Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30جب کوئی شخص دعویٰ کرے
00:32یا اپنی بیوی پر
00:34زنا کی تحمت لگائے
00:36تو اس کے لئے گواہ تلاش کرنا جائز ہے
00:39اور وہ گواہ
00:40طلب کرنے کے لئے روانہ ہو
00:43اس کا باب
00:43اس سے پہلے کہ میں حدیث ذکر کروں
00:46پہلے بھی تھوڑی سی تفصیل ذکر کی ہے
00:48ایک دفعہ اس حدیث کے
00:50معافق ذکر کر دیتے ہیں
00:52کہ دیکھیں جب کوئی کسی پر زنا کی تحمت لگاتا ہے
00:55کہ اس نے زنا کیا ہے
00:57یہ کہہ دے کہ یہ
00:58بچہ اس عورت کا نہیں ہے
01:00اس نے گناہ کر کے کیا ہے
01:02یہ سمجھے لئے زنا کی تحمت ہے
01:03اگر ایسا ہے
01:05اور جس کے اوپر الزام لگایا ہے
01:07وہ انکار کرتا ہے
01:08وہ چلے جاتا ہے
01:09قاضی کے پاس
01:10جیسے پہلے قاضی ہوتے تھے
01:12فیصلہ کرتے تھے
01:13تو میں شرعی عدالت کی بات کر رہا ہوں
01:15تو پھر وہ قاضی اس کو بلائے گا
01:18اور بلانے کے بعد کہے گا
01:19چونکہ تم نے زنا کی تحمت لگائی ہے
01:21کسی کے اوپر
01:22اور یہ بہت بڑی تحمت ہے
01:23اس کے بعد
01:24یہ کتنا بدنام ہوگا
01:25یہ عورت ہے
01:26تو کتنی بدنام ہوگی
01:27اور اس کے لئے عزت کے ساتھ
01:29زندگی گزارنا مشکل ہوگا
01:31لہذا یا تو ثابت کرو
01:32تاکہ ہم اس پہ سزا جاری کریں
01:34اور اگر ثابت نہیں کر سکے
01:36تو خود تم پہ سزا جاری ہوگی
01:38اچھا کیسے ثابت کریں
01:40اب آپ لائیں چار گواہ
01:42چاروں مرد ہونے چاہیئے
01:45اگر وہ لے آتا ہے فرض کر لیں
01:47لیکن چار گواہ
01:48کہاں ملیں گے
01:48ایک ہی فیل کے اوپر
01:50کسی معاملے کو دیکھنے والے چار گواہ
01:52لیکن چلو بالفرض لے آئے
01:54تو قاضی سب سے
01:55الیدہ الیدہ انویسٹیگیشن کرے گا
01:58مثلا ایک گواہ کو بلائے گا
02:00باقی تین کو الیدہ کر دے گا
02:01ان کو نہیں پتا کیا ہو رہا ہے اندر
02:02ہاں یہ بتاؤ
02:04تم نے کیا دیکھا تھا
02:05کس کس کو زنا کرتے ہوئے دیکھا تھا
02:07وقت کیا تھا
02:09فلان فلان
02:10اس طرح ایک سے پھر دوسرے سے پھر تیسرے سے پھر چوتھے سے
02:13اگر ان کے بیانات
02:15آپس میں ملتے جلتے نہ ہو
02:17ایک نے کہا میں نے دن میں دیکھا
02:18دوسرے نے کہا میں نے رات میں دیکھا
02:20ایک نے کہا کہ فلان کمرے میں تھے
02:23ایک نے کہا نہیں برامدے میں تھے
02:25یہ ذرا بیان میں تضاد پیدا ہوا
02:27یہ گواہ رد کر دیے جائیں گے
02:29گویا کہ جس نے الزام لگایا تھا
02:31اب اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے
02:33اور گواہ لاؤ
02:34یہ اور تو نہیں ہے
02:36تو پھر اس کو یہ سمجھ لیجئے
02:38کہ اب یہ جس نے تحمت لگائی تھی
02:40اس کو کہیں گے قذف
02:41قوف
02:42ذال
02:43فا
02:43قذف
02:44اور قذف کا مطلب ہوتا ہے
02:46زنا کی جھوٹی تحمت لگانا
02:48اب چونکہ یہ گواہ پیش نہیں کر سکا
02:51تو اس پہ حد جاری ہوگی
02:52یعنی سزا جاری ہوگی
02:53حد اس سزا کو کہتے ہیں
02:55جو اللہ یا اس کے رسول نے
02:56مقرر کر دی
02:58اور ہم لوگوں کو اس میں تبدیلی کا کوئی اختیار نہ ہو
03:01تو اسے حد قذف کہتے ہیں
03:03اور یہ ہے اسی کوڑے
03:04جس نے الزام لگایا ہے
03:06اگر یہ مرد ہے
03:07تو اس کے کپڑے اوپر کے اتار دیے جائیں گے
03:09یہ نشلوار تو پہنی ہوگی
03:11کمیز وغیرہ بنیان سب اتار کر
03:13اس کو سرعام کھڑا کیا جائے گا
03:16خود قرآن کہہ رہا ہے
03:17کہ اس وقت کچھ لوگ ایسے ہوں
03:19جو اس کو وہاں پر موجود ہوں
03:21اور ان کے دل میں
03:23اس کے لیے کوئی رحم پیدا نہ ہو
03:24اور اسی کوڑے اس کو لگائے جائیں گے
03:27اس کا مطلب ہے کہ شریعت کی نگاہوں میں
03:30کسی پر جھوٹے زنہ کی تحمت لگانا
03:33اتنا غلیظ ہے
03:34اتنا برا ہے
03:36کہ یا تو آپ ثابت کریں
03:38کہ واقعی یہ غلیظ ہے
03:39اور اگر یہ نہیں ہے
03:40آپ گواہ پیش نہیں کر سکے
03:42تو پھر آپ نے غلط کی سزا ملے گی
03:44تو پہلے تو اصول یہ تھا
03:47مطلب جب تک لعان کی آیات
03:50نازل نہیں ہوئی تھی
03:51آیت یا حدیث میں لعان نہیں ہوا تھا
03:54وہ لعان کیا میں بتاتا ہوں
03:55تو کوئی بھی کسی پر بھی تحمت لگاتا
03:58مرد عورت پر عورت مرد پر
04:00تو یہی تھا
04:01کہ پہلے گواہ لاو نہیں لائے
04:02تو اسی کوڑے ہیں
04:03پھر معاملہ یہ ہوا
04:06کہ شوہر اگر بیوی پر تحمت لگائے
04:10تو اس کا الگ مسئلہ ہو گیا
04:12باقی تین صورتوں کا مسئلہ لے دا تھا
04:15مثلا ایک مرد کسی عورت کے اوپر
04:17زنہ کی جھوٹی تحمت لگائے
04:19کوئی بھی اجنبی عورت پر
04:20یا اجنبی عورت اجنبی مرد پر لگائے
04:23دو صورتیں
04:24یا بیوی شوہر پر لگائے
04:26یہ تین صورتیں
04:27ان کا الیدہ حکم ہوا
04:29وہی جو ابھی میں نے پورا بیان کیا
04:31اور اگر شوہر بیوی پر زنہ کی تحمت لگائے
04:34تو پھر اس کا حکم الیدہ ہو گیا
04:37وہ کیا حکم ہے
04:38کہ سب سے پہلے
04:39اگر کوئی شوہر اپنی بیوی پر کہتا ہے
04:41کہ تُو نے زنہ کیا ہے
04:42یا اپنے بچے کو دیکھ کر کہا
04:44یہ میرا بچہ نہیں ہے
04:45تُو نے کسی کے ساتھ
04:47ماد اللہ گناہ کر کے
04:48اس کو پیدا کیا ہے
04:49تو یہ گویا کہ بیوی پر
04:50زنہ کی تحمت لگانا ہے
04:52تو اگر وہ بیوی
04:54قاضی کے پاس چلی جاتی ہے
04:56اگر تو اس تحمت کو برداشت کر لیتی ہے
04:58کہتی ہے
04:58میں اپنا معاملہ اللہ پہ چھوڑتی ہوں
05:00تم پہ اللہ کا غضب نازل ہو
05:01تم ہی کیا کر رہے ہو
05:02وغیرہ وغیرہ
05:03تب تو کچھ نہیں ہے
05:04لیکن اگر وہ عورت چلی جاتی ہے
05:05قاضی کے پاس
05:06تو پھر قاضی شوہر کو بھی بلائے گا
05:08پہلے بیوی سے کہے گا
05:10اقرار کر لو
05:10کہ یہ اپنی الزام میں سچا ہے
05:13عورت کہتی ہے
05:14کہ نہیں میں نہیں
05:14یہ جھوٹا ہے
05:15میں نہیں اقرار کروں گی
05:17اگر تو اقرار کر لیتی
05:18زنہ ثابت ہو جاتا
05:19پھر اس کو سزا ملتی
05:20لیکن اس نے انکار کر دیا
05:21تو شوہر سے کہا جائے گا
05:22تم مان لو کہ تم جھوٹے ہو
05:24تم نے جھوٹی تحمت لگائی ہے
05:26اگر وہ کہے کہ
05:27نہیں میں نے تو نہیں لگائی
05:28میں تو سچ کہہ رہا ہوں
05:30تو اب یہ نہیں کہیں گے
05:31شوہر سے کہ جاؤ گواہ لے کر آؤ
05:32ٹھیک ہے نا
05:33اب حکم کیا ہوگا
05:34لیان کرنے کا حکم ہوگا
05:37اور اس کا طریقہ یہ ہوتا ہے
05:38جو نبی کریم نے پھر یہ لیان کروایا
05:40کہ ایک شوہر نے جب بیوی کے بارے میں
05:42ایسا کہا
05:42تو سرکار نے فرمایا
05:44کہ تم چار مرتبہ گواہی دو
05:45کہ جو کچھ تم کہو گے
05:48اس عورت کے بارے میں میں کہہ رہا ہوں
05:50میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں
05:51کہ اس میں میں سچا ہوں
05:52چار دفعہ یہ کہو
05:53اور پانچویں دفعہ کہو
05:55کہ اگر میں اس معاملے میں
05:57جھوٹ بول رہا ہوں
05:59تو مجھ پر
05:59اللہ کی لعنت نازل ہو
06:01یہ کر لے گا
06:03پھر عورت سے کہا جائے گا
06:05کہ اب تم چار
06:06پانچ گواہی دو
06:07جس میں چار میں
06:08تو یہ کہو
06:08کہ میں اللہ کو گواہ بناتی ہوں
06:10کہ یہ شخص
06:11اس میرے الزام میں
06:12مجھ پہ جو الزام لگا ہے
06:13اس میں جھوٹا ہے
06:14چار دفعہ یہ
06:15اور پانچویں مرتبہ کہیں
06:17کہ اگر یہ اپنے الزام میں سچا ہو
06:19میں جھوڑ بول رہے ہوں
06:20تو مجھ پہ اللہ کا غضب نازل ہوں
06:23جب یہ کر لیں گے
06:24اس کے بعد پھر قاضی کے لئے حکم ہوگا
06:26کہ وہ ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دے
06:29جب یہ دونوں لے
06:30اس کو لیان کہتے ہیں اس پورے فعل کو
06:32یہ لیان کر رہے ہوں گے
06:33لیان کرنے کے بعد بھی فورا جدائی نہیں ہوگی
06:36میں بیوی ہیں
06:36لیکن پھر جب قاضی دیکھ لے گا
06:39لیان کمپلٹ ہو گیا
06:40تو ان کے درمیان تفریق کروا دے گا
06:42اور یہ تفریق طلاق بائین کہلاتی ہے
06:45یعنی طلاق ہو جائے گی
06:47اور نکاح ختم
06:48تو یہ ذہن میں رکھیں
06:50اب ہمارے ہاں چونکہ یہ شریعت کے مطابق
06:53تو فیصلہ ہوتا نہیں ہے
06:55تو اب گھروں کے اندر بعض وقت شوہر
06:57مو بھر بھر کے اپنی بیویوں پر
06:59زنہ کی تحمت لگا رہے ہیں
07:00عورت شوہر پہ لگا رہی ہے
07:02اور عورتیں آپس میں لڑ رہی ہوتی ہیں
07:05وہ ایک دوسرے پر زنہ کی تحمت لگاتی ہیں
07:07تیرہ تو چکر ہے
07:08تو تو فلان کے ساتھ مو کالا کرتی ہے
07:10فلان وہ اس کو کہہ رہی ہے
07:12مرد مرد کے اوپر تحمتیں لگا رہا ہے
07:14تو یہ آج یہاں آپ کو پتہ نہیں چلے گا
07:17میدان مہشر میں پتہ چلے گا
07:19ایسا کبھی بھی نہ کریں
07:20کسی پر ایسی جھوٹی زنہ کی تحمت لگائی ہے
07:23اس سے معافی مانگیں
07:24اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کریں
07:26اب یہ جو حدیث میں آپ کی خدمت میں ذکر کر رہا ہوں
07:29اس حدیث میں
07:30ایک صحابی تھے
07:32انہوں نے اپنی زوجہ کے اوپر
07:34الزام لگایا
07:35کہ یا رسول اللہ اس کو میں نے
07:37زنہ کرتے ہوئے دیکھا ہے
07:38یا زنہ کیا ہے اس نے
07:40تو اب ہونا کیا چاہیے
07:42لیان
07:42لیکن یہ جو حدیث ہے
07:44یہ لیان کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی ہے
07:47اور جب پہلے کی ہے
07:49تو وہی مددعی اور مددعی والا معاملہ ہوگا
07:52کہ سرکار نے ان سے فرمایا
07:53کہ اگر آپ یہ کہتے ہیں
07:55کہ آپ کی بیوی نے ایسا کیا ہے
07:56تو ایک پاکیزگی کی حالت ہوتی ہے
07:58پھر انسان زنہ کی حالت کی طرف جاتا ہے
08:01تو اس کا مطلب ہے
08:01پاکیزگی والی حالت اصل ہوئی
08:04اور زنہ والی حالت خلاف اصل ہوئی
08:06اور جو خلاف اصل کا دعویٰ کر رہا ہو
08:08وہ مددعی ہوتا ہے
08:10اور اس کے اوپر گواہ لانا لازم
08:13اگر شوہر الزام لگا رہا ہے
08:14کہ تم نے اس طرح کیا ہے
08:16تو گویا کہ یہ مددعی ہے
08:17سرکار نے فرمایا
08:18جاؤ گوہ لے کرو
08:19تو یہ لیان سے پہلے کی ہے
08:21اس لئے پھر اس شوہر کو
08:23گوہ لانے کے بارے میں کہا گیا
08:25اس لئے میں نے اتنی تفصیل بیان کی
08:27کہ ورنہ یہ حدیث سمجھ میں نہ آتی
08:28اب ذرا دیکھئے
08:30حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ
08:34اس کے راوی ہیں
08:35وہ بیان کرتے ہیں
08:36کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
08:38حضرت حلال بن امیہ نے
08:40اپنی بیوی پر شریک بن سحمہ کے ساتھ
08:44زنا کی تحمت لگائی
08:46تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
08:49کہ تم گوہ پیش کرو
08:50ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی
08:54انہوں نے کہا ہے
08:55یا رسول اللہ اب ہم میں سے
08:56کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس
08:58کسی شخص کو دیکھے
08:59تو کیا وہ گوہ تلاش کرنے کے لئے جائے گا
09:02تو نبی کریم
09:03یعنی اب تکوہ
09:04تو تنہائی میں تھا
09:05کوئی تھائی نہیں
09:05تو میں کہاں سے گوہ لاؤں
09:07لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
09:09یہی فرماتے رہے
09:10کہ گوہ پیش کرو
09:11ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی
09:14اور پھر حدیث لیان کا راوی نے ذکر کیا
09:17یعنی اس کے بعد
09:18وہ لیان کا حکم نازل ہو گیا تھا
09:20اور سرکار نے پھر حد جاری کرنے کے وجہے
09:23لیان کروایا
09:24تو اچھی طرح یاد رکھیں
09:26کہ اچھا یہاں جو ہے
09:28حلال بن عمیہ کا ذکر ہے
09:30اور بہت سی حدیثوں میں
09:32اوائمر کا ذکر ہے
09:34کہ اوائمر اجالانی ایک شخص تھے ان کا ہے
09:37یہ کئی جگہ پر ان کا ذکر ہے
09:39اور وہ زیادہ قوی حدیثیں اس کے تائد کرتی ہیں
09:43لیکن بہرحال یہ ایک معاملہ ہے
09:44اور آپ کو سمجھا دیا
09:46کہ اگر اب شوہر بی بی پر زنا کی تحمت لگاتا ہے
09:50تو یا تو وہ اقرار کر لے
09:51کہ میں اپنی تحمت میں جھوٹا ہوں
09:54تو وہی حد قضف لگے گی اس کو
09:55لیکن اگر شوہر اپنے اقرار پر قائم رہے
09:58لیکن گواہ پیش نہ کر سکے
10:00اور عورت انکار پر قائم رہے
10:02تو پھر ان کے درمیان لعان ہوگا
10:05اور آپ کو اندادہ ہے
10:07کہ جو جھوٹا ہوگا وہ تباہ ہوگا
10:10کیونکہ شوہر یہ کہے گا
10:12کہ اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں
10:13مجھ پہ لانت
10:14عورت کہے گی
10:14اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں
10:15مجھ پہ اللہ کا غزب نازل ہو
10:17تو یہاں تو نہیں پتہ چلے گا
10:18لیکن میدان محشر میں ہوگا
10:20اللہ تبارک و تعالی ہمیں
10:22ان چیزوں سے محفوظ رکھے
10:24اگلے باپ کی طرف آتے ہیں
10:27باب الیمینی بعد العصر
10:29عصر کے بعد قسم کھانے کا حکم
10:32حدیث نمبر ہے
10:34دو ہزار چھ سو بہتر
10:37حضرت ابو حریرہ رضی اللہ تعالی عنہ
10:40اس کے راوی ہیں
10:42وہ بیان کرتے ہیں
10:43کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
10:45کہ تین آدمیوں سے
10:48اللہ کلام نہیں فرمائے گا
10:50یعنی برود قیامت
10:51کلام نہیں فرمائے گا
10:52مراد ہے کہ رحمت والا کلام
10:55اور نہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا
10:58اور نہ ان کے باطن کو صاف کرے گا
11:02اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
11:05اچھا تین طرح کے آدمیوں سے مراد تین گروہ ہیں
11:09کیونکہ جن جس شخص میں
11:11یہ وصف پایا جائے گا
11:13یہ عصاف پایا جائیں گے
11:15وہ فرض کرنے ایک ہزار ہیں
11:16تو پھر ایک آدمی تو نہیں ہے نا
11:18وہ تو ہیں
11:18مثلا ایک شخص ہے
11:20اب جسے آگے بیان فرمائیں گے
11:21یہ یہ یہ معاملہ
11:23تو تین طرح کے معاملات
11:25اگر ایک گروہ میں یہ معاملات ہیں
11:27تو ان پہ بھی ایسے ہوگا
11:29دوسرا گروہ تیسرا گروہ
11:30تو ایک آدمی تو نہیں ہے
11:31تو مراد یہی ہے
11:32کہ یہ عصاف جس کے اندر ہوں گے
11:35ان پہ اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا
11:38اب بیان فرمایا
11:39کہ ایک وہ شخص جس کے پاس
11:40راستے میں
11:41زائد پانی ہو
11:43اور وہ اس پانی سے
11:45کسی مسافر کو
11:46منع کر دے
11:47دوسرا وہ شخص
11:49جس نے کسی دوسرے شخص سے
11:51بیعت کی
11:52اور اس نے
11:53اس سے صرف دنیا کے لیے
11:55بیعت کی ہو
11:56چنانچہ اگر اس نے
11:58اس کے ارادے کے
11:59موافق عطا کر دیا
12:01تو اس کے بیعت کو پورا کر دے
12:03ورنہ وہ اس کے بیعت کو
12:04پورا نہ کرے
12:06تیسرا وہ شخص
12:08جس نے عصر کے بعد
12:09کسی چیز کی
12:09کسی شخص کے لیے
12:10قیمت لگائی
12:12اور اس نے
12:13اللہ کی قسم کھائی
12:15کہ اس نے اس چیز کی
12:16اتنی اتنی قیمت
12:18دی ہے
12:19تو یہ
12:20جھوٹی یعنی قسم کھا
12:22کہ اس نے
12:22سودہ بیج دیا
12:23اور اللہ کی قسم کھا لی
12:25ان تین طرح کے لوگوں پہ
12:27غضب نازل ہوگا
12:28وضاحت تو پہلے بھی ہو چکی ہے
12:29مختصرہ نرس کر دیتے ہیں
12:31کہ پہلے دور میں ایسا ہوتا تھا
12:33کہ جیسے
12:33بددو لوگ ہوتے تھے
12:35کہیں پڑاو ڈالا ہوا ہے
12:36بارشیں ہوئیں
12:37انہوں نے تالاب بنا لیا گڑھا
12:38اور وہاں تھوڑا پانی جمع ہو گیا
12:40اب راستے کے مسافر جا رہے ہیں
12:42ان کو پانی کی ضرورت ہے
12:43لیکن بعض ایسے کنجوس ہوتے تھے
12:45بخیل ہوتے تھے
12:46کہ وہ پانی سے منع کر دیا کرتے تھے
12:48ان کے بارے میں سرکار نے فرمایا
12:50کہ جس کے پاس ضرورت سے زائد پانی ہو
12:53اور پھر مسافر اس سے بچارہ حالت پیاس میں مانگ رہا ہے
12:56کیونکہ پتہ نہیں پھر کہاں پانی ملے ہو سکتا ہے
12:58مر بھی جائے
12:59اور وہ منع کر رہا ہے
13:00تو اس کے لئے عذاب ہے
13:02یہ عذاب
13:02جو بیان فرمایا
13:04نہ کلام رحمت والا
13:05نہ اس پہ نظر رحمت ہوگی
13:07نہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر
13:09اور کوئی آسانی فرمائے گا
13:11بلکہ جہنم کا دردناک عذاب اس کے لئے ہوگا
13:13اور دوسرا بیان فرمایا
13:15کہ اگر کسی نے کسی کی بیعت کی
13:18مراد یہ کہ حاکم اسلام کی بیعت کی
13:21جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لی ہے
13:25صحابہ کرام سے ایک بیعت اسلام تھی
13:27اسلام میں داخل کرنے کے لئے بیعت مانا ہوتا ہے
13:30وعدہ کرنا
13:30احد کرنا
13:32کہ میں آپ کی اطاعت کروں گا
13:33اتباع کروں گا
13:35تو ایک تو سرکار بیعت اسلام لیتے تھے
13:37وہ یہ تھی کہ میں آپ کو نبی تسلیم کرتا ہوں
13:40میں آپ کا حکم تسلیم کروں گا
13:41وہ اسلام میں داخل ہوتے تھے کلمہ پڑھ کے
13:43اور ایک ہوتی تھی
13:45مختلف کاموں کا ارادہ کروانا
13:47جیسے آج کل ہماری یہ بیعت چلتی ہے
13:49جی پیر صاحب بیعت کروا رہے ہیں
13:51تو وہ وعدہ لیتے ہیں
13:53کہ بھئی آپ
13:53وہ کہتا ہے میں آپ کو اپنا پیر تسلیم کرتا ہوں
13:56رہنما تسلیم کرتا ہوں
13:57اور آپ جو حکم دیں گے
13:59میں اس کو پورا کروں گا
14:00تو بیعت کر لیں
14:01تو آپ اگر یہ سرکار فرما رہے ہیں
14:03کہ کسی کے
14:04یا اسی طریقے سے
14:06مطلب کوئی امیر ہے
14:07وہ جہاد کی کال دے رہا ہے
14:09اس کے ہاتھ پر بیعت کر لیں
14:11کہ ہم جہاد کریں گے
14:11لیکن مقصد غلط ہو
14:13کہ اگر یہ مجھے مال دے دے گا
14:15تو میں بیعت کو قائم رکھوں گا
14:16اور مال نہیں ملا
14:17تو توڑ کے بھاگ جاؤں گا
14:19تو اس طریقے سے
14:20بہت سارے لوگ تھے
14:21جو لالچی قسم کے ہوتے تھے
14:22وہ بیعت کر لیتے تھے
14:24اور پھر جب مال ملتا
14:25تو ٹھیک ورنہ بیعت توڑ دیتے تھے
14:27اس کو سرکار نے
14:28منع فرمایا
14:29زمانہ جہلیت کی جو بھی چیزیں
14:31میرے آقص صلی اللہ علیہ وسلم
14:33نے ملاحظہ فرمائیں
14:34اور ان کو
14:35مطلب اچھی صورت میں
14:38اسلام میں باقی رکھنا مقصود تھا
14:40تو سرکار نے
14:41اچھی صورت کی طرف لے کر آئے
14:43اور جو اس میں خراب چیزیں تھی
14:45اس کو منع کر دیا
14:46بیعت پہلے بھی تھی
14:47سرکار نے باقی رکھی
14:49لیکن اب وفاداری والی بیعت کرو
14:51مال کے اوپر نہ کرو
14:53کہ مثال کے طور پر
14:54کوئی جہاد ہو رہا ہے
14:55سپہ سالار ہے
14:57والی ہے
14:58یا کوئی بھی والی ہے
14:59وہ کہتا ہے
15:00آؤ جہاد کریں
15:02لوگوں نے آکے بیعت کر لی
15:03اس لیے کہ مال ملے
15:04اور مال نہیں ملا
15:05تو چھوڑ کے بھاگ گئے
15:06تو لازم بات ہے
15:07مسلمانوں کو شکست ہوگی
15:09ان کی حمتیں ٹوٹیں گی
15:10اس لیے رحمت کونین
15:12صلی اللہ علیہ وسلم
15:13نے ایسی بیعت کے بارے میں بھی فرمایا
15:15جو ایسا کرے گا
15:16میدان محشر میں
15:17اللہ کے غزب کا مستحق ہوگا
15:19اور تیسرا وہ شخص
15:21جو جھوٹی قسم کھا کر
15:22یوں کہے
15:23کہ یہ تو مجھے بہت چیز
15:24میں نے مہنگی خریدی ہے
15:25اس لیے میں زیادہ کیا
15:26آپ کو بیچ رہا ہوں
15:27تاکہ سامنے والا
15:28دھوکے میں مبتلا ہو کر
15:29زیادہ قیمت میں
15:30اس کو خرید لے
15:31تو وہ شخص بھی گناہگار ہوگا
15:33تو
15:34ہمیشہ جب بھی آپ
15:35قرآن پڑھیں
15:36حدیث پڑھیں
15:37جو ہمارے
15:38اکابرین کا طریقہ تھا
15:40کہ وہ قرآن
15:41یا حدیث کو سننے کے بعد
15:42جس میں کوئی قابل عمل
15:43بات تھی
15:44ہر آیت میں
15:45قابل عمل
15:46چیز تو نہیں ہوتی
15:47اگر ایک جہنم کی وعید
15:48بیان کی گئی ہے
15:49جہنم کے عذابات
15:50تو اس میں کوئی عمل
15:51یعنی ثواب
15:52یا گناہ کا تذکرہ بھی نہیں ہے
15:53کہ کیوں یہ عذاب نازل ہوا
15:55تو وہ تو ایک حدیث
15:57ایک آیت ہے
15:58یہ حدیث ہے
15:59لیکن یہ کہ
16:00یہ عمل کرو گے
16:01یہ ثواب ملے گا
16:02یہ گناہ کرو گے
16:03یہ عذاب ملے گا
16:05تو جب بھی ایسی چیز
16:06ہم پڑھیں
16:06جس کا تعلق
16:07ہمارے عمل سے ہو
16:08تو پھر ہمارے
16:09اکابرین
16:10اس طرح کیا کرتے تھے
16:11کہ فوراں
16:11سب سے پہلے
16:12اپنے ماضی پہ نگاہ ڈالتے
16:13یہ کبھی ایسا دھنی
16:14کہ ہم سے
16:15یہ والی غلطی ہوئی ہو
16:16اگر ہے
16:17تو وہ
16:17توبہ کی طرف
16:18مائل ہوتے
16:18اور اگر
16:19دوسرا
16:20حال کو دیکھتے
16:21کیا یہ ابھی
16:22میں کر رہا ہوں
16:23یا نہیں کر رہا ہوں
16:24اور تیسرا
16:25فیچر پلاننگ ہوتی تھی
16:26کہ آئندہ کیا کروں گا
16:28تو ہمیں بھی چاہئے
16:29جب بھی آپ
16:30قرآن پڑھیں
16:30حدیث پڑھیں
16:31کسی
16:32عالم دین
16:33کا
16:33اصلاحی بیان
16:34سنیں
16:35سب سے پہلے
16:36اس کی روشنی میں
16:37اپنے ماضی کو دیکھیں
16:39اگر وہ کوئی گناہ
16:40بیان کر رہے ہیں
16:40کہ یہ گناہ ہے
16:41اس کا عذاب ہوگا
16:42یہ حرام ہے
16:43فیل
16:44یہ ناجائز ہے
16:45یہ ظلم میں شمار ہوگا
16:47تو فوراں
16:47اپنے ماضی کی طرف
16:48جائیں
16:49اور دیکھیں
16:49کہ ہم نے یہ گناہ
16:50کیا تو نہیں ہے
16:51اگر ہے
16:52تو فوراں
16:53اس کی طوبہ
16:54کا طریقہ
16:54معلوم کریں
16:55اور طوبہ کریں
16:55دوسرا حال دیکھیں
16:57یہ کر تو نہیں رہوں
16:58اور تیسرا
16:59آئندہ
17:00کیا کرنا چاہیے
17:01یہ میں نہیں کروں گا
17:03بچوں گا
17:03اس سے
17:04یہ چیز جب ہم کریں گے
17:05تو صحیح قرآن و حدیث
17:06کا فیض حاصل ہوگا
17:07اللہ تعالیٰ
17:08عمل کی توفیق
17:09تا فرمائے
17:09آمین
17:10وآخر دعوانا
17:11ان الحمدللہ
17:12رب العالمین
17:23ہو šó
17:38ہم
17:38ہم
17:39ہم
17:40ہم
17:41ہم
17:42ہم
17:42ہم
17:44hein
17:44ہم
17:45ہ
17:48ہم
17:49ہم
17:50ہم
17:52ہم
Be the first to comment