اللہ عزوجل کی بے پایاں عنایتِ خداوندی ہے کہ رحمتِ کائنات ﷺ پر درود بھیجنے کے حوالے سے یہ واضح کیا گیا کہ جب اللہ عزوجل کی طرف سے ہو تو اس کے معنی رحمت کے ہیں۔
حضرت ابوبکر بن خورک رحمۃ اللہ علیہ کے قولِ شریف کی روشنی میں، امام ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کی 'الشفا شریف' کو حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ کے قلمِ مبارک سے اُردو ترجمہ میں بیان کیا گیا ہے۔
ابوبکر بن خورک علیہ الرحمہ نے روایت کی کہ بعض علما نے حضور ﷺ کے ارشاد :
وَجعلَتْ قرَّةُ عَيْنِيْ فِيْ الصَّلٰوۃِ (نماز میں میری آنکھوں کی ٹھنڈک رکھی گئی) کی یہی تاویل کی ہے، یعنی اللہ عزوجل اور اس کے فرشتے آپ ﷺ پر درود بھیجتے ہیں اور مسلمانوں کو بھی قیامت تک درود بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
آپ ﷺ پر صلوۃ کی نسبت جب فرشتہ یا ہماری طرف سے ہو تو اس کے معنی درود اور دعا کے ہیں اور جب اللہ عزوجل کی طرف سے ہو تو اس کے معنی رحمت کے ہیں اور ایک روایت میں ’’صلوۃ‘‘ کے معنی برکت کے بھی ہیں۔
بلاشبہ حضور نبی کریم ﷺ نے جب خود پر درود بھیجنے کی تعلیم دی تب صلوۃ و برکت کے معنی کا فرق بھی بتا دیا تھا، عنقریب ہم آپ ﷺ پر درود بھیجنے کے احکام بیان کریں گے۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
آٹھویں فصل | اللہ عزوجل کا حضور ﷺ پر درود بھیجنا ، آپ ﷺ کی مدد کرنا اور آپ ﷺ کے سبب سے عذاب کو دفع کرنا (حصہ 5)
#نماز
#درود
#رحمت
#Shorts
#درود_شریف
#درود_اور_دعا
#صلوۃ_و_برکت
#فرشتے
#آنکھوں_کی_ٹھنڈک
#معنی_رحمت_کے
#مقام_مصطفیٰ
#ThinkGoodGreen
#AshShifa
Comments