Skip to playerSkip to main content
فقیہہ قاضی ابوالفضل فرماتے ہیں: اس کو اللہ عز وجل توفیق دے۔
جانو! کہ اللہ عزوجل نے مومنین کو یا تمام عرب کو یا اہل مکہ کو یا تمام لوگوں کو باختلاف مفسرین آیت بالا میں خطاب فرما کر آگاہ کیا ہے کہ
﴿ بَعَثَ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ﴾ (آل عمران: ۱۶۴)

ان میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا کہ جس کو وہ اچھی طرح پہچانتے ہیں اور اس کے مرتبہ و مقام، صدق و امانت کو خوب جانتے ہیں اور ( کسی حال میں بھی) کذب و عدم خیرخواہی سے متہم نہیں کر سکتے ، عرب میں کوئی قبیلہ ایسا نہیں جس میں حضور ﷺ کی قرابت اور رشتہ داری نہ ہو۔ (درمنثور ج ۴ ص ۳۲۷)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما کے نزدیک اللہ عزوجل کے اس ارشاد ﴿اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى﴾ (الشوری:۲۳) ’’ مگر قرابت کی محبت‘‘ کے معنی ہی یہ ہیں کہ سارا عرب حضور ﷺ کو خوب اچھی طرح جانتا پہچانتا ہے۔( صحیح بخاری ج ۳ ص ۱۰۷،طبرانی ج ۱ ص ۴۳۵-۴۳۶)

اور ’’ فتح فا ‘‘ کی قرأت کی بنا پر معنی یہ ہیں کہ آپ ﷺ ان میں سب سے زیادہ اشرف ، ارفع اور افضل ہیں۔ یہ حضورﷺ کی انتہائی مدح وتعریف ہے،اس کے بعد اللہ عزوجل نے حضورﷺ کو دیگر اوصافِ حمیدہ اور محامدِ کثیرہ سے یادفر مایا اور ان (لوگوں)کے اسلام لانے ، ہدایت پانے میں حضور ﷺ کے حرص و خواہش میں مبالغہ کی تعریف کی اور جو دنیا میں ان کو تکالیف پہنچتی ہیں یا آخرت میں پہنچیں گی اس پر حضور ﷺ کا دل تنگ ہوا ،ظاہر فرمایا ہے اور مومنینِ صادقین کے لیے حضور ﷺ کی مہربانی ، کرم نوازی اور عزت افزائی فرمانا ،اللہ عزوجل نے اس کی ثنا کی ہے۔

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#Shorts
#ShanEMustafa
#Quran
#ShifaSharif
#Islamic
#IslamicHistory
#Islamicknowledge
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Comments

Recommended