اللہ عزوجل نے اس جگہ کے علاوہ دوسرے مقامات میں بھی حضور ﷺ کا ’’نور ‘‘ اور ’’روشن چراغ‘‘ نام رکھا ہے، چنانچہ فرماتا ہے: [ قدْ جَاءَ كُمْ مِّنَ اللهِ نُوْرٌ وَّ كِتَابٌ مُّبِيْنٌ ]
بیشک تمھارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور آیا اور روشن کتاب۔( المائده: ۱۵)
ایک اور جگہ ارشادفر مایا:
[ یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا(45)وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا(46)]
اے غیب کی خبریں بتانے والے (نبی) بیشک ہم نے تمھیں بھیجا حاضر ناظر اور خوشخبری دیتا اور ڈر سناتا اور اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلاتا اور چمکا دینے والا آفتاب۔( الاحزاب ۴۶۔۴۵)
اسی طرح اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا
اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ(1) کیا ہم نے تمھارا سینہ کشادہ نہ کیا۔ (اَلَمْ نَشْرَ ح:۱)
آپ ﷺ کے سینہ مبارک کو کھول دیا اور وسیع کر دیا، صدر سے یہاں مراد قلب مبارک ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے سینہ مبارک کو نور اسلام کے لیے کھول دیا۔ (تفسیر درمنثور ج ۸ ص ۵۴۷)
سہل رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ نور رسالت کے ساتھ کھول دیا۔
حضرت حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کے سینہ مبارک کو علم و حکمت سے بھر دیا بعض مفسرین نے یہ معنی بھی بیان کیے ہیں کہ کیا ہم نے آپ ﷺ کے قلب مبارک کو پاک نہیں کیا؟ یہاں تک کہ وہ اب وسوسوں کو قبول ہی نہیں کرتا۔
وَ وَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ(2) الَّذِیْۤ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ(3) ( الم نشرح: ۳-۲)
اور تم پر سے تمھارا وہ بوجھ اتار لیا جس نے تمھاری پیٹھ توڑی تھی۔
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#IslamicShorts
#ShanEMustafa
#AshShifa
#Islamic
#IslamicKnowledge
#ThinkGoodGreen
Comments