- 1 day ago
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:01بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاکیزہ ترین نام سے آغاز کرتے ہیں جو بہت مہربان نہایت
00:08رحم والا ہے
00:10درس بخاری کا سلسلہ پچھلے پغرام میں دو ہزار سات سو نمبر تک پہنچا تھا
00:16اور اس میں حضرت عبرہ بن عازیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی راوی ہیں اور وہی صلحہ دیبیہ کا تذکرہ
00:23تھا
00:24لیکن اس میں بس اتنا مختصر آپ نے بیان فرمایا کہ سرکار نے تین امور پر صلح فرمائی تھی
00:31پہلا یہ کہ مسلمانوں میں سے جو ان کے پاس جائے گا وہ واپس نہیں کریں گے
00:36جو ان کا آدمی یہاں پر آئے گا آپ ان کو واپس کر دیں گے
00:39اور اگلے سال آپ وہاں تشریف لے جائیں گے اور تین دن رہیں گے
00:43آخر میں ہم آپ کو بتا رہے تھے اس یہ حدیث میں ہے کہ حضرت عبو جندل رضی اللہ تعالیٰ
00:47عنہ
00:47اپنے بیڑیوں کو گھسٹے ہوئے آئے تو آپ نے انہیں واپس کر دیا
00:52آپ اسلام لے آئے تھے اور آپ کے والد کے والد نے آپ کو قید کر دیا تھا
00:58زنجیروں میں جگڑ دیا تھا اور سزائیں دیتے تھے تکلیفیں دیتے تھے
01:02ہجرت نہیں کرنے دیتے تھے
01:04اب جب ان کو پتا چلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے ہیں
01:07صحابہ آئے تو امید پیدا ہوئے اور کسی طریقے سے آپ نکل کر آگئے
01:11اور فریاد کی کہ مجھے ساتھ لے کر جائیں
01:13لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معاہدہ کر چکے تھے
01:17تو سرکار اہد کے خلاف کبھی نہیں کرتے تھے
01:20یقینا سرکار نے بھی حالت دیکھی ہوگی
01:23سرکار تو رحمت للعالمین ہے
01:26سرکار جب صحابہ کی اس طرح کی حالت دیکھتے تھے
01:29تو آپ کے چشمان مبارکہ سے آنسو جاری ہو جاتے تھے
01:32آپ کے دل مغموم ہو جاتا تھا
01:34آپ غم میں مبتلا ہو جاتے تھے
01:36یہ نہیں تھا کہ خدا نہ خاصتہ کوئی کیفیات پیدا نہیں ہوں گی
01:39رحمت للعالمین ہے
01:41ایک عام آدمی بیچارہ روڈ پر پڑا ہوتا
01:43اگر زخمی ہوتا ہے
01:44کوئی اس کے زخم رسرے ہوں یا مکھیاں بیٹھی ہوں
01:46تو ہمارا رشتہ دار بھی نہیں ہوتا
01:49ہم جان پہچان بھی نہیں ہوتی
01:50اس کی حالت بھی ایسی خراب گندہ اقصہ ہوتا ہے
01:52لیکن ایک رحم کے مادے کے وجہ سے
01:55ہمارا دل مغموم ہو جاتا ہے
01:56اور ہم کم از کم اظہاریں افسوس کرتے ہیں
02:00ہمارے قلوب کے اندر رحمت
02:01یعنی نرمی بہت تھوڑی سی ہے
02:03اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
02:05تو رحمت اللہ علیہ عالمین ہیں
02:07آپ نے جب حضرت جندل کو دیکھا ہوگا
02:10تکلیف کے آثار
02:11بیڑیوں میں جکڑے ہوئے
02:12امیدیں آنکھوں کے اندر ہیں
02:14کہ میرے نبی آگئے ہیں
02:15صحابہ آگئے ہیں
02:16مجھے چھڑا کر لے جائیں گے
02:17تو کس طرح حالت ہوئی ہوگی
02:19کیا کیفیت ہوگی میرے سرکار کی
02:21صلی اللہ علیہ وسلم
02:22لیکن ہمارے سرکار نے پھر ہمیں سمجھایا
02:25کہ معایدہ معایدہ ہوتا ہے
02:27اہد اہد ہوتا ہے
02:28ایگرمنٹ ایگرمنٹ ہوتا ہے
02:30ایک ڈیل باقاعدہ سائن کی ہے
02:32اور نبی کا یہ کام نہیں ہے
02:34کہ اہد کے خلاف جائے
02:35سرکار صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے
02:37ہم تو خیر نہیں جانتے نا
02:39ہم تو ایک نتیجہ مرتب کریں گے
02:41اور اپنے افعال و عامال کی بنیاد
02:44اس کے اوپر رکھنے کی کوشش کریں گے
02:45لیسے سرکار نے اہد پورا فرمایا
02:47ہم بھی کریں گے
02:48لیکن میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
02:50کے معاملہ تھوڑا سا جدہ گانا تھا
02:52ان تمام باتوں سے
02:53یعنی اس سے قطر نظر
02:55کہ آپ کو بدر یہ وحی کوئی بتایا گیا
02:57کہ نہیں
02:57میں نے سارا معاملہ بتایا
02:59ایک اس میں پہلو یہ بھی ہے
03:00کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
03:03باعتائے الہی یہ بات جانتے تھے
03:05کہ ابو جندل کی قید کچھ عرصے تک رہے گی
03:07اگر سرکار اس وقت اس کو لے لیتے
03:09ان کو ماذا اللہ
03:10تو اہد شکن کہلاتے
03:12اور بہت برا تاثر پیدا ہوتا
03:15سرکار جانتے تھے
03:16کہ ابھی ان کی وقتی تکلیف ہے
03:18ان کو میں چھوڑ کر جا رہا ہوں
03:20لیکن کچھ عرصے کے اندر
03:21پھر فتح مکہ وغیرہ ہوگا
03:22اور یہ باہر آ جائیں گے
03:25اور تمام تکلیفیں ختم ہو جائیں گے
03:28اسی لئے آپ نے یہ معاہدہ بھی کیا
03:29جو بظاہر ایک نقصان کا ہے
03:31کہ تمہارا جو آدمی آئے گا
03:32ہم واپس کریں گے
03:33ہمارا جائے گا تم واپس نہ کرنا
03:35سرکار جانتے تھے
03:36کوئی جائے گئے نہیں
03:37جائے گا نہیں
03:38تو پھر واپس کا کیا مطلع
03:40تو اس لئے یہ بڑی حکمت والا
03:42ایک سرکار کا معاہدہ تھا
03:43لیکن بہرحال وہ آئے
03:45اور سرکار نے واپس کیا
03:47یہ میں نے اس محول اس لئے بنایا
03:49یہ کیفت اس لئے بیان کی
03:50کہ یاد رکھیں
03:52کہ جب دین کا معاملہ آ جائے
03:54تو پھر اپنے جذبات
03:56احساسات
03:56اپنی فیلنگز کو
03:57شریعت کے تابع کرنا ہوتا ہے
04:00نہ کہ اپنی جذبات
04:01احساسات اور فیلنگز کو
04:03بلند کر کے
04:03آپ شریعت کو پامال کر دیں
04:05اپنے وعدوں کو پامال کر دیں
04:07خلاف شرعہ کام کرنے لگ جائیں
04:10اللہ کے نبی نے
04:11شریعت کیا تھی
04:13آہد کو پورا کرنا تھا
04:16باطنی کیفیات کیا تھی
04:17مطالبہ کر رہی ہوں گی
04:19کہ اپنے غلام کو
04:20اپنے سینے سے لگا کر
04:21اپنے ساتھ لے کر
04:22اس تکلیف سے نجات دے دیں
04:24لیکن سرکار نے
04:25شریعت کو بلند رکھا
04:26جذبات اور احساسات کو
04:27وقتی طور پر مغلوب کیا
04:29اور قیامت تک کے لئے
04:30ایک اچھی مثال قائم کر دی
04:32اس سے میں اپنے بھائی بہنوں سے
04:33گزارش کرتا ہوں
04:34کہ بعض اوقات
04:36ہماری بیٹی کی غلطی ہوتی ہے
04:38سسرال والے حق پر ہوتے ہیں
04:40لیکن ہم جذباتیت میں آ کر
04:42اپنی بیٹی کو صحیح کہتے ہیں
04:43سسرال والوں کی
04:44ٹانگیں توڑ دی جاتی ہیں
04:45یا تلاقے دلوا دی جاتی ہیں
04:48ان کو نقصان پہنچایا جاتا ہے
04:49یہ غلط ہے
04:51بعض اوقات بیٹا غلط ہوتا ہے
04:52بہو صحیح ہوتی ہے
04:53لیکن ہم بیٹے کو فوقت دے کر
04:55بہو کو ہی غلط ثابت کرتے ہیں
04:57یہ صحیح نہیں ہوتا ہے
04:59ایسی گلی میں جھگڑے ہو جاتے ہیں
05:01قاندان میں جھگڑے ہو جاتے ہیں
05:03جو ہماری برادری کا ہے
05:05ہمارے قریب ہے
05:06وہ غلط بھی ہو
05:06ہم کہتے ہیں یہ صحیح ہے
05:08اور ہم اس کا ساتھ دے کر
05:09جو حق پر ہوتا ہے
05:11اس کے خلاف جارہے ہوتے ہیں
05:12یہ خلاف شرعہ کام کر رہے ہوتے ہیں
05:14کیونکہ اس وقت
05:15ہماری باطنی کیفیت یہ ہوتی ہے
05:17اس کا تقاضی یہ ہوتا ہے
05:18برادری کا ساتھ دو
05:19بیٹے کا ساتھ دو
05:20اببہ کا ساتھ دو
05:21امی کا ساتھ دو
05:23جذباتیت
05:23فیلنگز
05:24یہ ہمیں مجبور کر دیتی ہیں
05:26خلاف شرعہ جانے پر
05:27ایسے لوگوں کو
05:29سیکھنا چاہیے
05:30کہ ہمارے نبی کریم
05:32صلی اللہ علیہ وسلم
05:32کی تعلیم یہی ہے
05:33کہ جب معاملہ شریعت آ جائے
05:36تو اس وقت پھر
05:37اپنے جذبات سساعت کو ہٹائیے
05:40سردیاں ہیں
05:40فجر میں آدمی اٹھتا ہے
05:43باطنی مطالبہ یہ ہوتا ہے
05:45آئے آئے
05:46اتنے تھنڈ ہو رہی ہے
05:47لیٹے رہو
05:48اتنا گرم گرم بستار
05:49بعض وقت ہیٹر چل رہا ہوتا ہے
05:51باہر نکلو گے
05:52تھنڈ لگے گی
05:53تھنڈے تھنڈے پانے سے
05:54وضو کرنا پڑے گا
05:55گیزر بھی بند ہو جاتا ہے
05:56بعض اوقات
05:57یہ ہیں کیفیات
05:59اور شریعت کیا کہہ رہی ہے
06:00بستر چھوڑو
06:01جا کر نماز پڑو
06:02اب ہماری اکثر
06:04وہی بات ہے
06:05کہ ہماری اقول
06:06ہمیں غلط مشورہ دیتی ہیں
06:08یا مغلوب ہو جاتی ہیں
06:09ہماری جذبات
06:09اور احساسات غالب آ کر
06:11شریعت کو
06:13پامال کر دیتے ہیں
06:14یہ ہو رہا ہے آج کل
06:15نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:16نے تو فرمایا
06:17کہ بچہ سات برس کا ہو جائے
06:19تو اس کو نماز کا حکم دو
06:20دس برس کا ہو جائے
06:22تو مار کر نماز پڑاؤ
06:24لیکن ہمارے ہاں
06:25بچوں کو
06:26کہتے ہیں سات سال کہو
06:27تو بہت چھوٹا صاحبی تو
06:28دس سال میں بھی چھوٹا ہے
06:30اللہ کے نبی جو فرما رہے ہیں
06:32وہ نہیں مانتے
06:32وہی جذبات
06:33احساسات
06:35علماء نے اسی حدیث کی روشنی میں کہا
06:37کہ نبی کریم
06:38اس لیے اب اسے بیان فرما رہے ہیں
06:40کیونکہ بچہ بھی بالغ نہیں ہوا
06:41پھر بھی فرما رہے ہیں
06:42دس سال کا ہو
06:42تو مار کر نماز پڑاؤ
06:44کہ انقریب یہ بالغ ہو جائے گا
06:46نماز فرض ہے
06:47عادت نہیں ہوگی
06:48تو بالغ ہونے کے بعد
06:49فرض چھوٹا جائے گا
06:51کیونکہ عادت پختہ ہوگی
06:52نماز نہ پڑھنے کی
06:53اور یہ گناہگار ہو جائے گا
06:54ابھی سیادی بناو چاہے
06:56مار کر پڑاؤ
06:57تو علماء فرماتے ہیں
06:58کہ روزہ بھی تو فرض ہے
07:00اور وہ بھی بلوغت کے بعد
07:01فوراں رکھنا ہوگا
07:02اگر ابھی سیادی نہیں بنے گا
07:04تو روزہ ترک کرے گا
07:05لہذا فرمایا
07:06جیسے نماز کا حکم ہے
07:07وہی روزہ کا ہے
07:08بچہ سات برس کا ہو جائے
07:10تو روزہ کا حکم
07:10جو دس برس کا ہو جائے
07:11تو مار کر روزہ رکھواؤ
07:13فرق بس اتنا ہوگا
07:14کہ نماز تو
07:15ایک ہلکی سی عبادت ہے
07:16ہر بچے کو حکم دیں گے
07:18لیکن روزہ کا
07:19اس بچے کو حکم دیں گے
07:21روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو
07:23ہمت رکھتا ہو
07:24تو لہذا اگر ایسا بچہ ہے
07:25اور بچے رکھ لیتے ہیں
07:27شوق زوق میں
07:28آپ ان کو تھوڑا سا
07:29اگر بہلائیں پسلائیں
07:31تو الحمدللہ رکھ لیتے ہیں
07:33ہمارے گھر میں تو تقریباً
07:34چھ سال سے بچے
07:35پورے پورے روزے رکھ رہے تھے
07:36اور رکھ لیتے ہیں
07:37کوئی ایسا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا
07:39تو اب ہوتا کیا ہے
07:41کہ وہی ہماری جذباتیت غالب آتی ہے
07:44اگر باپ یہ کہتا ہے
07:45کہ میں شریعت پر چلتے ہوئے
07:47بچے کو
07:48دس سال کے بچے کو
07:49سات سال کے بچے کو
07:50روزہ رکھو
07:50تو ماں آ جاتی ہے
07:51ارے نینی میرا بیٹا تو مر جائے گا
07:53یہ نہ کرو وہ نہ کرو
07:54کبھی ماں رکھواری ہوتی ہے
07:56دین ہی ہوتی ہے
07:56تو اب بیچ میں آ جاتے ہیں
07:58ارے بھائی تم بڑی ملانی بن گئی ہو
08:00یہ مولویوں نے پتہ نہیں
08:01کیا کیا باتیں کہہ دی ہیں
08:02ابھی تو بہت چھوٹا سا ہے
08:03ایسا نہ کریں
08:05حضرت ربیع بن معوض
08:07رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں
08:09کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
08:11نے ایک مرتبہ
08:12آشورہ کے دن
08:13یہ اعلان کروا دیا
08:15انصار کی بستیوں میں
08:16کہ جس نے روزہ رکھا ہے
08:18وہ کنٹینئر رکھے
08:19نہیں رکھا
08:19تو شام تک کچھ نہ کھائے
08:20وہ کہتی ہیں
08:22کہ ہم نے روزے رکھے
08:23اور اپنے گھر کے بچوں کو بھی
08:25روزے رکھوائے
08:26اور کہتی ہیں
08:27اگر بچہ کبھی بھوک سے رونے لگتا
08:29تو ہم نے
08:30اون کے رنگین
08:31کھلونے بنائے ہوئے تھے
08:32ہم اس کو وہ دے کر بہلاتے تھے
08:34حتیٰ کہ وہ افطار کے قریب ہو جاتا تھا
08:36یعنی اندازہ کریں
08:38کہ وہ کھلونے
08:39کتنے چھوٹے بچے کو رکھوائے ہوگا
08:41کھلونے سے کھیلتا ہوگا
08:42اس کا مطلب ہے
08:43کہ صحابہ اکرام
08:44علیہ مردوان
08:45نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:47کے فرمان کو
08:47بہت اہمیت دیا کرتے تھے
08:49میں اپنے بہن بھائیوں سے گزارش کرتا ہوں
08:52کہ جب بھی جذباتی وابستگی کی وجہ سے
08:54انٹرنل فیلنگز کی وجہ سے
08:57آپ کو کوئی فیصلہ کرنا پڑے
08:58اور مدد مقابل شریعت کا فیصلہ
09:01اس کے خلاف جا رہا ہو
09:02تو خدارہ اپنی جذباتیت
09:05اپنی فیلنگز
09:06اپنی جو بھی تھوٹس ہیں
09:08آپ کی سوچ ہیں
09:09فکر ہیں
09:10انہیں تابع شریعت کرنے کی کوشش کریں
09:12تو آخرت میں کامیابی ہے
09:13اور اگر آپ کی نگاہوں میں
09:15ماں کی اہمیت زیادہ ہے
09:16شریعت کی کم
09:17والد صاحب زیادہ اہم ہے
09:19شریعت کم
09:19دوست بیٹا بیٹی زیادہ ہے
09:22شریعت کم
09:23اگر برادری زیادہ ہے
09:24شریعت کم
09:25تو یاد رکھیں
09:26پوری برادری فسے گی آخرت میں
09:27جن ماں باپ کے لئے
09:29آپ نے شریعت کو پامال کیا
09:30باپ بھی فسا ہوگا
09:31آپ بھی فسے ہوں گے
09:32اور آخرت میں
09:34بہت سخت معاملات ہوں گے
09:36اللہ ہمیں سمجھنے کی
09:37توفیق عطا فرمائے
09:38اگلی حدیث کی طرف آتے ہیں
09:40دو ہزار سات سو
09:41ایک نمبر حدیث پاک ہے
09:43حضرت ابن عمر
09:44رضی اللہ تعالی عنہما
09:45بیان کرتے ہیں
09:46کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
09:49عمرے کی نیت کرتے ہوئے
09:51مدینے سے نکلے
09:52تو آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان
09:54کفار قریش
09:56حائل ہو گئے
09:57درمیان میں آگئے
09:58آپ نے اپنے ہدی
10:00یعنی قربانی کے جانور کو
10:02نحر کیا
10:03یعنی زبح کروایا
10:04اور ہدیبیہ میں
10:05اپنا سر حلق کروایا
10:08یعنی پورا سر صاف کروایا
10:09اور ان سے اس بات پر صلح کی
10:11کہ آپ آئندہ سال عمرہ کریں گے
10:14اور تلواروں کے سوا
10:16ان کے خلاف
10:17کوئی ہتیار نہیں اٹھائیں گے
10:20یعنی لے کر نہیں آئیں گے
10:21اور وہاں صرف اتنی مدت قیام کریں گے
10:24جتنی مدت وہ پسند کریں گے
10:25پھر آپ نے آئندہ سال عمرہ کیا
10:28اور مکہ میں اس طرح داخل ہوئے
10:30جس طرح ان سے صلح کی تھی
10:32یعنی وہی تلوارے وغیرہ
10:34میان میں تھی
10:35جب آپ نے وہاں تین دن قیام کر لیا
10:37تو انہوں نے آپ کو وہاں سے جانے کے لئے کہا
10:40چنانچہ آپ واپس تشریف لے آئے
10:43تو یہ وہی پرانی بات ہے
10:45اور اس میں محصر کا تذکرہ ہے
10:47باقاعدہ کہ اگر کسی نے احرام پہن لیا
10:49اور کسی وجہ سے وہ
10:50عمرہ ادا نہیں کر سکا
10:52تو پھر وہ اپنی جانور وہاں بھیج دے
10:54حدود حرم میں جانور زباہ ہو جائے
10:56پھر وہ احرام کی پابندی سے باہر آ جا آ سکتے ہیں
11:01دو ہزار سات سو دو نمبر حدیث پاک ہے
11:05اور اس میں وہی تقریبا ساری باتیں ہیں
11:08لیکن تھوڑا سا اس میں یہ ہے کہ
11:10حضرت سحل بن ابی حثمہ بیان کرتے ہیں
11:13کہ حضرت عبداللہ بن سحل
11:15حضرت محیصہ بن مسعود بن زید خیبر کی طرف گئے
11:18اور ان دنوں صلح تھی
11:20بس اتنی بات ہے
11:21کہ صلح کے دور میں گئے تھے
11:23صلح کے لفظ تھا
11:23تو اس لئے وہاں ذکر کیا
11:25اگر اب آپ دیکھتے ہیں
11:27باب الصلح فدیہ
11:29دیت میں صلح کرنے کا باب
11:32حدیث ہے دو ہزار سات سو تین نمبر
11:35حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ نوح حدیث بیان کرتے ہیں
11:38کہتے ہیں کہ حضرت ربعی
11:41جو حضرت جو ان نظر کی بیٹی ہیں
11:44انہوں نے ایک جوان لڑکی کے سامنے کے دانت توڑ دیئے
11:49کوئی لکڑی ماری تھی
11:51ایک روایت کے مطابق سامنے کے دانت ٹوڑ گئے
11:53تو ان لڑکی والوں نے ان دانتوں کی دیت کا مطالبہ کیا
11:59ایک قصاص ہوتا ہے ایک دیت ہوتی ہے
12:01قصاص مطلب جان کے بدلے جان عضو کے بدلے عضو
12:04ٹھیک ہے
12:05تو انہوں نے عضو کا مطالبہ کیا تھا
12:07دیت جو ہوتی ہے مال ہوتی ہے
12:09کبھی یہ نہ کرو مال لے لو
12:10اس کو صلح کہتے ہیں کہ قصاص کے بدلے مال لے لینا
12:15اور ایک ہوتا ہے عفو درگزر
12:17کہ نہ قصاص نہ دیت
12:19سامنے والا معافی کر دے
12:21اور سب سے افضل یہ معافی والا معاملہ ہوتا ہے
12:23تو یہ کہتے ہیں کہ لڑکی والوں نے ان کے
12:26ان داتوں کی دیت کا مطالبہ کیا
12:29اور حضرت ربعیعی کے گھر والوں نے
12:31اس دیت کی معافی کا مطالبہ کیا
12:33کہ میں معاف کر دیں بدلہ نہ لیں
12:35تو انہوں نے انکار کر دیا
12:37تو وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
12:40پس آپ نے ان کو قصاص ادا کرنے کا حکم دے دیا
12:44لڑکی کی بھی دانت توڑو
12:46ربعیعی کے دانت توڑو
12:47یہ ہے انصاف
12:48اور دانت توڑنا کس قدر
12:51مشکل کام ہوگا
12:52ایک تو ہوتا ہے کہ لڑائی چگڑا ہوا
12:54تو غصے میں مار دیا
12:55ادھر بھی غصہ تھا ادھر بھی غصہ تھا
12:58ایک ہے اب نارمل حالت میں دانت توڑو
13:00لیکن یہ ہمارے مذہب کی تعلیم ہے
13:02اگر ایک آت دفعہ ایسے کسی کے
13:04جلال میں کیے گئے
13:06حملے کے جواب میں بطور قصاص
13:08دانت توڑ دیے جائیں اور یہ دکھا
13:10دیا جائے ذرا میڈیا پر
13:11اس کے بعد کوئی کسی پر حملہ کرنے کی جورت
13:14نہیں کرے گا یہ ہمارے مذہب
13:16اسلام کا بڑا خاصہ ہے نبی کریم
13:18صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کسی کی
13:20حدود اور قصاص وغیرہ کے معاملے میں
13:22کوئی ریایت نہیں کرتے تھے
13:24حکم جاری ہوگا سرکاہ نے قصاص
13:26کا حکم دیا تو حضرت
13:28انس بن ندر نے کہا
13:29یہ جو ان کے والد تھے
13:31انہوں نے کہا یا رسول اللہ کیا
13:34ربعی کے دانت توڑے جائیں گے
13:36پھر ان کی زبان
13:38نہیں
13:40اس ذات کی قسم جس نے آپ
13:42کو حق کے ساتھ بھیجا ہے
13:43اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے
13:47سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
13:48نے فرمایا کہ اے انس
13:49کتاب اللہ میں قصاص ہیں
13:53اچھا اب یہاں
13:54یہ شبہ نہ پیدا ہو کہ وہ سرکار سے
13:56کہہ رہے ہیں یا رسول اللہ میں آپ کا حکم نہیں
13:58مانوں گا یہ بات نہیں ہے
13:59بس وہ یہ سرکار نے فرمایا
14:01تو ان کی زبان سے نکل گیا
14:03کہ اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے
14:05آگے اس کی وضاحت ہے
14:07شارین نے جو لکھی ہے
14:08میں ارز کرتا ہوں
14:09یعنی یہ لکھی ہے
14:10کہ ان کو اللہ پر بھروسہ تھا
14:11کہ ضرور اللہ کو ایسے سبیل بنا دے گا
14:13کہ اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے
14:15بس ان کی زبان سے نکل گیا
14:16سرکار نے بھارا ان کو کہا
14:18کہ اے انس
14:19کتاب اللہ میں قصاص ہے
14:20آپ نے بات تو کہہ دی
14:22لیکن اگر وہ سامنے علیہ راضی نہیں ہوتے
14:24تو یہ ہوگا
14:26راوی کہتے ہیں
14:27کہ پھر وہ لوگ راضی ہو گئے
14:28انہوں نے معاف کر دیا
14:29انہوں نے کہا
14:30ٹھیک ہم دات نہیں توڑتے
14:31تو اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
14:33کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں
14:35کہ اگر وہ کسی کام کی
14:37اللہ پر قسم کھالیں
14:39تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو
14:41سچا کر دیتا ہے
14:43تو یہ دیکھئے
14:44کتنی بڑی بات ہے
14:45کہ پہلی بات تو یہ
14:47کہ یاد رکھیں
14:47کہ اگر کوئی کسی کا
14:48کوئی عوض تلف کرتا ہے
14:50تو جواباً
14:51اس کا عوض بھی
14:52تلف کیا جائے گا
14:53یا دوسری چیز ہے
14:54کہ سلح کر لی جائے
14:55اور مال وغیرہ
14:56لے کر سلح کر لیں
14:57یا پھر ویسے بغیر مال کے
14:59معاف کر دیں
15:00اور معافی افضل ہوتی ہے
15:02رحمتِ قورین صلی اللہ علیہ وسلم
15:03رحمت اللہ العالمین ہیں
15:05کہ ایک عام آدمی
15:06کسی کا دانت توڑے
15:07اس کی
15:08یعنی دل کی نرمی کے خلاف ہوگا
15:10کہ نارمل حالات میں
15:12جھگڑوں میں تو ہو جاتا ہے
15:13بیٹھا بھی اس کے دانت توڑو
15:14لکڑی لے کے مارو
15:15اس کے دانت توڑو دو
15:16کس قدر مشکل بات ہے
15:19ہنٹ کھول کے
15:20یا تو کوئی چھینی ہتوڑی
15:21رکھ کر مارو
15:22یا کچھ کرو
15:22یا پلاس سے دانت توڑو دو
15:24ہر طرح سے کس قدر خطرناک چیز
15:26تو ایک عام آدمی
15:28ہمت نہیں کر سکتا
15:29بس میں آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں
15:30دیکھیں
15:31یہاں رحمت اللہ العالمین
15:33سرکار کی قلب کی نرمی
15:34سب سے زیادہ ہے
15:35لیکن وہی بات ہے
15:36جب احکام شرعہ کے
15:37اجراء کی باری آئی
15:38تو پھر رحمت
15:40ایک اور رنگ میں نظر آتی ہے
15:42وہ یہ
15:42کہ اللہ کا قانون نافذ ہوگا
15:44چاہے سامنے والے
15:45وہ کتنی ہی عزیت
15:46اور تکلیف کیوں نہ ہو
15:47اس لئے رحمت کونین
15:49صلی اللہ علیہ وسلم
15:50نے رجم کا حکم بھی دیا ہے
15:52رجم کا مطلب ہوتا ہے
15:54شادی شدہ
15:54شخص اگر زنا کر لے
15:56تو اسے پتھر مار کر
15:58ہلاک کرنا
15:58حکم دینے والے
15:59میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
16:01رحمت اللہ العالمین
16:02اور کس کا حکم
16:04بیان فرمارے ہیں سرکار
16:05اللہ تعالیٰ کا
16:07جو ارحم الرحیمین ہے
16:08اس کا مطلب ہے
16:09کہ سزائیں جاری کرنا
16:11کوئی رحمت کی خلاف نہیں ہوتا
16:12اگر ہوتا
16:13تو یہ سزائیں ہی نہ بنتی
16:15اس لئے یہ کہنا
16:16کہ جی یہ
16:17مذہب
16:18ہمارا اسلام
16:19بڑا سخت سزائیں
16:20مقرر کرتا ہے
16:21یعنی تمہارے دل میں
16:22زیادہ نرمی ہیں
16:22رحمت ہے
16:23اور اسلام
16:24کیوں کو آپ بلیم کر رہے ہیں
16:26یہ اسلام کی
16:27بہت بڑی رحمت ہے
16:28آپ ایک شخص کو دیکھ رہے ہیں
16:30کہ جی اس کو پتھر مار کے
16:31ہلاک کریں گے
16:32یہ نہیں دیکھ رہے ہیں
16:33کہ اس طرح
16:34اگر آپ اس کو چھوڑ دیتے ہیں
16:35تو یہ بھی
16:36اور اسی جیسے
16:37ہزاروں لوگ
16:38کسی عورتوں کی عزت
16:39خراب کریں گے
16:40بچیوں کے ساتھ
16:41غلط حرکتیں کریں گے
16:42تو یہ مذہب
16:43اس کے خلاف
16:44اگر سزا جاری کر رہا ہے
16:46جو آپ کریں
16:46رحمت کے خلاف
16:47نظر آ رہا ہے
16:48لیکن آپ غور کریں
16:49ان سب کے لئے
16:50یہ قانون باعث رحمت ہے
16:51کہ ہماری بچیاں
16:52محفوظ ہو جائیں گی
16:54اس لئے
16:55اپنی نظروں میں
16:55وصوت پیدا کریں
16:56اللہ تعالیٰ
16:58اور اس کے رسول
16:58جو جانتے ہیں
16:59ہم نہیں جانتے
17:00اپنے ننی سی عقلے لے کر
17:01اور کمنٹس پاس کرنا
17:03اور اسلام کے خلاف بولنا
17:04یہ ہماقت ہے
17:06اللہ تعالیٰ سمجھنے کی
17:07توفیق تفرمائیں
17:08آمین
17:08وآخر دعوانا
17:09ان الحمدللہ رب العالمين
Comments