Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30مطالق تھے
00:30اب یہ سمجھ لیجئے
00:32یہ ہم نے آپ کو پہلے بات سمجھائی تھی
00:34کہ بعض اوقات
00:35بھام تنازع ہو جاتا ہے
00:38ایک شخص کسی چیز کا دعویٰ کرتا ہے
00:40دوسرا اس کے خلاف کا دعویٰ کر رہا ہوتا ہے
00:42تو ہماری شریعت نے
00:44ایک اصول بیان کیا ہے
00:45یہ حدیث میں آیا
00:46کہ
00:47گوہ مدعی پر ہیں
00:55اور قسم اس پر ہے جو انکار کرے
00:58اس کا مطلب ہے
00:59کہ جیسے آپ نے بھی لفظ سنے ہوں گے
01:01کبھی یہ مدعی ہیں
01:02یہ مدعلے ہے
01:03تو ان دونوں کا تائین کرنا ہوتا ہے
01:06جب مدعی اور مدعلے کا تائین ہو جائے
01:08تو مدعی گوہ پیش کرے گا
01:10اور اگر اس کے پاس گوہ نہیں ہے
01:12تو پھر مدعلے قسم کے ساتھ
01:15اپنی بات کہتا ہے
01:16اگر مدعی گوہ پیش کر دے
01:18تو پھر ہم قسم کے طرف نہیں جاتے
01:20پھر فیصلہ اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا
01:21اور اگر ایک شخص دعوی کرتا ہے
01:23مدعی یعنی ہے
01:25لیکن گوہ نہیں ہے اس کے پاس
01:26تو پھر مدعلے سے کہا جاتا ہے
01:29آپ قسم کھا لیں
01:30اگر وہ قسم کھا لیتا ہے
01:32تو اس کے حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے
01:34لیکن اگر مدعلے سے کہیں
01:36کہ آپ قسم کھائیں
01:38اور وہ انکار کر دے
01:39تو پھر بھی اسی شخص کے بارے میں فیصلہ ہوگا
01:42گویا کہ مدعی کے حق میں
01:43دو وجہ سے فیصلہ ہوتا ہے
01:45ایک وہ گوہ پیش کر دے
01:46یا مدعلے قسم سے انکار کر دے
01:49تیسرا بھی ہو سکتا ہے
01:50کہ وہ اقراری کر لے
01:51کہ ہاں یہ صحیح کہہ رہا ہے
01:52پھر تو گوہ کی ضرورت بھی نہیں تھی
01:53لیکن بارال تین صورتیں اس کے لئے ہو گئیں
01:55اور مدعلے کے حق میں فیصلہ
01:57اس وقت ہوتا ہے
01:58کہ جب مدعی جس نے دعویٰ کیا تھا
02:01یا تو اپنے قول سے رجوع کر لے
02:02کہ ہاں میں نے جھوٹا دعویٰ کیا تھا
02:04تو اس کے حق میں فیصلہ ہوگا
02:05اور یا اپنے دعویٰ پر قائم ہے
02:07لیکن گوہ نہیں پیش کر سکتا
02:09تو پھر یہ شخص قسم کھائے گا
02:11اور اس کے حق میں فیصلہ ہو جائے گا
02:13اس لئے ضروری ہوتا ہے
02:14کہ یہ کیسز کے اندر
02:16جب بھی جھگڑے کے مسائل ہوتے ہیں
02:18جب بھی ایک دعویٰ کر رہا ہوتا ہے
02:19دوسرا انکار کر رہا ہوتا ہے
02:21تو مدعی اور مدعلے کی تائین بہت ضروری ہے
02:24اور اس کے لئے ہم نے آپ کو سمجھایا تھا
02:27کہ اگر ایک حالت پہلے ہے
02:30اس کے بعد دوسری حالت ہوتی ہے
02:32تو ترتیب میں جو پہلے ہوتی ہے
02:35اس کو اصل کہتے ہیں
02:36اور جو بعد والی حالت ہے
02:38اسے خلاف اصل کہا جاتا ہے
02:40مثال کے طور پہ
02:42ہمارے کمارے پن کی حالت پہلے ہوتی ہے
02:44پھر ہم شادی شدہ ہوتے ہیں
02:46تو اگر کوئی اس کا دعویٰ کر رہا ہے
02:48کہ شادی نہیں ہوئی
02:50تو پھر یہ اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
02:52اور اگر کوئی مقابل کہتا ہے
02:54کہ نہیں شادی ہوئی ہے
02:55یہ خلاف اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
02:59and if we look at a first and second 1 is now
03:03if we look at it's first and then it's first
03:06then ping in 2Run
03:07when it comes to a surge
03:08one one one
03:09one that is either
03:14if it's into-unt The City of God
03:16if the weekends willice
03:18mintlive
03:18it's bigger odds
03:19those who made it
03:20add some
03:21it's bigger than that
03:22maybe
03:24grammatical
03:24we have�도
03:28BW کہتی ہے اس نے طلاق دی ہے
03:30تو دیکھیں شوہر اس بات کا دعویٰ کر رہا ہے
03:33کہ نکاح ہے طلاق نہیں ہوئی
03:35یہ اصل کا دعویٰ کر رہا ہے
03:36اور BW دعویٰ کر رہی ہے
03:37کہ جی طلاق ہو گئی ہے
03:39یہ خلاف اصل کا دعویٰ کر رہی ہے
03:41تو جب یہ جھگڑا ہو جائے گا
03:43جو خلاف اصل کا دعویٰ کرے
03:44اس کو مدعی کہتے ہیں
03:45اور حدیث کے مطابق مدعی گواہ پیش کرے گا
03:48عورت سے کہیں گے آپ دو گواہ پیش کریں
03:50اگر وہ گواہ پیش کر دیتی ہے
03:53اس کے حق میں فیصلہ ہوگا
03:54یا شوہر سے پوچھا جائے بھی
03:56آپ مانتے ہو
03:57مان لو یہ کہہ رہی ہے
03:58نہیں مانتا
04:00تو پھر اس کے حق میں نہیں ہوگا
04:01ہاں کہہ دے تو اس کے حق میں ہوگا
04:04اور اگر لڑکی گواہ نہیں لاسکتی
04:05اور شوہر نے
04:07پھر اس کے بعد یہ شوہر پہ جو
04:09مدعیلے ہیں
04:10اس پر قسم ہوتی ہے
04:11یہ قسم کھالے
04:12کہ ایسا نہیں ہوا
04:13تو اسی کے حق میں فیصلہ ہوگا
04:15تو اس کا مطلب یہ ہوا
04:17کہ یہ ترتیب یہ میرا جو دوبارہ بھیان کیا
04:19اس کو ایک دو دفعہ
04:20جو نئے جوائن کرنے والے ہیں
04:22پرانے بھی اگر ذہن سے نکل گیا ہے
04:24تو اس کو دو تین دفعہ
04:25یوٹیوب کے اوپر ریپیٹ سن لیجئے گا
04:27تو پھر آپ کے ذہن میں
04:28یہ ترتیب قائم ہو جائے گی
04:30اب یہ دیکھیں
04:31انہوں نے کہا کہ
04:32حدیث نمبر ہے
04:33دو ہزار چھ سو اڑھ سٹھ
04:35اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی
04:38انہما کی طرف منصوب کر کے
04:40ایک بات کہی گئی ہے
04:41یہ حضرت ابن عبی ملائی کا
04:44بیان کر رہے ہیں
04:45کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی
04:48انہوں نے لکھا
04:49کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
04:52نے مدہ علیہ کی قسم پر
04:55فیصلہ فرمایا
04:56تو اس کا مطلب ہے
04:58کہ کسی شخص نے
04:59ایک ناصل کا دعویٰ کیا تھا
05:01دوسرے نے خلاف اصل کا دعویٰ کیا ہوگا
05:05پہلے سرکار نے اصل والے سے کہا
05:07گواہ لاؤ
05:08وہ گواہ نہیں لاسکا
05:09تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
05:15نے ان کی قسم پر فیصلہ فرما دیا
05:17تو گواہ جو ہے
05:20وہ مدعی لے کر آتا ہے
05:21اور مدعی پر قسم ہوتی ہے
05:23اور اسی کے مطابق یہاں پر یہ فیصلہ ہوا
05:25اگلی حدیث ہیں
05:27جو دو حدیثوں کا مجموعہ ہے
05:29یہ آپ کے بتایا تھا
05:30کہ راوی بعض وقت دو ہوتے ہیں
05:31مطن ایک ہی بیان ہرا ہوتا ہے
05:33تو پھر
05:33یعنی دو سندے ہوتی ہیں
05:35امام بخاری نے ایک استاد سے سنا
05:37پھر آگے سند
05:38دوسرے استاد سے سنا آگے سند
05:39یا آگے اس کے ان کے استادوں کے اندر
05:42مطلب پہلے سیدھے چلتے رہے
05:44پھر آگے جا کر دو
05:45سندیں بن جاتی ہیں
05:47تو اس اعتبار سے دو حدیثیں ہونی چاہیئے
05:49لیکن وہ ایک ہی چھوکے بطن ہوتا ہے
05:51ایک جگہ ذکر کر دیتے ہیں
05:53تو دو ہزار چھے سو انتر
05:55اور دو ہزار چھے سو ستر نمبر حدیث پاک
05:58حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں
06:01کہ جس نے کسی چیز پر جھوٹا حلف اٹھایا
06:04جھوٹی قسم اٹھائی
06:06تاکہ وہ اس کی وجہ سے
06:08مال کا مستحق ہو
06:10وہ اللہ تعالی سے
06:11اس حال میں ملاقات کرے گا
06:13کہ وہ اس پر ناراض ہوگا
06:15پھر اللہ تعالی نے اس کی تصدیق میں
06:18یہ آیت نازل فرمائی
06:19کہ بے شک جو لوگ
06:21اللہ کے احد اور اپنی قسموں سے
06:22تھوڑی قیمت خریدتے ہیں
06:25یہ آیت عذابِ علیم تک ہے
06:27یعنی آیت نمبر
06:28آل عمران کی آیت نمبر 77 ہے
06:31پھر حضرت اشعف بن قیس
06:34رضی اللہ تعالی عنہ
06:35ہمارے پاس آئے
06:36پس کہا کہ حضرت ابو عبدالرحمن
06:38یہ حضرت عبداللہ بن مسعود کی کنیت ہے
06:41کہ ابو عبدالرحمن
06:43تم کیا چیز بیان کر رہے ہو
06:45تو ہم نے ان کو بتایا
06:47کہ وہ کیا کہہ رہے تھے
06:48تو انہوں نے بتایا
06:49کہ انہوں نے سچ کہا
06:51حضرت اشعف بن قیس
06:53حضرت عبداللہ بن مسعود کی
06:55تائد کرتے ہوئے کہتے ہیں
06:56کہ انہوں نے سچ کہا
06:57یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی تھی
07:00میرے اور ایک شخص کے درمیان
07:02کسی چیز کے متعلق جھگڑا تھا
07:05تو ہم دونوں نے
07:06نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں
07:08اپنا جھگڑا پیش کیا
07:10رحمتِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
07:13کہ تمہارے دو گواں ہوں گے
07:15ورنہ پھر اس کی قسم ہوگی
07:17تو جو خلافِ اصل کا دعویٰ کر رہے تھے
07:19سرکار نے فرمایا
07:20کہ آپ گواہ پیش کر دیں
07:22ورنہ پھر یہ قسم کھائیں گے
07:23میں نے آپ سے عرض کی
07:25کہ یہ تو قسم کھالے گا
07:27اور کوئی پروہ نہیں کرے گا
07:29یہ پیچھے آپ کو یاد ہوگا
07:30حدیث گدری تھی
07:31مقابلے میں یہودی تھا
07:33اور حضرتِ اشعف بن قیس
07:35جو تھے
07:36وہ اصل کا دعویٰ
07:37یہ خلافِ اصل کا دعویٰ کر رہے تھے
07:39ہاں خلافِ اصل کا دعویٰ کر رہے تھے
07:41وہ شخص اصل کا دعویٰ کر رہا تھا
07:43اور خلافِ اصل کا دعویٰ کرنے والے
07:45کو گواہ پیش کرنے تھے
07:46اور آپ کے پاس گواہ تھے نہیں
07:48تو سرکار نے فرمایا
07:50حضرتِ اشعف سے
07:51کہ آپ گواہ پیش کریں
07:52ورنہ
07:52اس کی قسم پر فیصلہ ہو جائے گا
07:55اور معاملہ یہ تھا
07:56کہ حضرتِ اشعف حق پر تھے
07:58اور وہ جھوٹ بول رہا تھا
07:59تو آپ نے فوراں سرکار کی بارگاہ میں
08:01عرصیہ سلنا ہے
08:02یہ تو جھوٹا آدمی ہیں
08:03جھوٹا حلف اٹھا لے گا
08:04لیکن ہم نے اس پہ بھی آپ کو سمجھایا تھا
08:07کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
08:10اگرچہ کہ آپ
08:11بارہا یہ بات ثابت ہے
08:13کہ بطریقِ موجزہ
08:14اللہ کی عطا سے
08:15سامنے والے کی قلبی احوال پر بھی متعلق ہو گئے ہیں
08:18لیکن جتنے بھی آپ نے فیصلے فرمائے
08:21وہ اپنے ظاہر کا اعتبار کیا
08:23جو ایک ذابطہ قائدہ تھا
08:25کہ خلافِ اصل کا دعویٰ کرنے والا گواہ پیش کریں
08:28اگر نہیں کر سکا
08:29تو سامنے والے کی قسم لے جائے گی
08:32اب اگر وہ سچی قسم کھا رہا ہے
08:33تو ٹھیک
08:34اگر جھوٹی قسم کھائے گا
08:36پھر بھی فیصلہ اس کے حق میں ہوگا
08:37کیونکہ جھوٹ کیسے ظاہر ہو
08:39چلیں اللہ کے نبی
08:40تو اللہ کی عطا سے
08:41اگر اس کے جھوٹ پر متعلق ہو بھی جائیں
08:43تو بعد والے جیسے ہم لوگ آپ ہیں
08:45تو ہم تو متعلق نہیں ہو سکتے
08:47تو ہم تو اس کی جھوٹی قسم کے اوپر ہی فیصلہ کر دیں گے
08:50حکم تو یہ ہوتا ہے
08:52کیونکہ جھوٹ ہم پر منکشف نہیں
08:54ہم تو اس کو سچ سمجھیں گے
08:56لیکن اب بالوں کہتے ہیں
08:57جھوٹ پر فیصلہ کر کے وہ لے گیا
08:59یہ کیا بات ہو گئی
09:00بھئی تو پھر اس کے علاوہ آپ بتا دیں
09:02کیا کرنا چاہیے تھا
09:03جھوٹ پر کیسے متعلق ہوں گے
09:05اسی لئے پھر وہ وعیدات بیان کر دیں
09:07کہ آج اگر یہ مال کھا گیا ہے
09:09تو میدان محشر میں کیسے بچے گا
09:11ڈے آو ججمنٹ موجود ہے
09:13وہاں اللہ تبارک و تعالی
09:15اس کی جھوٹی قسم پر
09:16شدید اس پر غضبناک ہوگا
09:18چنانچہ جب انہوں نے کہا
09:20کہ رسول اللہ یہ تو کوئی پروان نہیں کرے گا
09:21جھوٹی قسم اٹھا لے گا
09:23تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
09:25کہ جس نے کسی چیز پر حلف اٹھایا
09:27تاکہ وہ اس حلف سے
09:29یعنی خدا کی قسم سے
09:31یا گواہی دے کر
09:32شہادت دے کر باقیدہ جھوٹ بولے
09:34کسی مال کا مستحق ہو جائے
09:36اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو
09:38تو وہ اللہ تعالی سے اس حال میں مرے گا
09:40کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا
09:43تب اللہ تعالی نے اس کی تصدیق میں
09:45یہ آیت نازل فرمائی
09:47پھر انہوں نے سورہ آل عمران کی
09:49آیت نمبر سیونٹی سیون
09:51تلاوت فرمائی
09:52تو اگرچہ اس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے
09:55لیکن ادھر تھوڑا سا اور ہم نے وضاحت کر دی
09:57جتنے میرے بھائی بہن سن رہے ہیں
09:59بعض اوقات ہم تھوڑے سے مال کے
10:02مستحق بننے کے لئے جھوٹ بول دیتے ہیں
10:04جیسے گاڑیاں ٹکرا گئیں
10:06تو کوئی اپنی غلطی ماننے کے لئے
10:08تیار نہیں ہوتا
10:08حالانکہ ایک فریق بعض اوقات
10:11بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ
10:12واقعی پتہ نہیں چلتا
10:13لیکن بعض اوقات پتہ ہوتا ہے
10:15کہ خلاف قانون معاملہ کس نے کیا ہے
10:17غلط کس نے ہٹ کیا ہے
10:20لیکن وہ آپ ہی دیکھیں
10:22جب یہ گاڑی والے رکتے نا
10:24اور ہو سکتا ہے
10:25ہم میں سے بھی کسی کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہو
10:27اپنی غلطی ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے
10:30خوف یہ ہوتا ہے
10:31اگر مان لیں گے تو وہ کہے گا پیسے دو
10:32اس لئے اسی پہ ڈالتے رہو ساری غلطی
10:35اور بعض تو اتنے جرت مند ہوتے ہیں
10:37کہ دوسرے پہ جھوٹا الزام لگا کر
10:39اپنی طاقت کے بلبوتے پر
10:41یہ کسی بھی طریقے سے
10:42الٹا اسی سے پیسے لے لیتے ہیں
10:44تو آپ اندازہ کریں
10:46کہ یہ جو پیسہ لیا
10:47اور اس پہ قسم کھا لیتے ہیں
10:48کہ غلطی میری نہیں ہے
10:49اسی کی ہے
10:49یہ جو آپ نے پیسہ کھایا ہے نا
10:52یہ حرام ہے
10:52ایسی جو یہ کام دھندے کرنے والے ہوتے ہیں
10:55کام سے مراد اپنی سرویس پروائیڈ کرنے والے
10:59یہ مکینک حضرات ہوتے ہیں
11:01کمپیوٹر ٹھیک کرنے والے ہوتے ہیں
11:02کوئی بھی مشینری ٹھیک کرنے والے
11:05یہ بعض اوقات
11:07جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں
11:10کہ اس میں یہ چیز خراب ہے
11:12آپ کہتے ہیں
11:12یہ تو پہلے کبھی نہیں کھا
11:13رہے بھائی خدا کی قسم
11:15مم کو جھوٹ بولیں گے
11:16پھر قسمیں کھا لیتے ہیں
11:17اور پھر بعض اوقات
11:18وہ بالکل معمولی سے آ
11:20اس میں معاملہ ہوتا ہے
11:21لیکن جھوٹ بول کے بڑا بناتے ہیں
11:23اور اس سے پیسے کھا لیتے ہیں
11:25اور بعض اوقات
11:26کوئی چیز خراب نہیں ہوتی
11:28لیکن نکال لیتے ہیں
11:29اور کہتے ہیں
11:30کہ جی وہ چیز خراب ہے
11:31اس کے جگہ دوسری لگا دیتے ہیں
11:33وہ بھی بگ گئی اپنی
11:35اس کے پیسے بھی لے لیے
11:36یہ اس کی چیز بھی ہاتھ میں آگئی
11:37اور اس پہ جھوٹی قسمیں کھا رہے ہوتے ہیں
11:39ایسی بہت سارے لوگ ہوتے ہیں
11:41کہ جو دکانیں چلا رہے ہوتے ہیں
11:43اور اپنی پروڈکٹ کے اوپر
11:45جھوٹے قسمیں کھاتے ہیں
11:46کہ یہ بہت اچھا مال ہے
11:47اور فلائیں فلائیں
11:48اور وہ دے دیتے ہیں
11:49سامنے والے کو
11:50عیب ناک مال
11:52تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:54نے فرمایا
11:54کہ جھوٹی قسم
11:55سودہ تو بکوا دیتی ہے
11:57لیکن اس کی برکت سے
11:58محروم کروا دیتی ہے
11:59اور دوسرا یہ
12:01کہ جب آپ نے جھوٹی قسم کھا کے
12:02اپنی چیز بیچی ہے
12:03تو برود قیامت
12:05اللہ تعالیٰ کے غزب کے
12:07مستحق ہوں گے
12:08اس لئے کیا فائدہ
12:10یہ تھوڑے سے
12:10آپ اس کے لئے جھوٹی قسمیں کھائیں
12:12ایسے ہی بعض اوقات
12:14قسمیں کھا لیتے ہیں
12:16ہم نے آپ کو بتایا تھا
12:18کہ ایک بے مرابحہ ہوتی ہے
12:20کہ جس میں دکاندار
12:22کس چیز کی اصل قیمت بتاتا ہے
12:24اور اس پر پروفٹ بھی ذکر کر دیتا ہے
12:26تو اب جیسے یہ گلاس لیا ہے
12:28یہ گلاس اس کو پڑا گھر کے اوپر
12:30پندرہ روپے کا
12:32لیکن جھوٹی قسم کھا کے کہتا ہے
12:34کہ خدا یہ قسم تیس روپے کا
12:36تو گھر پہ پڑا ہے
12:36صرف دو روپے لے رہا ہوں آپ سے
12:38بتیس روپے دے دیں
12:39سامنے والے اس کی قسم کا اعتبار کر کے
12:42کہ یہ سچ کہہ رہا ہوگا
12:43زیادہ پیسے دے کے چلے جاتا ہے
12:45یہ جو قسم کھا کے آپ نے
12:47سودا بیچا ہے
12:48اس پر بھی آخرتیں گریفت ہیں
12:50اسی طریقے سے ایک نجش ہے
12:54کہ چیز کی قیمت کو
12:56اصل قیمت کو جھوٹ بول کے بڑھانا
12:58دھوکہ دینا
12:59تاکہ سامنے والا دھوکے میں آ کر
13:01اس کو لے لے
13:02اس کی صورت یہ بنتی ہے
13:03کہ جیسے ایک دکاندار کچھ چیز بیچ رہا ہے
13:06اور اس نے اپنا ایک آدمی رکھا ہوا ہے
13:08تو دکاندار نے کہا
13:10کہ یہ چیز جو ہے
13:11پانچ سو روپے کی ہے
13:12گہاک نے کہا رہے تو بہت مہنگی ہے
13:14تو وہ دوسرا آ گیا فورا
13:17کہ یہ مجھے زادہ کی دے دیں
13:19یعنی وہ کہہ رہا ہے
13:20ساڑھے چار سو
13:21تو کہا نہیں میں اس سے بیس بڑھا کر دے دوں گے
13:23تو بہت اچھی چیز ہے
13:24خدای قسم یہ تو بہت سستی مل رہی ہے
13:25اس طرح قسمیں کھانا
13:27تاکہ گہاک کو یقین حاصل ہو جائے
13:29کہ یہ تو گہاک یہ بھی بھئی
13:32قیمت بڑھا رہا ہے
13:33تو واقعی قیمت زادہ ہوگی
13:34تو وہ اصل قیمت سے بڑھا کر دے دیتا ہے
13:37اب یہ دھوکہ
13:38صرف دھوکہ دینے کے لئے قسم کھا رہا ہے
13:40سوڑا خریدنا مقصود نہیں ہوتا
13:42اور یہ ملی بھگت ہوتی ہے
13:44تو پھر اس طریقے سے
13:45قسمیں کھا کر آدمی آج مال حاصل کر رہا ہے
13:49یوں یہ آپ کورٹ میں دیکھ لیں
13:50جتنے بھی یہ مالی کیسز ہیں
13:53اس میں اسی طریقے سے ہوتا ہے
13:55کہ حلف اٹھاتے ہیں باقاعدہ
13:57کہ میں جو کہوں گا
13:59سچ کہوں گا
14:00سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہوں گا
14:01اگر میں جھوڑ بولوں
14:02تو مجھ پہ اللہ کا غضب اور لانت نازل ہو
14:05لا حول ولا قوت
14:06یہ اتنا سخت حلف ہے
14:08کہ ذرہ برابر اگر
14:09اللہ کا خوف ہونا
14:11کوئی اپنا بھی پیسہ ہونا
14:14اس پر بھی قسم ناک ہے
14:15کہ یار لے جاتنوں لے لے پیسے
14:16لیکن یہ قسم اتنی خطرناک
14:18اتنی
14:19یعنی اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی
14:21اور مو بھر بھر کے جھوڑ بول رہے ہوتے ہیں
14:24مکانوں پہ قبضے کر لی ہیں
14:25دکانوں پہ قبضے
14:27پلوٹس پہ قبضے
14:28بھائی کب تک کھا لوگے میرے پیارے بھائیو
14:30یہ تو یہی رہ جائے گا
14:32خواتین جھوڑ بول رہی ہیں
14:33گھر میں چھوٹی چھوٹی باتوں کے اوپر
14:35جھوڑ بول کر
14:36اللہ کی قسم کھا کھا کر
14:37دوسری سے مال اینٹ لیتی ہیں
14:39یہ سب اس وعید کا شکار ہوں گے
14:42اس لئے کبھی بھی ایسا نہ کریں
14:43اگر میرے کسی بھائی بہن نے
14:45جھوٹی قسم کھا کر
14:46اپنا سودہ بیچا تھا
14:47جھوٹی قسم کھا کر
14:49کسی سے کیس جت لیا تھا
14:51اس کا مال ہڑپ کر لیا تھا
14:53تو فوراں اس کو تلاش کریں
14:54اور معذرت کر کے
14:56یہ پیسہ اس کو واپس کر دیں
14:57اور اگر آپ سمجھتے ہیں
14:59کہ مالک پتہ نہیں کون ہے
15:01یہ کہاں چلا گیا
15:02معلوم نہیں ہے
15:03تو پھر اللہ کی بارگاہ میں
15:04سچی پکی توبہ کریں
15:06اور ایسے
15:07جتنا مال آپ کو گمان ہے
15:08کہ میں نے قسمیں کھا کھا کے
15:10لوگوں کا لے لیا ہے
15:11جھوٹی قسمیں کھا کر
15:13اتنا مال ان نامعلوم
15:15مالکان کی طرف سے صدقہ کر دیں
15:18بس اندازہ ہی کریں گے
15:19ایک اور باز وقت یاد نہیں رہتا
15:21کہ کتنا ہوگا
15:22ایک لاکھ دو لاکھ تین لاکھ
15:24تو یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں
15:25کہ آپ اقدم تین لاکھ دے دیں
15:27چلیں اگر ایک ساتھ نہیں دے سکتے
15:28دے دیں تو بہت اچھا ہے
15:29چلو وابال سے بچیں
15:30لیکن تھوڑا تھوڑا دے دیں
15:32پانچ ہزار دس ہزار
15:33کتاب میں لکھ لیں
15:34کاٹتے جائیں
15:35کہ اتنا رہ گیا
15:35اتنا رہ گیا
15:36حتیٰ کہ ختم
15:37لیکن یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں
15:38کہ اس سے آپ بریو ذمہ ہو جائیں گے
15:41کیونکہ اللہ تعالیٰ نے
15:42اپنے ذمہ کرم پر کر لیا ہے
15:44کہ میدانِ معاشر میں
15:46مظلوم کو
15:48ظالم سے ضرور بدلہ دلوائے گا
15:50تو لہٰذا دونوں کو
15:52کھڑا کیا جائے گا
15:53اور اللہ تعالیٰ پھر
15:53ظالم کو کہہ گا
15:55بدلہ دو
15:56تو جس نے مال کھایا تھا
15:58میں نہیں کہہ رہا ہوں
15:59کہ یہ بچ جائے گا
16:00لیکن یہ ضرور ہے
16:01کہ یہ کرنے سے
16:02اللہ کی رحمت متوجہ ہوگی
16:04لہذا مزید یہ کام بھی کر لیں
16:05تو بہت اچھا ہے
16:06کہ آپ ایسے لوگوں کے لئے
16:08دعائے بخشش و مغفرت کریں
16:09کہ اللہ تعالیٰ
16:11جن لوگوں کا میں نے مال کھایا
16:12جھوٹی قسمیں کھا کر
16:13اب مجھے نہیں پتہ چل رہا
16:14وہ کون ہیں
16:15مجھے معاف کر دیں
16:16ان سب کی بخشش و مغفرت فرما دیں
16:18جو بھی نیک عمل کریں
16:20اس کا ثواب ان کو ایسال کر دیا کریں
16:23اور ان کے لئے کوئی ثوابیں جاریہ کر لیں
16:25کوئی دینی طالب علم کو
16:27عالم بنا دیں
16:28مفتی بنا دیں
16:29کوئی حافظ قرآن باعمل ہو
16:32اس کو سپورٹ کر دیں
16:33دینی طلبہ کو کتابیں وغیرہ دے دیں
16:36غریبوں کی امداد کر لیں
16:37کوئی مسجد بنانے میں چندہ وغیرہ دے دیں
16:40تاکہ ان کا ثواب کا سلسلہ چلتا رہے
16:43تو جب میدان محشر میں ہوں گے
16:45یقین پھر آپ کو بھی کھڑا کیا جائے گا
16:47ان لوگوں کو کھڑا کیا جائے گا
16:49لیکن آپ نے ان کے لئے
16:51اتنا ثوابی سال کیا ہوگا
16:53ثواب جاریہ کیا ہوگا
16:55انشاءاللہ وہ پہاڑوں کے برابر ہو کر
16:57ان کو ملے گا
16:59اور امید ہے کہ پھر وہ کہیں گے
17:00کہ ہم نے تو تھوڑا سا اس نے کھایا تھا
17:02یہ تو اتنا ہمیں مل رہا ہے
17:03آپ کو معاف کر دیں گے
17:05آپ بھی کریں
17:05میں بھی غور کرتا ہوں
17:07کہ خدا خاصتہ کبھی ایسا
17:08اللہ کا شکر ایسا نہیں ہوا
17:09لیکن چلیں
17:10احتساب کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے
17:12اور دنیا میں معاملہ نفٹا دیتے ہیں
17:14تاکہ آخرت میں کچھ باقی نہ رہے
17:16اللہ تعالیٰ مل کی توفیق تفرمائیں
17:18آمین
17:18وآخر دعوانا
17:20ان الحمدللہ رب العالمین
Be the first to comment