بعض نے وَرَفَعْنَالَكَ ذِكْرَكَ سے مقام شفاعت بھی مرادلیا ہے۔
اللہ عزوجل کے ذکر کے ساتھ حضورﷺ کے ذکر کے قبیل سے یہ بھی ہے کہ اللہ عز وجل کی اطاعت کے ساتھ حضور ﷺ کی اطاعت اور اللہ عزوجل کے نام کے ساتھ حضورﷺ کا نام ملا کر بیان کرنا ہے چنانچہ اللہ عز وجل فرماتا ہے:
﴿وَاَطِيْعُوْا اللهَ وَالرَّسُوْلَ﴾ (آل عمران: ۱۳۲)
اور اللہ و رسول کے فرمانبردار رہو۔
ایک اور جگہ فرمایا :
﴿ اٰمِنُوْا بِاللهِ وَرَسُوْلِهٖ﴾ ( النساء: ۱۳۶)
ایمان رکھو اللہ اور اللہ کے رسول پر۔
ان دونوں کو واؤ عطف کے ساتھ جو مشترک ہوتی ہے جمع کیا ہے، کلام میں حضور ﷺ کے سوا کسی کو اللہ عزوجل کے ساتھ جمع کرنا جائز نہیں ہے۔
بالا سناد حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے راوی ہیں:
لَا يَقوْلَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشَاءَ اللهُ وَشَاءَ فُلَانٌ وَّلٰكِنْ مَاشَاءَ اللهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ
حضورﷺ فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے: ’’اللہ عز وجل اور فلاں شخص چاہے بلکہ یوں کہو: اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔‘‘
( سنن ابوداؤد ج۲ص ۳۳۱ ،عمل الیوم والیله ص ۵۴۳)
کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ
#Shorts
#ShanEMustafa
#Quran
#Islam
#Islamic
#IslamicStatus
#ThinkGoodGreen
Comments