حضرت فقیہ ابواللیث سمرقندی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ رحمۃ للعالمین میں عام جن و انس پر رحمت کرنا مراد ہے، ایک روایت میں اس سے تمام کائنات و مخلوقات پر رحمت فرمانا ہے مومنین کے لیے رحمت ، ہدایت کرنا ہے اور منافقین کے لیے رحمت، قتل سے محفوظ رکھنا ہے اور کافرین پر رحمت یہ ہے کہ ان پر عذاب میں تاخیر کی جائے۔ ( کہ اب وہ دنیا میں عذاب عام سے محفوظ ہیں)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور سید عالم ﷺ مومنین و کافرین کے لیے رحمت ہیں کیونکہ پچھلی ان امتوں کی طرح جنھوں نے اپنے نبیوں کی تکذیب کی تھی ، دنیا میں عذاب عام سے بچا لیے گئے ہیں۔ ( تفسیر ابن جریر ج ۱۷ص ۸۳،طبرانی ج اص۳۵۰ ، دلائل النبوہ للبیہقی ج ۵ ص ۶ ۴۷)
ایک روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے دریافت فرمایا: کیا میری رحمت سے تم کو بھی کچھ حصہ ملا ہے؟ عرض کرتے ہیں : ہاں۔
كُنْتُ أخْشى الْعَافِبَةَ فَاَمِنْتُ لِثَنَاءِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلٰى بِقوْلِهٖ
﴿ ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍ ۲۰ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ ۲۱﴾ (التکویر:۲۱،۲۰)
’’ میں اپنے انجام و آخرت سے ڈرتا تھا، اللہ عزوجل نے میری مدح میں یہ آیہ کریمہ’’جو قوت والا ہے ما لک عرش کے حضور عزت والا وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے امانت دار ہے، آپ ﷺ پر نازل فرمائی تو اب بے خوف ہوں۔“
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#الشفاء_شریف
#ShanEMustafa
#RahmatulLilAlameen
#IslamicShorts
#Islamic
#ThinkGoodGreen
Comments