Skip to playerSkip to main content
اس لیے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بالا سناد مروی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : جس شخص سے کوئی علمی بات پوچھی گئی اور اس نے اس کو چھپایا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کے منھ میں آگ کی لگام ڈالے گا۔ (سنن ابوداؤد ج ۲ ص۱۲۴، سنن ترمذی ج ۴ ص ۱۳۹،سنن ابن ماجہ ج اص ۹۸)

پس میں نے (بخوف وعید حدیث بالا کے) ایسے نکات کی جی کی جو مطلب و مقصد کے لیے ضروری ہیں اور اس لیے بھی تعجیل کی کہ مرداپنے ان گھریلو معاملات سے جو اس پر لازم کیے گئے ہیں کبھی بھی اپنے دل و دماغ کو فارغ نہیں پاتا،ہمیشہ ان کی انجام دہی میں سرگرداں رہتا ہے، اس میں وہ اپنے فرض ونفل سے اکثر غافل رہتا ہے جس کے نتیجہ میں احسن تقویم سےبے پروا ہو کر ادنی درجہ میں گر پڑتا ہے۔

اگر اللہ عز وجل انسان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمائے تو اللہ عز وجل اس کے تمام شغل اور غم پورے ( ختم) کر دیتا ہے اور کل قیامت کے دن ایسوں کی تعریف کی جائے گی اور ان کو کوئی برائی نہ پہنچے گی جبکہ وہاں سوائے جنت کی تروتازگی یا عذاب دوزخ کے کچھ نہ ہو گا، انسان کو لازم ہے کہ اپنے نفس کا بچاؤ کرے، اس کو برائی سے محفوظ رکھے اور عمل صالح کر کے اس کا درجہ بڑھائے ، وہی علم کارآمد ہے جس کے ذریعہ خود بھی منتفع ہو اور دوسروں کو بھی نفع پہنچے۔

اللہ عز وجل ہمارے دلوں کی شکستگی دور کرے، کبیرہ گناہوں کو بخشے، ہماری تمام کدو کاوش کو آخرت میں ہمارا عمدہ توشہ بنائے، ہمارے مشاغل کو ہماری نجات کا ذریعہ بنائے ، قرب خاص سے ہم کو نوازے اور اپنے رحم و کرم کے پردے میں ہمیں ڈھانپ لے۔ ( آمین )

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#Shorts
#الشفا_شریف
#RightsOfProphet
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended