ولادتِ باسعادت کا وہ نورانی منظر، جب نبیِ رحمت ﷺ کا جسمِ اطہر ہر قسم کی دنیاوی آلائش سے مکمل پاک ظاہر ہوا!
آپ ﷺ پیدائشی مختون اور ناف بریدہ تھے، اور پردہِ اطہر (سترِ مبارک) کی غیبی حفاظت کا یہ عالم تھا کہ اس پر نظر پڑنے سے بینائی چھن جانے کا الہامی حکم تھا۔
جلیل القدر صحابہ کرامؓ کی یہ مستند گواہیاں امام ابوالفضل قاضی عیاضؒ کی شہرہ آفاق تصنیف "الشفا شریف" میں درج ہیں۔
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے "صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" لکھیں اور چینل سبسکرائب کریں!
تیسری فصل | آپ ﷺ کی نظافت و پاکیزگی (حصہ 6)
حضوراکرم ﷺ اس حال میں پیدا ہوئے کہ آپ ﷺ مختون ( ختنہ شدہ) اور ناف بریدہ تھے۔(دلائل النبوۃ لابی نعیم ج اص۱۵۳، مجمع الزوائد بحوالہ طبرانی صغیر و اوسط ج ۸ص ۲۳۸)
حضرت آمنہ رضی اللہ عنھا والدہ ماجدہ حضورﷺ سے مروی ہے کہ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضورﷺ کو ایسا پاک وصاف جنا کہ (عموما پیدائش کے وقت جو آلائش نکلتی ہے) کسی قسم کی ناپاکی نہ تھی۔
(طبقات ابن سعد ج۱ ص ۱۳)
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی حضور ﷺ کا ستر نہ دیکھا۔
(شمائل ترمذی ص ۱۸۳،سنن ابن ماجہ ج ا ص ۱۲۷)
حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو حضورﷺ نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے سوا اور کوئی غسل نہ دے کیونکہ جو بھی میرے ستر پر نظر ڈالے گا وہ اندھا ہو جائے گا۔
(بزار ج اص ۴۰۰، دلائل النبوہ للبیہقی ج ۷ ص۲۴۴)
عکرمہ رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،یہ ہے کہ حضورﷺ سو گئے یہاں تک کہ نیند کی آواز معلوم ہونے لگی، پس حضورﷺ بیدار ہوئے اور آپ ﷺ نے نماز شروع کر دی اور وضو نہیں کیا اس پر حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ محفوظ تھے (یعنی حضور ﷺ کی نیند غفلت کی نہ تھی جو ناقص وضو ہوتی)۔
( صحیح بخاری ج اص ۲۹-۱۱۷ ،صحیح مسلم ج۴ص۱۸۷۵)
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#سیرت_النبیﷺ
#IslamicHistory
#ProphetMuhammad
#SeeratunNabi
#ProphetMuhammadSAW
#IslamicMiracles
#ShifaShareef
#AshShifaShareef
#AshShifa
#IslamicShorts
#Seerah
#MiraclesOfIslam
#ThinkGoodGreen
Comments