سورہ فتح میں اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو کیا بے مثال مقام عطا کیا؟
جانیے "بيعة الرضوان" کا وہ عظیم راز جہاں اللہ نے نبی ﷺ کی بیعت کو اپنی بیعت قرار دیا۔
امام قاضی عیاضؒ کی مشہورِ زمانہ اور مستند کتاب 'الشفاء بتعريف حقوق المصطفى' کے گہرے مطالعے سے یہ بات ثابت ہے کہ اللہ نے حضور ﷺ کی رضا کو اپنی رضا سے ملا دیا ہے۔ مستند اسلامی تاریخ، علم التفسیر اور سیرت کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے، اس ویڈیو میں ہم آپ کو "يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ" کی وہ عظیم حکمت بتائیں گے جو آپ کے عشقِ رسول ﷺ میں بے پناہ اضافہ کر دے گی۔
اور اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کے ذکر کو اپنے ذکر کے ساتھ آپ ﷺ کی رضا کو اپنی رضا کے ساتھ ملا دیا اور آپ ﷺ کو توحید کا ایک رکن بنایا۔
پھر فرمایا:
﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَكَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَؕ ﴾ (الفتح:۱۰)
وہ جو تمھاری بیعت کرتے ہیں وہ تو اللہ ہی سے بیعت کرتے ہیں ، یعنی بیعت رضوان کے وقت وہ خاص اللہ عزوجل ہی سے بیعت کر رہے تھے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے:
﴿يَدُ اللهِ فَوْق اَیْدِیْهِمْ﴾ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔( الفتح:۱۰)
یعنی اس کے ارادہ سے بیعت تھی ، ایک روایت میں یداللہ سے مراد اللہ عزوجل کی طاقت ہے، بعض نے ’’اس کا ثواب ‘‘ کہا اور بعض نے ’’ اس کا احسان ‘‘ اور بعض نے ’’ اس کا عہد‘‘ کہا،یہ سب تاویلات مرادف المعنی (ایک جنس) اور ان کی بیعت کی تاکید اور بیعت لینے والے حضور ﷺ کی تعظیم ہے، اسی قبیل سے یہ فرماتا ہے:
﴿فَلَمْ تَقْتُلُوْهُمْ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ قَتَلَهُمْ۪-وَ مَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَ لٰـكِنَّ اللّٰهَ رَمٰىۚ﴾(۱ نفال: ۱۷)
تو تم نے انھیں قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے انھیں قتل کیا اور اے محبوب ﷺ وہ خاک جوتم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
نویں فصل | سورۂ فتح میں حضور ﷺ کی بزرگیاں (حصہ 5)
#IslamicShorts
#AshShifa
#SurahFath
#بيعة_الرضوان
#ThinkGoodGreen
Comments