Skip to playerSkip to main content
کیا LXX (Septuagint) واقعی پہلی بائبل تھی؟ کیا حضرت عیسیٰؑ اور رسولوں نے اسی بائبل کا استعمال کیا؟ پھر آخر کیوں پروٹسٹنٹ کلیسیائیں اسے عہدِ قدیم کا بنیادی متن نہیں مانتیں، جبکہ مشرقی آرتھوڈوکس کلیسیا اسے آج بھی مستند تصور کرتی ہے؟

اس تاریخی ڈاکیومنٹری میں ہم LXX (Septuagint) کی مکمل تاریخ، اس کی تخلیق، اسکندریہ کی عظیم لائبریری، 72 مترجمین کی روایت، ابتدائی کلیسیا میں اس کے استعمال، اور پروٹسٹنٹ، رومن کیتھولک اور مشرقی آرتھوڈوکس کلیسیاؤں کے مختلف نقطۂ نظر کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

اس ویڈیو میں آپ جانیں گے:

✔ LXX یا Septuagint کیا ہے؟

✔ یہ کب اور کیوں لکھی گئی؟

✔ Library of Alexandria کا کردار

✔ 72 مترجمین کی تاریخی روایت

✔ Masoretic Text کیا ہے؟

✔ Martin Luther نے عبرانی متن کو ترجیح کیوں دی؟

✔ Deuterocanonical Books کیا ہیں؟

✔ Protestant موقف

✔ Roman Catholic موقف

✔ Eastern Orthodox موقف

✔ New Testament میں Septuagint کے اقتباسات

✔ LXX اور Masoretic Text میں اختلافات

✔ کیا LXX مسترد کی گئی یا صرف بنیادی متن کے طور پر قبول نہیں کی گئی؟

یہ ویڈیو تاریخی تحقیق پر مبنی ایک تعلیمی ڈاکیومنٹری ہے جس کا مقصد مختلف مسیحی روایات اور بائبلی متون کے تاریخی پس منظر کو غیر جانب دار انداز میں بیان کرنا ہے۔

اگر آپ کو تاریخ، قدیم تہذیبوں، بائبل اسٹڈیز اور مذہبی تحقیق میں دلچسپی ہے تو چینل کو سبسکرائب کریں اور ویڈیو کو ضرور شیئر کریں۔

⏱ Chapters

00:00 Introduction

02:23 The Bible

04:08 Library of Alexandrea

05:13 Text of Septuagint

05:30 Ptolemy's order

06:50 Duration of completion

08:18 Holy Scripturals

09:45 Masoretic Text

12:35 Protestant Church View

13:58 Roman Catholic View

14:24 Eastern Orthodox View


#LXX #septuagint #biblehistory #biblicalstudies #oldtestament #MasoreticText #christianhistory #protestant #catholic #orthodox #martinluther #ancienthistory #documentary #urdudocumentary #bible #history #alexandria #theology #biblicalhistory #historicaldocumentary

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اگر آپ سے کہا جائے کہ ایک ایسی بائبل موجود ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے صدیوں
00:07پہلے لکھی گئی تھی
00:08ایک ایسی بائبل جسے ابتدائی مسیحیوں نے پڑا رسولوں نے استعمال کیا اور جس کے اقتصابات آج بھی نئے اہدنامے
00:17میں نظر آتے ہیں
00:18تو کیا آپ یقین کریں گے لیکن پھر ایک حیران کن سوال سامنے آتا ہے
00:23اگر یہ اتنی اہم تھی تو آئی دنیا کے تمام کلیسہ اسے یکسا طور پر کیوں قبول نہیں کرتے
00:29کیا اس میں واقعی ایسی کتابیں موجود ہیں جو بعد میں بعض بائبلوں سے نکال دی گئیں
00:34کیا اس کا مطن آج کی عبرانی بائبل سے مختلف ہے
00:37اور کیا اس کے گرد صدیوں سے جاری مذہبی اختلافات صرف عقیدے کا معاملہ ہیں
00:43یا ان کے پیچھے تاریخی حقائق بھی موجود ہیں
00:50تاریخ ہمیں تقریباً دھائی ازار سال پہلے مصر کے عظیم شہر سکندریہ لے جاتی ہے
00:56جہاں دنیا کی سب سے مشہور لیبریری قائم تھی
00:59وہیں ایک ایسا منصوبہ شروع ہوا
01:01جس نے نہ صرف یہودی تاریخ بلکہ پوری مسیحی دنیا کی بنیادوں پر گہر اثر ڈالا
01:07ایک ایسا تجمع جسے بعد میں سیپٹووجنٹ یا ال ایکس ایکس کے نام سے جنا گیا
01:14لیکن یہ صرف ایک ترجمے کی کہانی نہیں
01:17یہ زبان، سلطنت، مذہب، سیاست اور مقدس صحائف کی حفاظت کی ایک ایسی داستان ہے
01:25جس کے اثرات آج بھی دنیا بھر کے کروڑوں مسیحیوں کے عقائد میں دیکھے جا سکتے ہیں
01:31اس ویڈیو میں ہم جانیں گے کہ ال ڈبل ایکس کیا ہے
01:34یہ کب اور کیوں لکھی گئی
01:36کیا واقعی بہتر علماء نے اسے موجزانہ طور پر ترجمہ کیا
01:40ابتدائی مسیحوں نے اسے کیوں اپنایا
01:42اور آخر کیوں آج بھی اس کے بارے میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے
01:46تو تیار ہو جائیے کیونکہ آج ہم بائبل کی تاریخ کے ایک ایسے باب کا دروازہ کھلنے جا رہی ہیں
01:53جس نے صدیوں سے مورخین، علماء اور مذہبی مفکرین کو حیران کر رکھا ہے
02:23دی بائبل
02:24یہودیوں اور عیسائیوں کی مقدس کتاب دی بائبل کہلاتی ہے
02:29لفظ بائبل یونانی زبان کے لفظ بائبلوس سے مشتق ہے جس کے معنی کتاب کے ہیں
02:35یہودیوں اور عیسائیوں کے نزدیک یہ کتاب خدا کے زیر ہدایت لکھی گئی تھی
02:40اس مقدس اور الہامی کتاب کے دو حصے ہیں
02:43ایک اہدنامہ عتیق اور دوسرا اہدنامہ جدیب
02:47یعنی اول ٹیسٹامنٹ اور نیو ٹیسٹامنٹ
02:53پہلا عیسائی جو اہدنامہ عتیق کہلاتا ہے
02:56اہل یہود کی کتاب تورات کے ابتدائی پانچ حصوں پر مشتمل ہے
03:00یہ پانچ حصے پیدائش، خروج، اخبار، گنتی اور استثناء کہلاتے ہیں
03:07اہدنامہ عتیق کا جو نسخہ پہلے عیسائی کے لیساؤں میں مستعمل تھا
03:11وہ اس مقدس کتاب کی تیسری صدی قبل از مسیح میں ہونے والے یونانی ترجمے سے لیا گیا تھا
03:18اہدنامہ عتیق کا یہ سب سے اولین یونانی ترجمہ
03:21ہفتادی یا سبعینہ یا سیپٹو جنٹ کہلاتا ہے
03:26اسے نسخہ اسکندریہ یا نسخہ ستریہ بھی کہا جاتا ہے
03:30ال ایکس ایکس رومن ہنسوں میں ستر کو ظاہر کرتا ہے
03:34جبکہ سیپٹو جنٹ لیتینی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب بھی ستر ہے
03:39یہ ترجمہ نہ صرف یہودی تاریخ میں بلکہ مسیحی تاریخ میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے
03:45کیونکہ یہ وہ بائبل تھی جسے ابتدائی مسیحیوں، رسولوں اور یونانی بولنے والے کلیساؤں نے
03:51وسیح پیمانے پر استعمال کیا
03:52آج بھی مشرقی آرثرڈاکس کلیسا اسے اہد قدیم کے مستند مطون میں شمار کرتی ہے
03:58جبکہ بابلی تحقیق میں بھی اس کی حیثیت بنیادی ماخذ کی ہے
04:09لائبریری آف سکندریہ
04:10مصر کا شہر سکندریہ
04:12اس طور میں دنیا کے سب سے بڑے علمی مراکز میں شمار ہوتا تھا
04:16اس شہر کی بنیاد سکندری آزم نے تین سو کتیس قبل منصیح میں رکھی تھی
04:20اور بعد میں بطلی مسیح کمرانوں نے اسے علم و عدب کا عالمی مرکز بنا دیا
04:25یہاں مشہور لائبریری آف سکندریہ قائم کی گئی
04:29جس میں لاکھوں مخطوطات محفوظ تھے
04:31سکندریہ میں یہودیوں کی ایک بہت بڑی آبادی آباد تھی
04:35جن میں سے اکثر کی مادری زبان اب یونانی بن چکی تھی
04:38نئی نسل کے بہت سے یہودی عبرانی زبان کو یا تو بالکل نہیں جانتے تھے
04:42یا اسے محدود حد تک سمجھتے تھے
04:45اس لئے ان کے لئے اپنی مقدس کتابوں کو پڑھنا اور سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا
04:50اسی پسے منظر میں عبرانی صحائف کو یونانی زبان میں منتقل کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی
04:56اس کا مقصد یہ تھا کہ یونانی بولنے والی یہودی
04:58اپنی مذہبی تعلیمات کو سمجھ سکیں
05:01عبادت میں استعمال کر سکیں
05:03اور اپنی مذہبی شناخت کو برقرار رکھ سکیں
05:06اسی ضرورت نے سیپٹر ایجنٹ کی تخلیق کی بنیاد رکھی
05:12زبان
05:13ایل ڈبل ایکس کوائن یونانی زبان میں لکھا گیا ہے
05:16کچھ حصے سامی زبانوں پر مشتمل ہیں
05:19کچھ محاورے اور جملے ہیں
05:21جو سامی زبانوں جیسے کہ عبرانی اور آرامی پر مبنی ہیں
05:31سیپٹر ایجنٹ کی تیاری کے متعلق سب سے مشہور عوائد قدیم کتاب
05:35لیٹر آف آرسٹیس میں ملتی ہے
05:38اس روایت کے مطابق مصر کے بادشاہ بطلی مصدوم فلاڈی لفظ
05:42نے 285 سے 246 قبل مسیح تک حکومت کی
05:48اپنی عظیم لیبریری کے لیے دنیا کی اہم کتابیں جمع کرنا چاہتا تھا
05:52اس نے یارشلم کے سردار کاہین الیازر سے ترخواست کی
05:56کہ وہ عبرانی تورات کا یونانی ترجمہ تیار کروائیں
05:59روایت کے مطابق سرائیل کے بارہ قبائل میں سے ہر قبیلے نے
06:03چھ علماء منتخب کیے
06:04اس طرح کل بہتر علماء سکندریہ آئے
06:08انہیں نے جزیرہ فاروس پر
06:10الگ الگ کام کیا
06:12اور مجزانہ طور پر
06:13سب کا ترجمہ ایک جیسا نکلا
06:15اسی روایت کی وجہ سے
06:16اس ترجمہ کو ستر کا ترجمہ
06:18یا ال ڈبل ایکس کہا جانے لگا
06:20اگرچہ یہ روایت صدیوں تک مقبول رہی
06:23لیکن جدید مرخین
06:24اسے مکمل تاریخی حقیقت نہیں مانتے
06:27ان کے مطابق غالب امکان یہی ہے
06:29کہ تورات کا ترجمہ سکندریہ میں
06:31یہودی علماء نہ کیا
06:33لیکن بہتر مترجمین کی
06:34موجزاتی کہانی
06:36علامتی یا روایتی نوئیت رکھتی ہے
06:38پھر بھی اس روایت کی تاریخی اہمیت
06:41اس لحاظ سے باقی ہے
06:42کہ یہ ظاہر کرتی ہے
06:43کہ قدیم دنیا میں
06:44اس ترجمہ کو بہت زیادہ عزت
06:47اور اعتبار حاصل تھا
06:50عرصہ تکمیل
06:51جدید تحقیق کے مطابق
06:53سیپٹوجنٹ ایک ہی وقت میں
06:55مکمل نہیں ہوئی تھی
06:56سب سے پہلے تورات
06:58جینیسس، ایکسوڈوس، لیویٹیکس، نمبرز
07:02اور ڈیوٹرونومی
07:04کا ترجمہ تقریباً
07:05دو سو پچاس سے دو سو سی قبلیمسی کے
07:07درمیان مکمل ہوا
07:08اس کے بعد اگلے تقریباً سو سال کے دوران
07:11باقی کتابوں مثلاً
07:12یشو، قضاد، سمائل، سلاتین،
07:16زبور، امثال، نیسایہ،
07:19یرمیہ، ہزاکیل
07:20اور دیگر انبیاء کی کتابوں
07:23کا ترجمہ مختلف علماء
07:25نے مختلف اوقات میں کیا
07:27اس لیے سیپٹو ایجنٹ
07:29دراصل ایک واحد منصوبہ نہیں
07:31بلکہ کئی نسلوں پر
07:33محیط ایک طویل ترجمہ
07:35جاتی عمل تھا
07:36سیپٹو ایجنٹ صرف ترجمہ نہیں تھی
07:39بلکہ بعض مقامات پر اس میں
07:40تشریح اور وضاحت بھی شامل تھی
07:42بعض آیات میں مترجمین نے
07:44لفظی ترجمے کے بجائے مفہوم کو
07:46واضح کرنے کی کوشش کی جبکہ
07:48بعض کتابوں میں مطن کی ترتیب
07:51یا الفاظ عبرانی مطن سے
07:53مختلف ہیں اس کی ایک بڑی وجہ
07:55یہ بھی ہے کہ اس وقت موجود
07:56عبرانی مختوتات آج کے
07:59میسوریٹک ٹیکسٹ سے
08:00بعض جگہ مختلف تھے
08:02بعد میں جب ڈیڈ سی سکرولز
08:05دریافت ہوئے تو معلوم ہوا کہ
08:06بعض اختلافات دراصل
08:08قدیم عبرانی نسخوں کی مختلف
08:10روایات کی وجہ سے تھے نہ کہ
08:12صرف مترجمین کی تبدیلیوں کی وجہ سے
08:19مقدس صحائف
08:20سیپٹوجنٹ میں چند ایسی کتابیں میں شامل ہیں
08:23جو موجودہ پروٹسٹنٹ بائبل میں شامل نہیں ہیں
08:27ان میں طوبیت، یودیت، حکمت سلیمان، یشو بن سیارہ، باروک، پہلی اور دوسری مقابیوں کی کتابیں
08:35اور دانیالو، استر کے بعض اضافی سے شامل ہیں
08:38رومن کیتھلک کلیسہ ان میں سے اکثر کتابوں کو
08:41دیو ٹیرو کینونیکل بوکس کہتی ہے
08:45جبکہ پروٹسٹنٹ اسے اپوکریفہ کے نام سے جانتے ہیں
08:52مشرقی آتھوڈکس کلیسہ ان میں سے کئی کتابوں کو
08:56اپنے مقدس صحائف کا حصہ مانتی ہے
08:59حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں
09:01فلسطین میں عبرانی اور آرامی زبان رائی تھی
09:04لیکن پورے رومی مشرق میں
09:06یونانی زبان سب سے زیادہ سمجھی جاتی تھی
09:09جب رسولوں نے انجیل کی منادی شروع کی
09:11تو ان کے زیادہ تر مخاطبین یونانی بولنے والے تھے
09:14اسے لیے اہدنامہ جدید
09:16یا نیو تیسٹامنٹ کے مصنفی نے
09:19اکثر اہد قدیم کی اقتصابات سیپٹروجنٹ سے لیے ہیں
09:23بہت سے مقامات پر نئے اہدنامے میں دیئے گئے
09:26اقتصابات عبرانی میسوریٹک ٹیکسٹ کی بجائے
09:30یونانی سبٹروجنٹ سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں
09:33جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کلیسہ میں
09:35یہی مطن وسیع پی ماننے پر استعمال ہوتا تھا
09:45میسوریٹک ٹیکسٹ
09:46پہلی صدی اسوی کے بعد حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے
09:49جب یہودیت اور مسیحیت کے درمیان فاصلہ بڑھا
09:53تو بعض یہودی علماء نے سبٹروجنٹ سے کم رجوع کرنا شروع کیا
09:57کیونکہ مسیحی مبلغین اکثر اسی ترجمے سے
10:00حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں دلائل پیش کرتے تھے
10:03اس کے بعد یہودی علماء نے عبرانی مطن کی حفاظت اور میار بندی پر زیادہ توجہ دی
10:09جس کے نتیجے میں بعد کی صدیوں میں میزوریٹک ٹیکسٹ وجود میں آیا
10:13اسی زبانے میں ایکویلا سیماکوس اور تھیوڈوٹوشن جیسے علماء نے
10:19نئے یونانی تراجم بھی تیار کیے
10:21جن کا مقصد عبرانی مطن کے زیادہ لفظی ترجمے پیش کرنا تھا
10:25چوتری صدی اسوی میں مسیحیت کے سرکاری مذہب بننے کے بعد
10:29سیپٹروجنٹ کی اہمیت مزید بڑھ گئی
10:32یونانی بولنے والے کلیساؤں نے اسے اپنے اہد قدیم کا بنیادی مطن بنایا
10:37بعد میں مغربی کلیسہ میں لاتینی زبان راج ہوئی
10:41اور جہروم نے لاتینی ولگیٹ تیار کی
10:44اگرچہ جہروم نے زیادہ تر عبرانی مطن سے ترجمہ کیا
10:47لیکن بعض مقامات پر سیپٹروجنٹ سے بھی استفادہ کیا
10:51اس کے باوجود مشرقی آتھرڈوکس کلیسہ نے
10:54اپنے میعبادات ارلاحیاتی تعلیمات میں
10:57سیپٹروجنٹ کو مرکزی حصیت دی
11:00اور یہ روایت آج تک برقرار ہے
11:07جدید اور میں سیپٹروجنٹ کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی ہے
11:11ماہرین اثار قدیمہ، ماہرین لسانیات اور بائبلی محققین
11:16اس عبرانی مطن، ڈیڈ سی سکرول، سامری تورات
11:21اور دیگر قدیم تراجم کے ساتھ ملا کر
11:24قدیم صحیف کی اصل تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
11:28بعض مواقع پر سیپٹروجنٹ ایسے قدیم الفاظ اربارتوں کو محفوظ رکھتی ہے
11:33جو موجودہ عبرانی مطن میں موجود نہیں
11:35یا مختلف صورتوں میں پائی جاتی ہے
11:37اسی وجہ سے جدید بائبلی تنقید یعنی تیکسچول کریٹسزم میں
11:42اس کا مقام انتہائی اہم ہے
11:49مختصراً لڈبل ایکس یا سیپٹروجنٹ صرف ایک ترجمہ نہیں
11:52بلکہ قدیم دنیا کی مذہبی، ثقافتی اور لسانی تاریخ کا ایک عظیم شاہکار ہے
11:58اس نے یونانی بولنے والے یہودیوں کو ان کے مقدس صحیف سے جوڑے رکھا
12:02ابتدائی مسیحیوں کو اہد قدیم کی تعلیمات تک رسائی فراہم کی
12:07اور آج بھی تاریخ، مذہب، اثاری قدیمہ اور بائبلی تحقیق کے میدان میں
12:13ایک بنیادی اور نقابل نظر انداز ماخذ کی حصیت رکھتی ہے
12:17اس کی تاریخ یہ ظاہر کرتی ہے کہ زبانیں بدل سکتی ہیں
12:20سلطنتیں ختم ہو سکتی ہیں
12:22لیکن علم اور مقدس متون کو مفوظ رکھنے کی کوششیں
12:26انسانی تہذیب کا ایک مستقل اور قابل قدر حصہ رہی ہیں
12:34پروٹسٹنٹ کے لیسائیں ایل ڈبل اکس کو مکمل طور پر کیوں قبول نہیں کرتی
12:39پروٹسٹنٹ کے لیسائیں ایل ڈبل اکس کو ایک اہم تاریخی ترجمہ مانتی ہے
12:43لیکن اسے اہد قدیم کا بنیادی مطن نہیں مانتی
12:46اس کی چند اہم وجوہات یہ ہیں
12:48عبرانی مذہب کو ترجیح
12:51اصلاح مذہب کے دوران
12:52اس علمی صدمی پروٹسٹنٹ علماء خصوصاً
12:55مارٹن لوتھر نے یہ موقف کی اختیار کیا
12:58کہ اہد قدیم کا ترجمہ براہ راست عبرانی مطن سے ہونا چاہیے
13:02کیونکہ وہ اسے اصل زبان میں محفوظ مطن سمجھ دے تھے
13:06اضافی کتابیں
13:07سیپٹو جنٹ میں بعض کتابیں شامل ہیں
13:10جیسے
13:11ٹو بٹ
13:11جیوڈیت
13:12وزڈم آور سولومن
13:14سیراک
13:16مکابیز
13:19پروٹسٹن علماء کا کہنا ہے کہ یہ کتابیں
13:21عبرانی بائبل
13:22یعنی تناخ کے روایتی کینن میں شامل نہیں تھی
13:25اس لئے انہیں لہامی کتابوں میں شمار نہیں کیا جانا چاہیے
13:28وہ انہیں تاریخی یا اخلاقی لحاظ سے مفید مان سکتے ہیں
13:32لیکن بائبل کے مصابی اختیار نہیں دیتے
13:34بعض متنی اختلافات
13:36سیپٹو جنٹ اور میسورٹک ٹیکسٹ میں
13:39کئی مقامات پر الفاظ
13:41جملوں یا پوری بارتوں میں فرق پائے جاتا ہے
13:44پروٹسٹن روایت عام طور پر عبرانی مطن کو ترجیح دیتی ہے
13:48اگرچہ جدید مترجمین
13:50مشکل مقامات پر
13:52سیپٹو جنٹ سے بھی مدد لیتے ہیں
13:57رومن کیتھلک کلیسہ کا موقف
13:59رومن کیتھلک کلیسہ سیپٹو جنٹ کو بہت اہم تاریخی گواہ مانتی ہے
14:04وہ اس میں موجود کئی اضافی کتابوں کو
14:06ڈیو ٹیرو کینونیکل بوکس کے طور پر قبول کرتی ہے
14:10تاہم اس کی سرکاری روایت صرف سیپٹو جنٹ پر منصر نہیں
14:14بلکہ لاتینی ولگیٹ اور اصل عبرانی و یونانی مطن کو بھی اہمیت دیتی ہے
14:22مشرقی آرثرڈکس کلیسہ کا موقف
14:24مشرقی آرثرڈکس کلیسہ سیپٹو جنٹ کو اہد قدیم کا بنیادی مطن مانتی ہے
14:29اس کی چند وجوہات ہیں
14:31ابتدائی کلیسہ میں یہی مطن مصیب ایمانے پر استعمال ہوتا تھا
14:35اہد جدید کے کئی قصابات سپٹو جنٹ سے زیادہ مطابقہ ترکتے ہیں
14:39ان کے نزدیک کلیسہ کی قدیم روایت یا ٹرڈیشن بھی اسی مطن کی تائید کرتی ہے
14:51موسیقی
Comments

Recommended