حوضِ الكوثر اور السبع المثاني میں چھپے نبی کریم ﷺ کے وہ فضائل جو ہر مسلمان کو جاننے چاہئیں۔
جانیے کہ اللہ نے قرآن مجید میں اپنے محبوب ﷺ کے دشمنوں کو الأبتر (ذلیل و خوار) کیوں قرار دیا!
مشہورِ زمانہ کتاب "الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ" کے مستند حوالوں سے قرآن میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ کی یہ عظیم تفسیر پیش کی گئی ہے۔ بحیثیت ایک اسلامی محقق اور طالبعلم، 100 سے زائد مستند تفاسیر کے مطالعے کے بعد، میں آپ کو قاضی عیاض مالکیؒ کی بیان کردہ سورۃ الکوثر اور سورۃ الحجر کی ان گہری حکمتوں سے آگاہ کر رہا ہوں تاکہ آپ کے دل میں عشقِ رسول ﷺ اور شفاعت کی امید مزید پختہ ہو۔
اللہ عز وجل نے اس میں اس کی خبر دی جو کچھ کہ آپ ﷺ کو مرحمت فرمایا۔
’’ الکوثر‘‘ یعنی کوثر ایک حوض ہے یا وہ نہر ہے جو جنت میں جاری ہے اور یہ بھی منقول ہے کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے یا شفاعت ہے ، بعض نے کہا کہ کثیر معجزات ، یا عطائے نبوت ، یا معرفت الہی مراد ہے، اس کے بعد اللہ عز وجل نے حضور ﷺ کے دشمنوں کو جواب دے کر ان کی تردید فرمائی اور کہا: اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ یعنی آپ ﷺ کا دشمن اور آپ ﷺ سے بغض و عداوت رکھنے والا ’’ ابتر‘‘ یعنی حقیر و ذلیل ہے یا منقطع النسل ہے یا وہ ایسا (بد بخت) ہے کہ اس کے لیے کوئی خیر ہے ہی نہیں اور
فرماتا ہے:
﴿ وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ﴾
اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن۔
( الحجر: ۸۷)
اس کی تفسیر میں مفسرین کہتے ہیں کہ ’’ سبع مثانی‘‘ سے وہ پہلی سات لمبی سورتیں مراد ہیں اور’’ قرآن عظیم‘‘ ام القرآن ہے اور یہ بھی کہا کہ سبع مثانی ام القرآن (سورۂ فاتحہ) ہے اور قرآن عظیم سے اس کی تمام سورتیں مراد ہیں اور یہ بھی ایک روایت میں ہے کہ سبع مثانی وہ تمام چیزیں مراد ہیں جو قرآن میں امر ، نہی، بشارت ، انذار، مثالیں اور نعمتوں کے شمار کا ذکر ہے اور ہم نے آپ ﷺ کو قرآن کریم میں اصول عنایت فرمائے۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
دسویں فصل | کتاب مجید میں حضور ﷺ کا ذکر مبارک (حصہ 3)
#islamicshorts
#SurahKawthar
#الشفا_بتعريف_حقوق_المصطفى
#Seerah
#ذکر_مصطفیٰ
#الكوثر
#ThinkGoodGreen
Comments