کعب احبار اور ابن جبیر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ آیت بالا میں دوسرے لفظ’’نور ‘‘ سے مراد حضور ﷺ ہیں ،
اللہ عزوجل کا فرمان کہ
مَثَلُ نُوْرِهٖ اَی نُوْرِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قالَ سَهْلُ بْنُ عَبْدِاللهِ الْمَعْنَى اللهُ هَادِیُ أَهْلِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ ثُمَّ قالَ مَثَلُ نُوْرِمُحَمَّدٍ إِذَا كَانَ مُسْتَوْدِعًا فِيْ الْاَصْلَابِ کَمِشْكٰوةٍ صِفَتُهَا كَذَا وَأرَادَ بِالْمِصْبَاحِ قلْبَهٗ وَالزُّجَاجَةِ صَدْرَہٗ أَى كَأَنَّهٗ كَوْكَبٌ دُرِّىٌّ لِمَا فِيْهِ مِنَ الْإِيْمَانِ وَالْحِكْمَةِ يُوْقدُ مِنْ شَجَرَةمُّبَارَكَةٍ أَى مِنْ نُوْرِ إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ الصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ وَضُرِبَ الْمِثْلُ بِالشَّجَرَةِ الْمُبَارَكَةِ وَقوْلُهٗ يَكَادُ زِيْتُهَا يُضِيءُ اَىْ تَكَادُ نَبُوَّةُ مُحَمِّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَيَّنَ لِلنَّاسِ قبْلَ كَلَامِهٖ كَهَذَا الزَّ يْتِ وَقدْ قيْلَ فِيْ هٰذِهٖ الْآيَةِ غَيْرُ هٰذَا وَاللهُ تَعَالٰى اَعْلَمْ
اس کے نور کی مثال یعنی نورمحمد ﷺ کی مثال اس کے بارے سہل بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ معنی اس کے یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے آپ ﷺ کو آسمانوں اور زمین والوں کا ہادی بنایا ہے، اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ نور محمد ﷺ کی مثال جبکہ آپ ﷺ آباؤ اجداد کی پشتوں میں تھے’’طاقچہ‘‘ (طاق) کی طرح جس کا حال یہ ہے اور ’’مصباح‘‘ یعنی چراغ سے مراد آپﷺ کا قلب مبارک ہے۔’’ زجا جہ‘‘ یعنی شیشہ سے مراد آپ ﷺ کا سینہ انور ہے گویا کہ وہ ایک روشن ستارہ ہے کیونکہ اس میں ایمان وحکمت ہے ،مبارک درخت سے مراد روشن کیا جانا ہے یعنی ابراہیم علیہ السلام کے نور سے اور درخت مبارک کی مثال دی گئی، اللہ کا فرمان یَکَادُ زَیْتُھَا سے مراد یہ ہے کہ عنقریب محمد مصطفی ﷺکی نبوت ان کے کلام سے پہلے ظاہر ہو گی جیسا کہ یہ زیتون ۔ اس آیت مبارکہ کے اس کے سوا اور بھی معنی بیان کیے ہیں۔ واللہ اعلم۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#نور_محمد
#الشفا_شریف
#Islamic
#ProphetMuhammad
#ShanEMustafa
Comments