Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:28بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30اور آپ نے ہر زوجہ کے لیے ایک دن اور ایک رات کی باری مقرر کی ہوئی تھی سوائے سودہ
00:35بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنہ کے کیونکہ انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ کو ہبا کر دی تھی اور
00:44یہ انہوں نے کیا کیوں تھا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا حاصل ہو جائے اس کو
00:48تلاش کرتے ہوئے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی باری کو معاف کر دیا تھا
00:54ہمارا کلام اس پہ چل رہا تھا کہ ایک شخص اگر دو شادیاں کرتا ہے تو اس کو عدل و
01:00انصاف کی تعلیم تربیت پہلے حاصل کرنی چاہیے
01:03بیویوں کے درمیان ایک تو دنوں کے اندر باری مقرر کرنی ہوتی ہے مثلا ایک دن یہاں ایک دن یہاں
01:09یہ واجب ہے
01:09اور نان نفقے کے علاوہ جتنے امور ہیں ان سب میں عدل و انصاف لازم ہوتا ہے
01:14نان نفقے کے اندر فرق ہو سکتا ہے
01:17نان نفقے کا اطلاق یا یہ لفظ بولا جاتا ہے تین چیزوں پر رہائش کھانا پینا لباس
01:23اس میں سب سے پہلے تو شہر کی مالی حالت کا اعتبار ہوتا ہے پھر بیویوں کا ہوتا ہے
01:28مثلا شہر مالدار ہے اور اس نے تین عورتوں سے نکاح کیا ہے
01:32ایک مالدار عورت ایک میڈل کلاس کی ہے ایک بلکل لوئر کلاس کی ہے
01:36تو چونکہ خود مالدار ہے تو مالدار کو تو مالدار والا نفقہ دے گا
01:40جسے ایک مالدار عورت کا لباس ہوتا ہے رہائش ہوتی ہے کھانا پینا آلہ قسم کا دے گا
01:45اور میڈل کلاس والی کو آلہ درجہ کا دے تو بہت یہ اچھا ہے
01:48لیکن اس کو اگر اسی درجہ کا دے تو بہت صحیح پھر بھی صحیح
01:52اور جو لوئر کلاس ہے اس کو میڈل کلاس والا دینا اس کو لازم ہوگا کیونکہ خود امیر ہے
01:57اور فرض کر لیں کہ اگر یہ میڈل کلاس کا ہے اور تین عورتوں سے نکاح کیا
02:01امیرہ سے ہے پھر یہ میڈل کلاس کی ہے اور یہ بلکل لوئر کلاس کی ہے
02:05تو لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وَسْعَهَا
02:08اللہ تعالیٰ کسی جان کو اس کی حمت سے زیادہ آزمائش میں مبتلا کرتا ہی نہیں
02:13تو لہذا جب یہ خود بچارا میڈل کلاس کا ہے تو امیر عورت کو امیروں والا نفقہ کیسے دے گا
02:18تو یہ میڈل کلاس کا دے گا اس کو
02:20اور جو میڈل کلاس والی ہے اس کو تو میڈل کلاس کا دے گا
02:23اور جو لور کلاس والی
02:24اس کو لور کلاس والی کا دے سکتا ہے
02:26خود میڈلے تھوڑا سا نیچے کا دے سکتا ہے
02:29اور اگر یہ خود غریب ہے
02:31شوق ہو گیا تین شادیوں کا
02:32وہی تینوں سے کر لی
02:34تو اب بیچارہ کچھ کر لی نہیں سکتا
02:35تو تینوں کو ایک جسا نفقہ دے گا
02:37لور کلاس والا
02:38کیونکہ خود یہ سب سے نیچے درجے کے اندر ہے
02:41تو اس میں تو دیکھیں فرق آئے
02:42دو بیویاں مثال کے طور پر ایک امیر ہے
02:45اور ایک بلکل لور کلاس کی بچی سے
02:47اس نے نکاح کیا ہے
02:48اس کو آلہ درجے کا دے گا
02:49اس کو میڈل کلاس کا دے دے
02:50کوئی مسئلہ نہیں ہے
02:51اس فرق میں کوئی گریفت نہیں ہے
02:53کیونکہ یہ نان نفقہ سے تعلق رکھتا ہے
02:55اس میں پہلے شوہر کی مالی حیثیت کا اعتبار ہوتا ہے
02:57پھر ازواج کا ہوتا ہے
02:59لیکن ان کے علاوہ جو بھی دے گا گفٹ
03:02اس میں برابری واجب ہوگی
03:05مثال کے طور پر ایک زوجہ پیگننٹ ہے
03:07اور اس میں زیادہ اس کو پھل فروٹ
03:10دیگر چیزیں دے رہا ہے
03:11چاہے دوسری پیگننٹ نہ ہو
03:13اسے بھی دینا ہوگا
03:14یہ عدل و انصاف
03:15یا وہ چلو خود معاف کر دے
03:17تو ایک الک بات ہے
03:18لیکن ٹورچر نہیں کر سکتے
03:20زبردستی نہیں کر سکتے
03:21فورس نہیں کر سکتے
03:22کہ وہ معاف کر دے
03:23دینا دونوں کو ہوگا
03:26اپنی خوشی سے معاف کرے
03:27وہ ایک الک بات ہے
03:28تو یہ صورتحال ہوتی ہے
03:30اور یہ اکثر لوگ
03:30اس کو پورا نہیں کر پاتے
03:32کیونکہ میں ایزے مفتی ورک کر رہا ہوں
03:35خود شوہر بیچارے بتاتے ہیں
03:37اور بعد پھر بہنیں بتا رہی ہوتی ہیں
03:39کہ کس طریقے سے شادی کرنے کا بہت شوق ہے
03:42پہلی بات تو یہ
03:43کہ الانیا شادی نہیں کرتے ہیں
03:44کہتے ہیں میں خفیہ شادی کر لیتا ہوں
03:46تم سے دوسری شادی کی بات کر رہا ہوں
03:49اور بعد میں ہم اس کو ظاہر کر دیں گے
03:50میں تمام بچیوں سے
03:52بہنوں سے گزارش کرتا ہوں
03:53چاہے سامنے والا
03:54کتنا ہی نیک پریزگار
03:56متقی
03:58اپنے قول میں سچا
04:00ٹرسٹیبل پرسن
04:01کیسا بھی ہو
04:02اس بات پر اعتماد کبھی مت کی جائے گا
04:05کہ ابھی ہم خفیہ نکاح کر لیتے ہیں
04:06پھر بعد میں ظاہر کر دیں گے
04:07لیکن ہماری بہنیں
04:09بعد وقت جذبات سے مغلوب ہو کر
04:10اس کی بات پر اعتماد کر کے
04:12نکاح کر لیتی ہیں
04:13نکاح چونکہ خفیہ ہوتا ہے
04:15پتہ تو ہوتا نہیں
04:15حضرت پھر غائب ہو جاتے ہیں
04:17اور وہ کسی کو کہہ نہیں سکتی
04:18کہ اس نے میرے ساتھ نکاح کیا تھا
04:21اور جو کہتی بھی ہیں
04:21تو بعض وقت
04:22نہ پروو ہوتا ہے
04:23نہ کچھ ہوتا ہے
04:24نکاح نامہ بھی اسی کے پاس ہوتا ہے
04:25وہ کہتا ہے
04:26لاؤ نکاح ثبوت فرام کرو
04:28بڑی مشکل زندگی ہو جاتی ہے
04:29ایسے بے شمار کیسز
04:31ہمارے پاس آئیں
04:32اور بعض وقت ایسا ہوا ہے
04:33کہ دوسری والی کے پاس چلے گئے
04:35پہلی والی کو محتل چھوڑ دیا
04:36ان کے بچوں کو پال رہی ہے
04:38مشاری ٹیشنے پڑا کے
04:40برطن دھو کر
04:41کپڑے سلائی کر کے
04:42اور یہ دوسری بیوی کے ساتھ رہ رہے ہیں
04:44ایسے سے واقعات بھی ملے ہیں
04:45کہ اس عورت نے پال پوس کے بچوں کو جوان کر دیا
04:48ادھر ان صاحب کی بھی بچے ہوئے
04:50دوسری بیوی سے پھر ان سب نے
04:52لات مار کے باہر نکال دیا
04:54تو پہلی بیوی کے اور بچوں کی محبت پیدا ہوگی
04:57حضرت واپس آگئے پلٹ کے
04:58کہ مجھے معاف کر دو
05:00یعنی پوری زندگی آپ نے ان کو عذاب میں رکھا
05:02ان کی حق تلفی کی
05:04جب آپ کو وہاں سے ٹھوکر ملی
05:05پھر آپ یہاں پر آکے کہتے ہیں
05:07مجھے معاف کر دو
05:07پھر وہ عورتیں ہم سے پوچھتی ہیں
05:09بہنیں بعض اوقات
05:10کہ اس صاحب ایسے شہر کو اور بچے پوچھتے ہیں
05:13کہ ایسے باپ کو جس نے
05:14اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے
05:17ہمیں دنیاوی جہنم کے اندر جھوک کے رکھا
05:19ایسے باپ کو کہ ہم معاف کر دے
05:22پھر جو شرعی تقاضہ ہوتا ہے
05:24میں اس کو بیان کر دیتا ہوں
05:25ابھی نہیں بیان کر رہا
05:25میں اس کو یہاں پر
05:27جس نے پوچھنا ہو تو
05:28مجھ سے رسائی حاصل کر لیں
05:30تاکہ پھر میں سمجھا کر بتاؤں آپ کو یہ
05:32لیکن ذرا سوچے تو صحیح
05:34اتنا سیلفش آدمی بن جائے
05:35کہ اس وقت نہ بچوں کی معصومیت پر توجہ ہو
05:38نہ اپنی زوجہ کی جوانی کے اوپر توجہ ہو
05:41کہ گزارہ کیسے کرے گی
05:42اس قدر اس ظالم معاشرے میں
05:44آپ نکل گئے دوسری بی بی کے ساتھ
05:46اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے
05:48اور وہاں سے جب ٹھوکریں پڑیں
05:50ان کے بچے جوان ہوئے
05:52پروپرٹی پر اس قفزہ کر لیا
05:53سائن کروا لیے گئے
05:55چیزیں قفزے میں کر لی
05:56دھکا دے دیا
05:57اب آپ آگئے یہاں پر کہ
05:59جی میں تمہارا شہروں میں تمہارا باپ ہوں
06:01مجھے عزت دو
06:02تو بہرحال اللہ تعالی رحم فرمائے
06:05یہ سب ہمارا دین نہ سیکھنے کا نتیجہ ہوتا ہے
06:08جتنے ماں باپ مجھے سنتے ہیں
06:09خدارہ میں آپ سے کہتا ہوں
06:11اپنے بچوں کو دین سکھائیں
06:13ضروری نہیں کہ جو آپ نے دین نہیں سیکھا
06:15تو آپ کے گھر کا جیسا محول ہے
06:17بچوں کے ساتھ بھی اثر رہے گا
06:19وہ بچے بعض اوقات دین سے دور ہو جاتے ہیں
06:22ماداللہ مرتد ہو گئے ہیں بچے
06:23ان کے گھروں میں گناہ قبیرہ ہو رہے ہیں
06:26صرف آپ کی ادم تربیت کی بنا پر
06:29اگر آپ یہ سمجھتے ہیں
06:30کہ ہمارا میدان مہاشر میں
06:33محاسبہ نہیں ہوگا
06:34ہم نے بچوں کو جی اچھے سکول میں پڑھایا
06:36پالپوس کے جوان کر دیا
06:38اور ان کو کاروبار بھی کروا دیا
06:40جوب بھی دلوا دی
06:41کیا یہ آپ کی صرف یہی ذمہ داریاں تھی
06:43ان میں سے بہت سی تو تھی بھی نہیں ذمہ داریاں
06:46آپ کے لئے ذمہ داری تھی
06:48ان کو علم دین سکھانا
06:49نیکی کا حکم کرنا
06:50برائی سے روکنا
06:51ان کی تربیت کرنا
06:53تاکہ وہ دینی احکام کو خوشدیلی کے ساتھ قبول کرے
06:57عبادات کی پابندیوں کے سلسلے میں
07:00ان کی طبیعت میں بغاوتیں پیدا نہ ہو
07:02آپ ان کے لئے اچھے رول موڈل بنتے
07:05کہ آپ کو دیکھ کر وہ نمازی بنتے
07:06سچ بولنے والے
07:07رسک حلال کمانے والے
07:09ایسی پھر اپنے بچوں کے لئے رول موڈل بنتے
07:12لیکن آپ نے ان کی تربیت نہیں کی
07:14آپ ایک برے رول موڈل بنے
07:16ایک ماں اپنے بیٹی کے لئے
07:18بری رول موڈل بنی
07:19کہ اپنے شہر سے جھگڑا
07:20پھڑا
07:21ساس سے
07:21نندوں سے
07:22جھوٹ پہ جھوٹ
07:23جھوٹ پہ جھوٹ
07:24جھوٹ پہ جھوٹ
07:25لیک پولنگ
07:26غیبتیں
07:27چغلیاں
07:28بتتمیزیاں
07:29بے نمازی پن
07:30دین سے راہ فرار
07:31بے پردگی
07:32یہی اپنے بچیوں میں منتقل کر دیا آپ نے
07:34پال پوسکر میں جوان کر دیا
07:36شادی کر دی
07:37یہ جو آپ نے
07:37ایک گناہگار
07:39نسل پیدا کی ہے
07:41تربیت نہیں کی ہے
07:42کیا اس کا کوئی وبال آپ پر نہیں ہوگا
07:44یہ گناہ جاریہ ہے آپ کے لئے بہت بڑی
07:48بہت بڑی گناہ جاریہ ہے
07:49جتنے گناہ کرتے رہیں گے
07:50سب آپ کے نام اعمال میں
07:53ایسے ماں آپ کو دیکھا
07:54حج کر رہے ہیں
07:54عمرے کر رہے ہیں
07:56تربیت کشنی کی بچے گناہ پر گناہ کر رہے ہیں
07:58آپ کا یہ حج عمرہ آپ کی
08:00تربیت نہ کرنے کے گناہ کو بچا لے گا
08:02آپ کو بریوز ذمہ کر دے گا
08:04آپ کے نبی نے فرمایا
08:06بار بار یہ حدیث آپ کو سناتا ہوں
08:11تم میں سے ہر شخص نگے بان ہے
08:14اس سے اس کے ماتحت کے بارے میں
08:16سوال کیا جائے گا
08:18فرمایا شوہر اپنے گھر پر حاکم ہے
08:20اس سے اس کے بیوی بچوں کے بارے میں سوال ہوگا
08:23اور سوال یہی ہوگا
08:25تربیت کی تھی
08:26علم دین سکھایا تھا
08:27نیک بنایا تھا
08:28پریزگار بنانے کوشش کی
08:29ان کو گناہوں سے روکا
08:31علم دین سکھا کے
08:32اس کی معرفت دی تھی
08:33صغیرہ کبیرہ ظاہری باطنی گناہ کی
08:35اور اگر بچوں سے کبھی
08:36بطاقہ زائے بشیرت گناہ ہوا تھا
08:38تو توبہ کروائی تھی
08:39اس کے طریقے بتائے تھے
08:41اگر نہیں
08:41تو پھر کہاں ہیں آپ کی حجیں
08:43کہاں گئے آپ کے عمریں
08:45کہاں گئے وہ بچوں کی شادیاں کروانا
08:47جی ہم یتیموں کو کھانا کھلا رہے ہیں
08:48شادیاں کچھ کام نہیں آئے گا پھر یہ
08:50کیونکہ آپ نے بہت بڑے بچوں اور بیوی کے حق میں
08:53کتاہی کی ہے
08:54آیت بھی آپ کو بار بار سنا
08:56یا ایہو اللذین آمنو
08:58قو انفسکم واہلیکم نارا
09:01وقود ہم ناسو والحجارا
09:03اے ایمان والو اپنے آپ کو
09:04اور اپنے گھر والوں کو
09:05جہنم کی اس آگ سے بچاؤ
09:07جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہے
09:10اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے
09:12کیسے بچائیں گے
09:13علم دین سیکھیں
09:14نیک عامال کریں
09:16گناہوں سے محفوظ رہیں
09:17گناہ ہو جائیں
09:18تو فوراں توبہ کی طرف آئیں
09:21اور اچھے رول موڈل بنیں
09:22اپنے بچوں کے لئے
09:24اور اپنے گھر والوں کو
09:25جہنم کی آگ سے بچانے کے مطلب
09:27انہیں علم دین سکھائیں
09:28نیکی کا حکم کریں
09:29برائی سے روکیں
09:30اخلاقی تربیت کریں
09:32اور اگر خدا نہ خاص تک
09:34کبھی گناہ ہو جائے
09:34توبہ کروائیں فوراں
09:36اچھے رول موڈل بنیں
09:37تاکہ بچے آپ کو دیکھ کر
09:38اچھے چلیں
09:39لیکن ہم یہ نہیں کر رہے ہوتے
09:40تو پھر گناہ جاریہ
09:42تو ہماری یہ باتیں سن کر
09:44بعض لوگ طبیعت خراب ہونے لگ جاتی ہے
09:46کیونکہ ہم تو سمجھتے ہیں
09:47ہم تو جنت ہی ہیں
09:48ہم نے بچوں کو اسکول پڑھایا
09:50بڑا کر دیا
09:52نوکری شادیاں کروا دیں
09:53اور حج بھی کر لی
09:54عمرے بھی
09:55اب ہماری آخرت کی
09:57بہتری میں تو کوئی رکاوٹ نہیں ہے
09:58ہے
09:59آپ نے اگر بچوں کو دین نہیں سکھایا
10:02بیسکس نہیں سکھائیں
10:03اور وہ گناہ کرتے رہے
10:04اس کی بنا پر
10:05تو آپ گئے کام سے
10:07تو میں مایوس نہیں کر رہا ہوں
10:09لیکن یہ
10:09سوچئے گا آپ
10:10ایک آدمی میں شعور بیدار ہو جائے
10:13کہ وہ اپنے ماضی زندگی
10:16گدشتہ زندگی پر توجہ کرے
10:18محاسبانہ نگاہ ڈال کے
10:19اپنی کتہیوں پر نظر کرے
10:21تو بہتر یہ ہوتا ہے
10:21فائدہ اس کا یہ ہوتا ہے
10:23کہ آدمی کو توبہ کا موقع مل جاتا ہے
10:25کہ اللہ میں بڑی کتہی کرتا رہا ہوں
10:27مجھے معاف فرما دے
10:28تو ہو سکتا ہے امکان ہو جائے
10:30لیکن آدمی گناہ کرے
10:31کتہیاں کرے
10:32حق قلب میں
10:33ڈاکر ڈالتا رہے
10:34اور اپنے بارے میں
10:36حسن زندگی رکھے
10:36میں تو سیدھا جنت پر جاؤں گا
10:37سارے پھس جائیں گے
10:38میں سیدھا جاؤں گا
10:39یہ خوش فہمی پھر
10:40انسان کو آخرت میں
10:43تباہ کروا سکتی ہے
10:44اس لئے ہم آپ کی خدمت میں
10:45گزارش کر رہے ہیں
10:46تو بہرحال
10:48نبی کریم نے فرمایا
10:49کہ باری سرکار مقرر فرماتے تھے
10:52قرآن جب سفر پہ جاتے تھے
10:54تو آپ کو بتایا تھا
10:54کہ پھر قرآن دازی
10:55اس میں باری مقرر کرنا لازم نہیں
10:57جس کا نام نکل آئے
10:58وہ لے جائے
10:59لیکن قرآن دازی بھی
11:00کوئی واجب نہیں
11:00یہ مستحب ہے
11:01جس کو چاہے وہ بیوی کو
11:02سفر پہ لے جا سکتا ہے
11:05اس کے بعد آپ نے فرمایا
11:06لیکن سعودہ بنت زمعہ
11:08رضی اللہ تعالیٰ عنہ
11:09کی باری مقرر نہیں تھی
11:10انہوں نے حبہ کر دی تھی
11:11سیدہ عائشہ کو
11:13ہوا یہ تھا
11:14کہ حضرت سعودہ بنت زمعہ
11:15رضی اللہ تعالیٰ عنہ
11:16تھوڑی اور ایج بھی تھی
11:17تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:19نے اپنی طبعی رغبت
11:21کو محسوس نہ فرمایا
11:22اور اسی بات ہے
11:22ہماری تعلیم کے لئے تھا
11:23تو آپ نے ارادہ فرمایا
11:25کہ آپ ان کو
11:26چھوڑ دیتے ہیں
11:27تو حضرت سعودہ بنت زمعہ
11:29رضی اللہ تعالیٰ عنہ
11:30نے گزارش کیا
11:31سللہ
11:31آپ مجھے اپنے نکاح میں
11:33باقی رکھیں
11:33میں میدان مہاشر میں
11:34آپ کی زوجہ کی حیثیت
11:35سے اٹھنا چاہتی ہوں
11:36میں اپنی
11:37آپ اگر رغبت
11:38محسوس نہیں فرماتے
11:39میں اپنی باری
11:40ہیبہ کر دیتی ہوں
11:41عائشہ کو
11:41اچھا باقی کو کیوں نہیں کی
11:43اور بھی ازواج تھی
11:44وہ سیدہ عائشہ نے خود بتایا
11:46وہ جانتی تھی
11:48کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
11:49سیدہ عائشہ صدیقہ
11:51رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے
11:52بہت زیادہ محبت
11:54فرماتے تھے
11:55آپ کو حبیبہ
11:56کہا کرتے تھے
11:56سرکار عائش
11:57محبت میں کہتے تھے
11:59اور تمام ازواج
12:00یہ بات جانتی تھی
12:01لیکن آپ کی محبت
12:03سیدہ عائشہ سے
12:04بی بی خدیجت القبرہ
12:06رضی اللہ تعالیٰ
12:07انہا کے بعد تھی
12:08ان سے سب سے زیادہ
12:09سرکار پیار کرتے تھے
12:10کیونکہ وہ مکی زندگی میں
12:12آپ کے ساتھ تھی
12:13اور ہماری والدہ نے
12:14بڑی قربانیاں دی ہیں
12:15نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:17کے لئے
12:18ان کے بعد
12:18وسال ظاہری کے بعد
12:20پھر سیدہ عائشہ صدیقہ
12:22رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:23تمام ازواج میں
12:24سرکار کو
12:25سب سے زیادہ پیاری تھی
12:26تو حضرت سعودہ
12:27بنت زمعہ
12:28رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:29نے
12:30اسی لئے سیدہ عائشہ کے
12:31حق میں
12:32اپنی باری کو چھوڑا
12:33کہ سرکار
12:34اس سے خوش ہوں گے
12:34کیونکہ سرکار چاہتے تھے
12:36کہ سیدہ عائشہ صدیقہ
12:37رضی اللہ تعالیٰ عنہ
12:38کے پاس زیادہ رہیں
12:39تو تاکہ اس سے
12:40سرکار راضی ہو جائیں
12:42تو اسی لئے
12:43ہم نے آپ کو
12:43عبارت بتائی تھی
12:45تب تغیب ذالک رضا
12:47رسول اللہ
12:48اس کے ذریعے
12:50کہ اپنی باری چھوڑی
12:51اس کے ذریعے
12:52نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
12:53کی رضا کو
12:54تلاش کرتے ہوئے
12:55انہوں نے اپنی باری کو
12:57چھوڑ دیا تھا
12:58سیدہ عائشہ کے حق میں
12:59اس کا مطلب ہے
13:00کام تو
13:01اللہ کی رضا کیلئے
13:01کرنا چاہیے
13:02لیکن یہ پہلے بھی
13:03میں آپ کو سمجھا چکا تھا
13:04سیدہ عائشہ کی
13:05حدیث آئی تھی
13:06اسی میں
13:06کہ آپ فرماتی ہیں
13:08کہ صحابہ کرام
13:08جب تحفہ دینا چاہتے
13:10تو اس دن دیتے تھے
13:11جب سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
13:13میرے پاس ہوا کرتے تھے
13:14رسول اللہ کی رضا
13:16کو حاصل کرنے کے لئے
13:17کیونکہ سرکار
13:18اس میں زیادہ خوش ہوتے تھے
13:19کہ میں عائشہ کے گھر ہوں
13:20اور یہ تحفہ مجھے دیا
13:21انہوں نے
13:22یا سیدہ عائشہ
13:23اپنی والدہ کو
13:24تحفہ سرکار کے ذریعے دلوایا
13:25تو سرکار اس سے خوش ہوتے تھے
13:27تو صحابہ کرام
13:27اس دن کا انتظار کیا کرتے تھے
13:30اسی طرح یہ
13:31تو اس پہ بھی
13:32ہم نے آپ کو سمجھایا تھا
13:33کہ اصل تو
13:33رضا باری تعالی مطلوب ہوتی ہے
13:36لیکن اس کے لئے
13:37ایک وسیلہ انسان بناتا ہے
13:39وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:41سب سے بڑا وسیلہ تھا
13:42کہ سرکار راضی ہوں گے
13:43دعا فرمائیں گے
13:44اللہ بھی ہم سے راضی ہو جائے گا
13:46تو عمل اللہ کے لئے کرنا چاہیے
13:48لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے
13:50کہ رضا باری تعالی حاصل کرنے کے لئے
13:52ہم کسی کو بیچ میں وسیلہ اور ذریعہ بناتے ہیں
13:55جیسے کہ یہ
13:55اور یہ کوئی شرک
13:56یا خدا نہ خواستہ
13:58یہ وسیلہ قائم کرنا
14:00کوئی ناجائز نہیں ہوتا
14:02بلکہ دیکھیں
14:03ہماری والدہ نے کیا
14:04اور اس سے ظاہر ہوا
14:06کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ
14:08سرکار کو بہت زیادہ محبوب تھی
14:11جب سرکار کا وسال زہری ہونے لگا
14:14آپ کی حیاتی طیبہ کے آخری ایام تھے
14:17سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ خود راویہ ہیں
14:20وہ کہتی ہیں کہ سرکار بار بار
14:22اپنی ازواج سے پوچھتے تھے
14:24کہ عائشہ کا دن کب آئے گا
14:25عائشہ کا دن کب آئے گا
14:27تو دو روایات ہیں
14:29ایک روایت میں تو تمام ازواج نے پھر آپس میں بات کی
14:33اور انہوں نے کہا کہ ہم اپنی باریوں کا حبہ کرتے ہیں
14:35اور سرکار عائشہ کے گھر میں
14:37عائشہ کے حجرے میں اپنے واقعی وقت گزار لیں
14:40اور ایک روایت میں سرکار نے فرمایا
14:42کہ کیا تمہیں ایسا کر سکتی ہو
14:43کہ سب اپنی باریوں کو معاف کر دو
14:45اور میں عائشہ کے پاس آخری وقت گزار لوں
14:48دونوں روایت کا مال اور نتیجہ یہ تھا
14:50سب راضی ہوئی دل سے
14:51اور سرکار نے اپنے آخری ایام
14:53سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گزارے
14:56جس خاتون سے
14:58نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:00اتنی محبت فرماتے ہوں
15:01اللہ کے رسول
15:03اللہ کے حبیب
15:04تو یقناً وہ اللہ کی بھی پیاری ہوں گی
15:06تو ان سے بھی ہمیں پیار محبت رکھنا چاہیے
15:08اور یہ ہمارے درجات کی بلندی کے لیے
15:10زبردست چیز ہے
15:12اس کا خیال لکھنا چاہیے
15:13تو اللہ تعالی ہمیں اس پر عمل کی توفیق اطاف فرمائے
15:16اس چپٹر کی آخری حدیث ہے
15:18دو ہزار چھ سو انانوے
15:22دو سکس ایٹ نائن
15:23یہ حدیث ہے حضرت ابو خریرہ
15:25رضی اللہ تعالی عنہ اس کے راوی ہیں
15:28وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہد فرمایا
15:31کہ اگر لوگ جان لیں
15:33کہ ازان دینے
15:35اور جماعت کی صفحے اول میں
15:38کتنا عجر ہے
15:40تو پھر انہیں سوائے قرآن اندازی کرنے کی
15:43اس کا موقع نہ ملے
15:45اور پھر انہیں سوائے قرآن اندازی
15:48کہ اس کا موقع نہ ملے
15:49تو وہ ضرور قرآن اندازی کریں گے
15:50اور اگر لوگ جان لیں کہ دوپہر کے وقت
15:53نماز پڑھنے میں کتنا عجر ہے
15:54تو وہ ضرور اس کی طرف
15:56سبقت کریں گے
15:58اور اگر لوگ جان لیں
15:59کہ عشاء اور صبح کی نماز میں
16:02کتنا عجر ہے
16:03تو وہ ضرور ان نمازوں میں آئیں گے
16:05چاہے سرین کے بل
16:07یعنی اپنی بیگ کے بل
16:09گزٹتے ہوئے آنا پڑے
16:10تب بھی وہاں پر پہنچیں گے
16:12تو اس میں چند عامال کا سرکار نے ذکر فرمایا
16:15اور یہ ہمیں اشارہ کی ہے
16:18اس طرف کہ عامال کا نتیجہ
16:20جو اللہ تعالیٰ نے آخرت میں
16:23بندوں کے لئے تیار کر رکھا ہے
16:24تم پر مخفی ہے
16:25لیکن میں اس کو جانتا ہوں
16:27اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کر دیا جائے
16:30تو پھر یہ جو عامال میں سستی ہے
16:32کوتاہی ہے
16:33راہ فرار اختیار کرتا ہے آدمی
16:36جب کہا جائے تو ہیلے بہانیں
16:38یا نماز پڑھ لو یا میں ناپاک ہوں
16:40اچھا انشاءاللہ رمضان سے شروع کروں گا
16:43اچھا جمعے سے شروع کروں گا
16:45ہم نیک عمل کو ٹالتے رہتے ہیں
16:47اور اگر کوئی کہے کہ ابھی میں تمہیں ایک چیز سکھا دیتا ہوں
16:50یوں کرو گے اقدم پانچ ہزار کے نوٹ سامنے ہوگا
16:53لیکن چلو جمعے کو بتا دوں گا
16:54ابھی تو تم مصروف ہوگے
16:56وہ لگا نہیں بھائی مصروفیت کے چولے بہار میں
16:58تو ابھی بتا دے مجھے
16:59اگر وہ کہے چلو رمضان تک انتظار کر لو
17:01انہیں نہیں ہے
17:02اتنا انتظار نہیں ہوگا
17:03کیوں ہارٹ فیل کروائے گا بھائی بتا دے
17:05دنیا حاصل ہو رہی ہو تو
17:06کل کے بجائے آج ہو جائے
17:08جب آخرت کا معاملہ ہو
17:10تو آج کے بجائے سو سال بعد ہو جائے
17:12یہ ہم نے جو روش اختیار کی ہے
17:14کہ دنیا کو ہم نے سب کچھ سمجھ لیا
17:17اور آخرت کو فراموش کر دیا
17:18یہ اچھے لوگوں کا طریقہ نہیں ہوتا
17:22انبیاء علیہ السلام
17:23آخرت کو فوقت دیتے رہے
17:25صحابے کرام آلے بیت اتھار
17:27غلی عزام
17:27مشتہیدین
17:28علماء صالحین
17:29سب
17:30لیکن یہ ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے
17:32دنیا کو بالکل چھوڑ دیا ہو
17:33ترک دنیا کی اجازت نہیں ہے
17:35دنیا سے حزہ نفس حاصل کر سکتے ہیں
17:36لیکن اصل اپنی آخرت
17:38اس پہ توجہ کرنے چاہیے انشاءاللہ
17:40بقیہ اس پہ تفصیلی کلام
17:41نیکس پرگرام میں ہوگا
17:43واخر دعوانا
17:44اور الحمدللہ رب العالمین
Comments