Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02اللہ تبارک و تعالیٰ کے پاکیزہ ترین نام سے آغاز کرتے ہیں
00:06جو بہت مہربان نہایت رحم والا ہے
00:08درس بخاری کا سلسلہ کتاب شروط تک پہنچا تھا
00:12اور پچھلے پرگرام میں دو ہزار سات سو سولہ نمبر حدیث پاک پر کلام ہوا تھا
00:16آج انشاءاللہ اس سے اگلی حدیث دو ہزار سات سو سترہ پر کلام کا آغاز ہوگا
00:23باب قائم کیا ہے باب شروطی فی البائعی
00:26یعنی بائعی میں شرطیں لگانے کا باب
00:30بائعی کہتے ہیں کہ خرید و فروخت کرنا
00:32اس میں حضرت بریرہ
00:35سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ اس کی راویاں ہیں
00:39وہ کہتی ہیں کہ حضرت بریرہ
00:41حضرت عائشہ کے پاس اپنی مقاتبت کے متعلق مدد طلب کرنے کے لئے آئیں
00:48مقاتبت کا مطلب ہوتا ہے کہ
00:51جو آقا ہوتا ہے وہ غلام سے کہتا ہے
00:53اگر اتنے پیسے تم مجھے دے دو
00:55تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا
00:57اگر غلام کہتا ہے یا اس ٹھیک ہے
00:59تو یہ جو ان کے درمائن ایک معاملہ ہوا
01:01اس کو عقد مقاتبت کہتے ہیں
01:04اور وہ غلام جو ہے وہ مقاتب
01:06مرد ہو تو مقاتب ہوتا ہے
01:07اور عورت ہو تو مقاتبہ کہا جاتا ہے
01:10تو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہ
01:13یہود کے قبضے میں تھی
01:14وہ ان کی لونڈی تھی
01:16تو انہوں نے پہلے یہ کہا
01:18کہ آپ مقاتبہ ہو جائیں
01:21انہوں نے راضی کیا
01:22تو پھر وہ آئیں سیدہ عیشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس
01:25کہ آپ ذرا میرے جو پیسے دینے ہیں
01:27ان میں میری مدد کیجئے
01:29انہوں نے ابھی تک اپنے مقاتبت کی
01:32کوئی قسط اپنے مالکوں کو
01:34ادا نہیں کی تھی
01:35حضرت عائشہ نے ان سے فرمایا
01:37کہ تم اپنے مالکوں کے پاس جاؤ
01:39اگر وہ یہ پسند کریں
01:41کہ میں تمہاری مقاتبت کی اقصاد
01:43ادا کروں
01:44اس شد پر کہ تمہاری ولا
01:46میرے لی ہوگی تو میں ایسا کر لیتی ہوں
01:50یہ پہلے بھی حدیث گزر چکی ہے
01:52ولا کا مطلب یہ ہوتا ہے
01:53کہ جب کوئی غلام کا انتقال ہوتا ہے
01:55اور اس کا کوئی وارث وغیرہ نہیں ہوتا
01:59تو آقا کو سب کچھ ملتا ہے
02:00اسی طرح اگر کوئی غلام کو آزاد کر دیتا ہے
02:03تب بھی ولا
02:04اگر کوئی اس کا وارث نہیں ہے
02:06تو آزاد کرنے والے کو ملتی ہے
02:08تو یہ سیدہ عائشہ نے کہا
02:09کہ ان سے جا کر کہو
02:10کہ قسطیں میں سب عدا کر دیتی ہوں
02:12لیکن جب تمہارا کے انتقال ہوا
02:13کوئی وارث نہیں ہے
02:14تو ولا مجھے ملے گی
02:16حضرت بریرہ نے اس شرط کا
02:18اپنے مالکوں سے ذکر کیا
02:20تو انہوں نے انکار کر دیا
02:23یہ ہم ان شرطوں کو نہیں مانتے
02:24اور انہوں نے کہا
02:26کہ اگر حضرت عائشہ صدیقہ
02:28رضی اللہ تعالی عنہ چاہیں
02:29تو ثواب کی نیست
02:30تمہارے ساتھ یہ نیکی کر سکتے ہیں
02:32لیکن تمہاری ولا
02:34ہمارے ہی لیے ہوگی
02:35پھر سیدہ عائشہ صدیقہ
02:36رضی اللہ تعالی عنہ نے
02:38اس کا ذکر
02:38اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا
02:41تو آپ نے فرمایا
02:42کہ تم بریرہ کو خرید لو
02:43اور آزاد کر دو
02:45ولا صرف اس کے لیے ہوتی ہے
02:47جو آزاد کرتا ہے
02:50تو یہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم
02:52چونکہ شارع ہیں
02:53اور شریعت کو بیان کرنے والے ہیں
02:55لہذا انہوں نے
02:57جو بریرہ کے اصل مالکان تھے
02:59غلط شرط لگائی
03:00اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:02نے اس کو رد فرمایا
03:03اب اگرچہ غلاموں کا دور نہیں ہے
03:05لیکن چونکہ یہ حدیثیں ہیں
03:06تو تھوڑی بہت اس کی شرعہ
03:08ہمیں جان لینے چاہیے
03:09اور بس یہ ہے کہ
03:12فیصلہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:14کے بیان کردہ حکم کے تحت ہوگا
03:16آج کل ہمارے ہاں بھی ایسا ہوتا ہے
03:18خیر وہ تو ایک دیا دور تھا
03:20اس وقت اگر
03:21اس بریرہ کے مالکان کا
03:24کسی چیز سے
03:25نواقفی کا اظہار کرنا
03:27ظاہر ہوتا
03:28تو قبول کر لیا جاتا
03:29کہ وہ نئی نئی شریعتیں
03:30ان کو پتا نہیں ہوگا
03:31لیکن اب تو قرآن بھی واضح ہے
03:33حدیث بھی واضح ہے
03:34جو جس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا ہے
03:37جس بھی
03:38فکر کو فالو کرتا ہے
03:40اسے اپنے فکر کے مسائل
03:42بلکل بنے بنائے
03:43موجود
03:44ملتے ہیں
03:45لیکن ہمارا حال بھی یہ ہے
03:46کہ ہم اکثر ایسی ہوتا ہے
03:48کہ
03:49شرعہ احکام کو
03:50اپنی عقل کے ترازوں میں
03:52تول کر
03:53حل کر رہے ہوتے ہیں
03:54اور ہم
03:55بہت سارے ہمارے بھائی بین ایسے ہیں
03:57جن کو دینی شعور حاصل نہیں ہیں
03:58ان کو یہ بھی نہیں پتا
03:59کہ مفتی کسے کہتے ہیں
04:01اور ایک دار العلوم
04:03کہاں واقع ہے
04:03اور اس میں دار العفتہ
04:05کیا کام کر رہا ہوتا ہے
04:07اور کس سے ہمیں
04:08رہنمائی لینی چاہیے
04:10وہ کچھ بھی معلوم نہیں ہوتا
04:12ایسے سے گھرانے میں نے دیکھے ہیں
04:14پھر جب کوئی ایسے لڑائی جھگڑے کا
04:15معاملہ ہوتا ہے
04:16کوئی مالی معاملات ہوتے ہیں
04:17تو آپ اس میں بیٹھ کر
04:18اپنی عقل کے ذریعے
04:20اس کو سولف کرنے کی کوشش کرتے ہیں
04:22اور یقینی سی بات ہے
04:23کہ دین
04:24عقل سے حل نہیں ہوتا
04:25جب ایک تعلیم پوری
04:27نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:29نے باقاعدہ
04:30اللہ تعالیٰ کے حکم سے
04:32ایک طویل عرصے میں
04:32عطا کر دی ہے
04:33تو اسی کے تابع چلیں گے
04:35یہ بلکل یوں سمجھ لیجئے
04:37کہ جیسے کوئی
04:38اسکول کالیج ونسٹری میں جائے
04:39اور جو سلیبس مقرر ہے
04:41اس کو ہٹا دے بلکل
04:42اور جتنے بھی بھی
04:43اس میں سبجیکٹ ہیں
04:44ان کو اپنی عقل سے حل کر کے
04:46خود اس میں سب کچھ گڑ بڑے کر کے
04:48اور ایک نتیجہ نکال کر
04:49اور کہیں
04:50اب اس کا امتحان مجھ سے لے لیں
04:51تو یقینی سی بات ہے
04:53کہ یہ قابل قبول نہیں ہوگا
04:55ایسی مذہب کا معاملہ
04:56تو اس سے کہیں زیادہ سنسٹیو ہوتا ہے
04:58کہ دنیاوی معاملے
04:59تو چلے پھر بھی
05:00عقل سے سولف ہو سکتے ہیں
05:09کہ میں ایک ایزے مفتی ورک کر رہا ہوں
05:10ایک طویل عرصے سے ورک کر رہا ہوں
05:12پہلے سب لڑائی جھگڑے کر لیتے ہیں
05:14غلط طریقے سے انویسمنٹ ہو رہی ہے
05:16غلط طریقے سے
05:18اجرت تیہ ہو رہی ہے
05:19کہ یہ کام کرو گے
05:20اتنے پیسے ہم تمہیں دیں گے
05:21لیکن شرطیں غلط لگا رہے ہوتے ہیں
05:23اور کام کو بالکل خراب کر دیتے ہیں
05:25ایسے شادی بیعہ کے معاملات میں
05:26اور اتنی غلط غلط شرطیں ہوتی ہیں
05:29کہ بس الامان والحفیظ
05:31اور اس کے بعد جب وہ پھنس جاتے ہیں
05:34کسی کوئی گڑھ بڑھ ہو جاتی ہے
05:35اپنی مرضی کے خلاف معاملہ ہو جاتا ہے
05:37پھر وہ کہتے ہیں
05:38کہ اب کسی مفتی صاحب کو بھی عزت دے دیں
05:40تو کہتے ہیں
05:41کہ یہ بیس سال پہلے ایسا ہوا تھا
05:43مفتی صاحب اب بتائیں
05:44اب یعنی بیس سال سے
05:46پچیس سال سے
05:47دس سال سے
05:47آپ کو غلطیاں مسلسل کرتے چلے جا رہے ہیں
05:50اور شریعت کے طرف نہیں آئے
05:51جس کا نقصان ہوا
05:52اس لئے ہم اکثر یہ جملہ کہتے ہیں
05:54کہ اپنے گھر کے دروازوں کو
05:57شریعت کے لئے کھول دیجئے
05:59تاکہ لوگ
06:01آپ کے گھر میں دین آئے
06:02اور اس کی روشنی میں
06:04آپ مسائل کو حل کریں
06:05ورنہ آخر جملہ
06:06اس پر یہ ہے بس میرا
06:07کہ بروز قیامت
06:09آپ یہ نہیں کہہ سکتے
06:10کہ اللہ تعالی مجھے معلوم نہیں تھا
06:12اللہ نے قرآن میں واضح فرمایا
06:17تو اہل علم سے question کرو
06:19اللہ تعالی یہ بیان فرمایا گا
06:21کہ تمہیں میدان مہاشر میں
06:22یہ عذر بیان کرنے کی جورت
06:25اس وقت ہوتی
06:25کہ جب تم دنیا میں
06:27کسی سے معلوم کر لیتے
06:28یا ہمارا یہ حکومی نہ ہوتا
06:30فَسَلُوا أَحْلَ ذِكْرِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
06:33لیکن اب جب یہ سب کچھ دنیا میں موجود تھا
06:35ہدایت کے ازباب بھی تھے
06:37علماء بھی تھے
06:38نئی معلوم کیا
06:38تو یہ عذر وہاں نہیں چلے گا
06:40اس لئے شریعت کے معاملے کو پیش اندر رکھیں
06:50اگر فروخت کرنے والے نے
06:51کسی خاص جگہ تک سواری کرنے کی شرط لگائی
06:54تو یہ جائز ہے
06:56یعنی اگر آپ کو خریدتے ہیں
06:58کوئی جانور وغیرہ
06:58یا گاڑی خریدتے ہیں
06:59کسی نے کہا میں فلا جگہ تک لے جاؤں گا
07:01پھر آپ کو دے دوں گا
07:03یا جانور وہاں تک ٹھیک ہے
07:05یا خود خریدنے والا یہ کہے
07:07کہ چلیں آپ وہاں تک لے جائیں
07:08آپ سواری کر لیں
07:09پھر مجھے دے دیں
07:10تو یہ جائز ہوتا ہے
07:12حدیث نمبر ہے
07:12دوہزار سات سو اٹھارہ
07:14حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ نے بیان کرتے ہیں
07:16کہ وہ اپنے ایک ایسے اونٹ پر سواری کر رہے تھے
07:20جس نے ان کو تھکا دیا تھا
07:22یعنی بڑا سست اونٹ تھا
07:23یہ غزوے پہ گئے تھے
07:25غزوے سے واپس آ رہے تھے
07:26اور یہ پہلے بھی حدیث آ چکی ہے
07:28جس کا پسمندر یہ ہے
07:29کہ آپ کے والد صاحب کا انتقال ہوا تھا
07:32حضرت عبداللہ کا
07:33ان کی کئی بیٹیاں تھی
07:34یعنی حضرت جابر کی بہنیں
07:36تو انہوں نے پھر
07:37تمام بچیوں کی کفالت حضرت جابر کو دی
07:41اور وہ بچیاں چونکہ چھوٹی تھیں
07:43اس لئے آپ نے سوچا
07:44اگر میں کسی عورت سے نکاح کرتا ہوں
07:45اور وہ غیر شادش شدہ ہوگی
07:47تو اتنی بچیوں کو نہیں سمال سکے گی
07:49تو پھر آپ نے ایک
07:50مطلقہ یا بے وخات ان سے نکاح فرمایا تھا
07:53اب یہ غزوے سے واپس آ رہے تھے
07:55تاکہ جلدی میں گھر پہ پہنچوں
07:56اور وہاں کے معاملات دیکھوں
07:57لیکن آپ کا سواری کا جانور چلنے کا نام نے لے رہا تھا
08:01تو آپ فرماتے ہیں
08:02کہ اپنے ایک اونٹ پر سواری کر رہے تھے
08:04جس نے ان کو تھکا دیا تھا
08:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:07وہاں سے گزرے
08:08تو اس کو ایک ہلکی سی چھڑی ماری
08:12ایک روایت میں ہے
08:13کہ نیزہ تو پڑا سے چوب ہویا
08:15اور اس کے لئے دعا کی
08:16تو وہ اس وقت تیز چل رہا تھا
08:19یعنی اتنا تیز چل رہا تھا
08:20کہ وہ اس سے پہلے
08:21کبھی اتنا تیز نہیں چلتا تھا
08:24یعنی سرکار نے ایک مورزہ دکھا دیا
08:26بس ایک چھڑی ٹچکی ہے
08:28اور وہ تیز رفتار ہو گیا
08:29پھر آپ نے فرمایا
08:31کہ یہ مجھے ایک وقیہ
08:32یعنی چالیس درہم کے عوض فروخت کر دو
08:36میں نے کہا کہ نہیں
08:37یعنی آپ بغیر قیمت کے لے لیں
08:39مرادیتہ نہیں ہے
08:40یعنی آپ سے میں قیمت لوں گا
08:43آپ نے فرمایا
08:44کہ یہ مجھے ایک وقیہ کے عوض فروخت کر دو
08:46پھر دوبارہ جملہ کہا
08:47تو میں نے اس کو فروخت کر دیا
08:50اور اپنے گھر تک
08:51اس پر سواری کرنے کو
08:53مستثنہ کر لیا
08:54یعنی میں نے پرمیشن لے لی
08:56کہ میں آپ کو بیشتا ہوں
08:57لیکن اگر میں بیش کے اتر جاؤں گا
08:58تو کیسے جاؤں گا
08:59تو آپ مجھے محولت دے دیں
09:07اس اونٹ کو لے کر
09:08آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا
09:09آپ نے مجھے اس کی نقد قیمت دے دی
09:12پھر میں لوٹ گیا
09:14آپ نے میرے پیچھے کسی کو بھیجا
09:17آپ نے فرمایا
09:18کہ میں تمہارا یہ اونٹ نہیں لے رہا
09:20تم یہ اونٹ لے جاؤ
09:21یہ مال تمہارا ہے
09:22یعنی پیسے بھی دے دی ہے
09:24اور اونٹ بھی عطا فرما دیا
09:27تو یہ روایت پہلے گزر چکی ہے
09:28اس میں خاص ایک مقام جو ہے
09:31جس کو ہمیں سوچنا چاہیے
09:33کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں
09:36ہر چیز کے لئے
09:37کوئی نو کوئی وسیلہ اور ذریعہ پیدا کیا ہے
09:40براہ راست عطا کرنا
09:41یہ اللہ تعالیٰ کی عادت کریمہ میں شامل نہیں
09:45اگرچہ وہ اس پر قادر ہے
09:46مثلا میں بیٹھا ہوں
09:47میں چاروں پانی آ جائے
09:48تو اللہ تعالیٰ مجھے پانی دے سکتا ہے
09:50میں چاہوں کھانا آ جائے
09:52تو بغیر کسی وسیلے
09:53کہ اللہ تعالیٰ مجھے کھانا عطا فرما سکتا ہے
09:56لیکن اس نے دنیا میں
09:57ہر چیز کے لئے کوئی نو کوئی وسیلہ رکھا ہے
10:00ہماری صحت کھانے پینے کے وسیلے سے آتی ہے
10:02کھانا پینا پیسے کے وسیلے سے آتا ہے
10:04پیسہ بہنت کے وسیلے سے آتا ہے
10:06بچہ پیدا ہوتا ہے
10:07تو ماں باپ اس کا ذریعہ بنتے ہیں
10:09اس طرح آپ سوچتے چلے جائیں
10:10پھر یہ جو اللہ نے وسائل اور ذرائع مقرر کی ہیں
10:13بعض ماں تحت الاسباب نظر آتے ہیں
10:15بعض ماں فاؤقل اسباب نظر آتے ہیں
10:19یعنی بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں
10:21کہ وہ ذریعہ بنتا تو ہے
10:22لیکن وہ ایسا ہوتا ہے
10:23کہ آدھی طور پر ہوتا ہے
10:25جس سے کسی نے کہا
10:26جی دعا کر دیں میرے بچہ ہو جائے
10:27کسی بابا جی نے دعا کی
10:28کچھ عرصے بعد اولاد ہو گئی
10:30تو یہ دعا سے ایک طرح سے مدد کر دی
10:33تو یہ لیکن ماں تحت الاسباب ہے
10:35یعنی آدھی طور پر
10:36جو ہم معاملات کر رہے ہوتے ہیں
10:39دوسرے بھی اس کی نسل کر سکتے ہیں
10:41چلیں یوں آسان کر لیں
10:42ایسے کسی نے کہا
10:44یا مجھے پیسے کی ضرورت ہے
10:45اپنے پیسہ نکال کر دے دیا
10:46یہ مدد بھی ماں تحت الاسباب ہے
10:49اور ایک ہوتا ہے
10:50ماں فاؤقل اسباب
10:52کہ وہ اسباب سے اوپر ہوتی ہے
10:54درمیان میں جو امور عادیہ ہوتے
10:56وہ نظر نہیں آتے
10:57اور سامنے والے کو
10:58ایک برکت یا کوئی شیح حاصل ہو جاتی ہے
11:00یہ کبھی بطریقہ مرزہ ہوتا ہے
11:03اور کبھی بطریقہ کرامت ہوتا ہے
11:06تو یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:08نے جو ان کی مدد فرمائی
11:09کہ اونٹ چلی نہیں رہا تھا
11:10آپ نے دیکھیں
11:11ازباب سے اوپر ہو گئے
11:13ایک چھڑی بس خالی لگائی
11:15چھڑی لگانے سے کیا
11:16وطوانائی کیسے آگئی
11:17گھوڑا کیسے طاقتور ہو گیا
11:19اس کی پہلی تھکن کیسے دور ہو گئی
11:22وہ چاکو چوبند کیسے ہو گیا
11:24یہ اقل میں آنے والی چیز نہیں ہے
11:25اور اس کی مثل لانے سے
11:27لوگ آجز رہیں گے
11:29وہ نہیں کر سکتے
11:30تو اسی کو مورزہ کہتے ہیں
11:31کہ جس میں
11:35اپنے سامنے والے کے کیے گئے
11:37عمل کے مقابل
11:38کوئی چیز لانے سے آجز آجاتا ہے
11:40اس کو مورزہ کہتے ہیں
11:41اور اس کا ظہور نبیوں سے ہوتا ہے
11:43اس سے معلوم ہوا
11:44کہ اللہ تعالی حقیقتن
11:45ازباب اور ذرائع کا محتاج نہیں ہے
11:48وہ اگر چاہتا ہے
11:49یعنی اس کی اپنی عادت
11:50اس نے قائم کی ہے
11:51تو اس نے ایسا کر دیا
11:52کہ سننے کے لئے کان بنا دیئے
11:54سنگنے کے لئے ناک بنا دی ہے
11:56چکنے کے لئے زبان
11:57چھونے کے لئے ہاتھ
11:58پکڑتے کے لئے ہاتھ
11:59چلنے کے لئے پیر
12:00ورنہ اگر وہ چاہتا ہے
12:01تو یہ تمام چیزیں
12:02بغیر ان آزا کے بھی
12:04ہمیں حاصل ہو سکتی تھی
12:05ہم اپنے کان سے دیکھتے
12:08ناک سے سنتے
12:10فرض کر لیں
12:11اور ہاتھ سے کھاتے ہاتھ پہ
12:12رکھتے ایک دمندگ
12:13غائب ہو جاتا
12:14اور پیڑ بھر جاتا
12:15اللہ تعالیٰ اس پر قادر
12:16یہ بات کہنے کا مقصد یہ ہے
12:18کہ ہمارے بہت سارے بہن بھائی
12:20اللہ تعالیٰ سے بہت جلد
12:22طلب کے بعد
12:24مایوسی سے محسوس کرتے ہیں
12:25کہ جب ان کے
12:26مطلب کی چیز حاصل نہیں ہوتی
12:28تو پھر وہ چلے جاتے ہیں
12:29عاملین کے پاس
12:30پھر وہ چلے جاتے ہیں
12:31کسی اور کی طرف
12:32یا اللہ تعالیٰ سے
12:33مایوس ہونے لگتے ہیں
12:35زبان پہ شکوہ شکایت آ جاتی ہے
12:37وہ ایسی چیزوں کو غور سے دیکھیں
12:38کہ اللہ تعالیٰ عطا کرنا چاہے
12:40تو بغیر وسیلے کے بھی عطا کر سکتا ہے
12:42وہ اس کے پوری کائنات کے خزانے
12:45اسی کے دست قدرت میں ہیں
12:46اس کی بارگاہ کو چھوڑ کر
12:48کہاں جا کر مانگیں گے
12:49تو اس لیے
12:50وسیلہ اختیار کرنا
12:51کوئی منع بھی نہیں ہوتا
12:52لیکن اس طرح
12:54کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے
12:55مایوس ہو کے
12:55کسی اور طرف آپ جائیں
12:57کہ شاید اللہ تعالیٰ دینے پہ قادر نہیں
12:59عامل پہ زیادہ بھروسہ ہے
13:01یا کسی صاحبِ مزار کے پاس
13:02جا کے جب آپ فریاد کر رہے ہیں
13:04تو زیادہ مضبوطی باطن میں
13:06محسوس کر رہے ہیں
13:07اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کر رہے ہیں
13:09تو آپ کی فریاد میں
13:10ضعوف ہے
13:11کمزوری ہے
13:12مایوسی کا انصر بہت زیادہ ہے
13:14کہ اللہ تو دینیرہ میں
13:15بہت عرصے سے کر رہا ہوں
13:16اب چلو ان بذرگ کو آزما لیتے ہیں
13:19حالانکہ عقیدہ صحیحہ یہی ہے
13:20کہ وہ بذرگ کے اپنے پاس سے
13:22کچھ دے سکتے ہیں
13:23جب تک اللہ تعالیٰ ان کو عطا نہ کریں
13:26کوئی بڑے سے بڑا بزرگ بھی
13:28ایک تنکہ بھی آپ کو
13:29اللہ تعالیٰ کی عطا کی بغیر
13:31دینے کا دعویٰ کرتا ہوا
13:33نظر نہیں آئے گا
13:34تو اس لئے
13:35اللہ سے لو لگائیں
13:36اور یہ سمجھ لیں
13:37کہ جو بھی آپ کا مسئلہ ہے
13:38کسی بھی قسم کا
13:39وہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کریں
13:41وہ ختم کرنے پر خدرت رکھتا ہے
13:42اور اللہ کے قریب رہیں
13:45دوسری بات یہ ہے
13:46کہ دیکھیں
13:46جو بڑا ہوتا ہے
13:47اگر اللہ تعالیٰ نے
13:48اس کو نعمت عطا فرمائی ہیں
13:51وسائل دیئے ہیں
13:52تو اپنے چھوٹوں پر کرم کرتا رہے
13:54جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:56نے صحابہ اکرام پر بہت کرم کی ہے
13:58اور رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
14:00نے کبھی دولت کو
14:01دنیاوی مال و مطاع کو
14:03اہمیت نہیں دی ہے
14:04بلکہ اپنے غلاموں کو دی ہے
14:06اسی لئے پھر وہ دل لگا کر
14:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
14:16اپنے ماتحت جتنے بھی ہیں
14:18انہیں جتنا ممکن ہو سکتا ہے
14:20انہیں اپنے قریب رکھے
14:21اور اگر اس کا کوئی خاص مقصد ہے
14:24کوئی گول ہے
14:24اس کو اچیف کرنا ہے
14:25تو پھر اس کے لئے
14:27اس کو لازم بات ہے
14:28کہ افرادی قوت چاہیے
14:29اور افرادی قوت
14:30اخلاص کے ساتھ آپ کے ساتھ رہے
14:32تو پھر اظہار کرم ہونا چاہیے
14:34یہ نہیں ہے
14:35کہ اپنے غلاموں کے
14:36نام پر آپ
14:38ان سے تو حاصل کرتے رہیں
14:39بلکہ ان سے نظرانے لیتے رہیں
14:41اور ان کو دیں کچھ نہیں
14:42اس سے پھر لوگ آپ سے متنفر ہوں گے
14:44اور دور ہو جائیں گے
14:45اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
14:47کا اصوائے حسنہ اختیار کرنا چاہیے
14:49اگر آپ کی کوئی فیکٹری ہے
14:52آپ مثال کے طور پر
14:54کوئی آفس چلا رہے ہیں
14:56تو جتنے آپ کی ماتحاد ہیں
14:57جتنے آپ ان کو
14:58اللہ نے مصدی ہو
15:00ریایت میں خیال کریں
15:01اگر وہ بھی اچھے قابل مروت ہوں
15:04کیونکہ بعض اوقات تو ایسا ہوتا ہے
15:05کہ آپ کسی نشلے طبقے کے ساتھ
15:07اچھا سلوک کرتے ہیں
15:08تو وہ اس کو اپنے ذاتی کمال
15:09سمجھنا شروع کر دیتے ہیں
15:11اور نخرے شروع کر دیتے ہیں
15:12یہ غلط ہے
15:12آدمی کو بھی دیکھ لینا چاہیے
15:15لیکن اکثر میں نے دیکھا ہے
15:16کہ جو پھر مل آنر ہے
15:17یا کوئی آفس کا
15:19مطلب ٹاپ منیجمنٹ میں ہے
15:21وہ اگر ماتحاد پر کرم کرتا ہے
15:22تو بڑا دل لگا کر لوگ کام کرتے ہیں
15:25اور بہت اچھے انداز سے
15:26حضرت امیر المومنین
15:28عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے
15:30جب امیر المومنین بنے
15:33آپ نے خلافت کا منصر لیا
15:35تو آپ نے تمام مجاہدین کی
15:37سیلری کو ڈبل کر دیا تھا
15:39اور آپ نے فرمایا تھا
15:41کہ کرپشن روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے
15:43جب آپ سیلریز اچھی رکھتے ہیں
15:45تو پھر لازم بات ہے
15:46کہ آدمی کو جب مل رہا ہوتا ہے
15:48تو وہ دیانتداری سے کام کرتا ہے
15:49اس کو دوسرا خوف یہ ہوتا ہے
15:50مجھے نوکری سے نکالیں گے
15:51اتنی اچھی نوکری چھوڑ جائے گی
15:53اس لیے وہ دیانتداری سے کام کرتا رہے گا
15:55لیکن جب بہت کلیل تنخائیں ہوتی ہیں
15:58اور کام بہت زیادہ لیا جاتا ہے
16:00تو اس میں پھر وہ
16:01جب موقع ملتا ہے
16:02وہ چھوڑ کے بھاگ جائے گا
16:03یا کوئی خدا نہ خواستہ
16:05اگر وہ خوف خدا نہیں رکھتا
16:07تو خیانت کا ارتکاب کرے گا
16:08اور اس سے نقصان ہوتا ہے
16:09تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی
16:11اکثر یادت تھی
16:12کہ اپنے غلاموں پہ کرم کرتے تھے
16:14جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
16:16باقاعدہ پہلے اونٹ خریدنا
16:18کہ چلو یہ سست اونٹ ہے
16:20سرکار نے لے لیا
16:21ان کو پیسہ مل جائے گا
16:22پھر اس کو
16:24اونٹ کو طاقتور کر دینا
16:26بطریق موجزہ
16:27اس کے بعد استثناء دینا
16:29کہ بھی تم بیٹھے رہو
16:30مدینہ تک
16:31تم اس پر سواری کر سکتے ہو
16:33اور اس کے بعد پیسے بھی واپس کر دیئے
16:35یہ چیزیں سوچنے والی ہیں
16:36اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھنے کے
16:37توفیق عطا فرمائے آمین
16:39وآخر دعوانا
16:40ان الحمدللہ رب العالمين
Comments