Skip to playerSkip to main content
بعض علما رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے حضور ﷺ کو اپنے ناموں سے دو نام رؤف اور رحیم خاص طور پر عنایت فرمائے ہیں۔اسی طرح دوسری آیتوں میں حضور ﷺ کا ذکر ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے:
لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ
بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا۔ (آل عمران: ۱۶۴)
هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ
وہی ہے جس نے ان پڑھوں میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا۔(الجمعہ:۲)
حضرت علی المرتضی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے حضور ﷺ سے مِنْ اَنْفُسِھِمْ کے بارے میں دریافت کیا؟ حضور ﷺ نے فرمایا : نَسَبًا وَّ صِھْرًا وَّ حَسَبًا لَیْسَ فِیْ اٰبَائِیْ مِنْ لَّدُن اٰدَمَ سَفَاحٌ کُلَّھَا نِکَاحٌ یعنی تمھارے حسب ونسب اور سسرال میں مبعوث فرمانا مراد ہے،میرے آباؤ اجداد میں آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک زنانھیں ہوا بلکہ سب کے سب نکاح سے پیدا ہوئے۔ (ابن ابی عمرانی مسندہ کمافی مناہل الصفاء للسیوطی ص۳۱)
ابن الکلبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضورﷺ کی پانچ سو امہات ( کے حسب ونسب) کے حالات لکھے ہیں لیکن ان میں میں نے نہ ز نا پایا اور نہ زمانہ جاہلیت کی رسمیں دیکھیں۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرمان الہی:
وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ (الشعراء: ۲۱۹) ’’نمازیوں میں تمھارے دورے کو ‘‘ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مِنْ نَّبِیٍّ اِلی نَبِىٍّ حَتّٰى أَخْرَجْتُكَ نَبِيًّا ، نبی سے نبی تک یہاں تک کہ میں نے اے محبوب! تم کو نبی پیدا کیا۔ (طبقات ابن سعد ج اص ۲۵، مسند بزار ج ۳ ص ۱۱۰، دلائل النبوۃ ص ۵۸)

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#Shorts
#Seeratunnabi
#ShaneMustafa
#AshShifa
#Islamic
#QuranicVerses
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended