادہ کرتا ہوں
05:37اپنی بات کا
05:38جتنے ہمارے افراد
05:39ہمیں سن رہے ہیں
05:39میرے مسلمان بھائی بہن
05:41کہ بعض اوقات علماء
05:43دینی مسلحتوں کو بھی
05:44اس طرح دیکھتے ہیں
05:45کہ بعض اوقات
05:46کوئی ایسا قانون بن گیا
05:48کوئی ایسا فیصلہ ہو گیا
05:49کہ وہ کچھ چیزوں میں
05:50کمپرومائز کر لیتے ہیں
05:52تو ہمارے یہاں
06:01بعض اوقات
06:01بہت سی حکمتیں بھی
06:03ہو سکتی ہیں
06:04تو بہرحال
06:05جو اس وقت وہاں
06:06موجود ہیں
06:07وہ زیادہ بہتر جانتے ہیں
06:08کہ ہمیں کیا کرنا ہے
06:11نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:12نے اپنے دست اقدس
06:13اس کو امٹایا
06:14اور پھر آگے
06:15جیسے خود آپ نے لکھا
06:17لکھے ہوئے کے پر
06:17ہم نے پچھلے پرگرام میں
06:18کلام کیا
06:19کہ آپ نے
06:22نزول قرآن سے
06:23پہلے کبھی کچھ نہیں لکھا
06:24لہذا اب یہ شک نہیں
06:26ہو سکتا تھا
06:26کہ نبی کریم نے
06:28لکھنا چونکہ
06:28جانتے تھے
06:29اپنے اخباسی کتاب
06:30مرتب کر لی
06:31اور یہ آپ کا لکھنا
06:32جو اس وقت تھا
06:33ایک موجزہ کہتے ہیں
06:34کہ عادت یہ نہیں تھی
06:35عادت کے خلاف جو کام ہوتا
06:37اس کو موجزہ کہتے ہیں
06:38تو سرکار نے
06:39اپنے دست اقدس لکھا
06:40بہرحالی ثابت ہے
06:41یہ بخاری کی روایت
06:42ذہن میں رکھئے گا
06:43اگر کوئی کہتا ہے
06:44کہ نبی کریم نے
06:45کبھی اپنے ہاتھ سے
06:46نہیں لکھا
06:46تو آپ یہ الفاظ ہیں
06:47اس میں موجود
06:48کہ آپ نے
06:49اپنے ہاتھ سے
06:50لکھا ہے
06:51حدیث ہے
06:52دو ہزار چھ سو ننانوے
06:54نمبر زین میں رکھئے گا
06:55اور یہ آپ
06:56دیکھ لیجئے گا
06:57بخاری کے اندر
06:58سرکار نے لکھا ہے
07:00اس کے بعد
07:01سرکار تشریف لے گئے
07:03اگلے سال آپ آئے
07:04اور پھر
07:05جو آگے ہے
07:06کہ
07:07حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی
07:09انہا کی صاحبزادی
07:10تھی سرکار نے
07:15لکھا تھا
07:16کہ کفار کی طرف سے
07:17اگر کوئی آئے گا
07:18تو ہم واپس کر دیں گے
07:19اور ہماری طرف سے
07:20کوئی ان کی طرف چلے جائے گا
07:22تو ان کو اختیار ہے
07:22وہ واپس
07:23چاہے نہ کریں
07:25تو یہ کیسے پھر
07:26یہ بچی کو لے لیا
07:27اس کا جواب یہ ہے
07:28کہ یہ مردوں کے بارے میں تھا
07:30یہ معاہدہ
07:31کہ مردوں میں سے
07:32کوئی ہمارا وہاں جائے گا
07:33تو وہ اگر روک لیں گے
07:35یا ارچانت چاہے
07:35تو ہم منع نہیں کریں گے
07:36لیکن ان کا
07:37اگر کوئی اس طرف آئے گا
07:38تو ہمیں ان کو
07:39واپس ہی کرنا ہوگا
07:41تو لہٰذا
07:41چونکہ یہ مردوں کے بارے میں تھا
07:43بچی کے بارے میں
07:44عورت کے بارے میں نہیں تھا
07:45لہٰذا یہ کوئی
07:46احد کے
07:47منافع کام
07:48نہیں کیا گیا
07:50اور آخر میں
07:51جو اس بچی میں
07:52تنازو پیدا ہوا
07:53بظاہر
07:53ایک اختلاف رائے سے ہوا
07:54حضرت علی
07:55حضرت جعفر
07:57اور حضرت زید
07:59رضی اللہ تعالی
08:00انہما
08:01انہم کے درمیان
08:02تو سرکار نے بھی
08:03تینوں کے بارے میں فرمایا
08:04ان کے پیار سے
08:06اے علی
08:07آپ مجھ سے ہیں
08:08اور میں آپ سے ہوں
08:09اس کا مطلب
08:10شدت اتصال
08:11بیان کیا سرکار نے
08:13کہ آپ میرے
08:13مقرب بھی ہیں
08:14قریبی بھی ہیں
08:15اور میرے
08:16فضائل
08:17اور بہت سے
08:17کمالات کا ظہور
08:18آپ کی ذات کے ساتھ ہوگا
08:20یا آپ کی ذات سے ہوگا
08:21حضرت جعفر سے فرمایا
08:22کہ آپ میرے شکل و صورت
08:24اور میرے
08:25اخلاق کے مشابہ ہو
08:27اب دو چیزیں ہیں
08:28یہاں پر شکل و صورت
08:30یہ تو اللہ کی عطا کردہ ہے
08:31اس میں انسان کا
08:32کوئی کمال نہیں ہے
08:33اور اخلاق
08:35خلق کی جمع ہے
08:36خلق عادت کو کہتے ہیں
08:37اگر اچھی ہو
08:38تو اس کو خوش اخلاقی
08:40سے لے تابر کرتے ہیں
08:41خلق کی جمع
08:42اخلاق اچھے اخلاق ہوں
08:44اچھے عادتیں ہوں
08:44تو خوش اخلاق آدمی
08:46کہلاتا ہے
08:46اور بری ہوں
08:47تو بد اخلاق کہلاتا ہے
08:48اور اخلاق میں
08:50یقینا ہمارے
08:50عمل کا دخل ہوتا ہے
08:52کہ ہم محنت کرتے ہیں
08:53ہم تکبر بھی
08:54اختیار کر سکتے ہیں
08:55عارضی بھی
08:56اگر ایک آدمی
08:57عارضی اختیار کرتا ہے
08:59وہ خوش اخلاق
08:59کہلائے گا
09:00تکبر اختیار کرے
09:01تو بد اخلاق
09:02کہلائے گا
09:02اس کا مطلب ہے
09:03اس میں ہمیں کچھ اختیار ہے
09:05لیکن شکل صورت میں
09:06تو نہیں ہے
09:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
09:08نے
09:08حضرت جعفر کے لیے
09:10دونوں چیزوں کو
09:11کمال قرار دیا ہے
09:12آپ شکل و صورت میں
09:13میرے مشابہ ہیں
09:14اخلاق میں بھی
09:16میرے مشابہ ہیں
09:16اس کا مطلب یہ
09:18اگر کسی کی شکل
09:19کسی بذرخستی سے
09:20ملتی ہو
09:21اگرچہ اس کا
09:22ذاتی کمال نہیں ہے
09:23لیکن اللہ تبارک و تعالی
09:25نے اسے
09:25کسی کے مشابہ بنایا
09:27اس میں بھی
09:28اس شخص کے لیے
09:28تھوڑا بہت کمال کا پہلو
09:30تو یقیناً ہے
09:30وانا سرکار
09:31شکل صورت کو
09:32ایسا نہ فرماتے
09:33تو اس کا مطلب ہے
09:34جیسے حضرت
09:35امام حسن حسین
09:36رضی اللہ تعالی
09:37انہما کے بارے میں
09:38منقول ہے
09:39کہ سر سے ناف تک
09:41حضرت امام حسن
09:42سرکار کے مشابہ تھے
09:43اور ناف سے نیچے تک
09:45حضرت امام حسین
09:46سرکار کے
09:48مشابہ تھے
09:49ایسی بی بی فاطمہ
09:50رضی اللہ تعالی
09:51انہاں جب چلتی تھی
09:52تو دیکھنے والے
09:53گمان کرتے تھے
09:54کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
09:55چل رہے ہیں
09:55آپ کی چال
09:56بالکل نبی کریم
09:57صلی اللہ علیہ وسلم
09:57کے موافق تھی
09:59اس کا مطلب ہے
10:00چیزیں بھی
10:00باعث فضلت
10:01اور باعث اظہار کمال
10:03بنتی ہیں
10:04یہ کہہ کے
10:05رد کر دینا
10:06اس میں آدمی کا کہا کمال
10:07ہاں کمال تو آدمی کا نہیں ہے
10:09تو پھر آپ کی شکل
10:10کیوں نہیں ہو گئی
10:11ان کی شکل کیوں ہوئی
10:12اس کا مطلب ہے
10:14کہ اس آدمی میں
10:14فی نفسی کمال نہیں تھا
10:15لیکن اللہ نے
10:16اس کو منتخب کر کے
10:17فلا کی شکل کے
10:18مشابہ کیا
10:19تو اللہ نے گویا
10:20کہ اس کو باکمال کیا
10:21اب تو کمال مان لو
10:22کہ اللہ نے
10:23اس کو کمال عطا فرمایا
10:24اس اعتبار سے
10:25ہم انہیں باکمال
10:27کہیں گے
10:28اور حضرت زید بن حارسہ
10:30کے بارے میں
10:31ذہن میں رکھئے
10:31کہ سرکار نے فرمایا
10:33کہ تم ہمارے بھائی ہو
10:34یعنی اخوت اسلام
10:36کے اعتبار سے
10:37ہمارے دینی بھائی ہو
10:38اور فرمایا
10:39کہ تم ہمارے
10:40آزاد کردہ غلام ہو
10:42یہ دو جملے سرکار نے
10:43ان کے بارے میں فرمایا تھا
10:44اس کی وجہ یہ ہے
10:45کہ حضرت خدیجہ
10:46رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
10:47حضرت زید کو
10:49بچپن میں خرید لیا تھا
10:51پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
10:53کو انہیں
10:53بطور تحفہ دے دیا تھا
10:55اس وقت یہ بچے تھے
10:56اور نبی کریم نے
10:57ان کو آزاد کر کے
10:59اپنا بیٹا بنا لیا تھا
11:00حضرت ابن عمر
11:02رضی اللہ تعالیٰ عنہ
11:03کہتے ہیں
11:03کہ ہم ان کو
11:04زید بن محمد
11:05کہا کرتے تھے
11:07حتیٰ کہ
11:08یہ آیت نازل ہوئی
11:10ان مو بولے بیٹوں کو
11:11ان کے باپ ہی کا بیٹا
11:13کہہ کر پکارا کرو
11:17باپ تمہیں معلوم نہ ہو
11:19تو دین میں وہ تمہارے بھائی ہیں
11:20اور تمہارے دوست ہیں
11:23اس کا مطلب ہے
11:24کہ پہلے سرکار ان کو
11:25اپنا بیٹا برائے
11:26مو بولا بیٹا
11:27اس کو کہتے ہیں
11:29متابنہ بھی کہتے ہیں
11:30اس کو
11:30اور ان کو
11:31زید بن محمدی معروف ہو گئے
11:34لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی
11:35تو پھر یہ معلوم ہوا
11:36کہ غیر باپ کی طرف
11:38کسی کو
11:39اپنے آپ کو
11:40منصوب کرنے کی
11:41اجازت نہیں ہے
11:42اب نہیں ہے
11:43اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:45نے واضح طور پر فرمایا
11:46کہ جس نے
11:47اپنے آپ کو
11:48غیر اب کی طرف
11:50منصوب کیا
11:51وہ جہنم میں ہوگا
11:52جس کا
11:53حدیث کا مفہوم یہ ہے
11:55تو کچھ لوگ ایسے ہیں
11:56کہ جو اپنا خاندان
11:57بدل لیتے ہیں
11:58میں کتنے
11:59حضرات کو جانتا ہوں
12:01کہ جو
12:01سید نہیں ہے
12:03لیکن اپنے نام کے ساتھ
12:04سید لکھ لیتے ہیں
12:06ایک صاحب سے تو
12:07جب کہا کہ آپ تو
12:08سیدی نہیں ہیں
12:09کہہ لگے میں سید سے مراد لیتا ہوں
12:10سردار
12:11سید بمانے سردار
12:12وہ والا سید نہیں لیتا ہوں
12:14یہ غلط بات ہے
12:16جس کو اللہ نے سید پیدا کیا
12:18سرکار کی آل میں رکھا
12:20وہ ہمارے سر کا تاج ہے
12:21اس کی عزت اور احترام ہوگی
12:23لیکن اس طرح جھوٹ بول کر
12:24اپنے آپ کو
12:25بعض لوگ اور خاندانوں کا
12:28ایسی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں
12:30بعض اوقات
12:31کہ اس کو معاشرے میں
12:33حقیر سمجھا جاتا ہے
12:34حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے
12:36انہیں خود کچھ احساس سے کم تر ہی ہوتا ہے
12:38تو ہم نے دیکھا
12:39جب شادی بیعہ ہو رہی ہوتی ہے
12:40تو اپنے آپ کو غیر خاندان کی طرف منصوب کر دیتے ہیں
12:44بھئے آپ کی کاسٹ کیا ہے
12:45ہم تو فلا ہیں
12:46فلا ہیں
12:47اور بعد میں پتہ چل جاتا ہے
12:49کہتے ہیں یہ تو فلا ہیں
12:50تو یہ جو اپنے آپ کو
12:51آپ دوسری کاسٹ کہہ کے بتاتے ہیں
12:53یہ باپ بدلنا ہی ہوتا ہے
12:54یاد رکھیں
12:56اپنے والد کی طرف
12:57یہ آدمی اپنے آپ کو منصوب کر سکتا ہے
12:59بارہل یہ زمنی بات آگئی ہے
13:00تو اس چیز کا خیال لکھیں
13:02اور اس حدیث سے
13:03ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں
13:05پھر ایک دفعہ یادہ کرتے ہوئے
13:07کہ بعض وقت ہمیں
13:09اپنے نقصان کے ساتھ بھی
13:10صلاح کر لینی ہوتی ہے
13:12جبکہ ہمیں آگے بڑے فائدے نظر آ رہے ہوں
13:14اور اگر ہمارے بڑے ایسے کر رہے ہوں
13:16تو خدارہ
13:17ان پہ تنز کرنا
13:18ٹانٹنگ کرنا
13:20اسے بزدلی سے تعبیر کرنا
13:21یہ بلکل ٹھیک نہیں ہے
13:23کیا میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
13:24نے صلح حدیبیہ بزدلی کی وجہ سے کی تھی
13:27بتائیں
13:28کیوں آپ نے اس سال واپس آگئے لڑے کیوں نہیں
13:30آپ کو کہے گے بزدلی
13:31آپ کہیں گے نو
13:32یہ بزدلی نہیں ہے حکمت ہے
13:34تو جب وہاں آپ کا ذہن کام کر رہا ہے
13:36تو بہت سی چیزوں کے اندر کام کرنا چاہیے
13:38آج کل ہر ایک کے ہاتھ میں
13:40سوشل میڈیا کا ہتھیار آ گیا ہے
13:42ویڈس ایپ گروپس کا ہتھیار آ گیا ہے
13:44جس کے چاہتے ہیں
13:46ہم بس ہماری مرضی کے خلاف
13:47اگر ہمیں چیز نظر آتی ہے
13:49ہمارے ذہن کے خلاف
13:51ہماری سوچ اور فکر کے خلاف
13:52پھر ہم نہیں دیکھتے سامنے والا کون ہے
13:55اس کی ایج کیا ہے
13:56اس کی علمی حیثیت کیا ہے
13:58اس کی بزرگی کیا ہے
14:00اس کا وقار کیا ہے
14:02ہم گالیاں تک بگ دیتے ہیں
14:04ایسے سے کمنٹس ہوتے ہیں
14:05کہ کچھ انتہانی گندی گندی گالیاں
14:07بری بری باتیں
14:08تو یہاں تو بیٹا آپ کے قلم چل رہا ہے
14:11کی بورڈ چل رہا ہے آپ کا
14:12بے فکر رہے ہیں
14:13میدانِ مہاشر میں جتنا آپ نے
14:15اس طرح کے حقوق العباد تلف کیے ہیں
14:18آپ کو مجرم کی حیثیت سے کھڑا کیا جائے گا
14:21اور جن جن کے آپ نے بزرگی کی ہے
14:23ان کو زلیل کرنے کی کوشش کی ہے
14:25اور اپنے لوگوں کو خوش کیا ہے
14:27ان کی واوا سمیٹی ہے
14:29وہاں پہ اس کا خمیازہ بھگتنا
14:31اتنا مشکل ہوگا
14:32وہاں پھر اب
14:33وہاں بولیے گا ذرا
14:35وہاں تو آدمی کے ٹانگے کاپری ہوں گی
14:37بھیگی بلی بنا ہوگا
14:39وہاں خوف اور دہشت کا عالم یہ ہوگا
14:41کہ انسان بچے بڑے ہو جائیں گے
14:44اور وہاں آپ کے نام اعمال سے نیکیے نکال کر
14:46ان کے نام اعمال میں ڈال دی جائیں گے
14:48اور حساب پورا نہیں ہوگا
14:50تو اگر فرض کر لیں ان کی برائیاں ہوئیں
14:51تو ان کے
14:52تو آپ کے نام اعمال میں ڈالی جائیں گی
14:54اور پھر سیدھا جہنم میں
14:57تو اس لئے ہمارے یہ لوگ جو ہیں
14:59خصوصاً ینگ جنریشن
15:00فریڈیم آف سپیچ کے نام پر
15:02ہر سب کچھ کر رہی ہے
15:03ہمارے بڑوں کو
15:05یعنی گھر کے بڑوں کو چاہیے
15:06کہ اپنے بچوں کو کنٹرول کریں
15:08اور جو مجھے سن رہے ہیں
15:09خدارہ
15:10پوسیبل ہو یہ پوریم دیکھنے کی ترغیب دیں
15:12شاید کسی کو بات سمجھ میں آ جائے
15:14اس طرح نہ کیا کریں
15:16آپ معاملہ سمجھتے نہیں ہیں
15:18معاملہ فہمی آپ کے پاس نہیں ہے
15:20آپ اگر
15:22پہلی منزل پہ کھڑے ہیں
15:23جو بیسویں منزل پہ
15:24بلڈنگ کے اوپر ہے
15:25وہ جو دیکھ رہا ہے
15:27وہ آپ تو نہیں دیکھ رہے
15:28آپ یہاں سے کھڑے ہو کے
15:29گالیاں بکر
15:30یوں کی نہیں کر دیتا
15:31یوں کی نہیں کر دیتا
15:32اور بھائی ذرا جا کر تو دیکھو
15:33اب بھی بیسویں منزل پہ پہ پتہ چلے گا نا
15:35نیچے کھڑے ہونے سے
15:36آپ کو صحیح صورتحال
15:37کبھی پتہ نہیں چل سکتی
15:39اور ہمارے بچے یہی کر رہے ہوتے ہیں
15:41جو اپنے گھر سے نکلتے ہیں
15:43فجر قضا کر کے
15:44کام کاج کیا
15:45شام کو آئے
15:46دوستوں کے پاس
15:46رات کو بیٹھ کے کمپیوٹر پہ
15:48اور یہ بتائیں گے
15:49کہ پورے پاکستان کو
15:50پوری دنیا کو
15:51اسلام کو کیسے لے کے چلنا ہے
15:54تو آپ کو جب پتہ ہی نہیں ہوتا
15:56صورتحالی آپ کو معلوم نہیں ہے
15:57اس کا ادراک کا شعور تک
15:59آپ کو حاصل نہیں ہے
16:00پھر اس میں کمیٹس پاس کر کے
16:07رحی معل مشرقین
16:09مشرقین کے ساتھ
16:11صلح کرنے کا باب
16:14دو ہزار سات سو نمبر حدیث پاک ہے
16:16حضرت برہ بن عازیب رضی اللہ تعالی
16:19انہو اس کے راوی ہیں
16:20بیان کرتے ہیں
16:21کہ یومِ حدیبیہ میں
16:22نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:24نے مشرقین کے ساتھ
16:25تین چیزوں پر صلح کی
16:27پہلا یہ ہے
16:29کہ مشرقین میں سے
16:29جو آپ کے پاس آئے گا
16:31آپ اسے ان کی طرف واپس کر دیں گے
16:35دوسرا مسلمانوں میں سے
16:36جو ان کے پاس جائے گا
16:38وہ اسے آپ کے طرف واپس
16:39نہیں کریں گے
16:41تیسرا مسلمان
16:42اگلے سال مکہ آئیں گے
16:44اور وہاں تین دن رہیں گے
16:45اور وہ اس حال میں
16:47مکہ میں داخل ہوں گے
16:48کہ ان کے ہتیار
16:49تلوار
16:50اور کمان وغیرہ
16:51غلاف میں ہوں گے
16:53پھر یہاں کہتے ہیں
16:54کہ جب نبی کریم وہاں گئے
16:56تو حضرت ابو جندل
16:59یہ مسلمان ہو چکے تھے
17:01اور ان کے والد کافر تھے
17:03تو ان کے والد
17:04ان کو زنجیروں میں
17:05جکڑ کے رکھتے تھے
17:06اور مارتے تھے
17:07پیٹتے تھے
17:07کہ کسی طریقے سے
17:08یہ اسلام سے منحرف ہو جائے
17:10یہ اپنی بیڑیوں
17:11سمیت وہاں آگئے
17:12تو ابو جندل
17:14اپنی بیڑیوں کو
17:15گھسیٹتے ہوئے آئے
17:16لیکن سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
17:17نے حضب معایدہ
17:18ان کو
17:19واپس کر دیا
17:20اللہ تعالیٰ
17:22اس بات کو
17:23ان حدیثوں کو سمجھنے
17:25ان کا فیض حاصل کرنے کی
17:26توفیق عطا فرمائے
17:27آمین
17:28وآخر دعوانا
17:29الحمدللہ
17:30رب العالمين

Recommended