Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:02بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30اللہ تیہ کروا دینا کہ جھگڑا ختم ہو جائے اور آپس میں امن اتحاد اور محبت پیدا ہو جائے اس
00:36کو صلاح کہتے ہیں
00:37ہماری شریعت صلاح کو بہت زیادہ محبوب رکھتی ہے
00:40اس پر ہم نے پہلے بھی کلام کیا کہ ہمارے ہاں خاندانوں میں بعض اوقات صلاح کے بجائے لڑائی کروانے
00:47کا رواج پیدا ہو گیا ہے
00:48اور بعض اوقات ہم چاہتے ہیں کہ باپ اولاد یعنی اپنے ماں باپ سے ماں باپ اولاد سے ہمیشہ لڑ
00:55کر رہے
00:55خصوصہ شادی کے بعد بعض اوقات لڑکے کو خاندان والے ہی ایک بغاوت پر ابھارتے ہیں
01:01کہ اپنی بیوی کو لے کے علیہ دینینا شروع کر دو اس گھر میں تمہاری زندگی حرام رہے گی
01:06ایسی دوستوں کے ماں بین اسی طرح باس کو ایمپلائی سے ایمپلائی کو باس سے
01:11اور اسی طریقے سے آفیسز میں فیکٹریز کے اندر محلوں کے اندر یہ بیماری عام ہو گئی ہے
01:17کہ ہم لڑوا کر خوش ہوتے ہیں
01:19ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے
01:21صلح کروانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کریمہ ہے
01:25صحابہ کرام علی بیت اتحار اس پر عامل رہے
01:30اور ہمارے عقابلین نے بھی معاملہ کیا
01:32ہم بھی آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ اپنی آخرت کو برباد نہ کریں
01:35اگر فرض کرنے بعض اوقات ہزبن وائف میں نا اتفاقی پیدا ہو جاتی ہے
01:40تو صلح کروانے کی کوشش کریں
01:41نہ کہ انہیں طلاق تک پہنچا دیں
01:44یہ بہت خرابی ہوتی ہے
01:45کہ ہمارے قریبی لوگ اتنی نفرتیں پھر دیتے ہیں
01:48ایک دوسرے کے دلوں کے اندر کے پھر ساتھ رہنا مشکل ہو جاتا ہے
01:52اور نتیجہ طلاق کی صورت میں نکلتا ہے
01:54جو میرے بھائی بہن ایسے کو سن رہے ہیں
01:56یا آپ ایسے نہیں ہیں لیکن آپ جانتے ہیں
01:59تو میرا یہ بیان آپ غور سے سنیں
02:01یا اگر آپ ایسے نہیں ہیں
02:03تو اس کا کلپ بنا کے کیسے بھی
02:05یا یہ پوریم دیکھنے کی ترغیب دے دیں
02:07جیسے یہ یوٹیوب پہ ڈالے گا
02:09ایسے لوگوں تک پہنچائیں
02:10کہ جو کسی کو تباہ کر رہے ہیں
02:13ان کے دل پھڑوا رہے ہیں
02:14یا پھڑوا چکے ہیں
02:16تاکہ انہیں توبہ کرنے کی توفیق ملے
02:18یاد رکھیں کہ جب آپ کسی کو
02:20صلح سے دور کرتے ہیں
02:22جھگڑے بڑھتے ہیں
02:23اور اس میں آپ کی کوشش کا دخل ہوتا ہے
02:25تو جتنے گناہ ہوں گے
02:26سب آپ کے نام عمال میں بھی لکھے جائیں گے
02:29یعنی ان کا ووال آپ پر بھی ہوگا
02:30کیونکہ آپ سبب بنے ہیں
02:31اور میدان مہشر میں
02:33اللہ تعالیٰ و تعالیٰ
02:35ان لوگوں کے سامنے
02:36جن کو آپ نے نقصان پہنچایا
02:38کھڑا کیا جائے گا
02:39اور آپ کی نیکییں ان کے نام عمال میں
02:41ڈالی جائیں گی
02:42خصوصاً میں اپنی بہنوں سے گزارش کرتا ہوں
02:45خدا رہاگر آپ کے جملے
02:47کسی کی اس طریقے سے
02:49دوری کا سبب بنے تھے
02:50تو اللہ کی بارگاہ میں توبہ کر لیں
02:52پچھلے پرگرام میں
02:53دو ہزار سات سو تین نمبر
02:56حدیث پاک ہم نے ذکر کی تھی
02:58تشریح تھوڑی سے رہتی تھی
02:59حدیث میں دوبارہ عرض کر دیتا ہوں
03:00حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ
03:02نے بیان کرتے ہیں
03:03کہ حضرت ربعی
03:04جو ان نظر کی بیٹی ہیں
03:07انہوں نے ایک جوان لڑکی کے
03:09سامنے کے دانت توڑ دیئے
03:11تو ان لڑکی والوں نے
03:12ان داتوں کی دیت کا مطالبہ کیا
03:15یعنی اس کے بدلے مال دیں
03:16یا قصاص ہوتا ہے
03:18کہ دانت کے بدلے دانت
03:20اور حضرت ربعی کے گھر والوں نے
03:22اس دیت کی معافی کا مطالبہ کیا
03:24تو سامنے والوں نے انکار کر دیا
03:27کہ ہم نہیں کرتے ہم تو بدلے لیں گے
03:28تو وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے
03:31تو آپ نے ان کو قصاص ادا کرنے کا حکم دیا
03:35یعنی اب اس سے ربعی کی بھی دانت توڑے جائیں گے
03:38دانت کے بدلے دانت
03:41حضرت انس بن ندر نے کہا
03:42یا رسول اللہ کیا ربعی کے دانت توڑے جائیں گے
03:47پھر کہا کہ نہیں
03:48اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے
03:52اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے
03:55اب نبی کریم تو قصاص کا فرما رہے ہیں
03:57اور حضرت انس کیا کہہ رہے ہیں
03:58دانت نہیں توڑے جائیں گے
04:00بظاہر ایسا لگتا ہے
04:01کہ جیسے فرمان رسول کی مخالفت کر رہے ہیں
04:04لیکن اس کی تودی تشریح ابھی میں آپ کو خدمت میں عرص کرتا ہوں
04:07نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
04:09اے انس کتاب اللہ میں قصاص ہے
04:12یعنی اللہ تعالیٰ نے دانت کے بدلے دانت مقرر کیا ہے
04:16یہی توریت کا حکم تھا جو قرآن کے اندر باقی رکھا گیا ہے
04:19پھر وہ لوگ یعنی جن کی بچی کے دانت توڑے گئے تھے
04:23وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا
04:26تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
04:29کہ اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں
04:32کہ اگر وہ کسی کام کی اللہ پر قسم کھالیں
04:35تو اللہ ان کی قسم کو سچا کر دیتا ہے
04:39یعنی سرکار نے حضرت انس کے بارے میں فرمایا
04:42کہ دیکھیں ان کے زبان سے نکلا
04:43کہ خدا کی قسم اس لڑکی کے دانت نہیں توڑے جائیں گے
04:46اور ایسے ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے
04:48مخالفین جن کی بچی کے دانت توڑے گئے تھے
04:51ان کے دل میں رحم ڈال دیا
04:52اور انہوں نے معاف کر دیا
04:54گویا کہ بعض بندے ایسے ہوتے ہیں
04:56سرکار فرما رہے ہیں
04:57کہ جو کچھ اللہ کا فیصلہ ہونے والا ہے
05:00اللہ تعالیٰ ان کی زبان پر جاری کر دیتا ہے
05:02اور اسی کے مطابق پھر اللہ کا فیصلہ ہوتا ہے
05:05یعنی یہ نہیں ہوتا
05:06کہ اللہ کا فیصلہ کچھ اور تھا
05:08کسی نے کہہ دیا
05:08تو اللہ اپنا فیصلہ بدل لیتا ہے
05:10ایسا نہیں ہوتا
05:11کیونکہ لا تبدیل لکلمات اللہ
05:13اللہ تبارک و تعالیٰ کے فیصلے تبدیل نہیں ہوتے
05:16لا مبدل لکلمات اللہ
05:18اللہ کے فیصلوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے
05:21But God can act as a result, that's how he was going to write
05:25That first thing he goes to your life
05:26But the final thing he says is that he will do it
05:28But the next thing he will do it
05:28And that he will be aware of it
05:33So it will be used to understand what he means
05:34Because when he talks about it, he will be able to write
05:36Actually, you can see that the answer will be in order to go
05:38But the result is not in addition to this
05:41Therefore God has arrived, he will go and walk down
05:43And he will have to understand what he has been in the future
05:46So he will have to tell us that he will be full
05:49...
05:49हुआ है ना के हदरतِ अनस के
05:51कोई जुम्ले की वज़ से अल्ला ने अपने फैसले
05:53को बदला है क्योंकि वो ने बदलता है
05:55हाँ ये जरूर हुआ कि जैसा अजली फैसला
05:57था हदरत अनस के जमान पे
05:59अल्ला ने जारी फरमा दिया और वैसे ही हो गया
06:00स्वाल ये पैदा होता है कि इसमें हदरतِ
06:03अनस का कमाल है ये नहीं है
06:04क्योंकि अल्ला का जो फैसला था वही हुआ
06:06तो कमाल का पहलू होता है
06:08इसलिए सरकार बतौरे मदा फरमा रहे हैं
06:10कि बाद अफराद ऐसे होते हैं
06:12कि आल्ला तबारका पौ अनकी जब गुशंत जारी कर देता है
06:15तो फैस्तस को पूरा फरमा देता है
06:17पहलू कमाल ये है
06:19कि ये आपके मेरे साथ क्यूं नहीं होता
06:21किसी और के साथ क्यूं नहीं हो गया
06:23इसी फर्त क्ries क्यूं मन्तखब किया
06:25ये मसला होता है
06:26کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے بندے محبوب جو ہوتے ہیں
06:29اللہ کے مقرب بندے ہوتے ہیں
06:31اپنے فیصلوں کے سلسلے میں کلام انہی کے زبان پر جاری کرتا ہے
06:35جب وہ جاری ہو جاتا ہے
06:37فیصلہ خدواندی اسے کے موافق نظر آتا ہے
06:39تو نبی کریم تو جانتے ہیں
06:42لیکن عام لوگ جو ہیں وہ یہ کہیں گے
06:44کہ دیکھو جیسا کہا ویسے ہو گیا
06:45اللہ نے ان کے مطابق کر دیا
06:47اور اس طرح ایک آدمی کے لئے کمال کے پہلو نکلتا ہے
06:50اندازہ ہوتا ہے
06:51کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے
06:53یہ ان سے قریب ہیں
06:54تب ہی ان کے زبان پر اللہ نے اپنا فیصلہ جاری کیا
06:57اور اسی کے موافق پھر معاملہ مارز وجود میں آیا
07:00تو اس لئے پھر چونکہ اللہ نے ان کا انتخاب کیا ہوتا ہے
07:04وہ قابل قدر ہوتے ہیں
07:05اور یقیناً ان کے درجات بلندو بالا ہوتے ہیں
07:11تو اس میں اب دیکھئے کہ
07:14یہ جو وجہ ہم نے آپ کو ایک سوال ارز کیا تھا
07:16کہ جب اللہ تعالیٰ نے قصاص کا حکم دیا
07:19قرآن میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
07:22نے بھی فیصلہ فرما دیا تھا
07:23تو آخر حضرت انس کی زبان
07:25انس نے کیوں یہ کہا
07:26حضرت انس کو تو نہیں پتا تھا
07:28کہ اللہ کے فیصلہ اس کے موافق ہوگا
07:30انہوں نے تو اپنی دانس میں یہ جملہ کہا
07:32تو اس کے کچھ جوابات دیے گئے ہیں
07:34علامہ نے فرمایا
07:35اس کا جواب یہ ہے
07:36کہ حضرت انس بن ندر نے
07:38قصاص کے شرعی حکم کا انکار نہیں کیا تھا
07:42اور زیادہ ظاہر یہ ہے
07:43کہ ان کو اس وقت یہ معلوم نہیں تھا
07:45کہ شریعت نے قصاص کو فرض کر دیا ہے
07:48اس لئے ان کی زبان سے ایسا نکلا
07:50کہ حضرت اللہ کیسے ہوگا
07:51کہ دانت روڑے جائیں گے
07:52کہ یہ تو کوئی حکمی شرعی نہیں ہے
07:54یہ اصل میں مصلہ تھا
07:55کہ ان کو اس ٹائم تک شریعت کا نہیں پتا تھا
07:57اور ان کو یہ گمان تھا
07:59کہ شریعت میں قصاص اور دیت
08:01دونوں میں اختیار دیا گیا ہے
08:02تو لہٰذا ہم دیت کر لیں گے
08:04قصاص کو چھوڑ دیں گے
08:05دیت یعنی مال دے دیں گے
08:06اور قصاص کو چھوڑ دیں گے
08:08اس وجہ سے انہوں نے قصاص کے بارے میں کلام کیا
08:11ایک وجہ تو یہ بیان فرمائی
08:12پھر علماء فرماتے ہیں
08:14دوسرا جواب یہ ہے
08:15کہ ان کی مراد یہ تھی
08:16کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
08:19اس سلسلے میں شفاعت کروائیں گے
08:22یعنی سفارش کر دیں گے
08:23تو سرکار مان جائیں گے
08:24اس لئے انہوں نے کہا
08:25کہ اس کے دات کیسے توڑے جائیں گے
08:26جبکہ میں سرکار سے سفارش کرواؤں گا
08:28یا ان کو یہ توقع تھی
08:30اور اللہ کے فضل سے امی تھی
08:33کہ وہ ان کے جو سامنے مدد مقابل ہیں
08:36ان کے دل میں یہ بات ڈال دے گا
08:37کہ وہ قصاص کے بجائے دیت پر راضی ہو جائیں گے
08:41اس وجہ سے آپ نے قسم کھائی
08:43کہ ربیع کے دانت نہیں توڑے جائیں گے
08:45تو خلاص کلام یہ ہے
08:47کہ حضرت انس کا یہ کہنا
08:48کہ اس کے دانت کیسے توڑے جائیں گے
08:50کوئی شریعت پر اعتراض نہیں تھا
08:52کوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:55کے قصاص کے فیصلے کے خلاف جانا مقصود نہیں تھا
08:58امید ہے کہ آپ بات سمجھ کے ہوں گے
09:01علماء فرماتے ہیں
09:02کہ اس حدیث سے معلوم ہوا
09:03کہ دانت توڑنے میں دانت کا قصاص لینا واجب ہے
09:06علامہ نووی رحمت اللہ علیہ کہتے ہیں
09:09کہ اگر تمام دانت توڑ دیے جائیں
09:12تو اس کا قصاص لینے پر تو اجمع ہے
09:14سب متفق نہیں کہ دانت توڑے جائیں گے
09:16اور بعض دانت توڑنے میں
09:18فقہ کا اختلاف ہے
09:20یعنی اگر پورے کے پورے دانت توڑ دے
09:22تو اس میں کسی کا اختلاف نہیں
09:23کہ قصاص واجب ہے
09:24یعنی سامنے والے کے دانت توڑے جائیں گے
09:26سارے کے سارے
09:27اور ایک دو دانت توڑ دیے
09:29تو اس میں فقہ کا اختلاف ہے
09:30اور کہتے ہیں کہ اکثر فقہ کا
09:32اس پر اتفاق ہے
09:34کہ اس میں قصاص نہیں ہے
09:36علامہ نووی یہ شافعی ہیں
09:38یہ کہتے ہیں کہ دانت میں قصاص نہیں ہے
09:40علامہ قرطبی نے کہا ہے
09:41کہ یہ مالک کا مذہب یہ ہے
09:43کہ قصاص اس وقت ہوتا ہے
09:44کہ جب ان میں مماثلت ممکن ہو
09:48کیا مطلب ایک عز کے بدلے عز وصف ہوگا
09:51یعنی ایک عز کے بدلے اس کو ضائع کرنا
09:54اس وقت ہوگا کہ جب ان میں کوئی آپ بہم مماثلت پیدا کر دیں
09:58کیونکہ برابر برابر بدلہ لینا لازم ہوتا ہے
10:01تو اگر ایک سامنے کا دانٹ ٹوٹا
10:03عمومی طور پر سامنے کے دانٹ برابر برابر ہوتے ہیں
10:05تو دوسرے کوئی سامنے کا دانٹ توڑنی یہ مماثلت ہے
10:08لیکن اگر بازو کی ہڈی توڑی کسی کی
10:10تو کیا بازو کی ہڈی توڑی جائے گی
10:12اس میں اختلاف ہوگا
10:13کیونکہ بازو کی ہڈی چوڑی ہوتی ہے
10:16کسی کی پتلی ہوتی ہے
10:18کسی کی کمزور ہوتی ہے
10:19کسی کی بہت مضبوط ہوتی ہے
10:21تو کیا اس طرح ہو سکتا ہے
10:23کہ ہڈی کے بدلے ہڈی توڑیں
10:24تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس کی کمزور تھی
10:27اس کی طاقتور تھی
10:28آپ نے توڑ دی تو مماثلت کہاں ہوئی
10:29بلکہ یہ تو زیادہ بدلہ لے لیا گیا
10:32اس میں اختلاف ہوتا ہے
10:33اس وجہ سے یہ کہتے ہیں
10:35کہ فقہ کے مابین اختلاف ہوا
10:38فقہ احناف
10:40امام لیث اور امام شافی کا مذہب یہ ہے
10:42کہ دانتوں کے علاوہ ہڈی توڑنے میں
10:44قصاص نہیں ہوگا
10:46کیونکہ اس میں مماثلت پر اعتماد نہیں ہے
10:50اور علامہ ابن رشد نے
10:52القوائد میں حضرت ابن عباس
10:54رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے
10:55کہ ہڈی میں قصاص نہیں ہے
10:57یعنی باقی ہڈیوں کے اندر قصاص نہیں ہوگا
10:59حضرت انس بن ندر نے قسم کھا کر کہا
11:02کہ اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے
11:03اس سے معلوم ہوا
11:04کہ انسان اپنے گمان کے مطابق قسم کھا سکتا ہے
11:09جیسے ہمیرا گمان ہے
11:10کہ ایسا ہوگا تو ہم قسم کھا لیں
11:12اس کی کنجائش نکلتی ہے
11:13اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
11:16جس طرح قسم کھائی تھی
11:17اسی طرح ہو گیا
11:18اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
11:20یہ جو فرمایا کہ
11:21اللہ کے بعض بندے ایسے ہیں
11:22کہ اگر وہ قسم کھا لیں
11:24اور اللہ کہ اللہ ایسا کرے گا
11:26تو اللہ ایسا ہی کر دیتا ہے
11:28جیسے نبی کریم نے فرمایا
11:30علماء فرماتے ہیں
11:31اس میں اولیاء اللہ کی کرامت کا ثبوت ہے
11:34کہ کرامت وہ چیز ہوتی ہے
11:36جو خارق عادت ہوتی ہے
11:38خلاف عادت کام کا صدور ہوتا ہے
11:40عام لوگوں سے نہیں ہوتا
11:41وہ کسی مخصوص شخص سے
11:42ایسی چیز صادر ہوتی ہے
11:44جیسے کہا کہ بھئی بارش ہو جائے گی
11:46اگر دم بارش ہو گئی
11:47یہ تو عام آدمی کا تکہ ہوتا ہے
11:49لیکن جب بزرگانے دینوں فرما دیں
11:51کہ بارش ہو گئی اور بارش ہو گئی
11:52تو ہم اسے کرامت پر محمول کرتے ہیں
11:54جبکہ کہنے والا جو ہے وہ
11:56صحیح العقیدہ ہو
11:57مسلمان ہو
11:58مواحد ہو
11:59اور
12:01مطبع اللہ تبارک و تعالی
12:02اس کے رسولوں پر ایمان رکھتا
12:04یعنی عقیدہ بالکل اس کا ٹھیک ہونا چاہیے
12:06تو اس کو کرامت پر محمول کرتے ہیں
12:08ایسے ہی کوئی فعل نبی سے ہو
12:10تو اس کو موجزہ کہتے ہیں
12:11اور اس کے امتی سے ہو
12:12تو ان کو
12:13اس کو کرامت سے تعبیر کرتے ہیں
12:15تو حضرت عناس کا یہ کہنا
12:17اور پھر بیعینی ویسا ہو جانا
12:18یہ ایک کرامت
12:20اس کو شمار کیا گیا
12:21اس سے معلوم ہوا کہ
12:22اس حدیث سے
12:22ایک صحابی کی کرامت بھی
12:24ظاہر ہوتی ہے
12:27اگلا باب قائم کیا ہے
12:28باب و قول النبی صلی اللہ علیہ وسلم
12:31حضرت عناس بن علی رضی اللہ تعالی عنہما
12:34ابن حازہ سیدن
12:36و لعل اللہ ان یصلح بہی
12:39بینا فیعتین عظیمتین
12:41حضرت عناس بن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لئے
12:45نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد
12:48کہ میرا یہ بیٹا سید ہے
12:50سید بمان سردار بھی ہوتا ہے
12:52اور ہو سکتا ہے
12:54کہ اللہ اس کے سبب سے
12:55دو عظیم جماعتوں کے درمیان
12:57صلح کروا دے
12:58تو یہ اس کا باب ہے
13:00حدیث اس میں ایک طویل ہے
13:02دو ہزار سات سو چار نمبر حدیث پاک ہے
13:05حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں
13:07کہ میں نے حضرت حسن بصری
13:09رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہتے ہیں
13:11وہ سنا
13:11کہ اللہ کی قسم جب حضرت حسن بن علی
13:14رضی اللہ عنہما
13:17حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مقابلے میں
13:21پہاڑوں جیسا لشکر لے کر آئے
13:23تو حضرت عمر بن العاص نے کہا
13:26کہ میں ایسا لشکر دیکھ رہا ہوں
13:29جو اپنے مخالفین کو مارے بغیر نہیں لوٹے گا
13:32حضرت معاویہ نے کہا
13:34راوی کہتے ہیں
13:35اللہ کی قسم وہ دونوں آدمی میں زیادہ بہتر تھے
13:37یعنی عمر بالعاص سے زیادہ بہتر
13:39حضرت عمیر معاویہ تھے
13:41کہ اے عمر اگر اس لشکر کے
13:43یعنی اپنا بتایا
13:44اس لشکر کے
13:45اس لشکر کو
13:47اس لشکر نے اس لشکر کو قتل کر دیا
13:50اور اس لشکر نے
13:51اس لشکر کو قتل کر دیا
13:53تو لوگوں پر حکمرانی کے لئے
13:55کون میرا ساتھ دے گا
13:57اور لوگوں کی عورتوں کی حفاظت کے معاملے میں
13:59کون میرا ساتھ دے گا
14:01اور لوگوں کے بچوں کی نگاہ داشت کے لئے
14:03کون میرا ساتھ دے گا
14:04یعنی پھر تو تباہی تباہی ہے
14:06سب بڑے ختم ہو جائیں گے
14:08اور دشمنوں کو
14:09ہمارے عورتوں
14:10ہمارے بچوں
14:10اور ہمارے ملکوں تک
14:11رسائی ہو جائے گی
14:13پھر حضرت معاویہ نے
14:14حضرت حنس کے انس
14:17حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس
14:19قبیلہ بنو شمس کے دو آدمی بھیجے
14:23یعنی عبد الرحمن بن سمورہ
14:25اور عبداللہ بن آمیر
14:27ان سے کہا کہ
14:28تم دونوں ان کے پاس جاؤ
14:29یعنی حضرت حسن کے پاس جاؤ
14:32اور ان کے سامنے پیشکش کرو
14:35یعنی صلح کی پیشکش کرو
14:37تم دونوں ان سے بات کرو
14:39اور فیصلہ ان پر چھوڑ دو
14:40کہ حضرت آپ فیصلہ کریں
14:42ہم تو صلح چاہتے ہیں
14:43آپ جو فرمانا چاہیں کریں
14:44وہ دونوں حضرت حسن کے پاس گئے
14:47اور ان سے گفتگو کی
14:48اور فیصلہ ان پر چھوڑ دیا
14:51پس حضرت حسن بن علی نے
14:53ان دونوں سے کہا
14:54کہ ہم عبد المطلب کی اولاد ہیں
14:56اور ہم اس کو
14:58اور ہم کو اس مال سے حصہ ملا ہے
15:01جو اور ہمارے ساتھ
15:02ہمارے اس کو مال سے حصہ ملا ہے
15:04اور ہمارے ساتھ جو لشکر ہے
15:05یہ خون ریزی میں تاق ہے
15:07تین اپنے باتیں بیان کی
15:09کہ ہم عبد المطلب کی اولاد میں سے بہادر ہیں
15:11دوسرا بات یہ ہے
15:12کہ ہمیں مال میں سے حصہ بہت ملا ہے
15:14لشکر کے پاس مال بھی ہے
15:16اور تیسری بات یہ ہے
15:17کہ یہ خون ریزی میں تاق ہیں
15:20یعنی ہمارا ابھی اشارہ تھے
15:22تین اشارہ تھے
15:23پہلا اشارہ یہ ہے
15:24کہ ہم عبد المطلب کی اولاد ہیں
15:25اور ہم میں کرم بہت ہے
15:27ہم اشرف ہیں
15:28ہم شریف ہیں
15:29شرافت کا اظہار کرتے ہیں
15:30جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
15:33مکہ کی فتح کے اوپر
15:34تمام کافروں کو معاف کیا
15:35یہ اظہار کرم تھا
15:36تو یہ اشارہ کیا ہے
15:37کہ ہم کریم ہیں
15:38دوسری بات یہ ہے
15:40کہ ہمارا لشکر جو ہے
15:41یہ مال کو محبوب رکھتا ہے
15:43اور ہم آئیں حملہ کرنے کے لئے
15:45اگر ہم جیتتے ہیں
15:46مال غنیمت حاصل ہوگا
15:47تو ہمیں لشکر کو بھی مطمئن کرنا ہوگا
15:49اور تیسری بات یہ ہے
15:51کہ یہ جو ہمارے ساتھ لشکر ہے
15:53یہ خون ریزی کے اندر بڑا ماہر ہے
15:54ہم ڈھرنے والوں میں سے نہیں ہیں
15:57ان دونوں نے کہا
15:58کہ حضرت معاویہ نے آپ کو
16:00اتنے اور اتنے مال کی پیشکش کی ہے
16:03وہ آپ سے صلاح کے طلبگار ہیں
16:06اور انہوں نے فیصلہ آپ پر چھوڑ دیا ہے
16:09تو تینوں چیزیں ادھر بھی بیان کر دیں
16:11کہ آپ کریم ہیں
16:12تو پھر کرم فرمائے
16:13لشکر کو اگر مال درکار ہے
16:15تو آپ مال دینے کے لئے تیار ہیں
16:17اور تیسرا ہے
16:18کہ آپ خون ریزی میں بالکل طاق ہیں
16:20مانتے ہیں
16:20اور یہ نہیں چاہتے ہیں
16:21کہ خون ریزی ہوگی تباہی ہوگی
16:22اب فیصلہ آپ پر ہے
16:24جو آپ کرنا چاہیں
16:25حضرت انس نے کہا
16:27کہ میرے لئے اس کا زامن کون ہوگا
16:29یعنی جو اگر میں صلاح کر لیتا ہوں
16:31پھر جو مال و مطا ڈیل ہوگی باقیدہ
16:34تو جو کچھ لینا
16:35تیپ آیا جائے گا
16:36وہ کون دلوائے گا
16:37ان دونوں نے کہا
16:38کہ ہم آپ کے لئے اس کے زامن ہیں
16:40پھر حضرت انس حسن نے
16:43جس چیز کا بھی سوال کیا
16:44ان دونوں نے کہا
16:46کہ ہم آپ کے لئے
16:47اس کے زامن ہیں
16:48پھر حضرت حسن نے
16:51حضرت معاوی سے صلاح کر لی
16:52پھر حضرت حسن بصری نے کہتے ہیں
16:55کہ میں نے حضرت ابو بکرہ سے یہ سنا ہے
16:57کہ میں نے دیکھا
16:58کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
17:00ممبر پر تشیف فرما تھے
17:01اور حضرت حسن بن علی
17:04آپ کے پہلو میں تھے
17:05اور آپ کبھی لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے
17:08اور کبھی حضرت حسن کی طرف متوجہ ہوتے
17:11اور آپ فرما رہے تھے
17:12کہ میرا یہ بیٹا سید ہے
17:14اور ہو سکتا ہے
17:15کہ اس کے سبب سے
17:16اللہ مسلمانوں کی دو عظیم جماعتوں کے درمیان
17:20صلاح کروا دے
17:22بشار ترسول کا نتیجہ تھا
17:24انشاءاللہ تفسرہ اگلے پرگرام میں ہوگا
17:26وآخر دعوانا
17:27الحمدللہ رب العالمين
Comments

Recommended