Skip to playerSkip to main content
طہارتِ مصطفیٰ ﷺ کا حیرت انگیز معجزہ کہ آپ ﷺ کا مبارک خون پینے والے کو آگ ہرگز نہیں چھو سکتی!
غزوہ احد کے میدان میں جب ایک عاشقِ رسول صحابی نے آپ ﷺ کے زخمِ اطہر سے رستا ہوا مبارک خون نوش کیا، تو سرکارِ دو عالم ﷺ نے بشارت دی کہ "اس کو آگ ہرگز نہ پہنچے گی"۔
قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کی مستند کتاب "الشفاء شریف" اس بات کی گواہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا وجودِ مسعود سراپا طہارت تھا۔ صحابہ کرام نے جب بھی کمالِ محبت یا لاعلمی میں آپ ﷺ کے خونِ مبارک یا دیگر فضلاتِ مبارکہ کو نوش کیا، تو آپ ﷺ نے انہیں پیٹ کی ہر بیماری سے ابدی شفا اور آگ سے ہمیشہ کے لیے محفوظ رہنے کی عظیم الشان بشارتیں عطا فرمائیں۔
آپ ﷺ کی بے مثال پاکیزگی اور جسمِ انور پر قربان جائیں! سچے دل سے کمنٹ میں "سبحان اللہ" لکھیں اور مزید ایمان افروز ویڈیوز کے لیے ابھی ہمارا چینل سبسکرائب کریں۔ 👇

تیسری فصل | آپ ﷺ کی نظافت و پاکیزگی (حصہ 5)

اسی سلسلہ میں یہ ہے کہ مالک ابن سنان رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد میں ( آپ ﷺ کے زخم سے)خون پی لیا تھا اور اس کو چوسا تھا اور اس کو حضور ﷺ نے ان کے لیے جائز قرار رکھتے ہوئے فرمایا: اس کو آگ ہرگز نہ پہنچے گی۔
(طبرانی اوسط بحوالہ مجمع الزوائد ج ۸ص۲۸۰)

اسی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کے پچھنے ( خون نکالنا، سینگی) کا خون پی لیا تھا، اس وقت حضور ﷺ نے ان سے فرمایا: ’’ وَيْلٌ لَّكَ مِنَ النَّاسِ وَوَيْلٌ لَّهُمْ مِّنْكَ ‘‘ افسوس ہے لوگوں پر تم سے اور افسوس ہے تم پر لوگوں سے اور اس پر انکارنہ فرمایا۔
(حاکم ج۳ ص ۳۵۵، بزار ج۳ ص ۱۴۵)

اسی طرح ایک عورت کے بارے میں مروی ہے کہ اس نے حضور ﷺ کا بول مبارک (پیشاب) پی لیا تھا، اس پر آپ ﷺنے اس عورت سے فرمایا: ’’ لَنْ تَشْتَكِىْ وَجْعَ بَطَنِکَ اَبَدًا ‘‘ یعنی کبھی تجھ کو پیٹ کی بیاری نہ ہو گی اور ان میں سے کسی کو بھی حضورﷺ نے منھ دھونے کا حکم نہ فرمایا نہ دوبارہ ایسا کرنے سے منع فرمایا اور وہ حدیث جس میں عورت نے حضور ﷺ کا بول مبارک پی لیا تھا صحیح ہے۔

دارقطنی رحمہ اللہ نے مسلم و بخاری رحمہما اللہ کی طرح صحت میں التزام کیا ہے اور اس عورت کا نام ’’ برکتہ ‘‘ ہے اس کے حسب ونسب میں اختلاف ہے۔

ایک روایت میں وہ عورت ام ایمن رضی اللہ عنھا ہیں جو حضورﷺ کی خدمت کرتی تھی ، وہ کہتی ہیں کہ حضور ﷺ کا ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو چار پائی کے نیچے رکھا تھا اور حضور ﷺ رات کو اس میں بول کیا کرتے تھے ، پس ایک رات حضور ﷺ نے اس میں بول کیا، پھر ( صبح کو) پیالہ دیکھا تو اس میں کچھ نہ پایا، حضور ﷺ نے برکتہ سے اس بارے میں دریافت فرمایا، تو برکتہ نے عرض کیا: میں رات کو اٹھی تو پیاس لگ رہی تھی میں نے اس کو لاعلمی میں پی لیا، اس حدیث کو ابن جریج نے اور ان کے سوا دوسروں نے بھی روایت کیا۔
(ابوداؤد کتاب الطہارت ج اص ۲۸ ، نسائی ج اص ۳۱، ابن حبان ج۲ص ۳۴۸)


#ProphetMuhammad
#IshqeRasool
#سیرت_النبیﷺ
#IslamicHistory
#SeeratUnNabi
#IslamicShorts
#AshShifa
#Seerah
#IslamicMiracles
#MiraclesOfIslam
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended