Skip to playerSkip to main content
جب نبی ﷺ نے مٹی پھینکی تو یہ المعجزة کیسے رونما ہوا کہ پوری فوج اندھی ہو گئی؟
جانیے "وما رميت" کی الحقيقة قاضی عیاضؒ کی مشہور کتاب 'الشفاء' کی روشنی میں۔
قاضی عیاضؒ کی مستند کتاب 'الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ' کے حقائق کا گہرا تجزیہ کرنے کے بعد، یہ واضح ہوتا ہے کہ نبی ﷺ کا فعلِ قتل اور خاک پھینکنا دراصل اللہ عزوجل کی قدرت اور مشیت کا مظہر تھا۔ بحیثیت ایک اسلامی محقق، میں اس شارٹ میں سورہ فتح کے تناظر میں حقیقت اور مجاز کے اس عظیم اسلامی عقیدے کو بیان کر رہا ہوں تاکہ آپ کے علم میں مستند اضافہ ہو۔

اگر چہ اول باب مجاز سے ہے اور یہ حقیقت ہے کیونکہ قتل کرنے والا اور پھینکنے والا حقیقتاً اللہ عزوجل ہی ہے، وہی آپ ﷺ کے فعل قتل اور خاک پھینکنے اور اس کے اوپر قدرت کا خالق ( پیدا کرنے والا) ہے اور اس کی مشیت ہی ہے کیونکہ یہ انسان کی قدرت میں ہے ہی نہیں کہ جہاں وہ پہنچانا چاہے پہنچا دے ، یہاں تک کہ ایک کافر بھی ایسا نہ ر ہا کہ اس کی آنکھیں اس خاک سے نہ بھر گئی ہوں، اسی طرح فرشتوں کا ان کو قتل کرنا حقیقتاً ہے۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آخری آیت میں جو مجاز ہے وہ لغت عرب کی بنا پر ہے جو لفظوں کے مقابلہ اور مناسبت کی بنا پر استعمال کیا گیا ہے ، یعنی ’’ مَاقتَلْتُمُوْهُمْ ‘‘ ان کو تم نے قتل نہیں کیا ’’ وَمَا رَمَیْتَھُمْ ‘‘ جب تم نے ان کے چہروں پر کنکریاں اور خاک پھینکی تھی ، تو تم نے نہ پھینکی تھی لیکن اللہ عزوجل نے ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا یعنی پھینکنے کا فائدہ اللہ عزوجل کی طرف سے ہے، پس معنی وہی قاتل ( مارنے والا) اور رامی ہے، آپ ﷺ برائے نام تھے۔

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
نویں فصل | سورۂ فتح میں حضور ﷺ کی بزرگیاں (حصہ 6)

#IslamicShorts
#AshShifa
#Seerah
#وما_رميت
#معجزہ
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended