Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal
Watch All the Episodes of Dars e Bukhari | https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Watch All the Episodes of Dars e Bukhari | https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D
#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation
Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00shahadat shahadat
00:30shahadat minz
00:30گواہی دینا
00:31تو اس حدیث میں
00:33اس حصہ کتاب میں
00:35وہ احادیث کریمہ
00:37لائی گئی ہیں
00:38جن میں کہیں نہ کہیں
00:39کسی نہ کسی جہد سے
00:40کسی نہ کسی تعلق سے
00:42ایک شخص کا دوسرے کے بارے میں
00:45گواہی دینا ثابت ہوتا ہے
00:47چنانچہ اب
00:49ہم پچھلی پروگرام میں
00:52دو ہزار چھ سو
00:53باسٹھ نمبر حدیث پاک تک
00:55پہنچے تھے
00:55اس سے آگے کنٹینیو کریں گے
00:57پہلے باب دیکھ لیں
00:59باب قائم کیا ہے
01:00باب ما یکرہو من الاطنابی
01:02فی المدحی
01:03وَلْيَقُلْ مَا يَعْلَمْ
01:05کسی کی تعریف میں
01:06مبالغہ کرنے کی کراہت
01:08اور تعریف کرنے والے کو
01:10چاہیے کہ وہ وہی بات کہے
01:11جو وہ جانتا ہے
01:13اور اس میں حد سے
01:15نہ بڑھے
01:15تو کسی کے مو پر
01:18اس کی تعریف کرنا
01:19یہ اصل میں
01:19اس کے بارے میں
01:20ایک گواہی دینا ہی ہوتا ہے
01:22اگر آپ اچھے کمنٹس پاس کریں گے
01:24تو اس کے مطلب ہے
01:25آپ اس کے اچھے ہونے کی گواہی دے رہے ہیں
01:27اور اگر آپ بیٹ کمنٹس
01:29دیتے ہیں
01:30تو اس کا مطلب ہے
01:30کہ آپ اس کے
01:31برے ہونے کی گواہی دیتے ہیں
01:34اس پر امام بخاری حدیث لائیں
01:36جس پر انشاءاللہ بھی کلام ہوگا
01:37چنانچہ
01:38امام بخاری رحمت اللہ علیہ لکھتے ہیں
01:41دو ہزار چھ سو ترے سٹھ نمبر
01:44حدیث پاک لاتے ہوئے
01:45آپ نے اشارت فرمایا
01:46کہ حضرت ابو بردہ
01:48حضرت ابو موسیٰ
01:49رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں
01:52وہ بیان کرتے ہیں
01:53کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
01:56کہ سنا
01:57ایک شخص کسی دوسرے شخص کی تعریف کر رہا تھا
02:00اور اس کی تعریف میں
02:03مبالغہ کر رہا تھا
02:04بہت بڑا چڑھا کے پیش کر رہا تھا
02:06تو آپ نے فرمایا
02:07کہ تم نے اس کو حلاک کر دیا
02:10یا راوی کہتے ہیں
02:11یوں کہا تھا
02:12کہ تم نے اس کی پیٹھ کارڈ دی
02:14یعنی کمر کو کارڈ دیا
02:16یا پیٹھ توڑ دی
02:17تو یہ پہلے بھی اس میں تھوڑا سا کلام ہو چکا ہے
02:21پچھلی حدیث کے اعتبار سے
02:22کہ کسی کے مہو پر پہلی بات تو یہ
02:25کہ تعریف کرنے پر ہمیں غور و تفکر کرنا واجب ہے
02:28اور وہ بھی اس لیے
02:29کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ناپسند فرمایا
02:32کہ ہماری تعریف سے کہیں ایسا تو نہیں
02:35جو بلکل جائز ہے
02:36بلکل ہنڈر پسند
02:38اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں ہو
02:40تب کی میں بات ارز کر رہا ہوں
02:42لیکن یہ سوچنا
02:43کہ ایسا تو نہیں
02:45کہ اس تعریف کی وجہ سے اس میں بگاڑ پیدا ہو جائے گا
02:49مثلا آپ نے اس کی قیرات کی تعریف کر دی
02:51نماز پڑھنے کی تعریف کر دی
02:53کبھی میں دیکھ رہا تھا
02:53آپ بہت اچھی نماز پڑھتے ہیں
02:55تعریف تو کر دی
02:56لیکن یہ ہو سکتا ہے
02:58کہ اس کا باطن کمزور ہو
02:59اور اس کے بعد وہ زیادہ تکلف سے نماز عدا کرنا شروع کر دے
03:03تاکہ لوگ مجھے دیکھیں
03:04تو اسی طرح تعریف کریں
03:06پھر وہ زیادہ بنا کر قیرات کرے
03:08وہ زیادہ بنا کر بیان کرے
03:09وہ زیادہ بنا کر کوئی نات وغیرہ پڑھے
03:11کہ لوگ تعریف کریں گے
03:13تو یہ تعریف بعض اوقات انسان کے باطن میں
03:16ایک بگاڑ پیدا کر کے
03:18اس کے اخلاص کو کم کر دیتی ہے
03:20اور ریا کی طرف مائل کرتی ہے
03:22اس لئے غور کرنا ہوگا
03:24ہاں اگر آپ جائز تعریف کر رہے ہیں
03:26اور آپ یہ سمجھتے ہیں
03:27کہ بگاڑ پیدا نہیں ہوگا
03:28بلکہ حوصلہ افضائی ہوگی
03:30اور یہ زیادہ اخلاص سے
03:31اور زیادہ بڑی دین کی خدمت کرے گا
03:33تو پھر اس میں حرج نہیں ہے
03:35جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
03:37صحابہ گرام کی اجتماعی
03:40اور انفرادی تعریفات بھی بیان فرمائی ہیں
03:42اور اسی طریقے سے
03:44ہمارے اکابرین سے منقول ہے
03:46کہ وہ اپنے متبعین متعلقین کی تعریفات
03:49بقدر ضرورت کرتے رہے ہیں
03:51لہذا اچھی طرح غور کرنا
03:53ضروری ہوگا
03:55چاہے استاد تعریف کر رہا ہوں
03:56کوئی عالم مفتی کسی کے تعریف کریں
03:59پیر صاحب تعریف کریں اپنے مریدین کی
04:01یا ماباب جیسے کرتے ہیں
04:03ٹیچرز وغیر اپنے اسٹرونٹ کی تعریف کریں
04:05تو بہت سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے
04:07ورنہ بساوقات یہ بگاڑ پیدا ہوتا ہے
04:10یہ بھی ہم نے دیکھا ہے
04:11کہ بعض اوقات انسان تعریف سننے کے بعد
04:13اپنے آپ کو کامل و اکمل تصور کرنے لگ جاتا ہے
04:17کہ میں پرفیکٹ ہو چکا ہوں
04:18اور جب کوئی یہ سمجھ لے
04:20کہ میں کامل ہو گیا
04:21میں پرفیکٹ ہو گیا
04:22اب مجھ میں کوئی خامی نہیں ہے
04:24وہیں اس کی ترقی رک جائے گی
04:27کیونکہ پرفیکٹ ہونے کا مطلب
04:28آپ سب سے اوپر درجے پر آگئے ہیں
04:30باپ میں کوئی خرابی نہیں ہے
04:31تو وہ کیا احتساب کرے گا اپنا
04:33اور کوئی بھی انسان کبھی پرفیکٹ کبھی کامل نہیں ہو سکتا
04:37کیونکہ ہمارے قصور اقل بھی ہے
04:40نقائص ہیں
04:41عیوب ہیں
04:42بعض اوقات ہم خود اپنی خرابیوں پر متعلے نہیں ہو پاتے ہیں
04:46تو لہٰذا پھر ترقیوں کے راستے رک جاتے ہیں
04:48اور انسان ہزار ہا عیوب نقائص کے باوجود اپنے آپ کو کامل سمجھتا ہے
04:54نتیجہ نکلتا ہے
04:55اس کی سمجھداریاں
04:56اقل مندیاں دنیا میں اس کو نقصان دیتی ہیں
04:58اور اسی طرح وہ لوگوں کی ہمدردیوں سے محروم ہو جاتا ہے
05:02کہ لوگ اس کو متقبر اور مغرور سمجھ کے اس سے دور ہو جاتے ہیں
05:06اور اسی طرح مخلص دوستوں کو وہ دور کر دیتا ہے
05:10کہ جو پوزیٹیف اصلاح کر کے اس کے عیوب کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں
05:14اور یہ کہتا ہے کہ یہ تو میرے اندر خامہ خیب نکالتے ہیں
05:17میں پرفیکٹ ہو تو ان کو دور کر دیتا ہے
05:19اور خوش آمد پسند قریب آ جاتے ہیں
05:22اور اس سے پھر دنیا کے بھی نقصان ہوتا ہے
05:24اور آخرت میں بھی انسان برباد ہوگا
05:28تو بہت سوچ سمجھ کے تعریف کرنے چاہیے
05:30دوسرا ہوتا ہے تعریف میں مبالغہ کرنا
05:34مبالغہ کا مطلب ایک شخص میں اصاف ہیں
05:37لیکن جھوٹ ملا دینا اس کی تعریف میں
05:39یہ بالکل غلط ہے
05:40جھوٹ تو ویسی جائز نہیں ہے
05:42اور یہ مو پر کیا جائے تب بھی غلط ہوتا ہے
05:44اور یہ بہت زیادہ بگاڑ پیدا کرتا ہے آدمی کے اندر
05:47جو سمردار قسم کے ہوتے ہیں
05:50اور واقعی
05:51وہ اللہ تعالیٰ کا ڈر اور خوف اپنے قلب میں رکھتے ہیں
05:56تو وہ اس قسم کی تعریفات کو سننے کے بعد خوش نہیں ہوتے
05:59بلکہ کہتے ہیں کہ میرے اندر وہ چیز ہے نہیں
06:02اور خامخہ اتنا مبالغہ ہی کر رہا ہے
06:03تو اسے ایسا لگتا ہے جیسے یہ خوش آمد کر رہا ہے
06:06جس کو ہم ستہی زبان میں مسکہ لگانا چونہ لگانا کہتے ہیں
06:10تو یہ اس طریقے سے لوگ پھر کہتے ہیں
06:12بہت اونچا کر کے بول رہا
06:14سننے والے بھی محسوس کر لیتے ہیں کہ یہ مسکہ لگا رہا
06:18تو ایسا نہیں ہونا چاہیے
06:19اب میں کچھ کہنا نہیں چاہتا ہوں
06:22کہ کون کون اس طرح کیسے
06:23یعنی کس شعبے کا فرد زیادہ مسکے لگاتے ہیں
06:25لیکن بہرحال ٹھیک نہیں ہوتا جو بھی ہیں وہ سنیں
06:28اور اس طریقے سے مبالغہ آرائے ہرگز نہ کریں
06:31نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو
06:33شدید ناپسند فرمایا ہے
06:35اور پھر اس میں چونکہ جھوٹ بھی ہوتا ہے
06:36اور جھوٹ منع ہے
06:37ایسی میں انتہائی عدب میں رہ کر گزارش کرتا ہوں
06:41کہ ہمارے اکابرین
06:42ایسے سے کارنامے کر چکے ہیں
06:45اللہ نے ان کی ذات میں
06:46ان کے افعال و آمال میں
06:49ان کے کلام میں بڑی برکتیں رکھی ہیں
06:51اور ان کی زندگی کے بہت سارے ایسے پہلو ہیں
06:54جن کو ہم کرامت کہہ کر بیان کر سکتے ہیں
06:57ان کی استقامتیں دین اسلام کے لئے قربانیاں
07:00تو ان کی تعریفات میں
07:01جھوٹ کی آمیدش کرنے کی کیا ہا جاتے ہیں
07:04لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں
07:06کہ بہت سارے ایسے افراد
07:08جو اپنے آپ کو علم کی طرف منصوب کرتے ہیں
07:10جب کسی اکابر کی تعریف کرتے ہیں
07:13یعنی کسی پرانے بذر کی
07:14تو جھوٹے واقعات
07:16جھوٹی کرامات اور جھوٹے قصے
07:18ان کے طرف منصوب کر کے
07:19گویا کہ ان کی تعریف کرنے کی کوشش کرتے ہیں
07:22بہت سے ایسی چیزیں ان کے طرف منصوب کرتے ہیں
07:25جو انہوں نے نہ کہیں ہیں
07:26نہ کبھی کی ہیں
07:28لیکن بس اپنے پاس سے بنا کے
07:30کہ لوگ کون سا تصدیق کریں گے
07:31تو یہ اس طرح کے بہت سارے واقعات
07:33سامنے آ چکے ہیں
07:35اور اب بھی ہم دیکھ رہے ہیں
07:36آج کل چونکہ سوشل میڈیا سب کے ہاتھ میں آ گیا ہے
07:39ایک ایسا پلیٹ فارم آ گیا ہے
07:40کہ اگر ایک عام آدمی بھی بیٹھ کے
07:43کوئی بات کرتا ہے
07:44تو پانچ دس ہزار آدمی تو اس کو دیکھ ہی لیتے ہیں
07:47اور پھر خصوصا اگر ساتھ میں
07:49علم کا لیبل بھی لگا ہو
07:50علامہ کا یا مفتی کا یا کوئی پیر صاحب کا
07:53تو اور زیادہ لوگ دیکھتے ہیں
07:55لیکن وہ یہ نہیں سوچتے
07:56کہ ہم جو مبالغہ آرائی کر رہے ہیں
07:58کیا یہ بذرک جن کی ہم کر رہے ہیں
08:01اس سے خوش ہوں گے یا ناراض ہوں گے
08:03آپ یقین کیجئے وہ بذرک ناراض ہوں گے
08:05اور شدید ناراض ہوں گے
08:07اور میدان معاشر میں اگر یہ سمجھتے ہیں
08:09کہ ہم اس طرح ان کی عظمت
08:11لوگوں کے دل میں ڈال کر
08:12شاید ان کی توجہ کا مرکز
08:15اور سبب بن جائیں گے ایسا نہیں ہوگا
08:17ہو سکتا ہے میدان معاشر میں
08:19وہ آپ سے ناپسندیدگی
08:21کے ساتھ چہرہ پھیر لیں
08:23تو ہم نے ہماری ذات کے ساتھ اتنا جھوٹ
08:25منصوب کیوں کیا تھا
08:26تو یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہوتی ہے
08:28اس لئے میں اپنے بچوں سے گزارش کرتا ہوں
08:30کہ آپ سوشل میڈیا پہ
08:32ہر بیان کرنے والے کے بیان کو
08:34جو مستند نہ ہو
08:35مستند علماء ہوتے ہیں
08:37تو وہ سوچ سمجھ کے کریں گے
08:39انشاءاللہ عزوجل
08:40میرا حسن زن یہی ہے
08:42ہر جو شخص میڈیا پہ آپ کو
08:44دھاڑی والا نظر آئے
08:45اور نیچے مفتی کے ساتھ لکھا ہو
08:47تو وہ ضروری نہیں ہے
08:48کہ ایسا ہوتا ہے
08:49تو نتیجہ نکلتا ہے
08:51کہ پھر آپ اس جھوٹ کو آگے
08:52منتقل کرنے میں معاون بنتے ہیں
08:55کہ اس کو آپ آگے ویڈیو فارورڈ کر رہے ہیں
08:57وارس ایپ گروفز میں ڈال رہے ہیں
08:59تو ایک جھوٹ عام ہوتا چلا جاتا ہے
09:01اور اس میں آپ بھی قصوروار ہوں گے
09:02اس لئے میری گزارش یہ ہے
09:04کہ جب آپ کسی کا بھی ایسا کوئی بیان سنیں
09:06جس میں کوئی نئی چیز آ جائے
09:08جیسے شیخ عبدالقادر جلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
09:11بہت بڑے بذرگ گزریں
09:12اور آپ کے بڑے مناقب لوگوں نے جمع کیے ہیں
09:15حتیٰ کہ شوافے نے آپ کے
09:17احناف نے آپ کے مناقب پہ بیان کی
09:20یا دیگر معاملات ہوئے ہیں
09:21تو ان کے بارے میں
09:23بعض اوقات نئے نئے قصے آپ کے سامنے آئیں گے
09:26جو نہ کسی بدرگ نے بیان کی
09:28نہ آپ نے کتنی کتابیں پڑھی ہوں گے
09:30اس میں نظر آئے
09:30تو ایسی صورت میں میں یہ نہیں کہتا ہوں
09:32کہ وہ عالم ضرور جھوٹ بول رہا ہوگا
09:33غلط کہہ رہا ہوگا
09:35لیکن تصدیق ضرور کروالی جائے گا
09:37کسی اچھے مستند مفتی صاحب عالم دین سے
09:39کہ آج میں نے ایک نئی چیز سنی ہے
09:41پہلے کبھی نہیں سنی کیا یہ ایسا ہے
09:42اور جب آپ کو وہ مستند عالم دین
09:45مستند مفتی صاحب یہ بتائیں
09:46کہ نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے
09:48تو پھر اس کو نہیں کو آپ قبول کریں
09:50اس ہاں کو قبول نہ کریں
09:52تو اس لئے ایسے افراد جو بغیر احتیاط کیے
09:55بدرگان دین کی تعریفات میں مبالغہ کر رہے ہیں
09:58وہ بھی غلط ہے
09:59ایسے بعض اوقات پیر صاحب سامنے ہوتے ہیں
10:01اور مرید ان کی تعریف میں مبالغہ کر رہا ہوتا ہے
10:04ایسے میں پیر صاحب کو بھی چاہیئے
10:06کہ اگر وہ آپ کو پتا ہے
10:07کہ آپ میں وہ وصف نہیں ہے
10:09اور یہ جھوٹ بول رہا ہے
10:10تو اس کو خاموش کروائے نا
10:11کہ تمہیں جھوٹ کیوں بول رہا
10:12لیکن بعض اوقات خود ایک انسان کی خواہش ہو جاتی ہے
10:16اچھے پیروں کی بات نہیں کر رہا ہوں
10:17اچھے مشاہخ کی بات نہیں کر رہا ہوں
10:19یہ وہ ہوتے ہیں جو زیادہ تر نفس پرست ہوتے ہیں
10:21اور انہوں نے خاص دو چار بچے جہمورے بٹھائے ہوتے ہیں
10:25کہ آپ ہماری تعریف میں مبالغہ کرو
10:27وہ اتنے بڑے بڑے القابات پیش کر رہے ہوتے ہیں
10:30کہ کچھ انتہا نہیں
10:32میں ایک دفعہ یوکے کے گیا وہ تھا
10:34تبلیغ دین کے سلسلے میں
10:36تو جب میرے بیان کی باری آئی
10:38آنے لگی تو وہ جو نقیب محفل تھے
10:40انکر تھے
10:41انہوں نے جو میری تعریفات کی ہیں
10:44اور ایسے ایسے الفاظ کے کچھ انتہا نہیں
10:47خوب قلابیں ملائے
10:48پھر جب وہ میں کھڑا ہوا تو میں نے کہا
10:50بھائی معذرت نراز مت ہوئے گا
10:53ایک بات تو یہ ہے کہ یہ اتنے سارے
10:54اصاف کا تو میں حامل نہیں
10:56دوسرا میں نے کہا میں سچ کہتا ہوں
10:57کہ بہت سارے القابات ایسے تھے جن کے بارے میں
11:00مجھے بھی نہیں پتا کہ اس کا مطلب کیا ہے
11:03یعنی مشکل ترین الفاظ
11:04اور پبلک بس دیکھ رہی ہے
11:05سبحان اللہ یہ چیزیں اچھی نہیں ہوتی
11:09اس سے آپ بچیں
11:09تو لہٰذا آپ پیر صاحب کی تعریف کر سکتے ہیں
11:13کسی عالم کی کسی مفتی صاحب کی تعریف کریں آپ
11:15لیکن مبالغہ اس کے اندر نہ ہو
11:18ایک میرا اور بات ذہن میں آگے
11:19تو آپ سے شیئر کر لیتا ہوں
11:21کیونکہ یہ پبلک میں بہت زیادہ ہے
11:22جی فلان کا علم بہت زیادہ
11:25بہت زبردست علم والا ہے
11:27یعنی ہم ایک بیان سنتے ہیں
11:29ایک کسی کا کوئی جواب سن لیا
11:31ایک ہم کہتے ہیں بہت زیادہ علم والا ہے
11:34اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے
11:36کہ آپ نے کیسے جانا
11:37کہ وہ بہت زیادہ علم والا ہے
11:39پہلی بات تو یہ
11:41کہ آپ نے اس کے پورے علم کا احاطہ کر لیا
11:44تاکہ آپ کو پتہ چلے
11:45کہ بہت زیادہ علم ہے اس کا
11:46نمبر دو
11:47علم والے کو علم والا ہی پہچان سکتا ہے
11:50اگر ایک مکینک
11:51کسی مکینک کے بارے میں کہے
11:53کہ یہ بہترین مکینک ہے
11:54تو اس کی گواہی معتبر ہے
11:56اور مجھے گاڑی کا انجن
11:58کھولنا نہیں آتا
11:59نام تک پارٹس کے مجھے نہیں آتے
12:00اور میں کسی مکینک کے بارے میں
12:02یہ کہوں کہ یہ بہترین مکینک ہے
12:03سب سے بہتر یہ ہے
12:05تو میری تعریف کا کیا فائدہ
12:07اور اس میں کتنا وزن ہوگا
12:09تو اب ہوتا یہ ہے
12:11کہ اس طریقے سے
12:13ہم کسی کے بارے میں بھی
12:14مبالغہ آرائی کر رہے ہوتے ہیں
12:16ہمیں خود اس کا نہیں پتا ہوتا
12:18اگر اچھا پوچھیں
12:19کتنی علم کی باتیں سنی
12:20وہ فلان بیان سناتا
12:21اس سے اندازہ ہوا ہے
12:22کہ بہت زیادہ علم والا ہے
12:24جبکہ بعض اوقات
12:25یقین کریں آپ
12:26کہ جس کو لوگ کہہ رہے ہوتے ہیں
12:28اس پر تعریفی بھی کر رہے ہوتے ہیں
12:29وہ اتنی بوگس بات ہوتی ہے
12:32کیونکہ ہم تو
12:32علمی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں
12:34کہ بالکل اس کا کوئی وزن ہی نہیں ہوتا بات
12:36اس پر بھی لوگ واوا کر رہے ہوتے ہیں
12:38اور انہی چیزوں کو
12:39بنیاد بنا کر کہہ رہے ہوتے ہیں
12:41اس کا علم بہت زیادہ ہے
12:43تو بہرحال
12:44کسی شخصیت کی نشاندہ ہی کیے بغیر
12:46میں ایک جنرل بات آپ کی خدمت میں ارز کر رہا ہوں
12:48اور اپنے
12:49خصوصاً
12:50ینگ جنریشن کے بارے میں ارز کرتا ہوں
12:52کہ آپ کسی کی تعریف میں
12:53بغیر جانے
12:55اس طریقے سے مبالغہ کریں گے
12:56تو یہ خرابی ہوتی ہے
12:57جھوٹ شامل ہو سکتا ہے
12:59اور
12:59حتمی اور آخری بات یہ
13:01کہ آپ کے نبی نے اس سے
13:02منع فرمایا
13:03اس لئے مبالغہ ہرگز نہیں کیا کریں
13:05اگلے باب کی طرف آتے ہیں
13:07بابو بلوغی سبیان
13:08و شہادتہم
13:10بچوں کے بالغ ہونے
13:13اور ان کی گواہی کا باب
13:15یعنی ایک نبالغ
13:17کب بالغ ہوتا ہے
13:19اس کا باب ہے یہ
13:20اور کب وہ گواہی دینے کے قابل ہوگا
13:22اس پر امام بخاری رحمت اللہ علیہ حدیث لائے ہیں
13:26دو ہزار چھے سو چونسٹھ نمبر
13:28حضرت
13:30نافع بیان کرتے ہیں
13:33کہ مجھے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ
13:35عنہمہ نے
13:36یہ حدیث بیان کی
13:37کہ انہوں نے اپنے آپ کو
13:39رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے
13:41غزوہ اہد میں پیش کیا
13:44اس وقت وہ
13:46پندرہ سال کے تھے
13:48تو
13:49آپ نے مجھے اجازت نہیں دی
13:52پھر میں نے آپ نے آپ کو غزوہ خندق کے دن پیش کیا
13:56اس وقت میں پندرہ برس
13:58پہلے آپ چودہ سال کے تھے
14:00جب آپ نے غزوہ اہد میں
14:01اپنے آپ کو پیش کیا
14:02تو نبی کریم نے منع فرما دیا
14:04اس کے بعد جب غزوہ خندق ہوئی
14:06تو آپ پندرہ سال کے ہو چکے تھے
14:08پھر آپ نے اپنے آپ کو پیش کیا
14:10تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
14:11مجھے اجازت دے دی
14:13نافع کہتے ہیں
14:14کہ میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس گیا
14:16اور وہ اس وقت خلیفہ تھے
14:19میں نے ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی
14:21پس انہوں نے کہا
14:22کہ یہ صغیر اور قبیر کے درمیان
14:25ایک حد ہے
14:27اور انہوں نے اپنے عمال کے طرف
14:29مکتوب لکھا
14:30کہ جو شخص پندرہ سال کی عمر کا ہو گیا ہو
14:32اس کے لئے اہل لشکر کا وظیفہ جاری کر دیں
14:37گویا کہ اس حدیث سے ثابت ہوا
14:39کہ جب حضرت ابن عمر چودہ سال کے تھے
14:42نبی کریم نے آپ کو منع فرما دیا
14:44کیونکہ سرکار یہ چاہتے تھے
14:46کہ بالغ افراد جہاں وہ جہاد کے لئے تشریف لے جائیں
14:50اور جب آپ پندرہ سال کے ہوئے
14:52تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قبول کر لیا
14:55اس سے یہ بعض فقہہ نے احناف کا بھی مفتابحی قول یہی ہے
15:01کہ نتیجے نکالا کہ پندرہ سال کا لڑکا
15:04یا پندرہ سال کی لڑکی بالغ ہو جاتے ہیں
15:07ویسے دوسرے اقوال اٹھارہ سال کی بھی ہیں
15:10فقہہ کے اور آپ کو پتایا کہ ملک قانون کے مطابق
15:13بھی اٹھارہ سال کا بچہ لڑکا یا لڑکی ایڈلٹ ہوتے ہیں
15:16بالغ کہلاتے ہیں
15:17لیکن ہمارے مذہبی نکتہ نگاہ سے
15:19پندرہ سال کا لڑکا یا پندرہ سال کی لڑکی بالغ ہو جاتی ہیں
15:22اور اس کے یہ حدیث بہت زبردست مستدل ہے
15:26باقی جسم کے اندر تغیر پیدا ہونا
15:29تبدیلیاں پیدا ہو جانا
15:30یہ شریعت نہیں دیکھتی ہے
15:32عمر کو دیکھتی ہے
15:33لہذا لڑکے میں کہا جاتا ہے
15:36کہ پندرہ سال سے بارہ سال سے پندرہ سال کے درمیان
15:40جب کبھی اس کو احتلام ہو جائے
15:43یا فرض کہلیں آپ اس کے شادی کر دیں
15:45پندرہ سال
15:46یعنی بارہ سے پندرہ سال کے درمیان
15:48اور اس کا جسمانی تعلق قائم ہو
15:51اور زوجہ حاملہ ہو جائے
15:52تو یہ لڑکے کے بالغ ہونے کی علامت ہوگی
15:55پھر تو چاہے چودویں سال میں ہو
15:57ہم اس کو کہیں گے یہ بالغ ہے
15:58لیکن ایسی کوئی علامت ظاہر نہیں ہوئی
16:01تو پندرہ سال کے بعد وہ بالغ ہوگا
16:03جبکہ بچی میں بلوغت کی عمر
16:05نو سے پندرہ سال کے درمیان ہے
16:07نوے سال میں
16:09یا دس گیارہ بارہ تیرہ چودہ میں
16:11اس کو احتلام ہو جائے
16:12حیث جاری ہو جائے
16:14یا اس کی شادی کی رخصت ہی ہو گئی
16:15اور وہ پنگنٹ ہو گئی ہے
16:17تو بچی اس حصہ عمر میں بالغہ کہلائے گی
16:20اور ایسی کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوئی
16:22تو پندرہ سال کے بعد
16:25وہ ضرور بالغہ ہوگی
16:27اس کا مطلب بلوغت کی آخری حد میں
16:29تو لڑکا لڑکی دونوں برابر ہیں
16:30پندرہ سال
16:31ابتدائی عمر کے لحاظ سے اختلاف ہے
16:34لڑکے میں بارہ سال کم از کم
16:36اور لڑکی میں نو سال
16:38لہذا فرض کر لیں
16:39بارہ سال سے پہلے لڑکے میں
16:40کوئی آثار بلوغت ظاہر ہوئے
16:42وہ بالغ نہیں کہلائے گا
16:43ایسی بچی کے اندر کوئی ایسی چیز ظاہر ہوئی
16:45تو نو سال سے پہلے وہ بالغہ نہیں ہو سکتی ہے
16:49تو یہ ذہن میں رکھیں
16:50اور احناف کا جیسے میں نے بتایا
16:52مفتا بھی قول
16:53مفتا بھی کا مطلب ہوتا ہے
16:55مفتا
16:56فتوہ دیا گیا
16:57بھی اس کے ساتھ
16:59اس سے مراد وہ اقوال ہوتے ہیں
17:01کہ جب کوئی ایسا مسئلہ ہوتا ہے
17:02جس میں فقہہ کی رائے مختلف ہوتی ہیں
17:05کوئی کچھ کہہ رہا ہوتا ہے
17:06کوئی کچھ کہہ رہا ہوتا ہے
17:07تو پھر ایک افراد کا گروہ ہوتا ہے
17:11جن کو اصحاب ترجیح کہتے ہیں
17:13اصحاب ترجیح کا مطلب یہ ہوتا ہے
17:16وہ ایسے لوگ ہوتے ہیں
17:17جو زبردست دسم کا علم رکھتے ہیں
17:18اور ان کے پاس یہ صلاحیت ہوتی ہے
17:20کہ وہ دلائل وغیرہ پر غورت تفکر کر کے
17:23ایک قول کو بلند
17:25اور دوسرے کو اس سے نیچے
17:27یعنی ایک افضل ایک مفضول
17:28یہ فیصلہ کر سکتے ہیں
17:30کونسا قوی ہے کونسا ضعیف ہے
17:33اور کس قول کو ہمیں عوام کے سامنے
17:35پیش کرنا چاہیے اور دوسرا قول
17:37پیش کرنے کے اس کے مقابلے میں
17:39قابل نہیں ہے
17:40کیونکہ اگر ہر طرح کے علماء کے رائے
17:43کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر دیا جائے
17:45تو بتائیں پھر تو دین کا اللہ ہی حافظ
17:47کہہ گا میں اس رائے پر عمل کروں گا
17:48دوسرا اس پر تیسرا اس پر
17:50تو پھر یہ ثابت ترجیح یہ کرتے ہیں
17:52کہ مختلف فی اقوال جن میں اختلاف کیا گیا
17:54ان میں سے ایک قول لیتے ہیں
17:56کہ یہ بیسٹ قول ہے
17:57جو اس زمانے کے لوگوں کی بالکل طبیعتوں
17:59کیفیات کے مطابق قرآن و حدیث سے ثابت شدہ بھی ہے
18:03اس کے دلائل بھی اچھے ہیں
18:04وہ بیان کر دیتے ہیں
18:06اس کو کہتے ہیں مفتابحی قول
18:07یا دوسرے لفظ ہوتا ہے
18:09راجح قول یہ ہوتا ہے
18:10اور جو اس کے مقابل ہوتا ہے
18:12وہ غیر مفتابحی اور مرجوح قول کہلاتا ہے
18:15تو فقہ نفی میں راجح قول مفتابحی
18:19پندرہ سال کی بلوغت کا ہے
18:20اللہ تعالیٰ سمردنے کے توفیق تفرمائے
18:23آمین و آخر دعوانا
18:24ان الحمدللہ رب العالمين
18:26اللہ صلی اللہ علیہ محمد و علیہ و صحبہ
Comments