00:00اگر آپ سے کہا جائے کہ ایک ایسی بائبل موجود ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے صدیوں
00:07پہلے لکھی گئی تھی
00:08ایک ایسی بائبل جسے ابتدائی مسیحیوں نے پڑا رسولوں نے استعمال کیا اور جس کے اقتصابات آج بھی نئے اہدنامے
00:17میں نظر آتے ہیں
00:18تو کیا آپ یقین کریں گے لیکن پھر ایک حیران کن سوال سامنے آتا ہے
00:23اگر یہ اتنی اہم تھی تو آئی دنیا کے تمام کلیسہ اسے یکسا طور پر کیوں قبول نہیں کرتے
00:29کیا اس میں واقعی ایسی کتابیں موجود ہیں جو بعد میں بعض بائبلوں سے نکال دی گئیں
00:34کیا اس کا مطن آج کی عبرانی بائبل سے مختلف ہے
00:37اور کیا اس کے گرد صدیوں سے جاری مذہبی اختلافات صرف عقیدے کا معاملہ ہیں
00:43یا ان کے پیچھے تاریخی حقائق بھی موجود ہیں
00:50تاریخ ہمیں تقریباً دھائی ازار سال پہلے مصر کے عظیم شہر سکندریہ لے جاتی ہے
00:56جہاں دنیا کی سب سے مشہور لیبریری قائم تھی
00:59وہیں ایک ایسا منصوبہ شروع ہوا
01:01جس نے نہ صرف یہودی تاریخ بلکہ پوری مسیحی دنیا کی بنیادوں پر گہر اثر ڈالا
01:07ایک ایسا تجمع جسے بعد میں سیپٹووجنٹ یا ال ایکس ایکس کے نام سے جنا گیا
01:14لیکن یہ صرف ایک ترجمے کی کہانی نہیں
01:17یہ زبان، سلطنت، مذہب، سیاست اور مقدس صحائف کی حفاظت کی ایک ایسی داستان ہے
01:25جس کے اثرات آج بھی دنیا بھر کے کروڑوں مسیحیوں کے عقائد میں دیکھے جا سکتے ہیں
01:31اس ویڈیو میں ہم جانیں گے کہ ال ڈبل ایکس کیا ہے
01:34یہ کب اور کیوں لکھی گئی
01:36کیا واقعی بہتر علماء نے اسے موجزانہ طور پر ترجمہ کیا
01:40ابتدائی مسیحوں نے اسے کیوں اپنایا
01:42اور آخر کیوں آج بھی اس کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے
01:46تو تیار ہو جائیے کیونکہ آج ہم بائبل کی تاریخ کے ایک ایسے باب کا دروازہ کھلنے جا رہی ہیں
01:53جس نے صدیوں سے مورخین، علماء اور مذہبی مفکرین کو حیران کر رکھا ہے
02:23دی بائبل
02:24یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتاب دی بائبل کہلاتی ہے
02:29لفظ بائبل یونانی زبان کے لفظ بائبلوس سے مشتق ہے جس کے معنی کتاب کے ہیں
02:35یہودیوں اور عیسائیوں کے نزدیک یہ کتاب خدا کے زیر ہدایت لکھی گئی تھی
02:40اس مقدس اور الہامی کتاب کے دو حصے ہیں
02:43ایک اہدنامہ عتیق اور دوسرا اہدنامہ جدیب
02:47یعنی اول ٹیسٹامنٹ اور نیو ٹیسٹامنٹ
02:53پہلا عیسائی جو اہدنامہ عتیق کہلاتا ہے
02:56اہل یہود کی کتاب تورات کے ابتدائی پانچ حصوں پر مشتمل ہے
03:00یہ پانچ حصے پیدائش، خروج، اخبار، گنتی اور استثناء کہلاتے ہیں
03:07اہدنامہ عتیق کا جو نسخہ پہلے عیسائی کے لیساؤں میں مستعمل تھا
03:11وہ اس مقدس کتاب کی تیسری صدی قبل از مسیح میں ہونے والے یونانی ترجمے سے لیا گیا تھا
03:18اہدنامہ عتیق کا یہ سب سے اولین یونانی ترجمہ
03:21ہفتادی یا سبعینہ یا سیپٹو جنٹ کہلاتا ہے
03:26اسے نسخہ اسکندریہ یا نسخہ ستریہ بھی کہا جاتا ہے
03:30ال ایکس ایکس رومن ہنسوں میں ستر کو ظاہر کرتا ہے
03:34جبکہ سیپٹو جنٹ لیتینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب بھی ستر ہے
03:39یہ ترجمہ نہ صرف یہودی تاریخ میں بلکہ مسیحی تاریخ میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے
03:45کیونکہ یہ وہ بائبل تھی جسے ابتدائی مسیحیوں، رسولوں اور یونانی بولنے والے کلیساؤں نے
03:51وسیح پیمانے پر استعمال کیا
03:52آج بھی مشرقی آرثرڈاکس کلیسا اسے اہد قدیم کے مستند مطون میں شمار کرتی ہے
03:58جبکہ بابلی تحقیق میں بھی اس کی حیثیت بنیادی ماخذ کی ہے
04:09لائبریری آف سکندریہ
04:10مصر کا شہر سکندریہ
04:12اس طور میں دنیا کے سب سے بڑے علمی مراکز میں شمار ہوتا تھا
04:16اس شہر کی بنیاد سکندری آزم نے تین سو کتیس قبل منصیح میں رکھی تھی
04:20اور بعد میں بطلی مسیح کمرانوں نے اسے علم و عدب کا عالمی مرکز بنا دیا
04:25یہاں مشہور لائبریری آف سکندریہ قائم کی گئی
04:29جس میں لاکھوں مخطوطات محفوظ تھے
04:31سکندریہ میں یہودیوں کی ایک بہت بڑی آبادی آباد تھی
04:35جن میں سے اکثر کی مادری زبان اب یونانی بن چکی تھی
04:38نئی نسل کے بہت سے یہودی عبرانی زبان کو یا تو بالکل نہیں جانتے تھے
04:42یا اسے محدود حد تک سمجھتے تھے
04:45اس لئے ان کے لئے اپنی مقدس کتابوں کو پڑھنا اور سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا
04:50اسی پسے منظر میں عبرانی صحائف کو یونانی زبان میں منتقل کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی
04:56اس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی بولنے والی یہودی
04:58اپنی مذہبی تعلیمات کو سمجھ سکیں
05:01عبادت میں استعمال کر سکیں
05:03اور اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھ سکیں
05:06اسی ضرورت نے سیپٹر ایجنٹ کی تخلیق کی بنیاد رکھی
05:12زبان
05:13ایل ڈبل ایکس کوائن یونانی زبان میں لکھا گیا ہے
05:16کچھ حصے سامی زبانوں پر مشتمل ہیں
05:19کچھ محاورے اور جملے ہیں
05:21جو سامی زبانوں جیسے کہ عبرانی اور آرامی پر مبنی ہیں
05:31سیپٹر ایجنٹ کی تیاری کے متعلق سب سے مشہور عوائد قدیم کتاب
05:35لیٹر آف آرسٹیس میں ملتی ہے
05:38اس روایت کے مطابق مصر کے بادشاہ بطلی مصدوم فلاڈی لفظ
05:42نے 285 سے 246 قبل مسیح تک حکومت کی
05:48اپنی عظیم لیبریری کے لیے دنیا کی اہم کتابیں جمع کرنا چاہتا تھا
05:52اس نے یارشلم کے سردار کاہین الیازر سے ترخواست کی
05:56کہ وہ عبرانی تورات کا یونانی ترجمہ تیار کروائیں
05:59روایت کے مطابق سرائیل کے بارہ قبائل میں سے ہر قبیلے نے
06:03چھ علماء منتخب کیے
06:04اس طرح کل بہتر علماء سکندریہ آئے
06:08انہیں نے جزیرہ فاروس پر
06:10الگ الگ کام کیا
06:12اور مجزانہ طور پر
06:13سب کا ترجمہ ایک جیسا نکلا
06:15اسی روایت کی وجہ سے
06:16اس ترجمہ کو ستر کا ترجمہ
06:18یا ال ڈبل ایکس کہا جانے لگا
06:20اگرچہ یہ روایت صدیوں تک مقبول رہی
06:23لیکن جدید مرخین
06:24اسے مکمل تاریخی حقیقت نہیں مانتے
06:27ان کے مطابق غالب امکان یہی ہے
06:29کہ تورات کا ترجمہ سکندریہ میں
06:31یہودی علماء نہ کیا
06:33لیکن بہتر مترجمین کی
06:34موجزاتی کہانی
06:36علامتی یا روایتی نوئیت رکھتی ہے
06:38پھر بھی اس روایت کی تاریخی اہمیت
06:41اس لحاظ سے باقی ہے
06:42کہ یہ ظاہر کرتی ہے
06:43کہ قدیم دنیا میں
06:44اس ترجمہ کو بہت زیادہ عزت
06:47اور اعتبار حاصل تھا
06:50عرصہ تکمیل
06:51جدید تحقیق کے مطابق
06:53سیپٹوجنٹ ایک ہی وقت میں
06:55مکمل نہیں ہوئی تھی
06:56سب سے پہلے تورات
06:58جینیسس، ایکسوڈوس، لیویٹیکس، نمبرز
07:02اور ڈیوٹرونومی
07:04کا ترجمہ تقریباً
07:05دو سو پچاس سے دو سو سی قبلیمسی کے
07:07درمیان مکمل ہوا
07:08اس کے بعد اگلے تقریباً سو سال کے دوران
07:11باقی کتابوں مثلاً
07:12یشو، قضاد، سمائل، سلاتین،
07:16زبور، امثال، نیسایہ،
07:19یرمیہ، ہزاکیل
07:20اور دیگر انبیاء کی کتابوں
07:23کا ترجمہ مختلف علماء
07:25نے مختلف اوقات میں کیا
07:27اس لیے سیپٹو ایجنٹ
07:29دراصل ایک واحد منصوبہ نہیں
07:31بلکہ کئی نسلوں پر
07:33محیط ایک طویل ترجمہ
07:35جاتی عمل تھا
07:36سیپٹو ایجنٹ صرف ترجمہ نہیں تھی
07:39بلکہ بعض مقامات پر اس میں
07:40تشریح اور وضاحت بھی شامل تھی
07:42بعض آیات میں مترجمین نے
07:44لفظی ترجمے کے بجائے مفہوم کو
07:46واضح کرنے کی کوشش کی جبکہ
07:48بعض کتابوں میں مطن کی ترتیب
07:51یا الفاظ عبرانی مطن سے
07:53مختلف ہیں اس کی ایک بڑی وجہ
07:55یہ بھی ہے کہ اس وقت موجود
07:56عبرانی مختوتات آج کے
07:59میسوریٹک ٹیکسٹ سے
08:00بعض جگہ مختلف تھے
08:02بعد میں جب ڈیڈ سی سکرولز
08:05دریافت ہوئے تو معلوم ہوا کہ
08:06بعض اختلافات دراصل
08:08قدیم عبرانی نسخوں کی مختلف
08:10روایات کی وجہ سے تھے نہ کہ
08:12صرف مترجمین کی تبدیلیوں کی وجہ سے
08:19مقدس صحائف
08:20سیپٹوجنٹ میں چند ایسی کتابیں میں شامل ہیں
08:23جو موجودہ پروٹسٹنٹ بائبل میں شامل نہیں ہیں
08:27ان میں طوبیت، یودیت، حکمت سلیمان، یشو بن سیارہ، باروک، پہلی اور دوسری مقابیوں کی کتابیں
08:35اور دانیالو، استر کے بعض اضافی سے شامل ہیں
08:38رومن کیتھلک کلیسہ ان میں سے اکثر کتابوں کو
08:41دیو ٹیرو کینونیکل بوکس کہتی ہے
08:45جبکہ پروٹسٹنٹ اسے اپوکریفہ کے نام سے جانتے ہیں
08:52مشرقی آتھوڈکس کلیسہ ان میں سے کئی کتابوں کو
08:56اپنے مقدس صحائف کا حصہ مانتی ہے
08:59حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں
09:01فلسطین میں عبرانی اور آرامی زبان رائی تھی
09:04لیکن پورے رومی مشرق میں
09:06یونانی زبان سب سے زیادہ سمجھی جاتی تھی
09:09جب رسولوں نے انجیل کی منادی شروع کی
09:11تو ان کے زیادہ تر مخاطبین یونانی بولنے والے تھے
09:14اسے لیے اہدنامہ جدید
09:16یا نیو تیسٹامنٹ کے مصنفی نے
09:19اکثر اہد قدیم کی اقتصابات سیپٹروجنٹ سے لیے ہیں
09:23بہت سے مقامات پر نئے اہدنامے میں دیئے گئے
09:26اقتصابات عبرانی میسوریٹک ٹیکسٹ کی بجائے
09:30یونانی سبٹروجنٹ سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں
09:33جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کلیسہ میں
09:35یہی مطن وسیع پی ماننے پر استعمال ہوتا تھا
09:45میسوریٹک ٹیکسٹ
09:46پہلی صدی اسوی کے بعد حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے
09:49جب یہودیت اور مسیحیت کے درمیان فاصلہ بڑھا
09:53تو بعض یہودی علماء نے سبٹروجنٹ سے کم رجوع کرنا شروع کیا
09:57کیونکہ مسیحی مبلغین اکثر اسی ترجمے سے
10:00حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دلائل پیش کرتے تھے
10:03اس کے بعد یہودی علماء نے عبرانی مطن کی حفاظت اور میار بندی پر زیادہ توجہ دی
10:09جس کے نتیجے میں بعد کی صدیوں میں میزوریٹک ٹیکسٹ وجود میں آیا
10:13اسی زبانے میں ایکویلا سیماکوس اور تھیوڈوٹوشن جیسے علماء نے
10:19نئے یونانی تراجم بھی تیار کیے
10:21جن کا مقصد عبرانی مطن کے زیادہ لفظی ترجمے پیش کرنا تھا
10:25چوتری صدی اسوی میں مسیحیت کے سرکاری مذہب بننے کے بعد
10:29سیپٹروجنٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی
10:32یونانی بولنے والے کلیساؤں نے اسے اپنے اہد قدیم کا بنیادی مطن بنایا
10:37بعد میں مغربی کلیسہ میں لاتینی زبان راج ہوئی
10:41اور جہروم نے لاتینی ولگیٹ تیار کی
10:44اگرچہ جہروم نے زیادہ تر عبرانی مطن سے ترجمہ کیا
10:47لیکن بعض مقامات پر سیپٹروجنٹ سے بھی استفادہ کیا
10:51اس کے باوجود مشرقی آتھرڈوکس کلیسہ نے
10:54اپنے میعبادات ارلاحیاتی تعلیمات میں
10:57سیپٹروجنٹ کو مرکزی حصیت دی
11:00اور یہ روایت آج تک برقرار ہے
11:07جدید اور میں سیپٹروجنٹ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے
11:11ماہرین اثار قدیمہ، ماہرین لسانیات اور بائبلی محققین
11:16اس عبرانی مطن، ڈیڈ سی سکرول، سامری تورات
11:21اور دیگر قدیم تراجم کے ساتھ ملا کر
11:24قدیم صحیف کی اصل تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
11:28بعض مواقع پر سیپٹروجنٹ ایسے قدیم الفاظ اربارتوں کو محفوظ رکھتی ہے
11:33جو موجودہ عبرانی مطن میں موجود نہیں
11:35یا مختلف صورتوں میں پائی جاتی ہے
11:37اسی وجہ سے جدید بائبلی تنقید یعنی تیکسچول کریٹسزم میں
11:42اس کا مقام انتہائی اہم ہے
11:49مختصراً لڈبل ایکس یا سیپٹروجنٹ صرف ایک ترجمہ نہیں
11:52بلکہ قدیم دنیا کی مذہبی، ثقافتی اور لسانی تاریخ کا ایک عظیم شاہکار ہے
11:58اس نے یونانی بولنے والے یہودیوں کو ان کے مقدس صحیف سے جوڑے رکھا
12:02ابتدائی مسیحیوں کو اہد قدیم کی تعلیمات تک رسائی فراہم کی
12:07اور آج بھی تاریخ، مذہب، اثاری قدیمہ اور بائبلی تحقیق کے میدان میں
12:13ایک بنیادی اور نقابل نظر انداز ماخذ کی حصیت رکھتی ہے
12:17اس کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ زبانیں بدل سکتی ہیں
12:20سلطنتیں ختم ہو سکتی ہیں
12:22لیکن علم اور مقدس متون کو مفوظ رکھنے کی کوششیں
12:26انسانی تہذیب کا ایک مستقل اور قابل قدر حصہ رہی ہیں
12:34پروٹسٹنٹ کے لیسائیں ایل ڈبل اکس کو مکمل طور پر کیوں قبول نہیں کرتی
12:39پروٹسٹنٹ کے لیسائیں ایل ڈبل اکس کو ایک اہم تاریخی ترجمہ مانتی ہے
12:43لیکن اسے اہد قدیم کا بنیادی مطن نہیں مانتی
12:46اس کی چند اہم وجوہات یہ ہیں
12:48عبرانی مذہب کو ترجیح
12:51اصلاح مذہب کے دوران
12:52اس علمی صدمی پروٹسٹنٹ علماء خصوصاً
12:55مارٹن لوتھر نے یہ موقف کی اختیار کیا
12:58کہ اہد قدیم کا ترجمہ براہ راست عبرانی مطن سے ہونا چاہیے
13:02کیونکہ وہ اسے اصل زبان میں محفوظ مطن سمجھ دے تھے
13:06اضافی کتابیں
13:07سیپٹو جنٹ میں بعض کتابیں شامل ہیں
13:10جیسے
13:11ٹو بٹ
13:11جیوڈیت
13:12وزڈم آور سولومن
13:14سیراک
13:16مکابیز
13:19پروٹسٹن علماء کا کہنا ہے کہ یہ کتابیں
13:21عبرانی بائبل
13:22یعنی تناخ کے روایتی کینن میں شامل نہیں تھی
13:25اس لئے انہیں لہامی کتابوں میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے
13:28وہ انہیں تاریخی یا اخلاقی لحاظ سے مفید مان سکتے ہیں
13:32لیکن بائبل کے مصابی اختیار نہیں دیتے
13:34بعض متنی اختلافات
13:36سیپٹو جنٹ اور میسورٹک ٹیکسٹ میں
13:39کئی مقامات پر الفاظ
13:41جملوں یا پوری بارتوں میں فرق پائے جاتا ہے
13:44پروٹسٹن روایت عام طور پر عبرانی مطن کو ترجیح دیتی ہے
13:48اگرچہ جدید مترجمین
13:50مشکل مقامات پر
13:52سیپٹو جنٹ سے بھی مدد لیتے ہیں
13:57رومن کیتھلک کلیسہ کا موقف
13:59رومن کیتھلک کلیسہ سیپٹو جنٹ کو بہت اہم تاریخی گواہ مانتی ہے
14:04وہ اس میں موجود کئی اضافی کتابوں کو
14:06ڈیو ٹیرو کینونیکل بوکس کے طور پر قبول کرتی ہے
14:10تاہم اس کی سرکاری روایت صرف سیپٹو جنٹ پر منصر نہیں
14:14بلکہ لاتینی ولگیٹ اور اصل عبرانی و یونانی مطن کو بھی اہمیت دیتی ہے
14:22مشرقی آرثرڈکس کلیسہ کا موقف
14:24مشرقی آرثرڈکس کلیسہ سیپٹو جنٹ کو اہد قدیم کا بنیادی مطن مانتی ہے
14:29اس کی چند وجوہات ہیں
14:31ابتدائی کلیسہ میں یہی مطن مصیب ایمانے پر استعمال ہوتا تھا
14:35اہد جدید کے کئی قصابات سپٹو جنٹ سے زیادہ مطابقہ ترکتے ہیں
14:39ان کے نزدیک کلیسہ کی قدیم روایت یا ٹرڈیشن بھی اسی مطن کی تائید کرتی ہے
14:51موسیقی
Comments