Skip to playerSkip to main content
  • 1 day ago
خطابی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یہ ادب سکھایا کہ اللہ عزوجل کے ارادہ کو دوسروں پر مقدم کیا کرو، (اگر کسی کو ملانا ہی چاہو تو پھر)دوسروں کو ثُمَّ کے ساتھ ملا سکتے ہو کیونکہ ثُمَّ ترتیب و تراخی کے لیے آتا ہے بخلاف واؤ عطف کے کہ وہ اشتراک کے لیے آتا ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک خطیب نے کہا:
مَنْ يُّطِعِ اللهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقدْ رَشَدَ وَمَنْ يَّعْصِهِمَا فَقالَ لَهٗ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ خَطِيْبُ الْقوْمِ أَنْتَ قمْ أَوْ قالَ إِذْهَبْ
جس شخص نےاللہ اور اس کے رسول ﷺکی اطاعت کی وہ راہ یاب ہے اور جس نے دونوں کی نا فرمانی کی (اس پر)حضور ﷺ نے فرمایا کہ : ’’ تو قوم کا برا خطیب ہے، کھڑا ہو جایا فر مایا چلا جا‘‘ ۔
(صحیح مسلم کتاب الجمعہ ج ۲ ص۵۴۴)
ابوسلیمان رحمۃ اللہ علیہ یہ کہتے ہیں کہ دونوں اسموں کو حرف کنایہ ( ضمیر ،ھما) کے ساتھ جمع کرنے کو ناپسند فرمایا چونکہ اس میں مساوات کا ابہام ہے اور دوسرے یہ کہتے ہیں کہ یعصھما پر وقف نا پسند کیا لیکن ابوسلیمان رضی اللہ عنہ کی بات زیادہ صحیح ہے کیونکہ حدیث صحیح میں ہے کہ اس نے وقوف نہیں کیا بلکہ یعصھما کے ساتھ فَقدْ غَوٰی کہا تھا۔
مفسرین اور اہل معانی کا اس آیہ کریمہ﴿ إِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ﴾ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر۔(الاحزاب:۵۶) میں اختلاف ہے کہ آیا ’’ یصلون‘‘ اللہ عز وجل اور فرشتوں دونوں کی طرف راجع ہے یا نہیں، بعض نے تو اس کو جائز رکھا ہے اور دوسروں نے شرکت کی وجہ سے منع کیا اور ضمیر جمع ’’ يُصَلُّوْنَ‘‘ کو ملائکہ کے ساتھ خاص کر کے ’’يُصَلِّیْ‘‘ محذوف مان کر إِنَّ اللهَ وَمَلٰئِكَتَهٗ يُصَلُّوْنَ تقدیر عبارت کی ہے۔

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ


#Shorts
#ShanEMustafa
#الشفاء_شریف
#ProphetMuhammad
#IslamicKnowledge
#Islam
#Islamic
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended