Skip to playerSkip to main content
Epicureanism does not deny the existence of gods, but rejects their involvement in human affairs and the universe. According to Epicurus, gods are perfect, distant, and indifferent — therefore they do not send punishments, disasters, or rewards. This philosophical idea removes fear of divine intervention and motivates rational thinking based on nature and human experience.

In this video we explore:
✔ Who was Epicurus
✔ What is Epicureanism
✔ Gods in Epicurean philosophy
✔ Why Epicureans rejected divine intervention
✔ Difference from religious views
✔ Fear, suffering & nature according to Epicurus

This video will help you understand ancient Greek philosophy, metaphysics, and the basic questions of existence: “What is fear?”, “What is divine power?”, and “Do gods control our life?”

#epicurus #epicureanism #greekphilosophy #philosophy #existenceofgods #fearofgods #philosophyexplained

Category

📚
Learning
Transcript
00:00قدیم یونان وہ سر زمین جہاں فلسفہ سانس لیتا تھا
00:04اور انسانیت اپنی حقیقت کو سمجھنے کے لیے سوالات سے لڑپی تھی
00:09اسی زمین پر ایک شخص ابرہ ایسا شخص جس نے انسان کے سب سے بڑے خوف
00:15خدا کے غضب موت کی ہولناکی اور دنیا کی بے لگام فہشات کو چیلنگ کر دیا
00:22اس کا نام تھا ابی کور
00:24ایک فلسفی جس نے کہا کہ حقیقی خوشی شور میں نہیں
00:28طاقت میں نہیں دولت میں نہیں
00:31بلکہ خاموش ذہن میں ہے
00:33اس نے بتایا کہ جب موت آتی ہے تو ہم نہیں ہوتے
00:37اور جب ہم ہوتے ہیں تو موت نہیں ہوتی
00:40یہ نظریات اس وقت بغاوت تھے
00:43مذہبی خوف ٹوٹنے لگے
00:45فلسفے کا رخ بدلنے لگا
00:48اور انسانی ذہن پہلی بار پرسکون جینے کی طرف بڑھا
00:53کہ آپ تیار ہیں جانے کے لیے کہ آخر ابی کیور کون تھا
00:57اس کا فلسفہ کیوں خطرناک سمجھا گیا
01:00اور اس کی فکر آج بھی کیسے زندہ ہے
01:04ابی کیورنیزم فلسفے کی وہ دنیا جہاں سکون ہی سب سے بڑی جیت ہے
01:34اپی کیورین ازم یا اپی کیوریزم
01:36فلسفہ کا ایک مکتب ہے جو تین سو سات قبل مسیح میں قائم ہوا
01:40اور ایک قدیم یونانی فلسفی اپی کیوریس کی تعلیمات پر مبنی ہے
01:45اپی کیوریس ڈیموکریٹس کی طرح ایک ایٹمی اور مادیت پسند تھا
01:49اس کی مادیت پرستی نے اسے مذہب شکوک و شبہات
01:53اور توہم پرستی اور الہی مداخلت پر آمادہ کیا
01:59اپی کیوریزم اصل میں افلاتونیت کے لیے ایک چیلنگ تھا
02:03اور اس کا بنیادی مخالف بعد میں سٹویکیزم بن گیا
02:07اپی کیوریس کا خیال تھا کہ دنیا کے کاموں کے علم اور خواہشات کو محدود کرنے کے ذریعے
02:13اٹاراکسیا یعنی سکون اور خوف سے آزادی
02:17اور اپونیا یعنی جسمانی درد کی عدم مجودگی کی حالت میں
02:21معمولی پائیدار خوشی حاصل کرنا سب سے بڑی بھلائی ہے
02:26اسی طرح اپی کیوریس اور اس کے پیرکاروں نے عام طور پر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی
02:32کیونکہ اس سے مایوسی اور عظام پیدا ہو سکتے ہیں
02:35جو ان کی نیکی اور ذینی سکون کے حصول سے متصادم ہو سکتے ہیں
02:39اپی کیوریس کی چند تحریریں باقی ہیں
02:42اپی کیورین ازم ہیلینسٹک اور رومن ادوار کے دوران پر وان چڑھا
02:46اور بہت سے اپی کیورین کمیونٹیز نتاکیا، سکندریا، روڈس اور ہرکولیم جیسی جگہ پر قائم ہوئیں
02:54تیسری صدی اسوی کے آخر تک اپی کیورین ازم ختم ہو چکا تھا
02:58لیکن دوسرے فلسفیوں کی اپی کیورین ازم میں دلچسپی، روشن خیالی کے دور میں زندہ ہوئی
03:04اور جدید دور میں بھی جاری ہے
03:10تاریخ
03:10اپی کیوریس 342 قبل مسیح میں ساموس جزیرے میں پیدا ہوا
03:15اپنے ابتدائی سالوں میں اس نے ساموس میں ایک فلاتونی فلسفی پاموفیلس سے تعلیم حاصل کی
03:21بعد میں اس نے ڈیموکریٹس کے پیروکار نوصیفی نس سے تعلیم حاصل کی
03:26اٹھارہ سال کی عمر میں اپی کیوریس نے فوجی خدمات کے لیے ایتھنز کا سفر کیا
03:30اپنے فرائض کی تکمیل کے بعد اس نے کالفون میں رہتے ہوئے خود کو مکمل طور پر فلسفے کے لیے
03:37وقف کر دیا
03:38اپی کیوریس نے لیس بوس جزیرے کے دارل حکومت بائٹیلین میں اور پھر لمپاکسک میں تعلیم دی اور پیروکار بنائے
03:49ایتھنز میں اپی کیوریس نے اپنے سکول کے لیے گارڈن کے نام سے ایک جائداد خریدی
03:53جو بعد میں اپی کیوریس کے سکول کا نام بن گیا
03:56اس کے ارکان میں ہرماچس، آئیڈومینیس، کولوٹس، پولینیس اور میٹرودورس شامل تھے
04:03بعد ازا اس بقتفائی فکر کی مقبولیت میں اضافہ ہوا
04:06اور یہ اسٹوکیزم، پلاتونیزم، پیریپیٹیٹیکزم اور پائرونیزم کے ساتھ ساتھ
04:12ہیلنیسٹک فلسفہ کے غالب سکولوں میں سے ایک بن گیا
04:15جو بعد کی رومن سلطنت تک مضبوطی سے قائم رہا
04:19جولیس سیزر بھی کافی حد تک اپی کیورینیزم کی طرف جھکاؤ رکھتا تھا
04:23دوسری صدی اسوی میں سموساتہ کے مزانگار لوسین اور فلسفہ کے امیر پروموٹر
04:29ڈیوے جینس ممتاز اپی کیورین تھے
04:31تاہم تیسری صدی اسوی کے آخر تک اس کے وجود کا بہت کم نشان باقی تھا
04:41فلسفہ
04:41طبیعیات
04:42اپنے خاتم اپی کیورس نے مادی دنیا کی نویت کے بارے میں تین اصول پیش کیے
04:47یعنی جو موجود ہے وہ اس سے وجود میں نہیں آ سکتا جو موجود نہیں
04:52جو فنا ہو جائے وہ ختم نہیں ہوتا
04:54اور جو کچھ اب موجود ہے وہ ہمیشہ موجود تھا اور ہمیشہ رہے گا
04:59ان اصولوں کا مقصد اس حقیقت وہ قائم کرنا تھا
05:02کہ جو کچھ دنیا کی تشکیل کرتا ہے وہ مستقل اور غیر متغیر ہیں
05:08اپی کیورن کا خیال تھا کہ پوری کائناہ دو چیزوں پر مشتمل ہے
05:11میٹر اینڈ وائیڈ
05:13یعنی مادہ اور خلا
05:15مادہ ایٹموں سے بنا ہے جو چھوٹے جسام ہیں
05:18جن میں صرف شکل سائز اور وزن کی غیر متغیر خصوصیات ہیں
05:22اپی کیورن کے خیال تھا کہ ایٹم غیر متبدل ہیں
05:25کیونکہ دنیا کو حکم دیا گیا تھا
05:27اور تبدیلیوں کے لئے مقصوص اور مستقل ذرائع ہونے چاہیے
05:31مثلا ایک پودے کی نو صرف ایک ہی نو کے بیچ سے اگ سکتی ہے
05:35مزید یہ کہ ایٹموں کی کسرت اور عدم وجودیت کی حد دونوں کی وجہ سے
05:40چیزوں کا مجموعہ لا محدود ہے
05:42کیونکہ اگر خلا لا محدود ہوتا اور جسم محدود ہوتے
05:46تو لاشیں کہیں بھی نہ ٹھہرتی
05:48بلکہ لا محدود خلا کے ذریعے اپنے راستے میں منتشر ہو جاتی
05:52ان کے پاس کوئی سہارا یا جوابی چیک نہ ہوتا
05:55کہ انہیں اپنے اوپر کی طرف لوٹنے پر واپس بینج سکتے
05:58ایک بار پھر اگر خلا محدود ہوتے
06:01تو جسم کی لا محدودیت کہیں بھی نہ ہوتی
06:03ایٹموں کی لا محدود فراہمی کی وجہ سے
06:06دنیا کی لا محدود تداد یا قاسم ہوئی ہے
06:09ان میں سے کچھ دنیایں ہماری اپنی دنیا سے
06:12بلکل مختلف ہو سکتی ہیں
06:13کچھ بلکل ملتی جلتی ہیں
06:15اور تمام دنیایں باطل یعنی خلا کے وسیع علاقوں
06:19میٹا کوسمیاں کے ذریعے ایک دوسرے سے
06:22الگ ہو چکی ہیں
06:26علمیات
06:27اپیکیورن فلسفہ ایک تجرباتی علمیات کو استعمال کرتا ہے
06:31جو حواس پر مبنی ہے
06:32ان کا خیال تھا کہ حواس بھی ایٹموں پر انحصار کرتے ہیں
06:36ہر شیعہ مسلسل اپنے آپ سے ذرات خارج کر رہی ہے
06:39جو پھر مشاہدہ کرنے والے کے ساتھ تعامل کرتی ہے
06:42تمام حواس جیسے کہ نظر بو یا آواز ان ذرات پر انحصار کرتی ہے
06:48جبکہ خارج ہونے والے ایٹموں میں وہ خصوصیات نہیں تھی
06:52جو حواس کو محسوس ہو رہی تھی
06:54لیکن جس طریقے سے ان کا اخراج ہوتا ہے
06:56اس سے مشاہدہ کرنے والے کو ان احساسات کا سامنا کرنا پڑتا تھا
07:01مثلا سرخ ذرات خود سرخ نہیں ہوتے تھے
07:04بلکہ اس انداز میں خارج ہوتے تھے
07:07کہ دیکھنے والے کو سرخ رنگ کا تجربہ ہوتا تھا
07:10ایٹموں کو انفرادی طور پر نہیں سمجھا جاتا
07:13بلکہ ایک مسلسل احساس کے طور پر سمجھا جاتا ہے
07:16کیونکہ وہ بہت تیزی سے حرکت کرتے ہیں
07:20ایپیکیورین کا خیال تھا کہ تمام حصی ادراکات درست ہیں
07:23اور یہ کہ ہم ان تصورات کو کیسے پرکتے ہیں
07:26اس میں غلطیاں پیدا ہوتی ہیں
07:28جب ہم چیزوں کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں
07:31تو ان کے مزید حصی معلومات کے ذریعے تصدیق اور درستی کی جا سکتی ہے
07:35مثال کے طور پر اگر کوئی دور سے کوئی ایسا ٹاور دیکھے جو گولد کھائی دیتا ہے
07:40اور ٹاور کے قریب پہنچ کر وہ دیکھے کہ یہ اصل میں مربع شکل کا ہے
07:45تو وہ سمجھ جائیں گے کہ ان کا اصل فیصلہ غلط تھا
07:48اور وہ اپنی غلط رائے کو درست کر لیتے ہیں
07:55ایپیکیوریس کے بارے میں کہا جاتا ہے
07:56کہ انہیں نے سچائی کے تین میارات تجویز کیے ہیں
07:59چونکہ ایپیکیوریس کا خیال تھا کہ احساسات دھوکہ نہیں دے سکتے
08:03اس لیے احساس ایپیکیوریس کے لیے سچائی کا پہلا اور بنیادی میار ہے
08:08قابل فہم چیزوں کے بارے میں غلط فیصلے نہ کرنے
08:11اور اس کے بجائے اپنے فیصلے کی تصدیق کرنے کے لیے
08:14ایپیکیوریس کا خیال تھا
08:16کہ قریب سے جانچ کر کے قابل فہم چیز کی واضح بصیرت
08:20یعنی انرجیاں حاصل کرنے کی ضرورت ہے
08:23اس نے سمجھی جانے والی چیزوں کے بارے میں اپنے فیصلوں کے جواز کے طور پر کام کیا
08:29انرجیاں کسی چیز کے احساس کے طور پر بیان کیا جاتا ہے
08:32جو فیصلے یعراء کے ذریعے تبدیل نہیں ہوتا
08:35اور اس چیز کا واضح اور براہ راست ادراک ہے
08:40ایپیکیوریس اپنی خلاقیات کی بنیاد اقدار کے ایک سرداری مجبوعے پر رکھتا ہے
08:45وہ ہے خوشی
08:46لہذا ایپیکیوریس نے اس طرح زنگی گزارنے کی وقالت کی
08:50کہ کسی کی زنگی کے دوران ممکنہ حد تک زیادہ سے زیادہ لذت حاصل کی جا سکے
08:56پھر بھی اس طرح کی ضرورت سے زیادہ لذت ہونے کی وجہ سے
09:00ہونے والی تکلیف سے بچنے کے لیے اعتدال کے ساتھ ایسا کرنا چاہیے
09:04ایپیکیوریس نے پورجوش محبت کی خلاف فعال طور پر سفارش کی
09:09اور شادی سے مکمل طور پر گریز کرنا ہی بہتر سنجا
09:15ایک فطری لیکن ضروری نہیں خواہش کے طور پر دیکھا
09:19جس سے عام طور پر گریز کیا جانا چاہیے
09:21چونکہ سیاسی زندگی ایسی خواہشات کو جنب دے سکتی ہے
09:24جو نیکی اور ذہنی سکون کو متاثر کر سکتی ہے
09:27جیسے کتدار کی حوث یا شہرت کی خواہش
09:30اس لیے سیاست میں شرکت کی حوصلہ شکنی کی گئی
09:34مزید براہ ایپیکیوریس نے دیوتاؤں اور موت کے خوف کو ختم کرنے کی کوشش کی
09:39یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ دو خوف ہی زندگی میں جگڑے کی بڑی وجہ ہیں
09:45خوشی
09:46لذت سے ہمارا مطلب ہے جسم میں درد کا اور روح میں مصیبت کا نہ ہونا
09:51ایپیکیوریس نے خوشی کو دو وسیع اقسام میں تقسیم کیا
09:55جسم کی لذتیں اور دماغ کی لذتیں
09:58جسم کی لذت میں جسم کی حصیات شامل ہوتی ہیں
10:01جیسے لذیذ کھانا کھانے کا عمل
10:03یا درد سے پاک سکون کی حالت میں ہونا
10:06اور یہ صرف حال ہی میں موجود ہے
10:09دماغ کی لذتوں میں ذہنی عمل اور حالت شامل ہوتی ہیں
10:12خوف سے جذبات خوشی کے جذبات خوف کی کمی اور خوشگوار یادیں
10:17یہ سب دماغ کی خوشیوں کی مثالیں ہیں
10:20دماغ کی یہ لذتیں نہ صرف حال میں ہوتی ہیں
10:22بلکہ ماضی اور مستقبل میں بھی ہوتی ہیں
10:25کیونکہ ماضی کے خوشگوار تجربے کی یاد
10:27یا کسی ممکنہ طور پر خوشگوار مستقبل کی امید
10:31دونہی خوشگوار تجربات ہو سکتے ہیں
10:34اس کے وجہ سے دماغ کی لذتیں جسم کی لذت سے بڑھ کر سمجھی جاتی ہیں
10:39اپیکیورین خوشات کو تین طبقات میں تقسیم کرتے ہیں
10:44فطری اور ضروری
10:45فطری لیکن ضروری نہیں
10:47اور بیکار اور خالی
10:49فطری اور ضروری
10:51یہ خوشات محدود خوشات ہیں
10:53جو تمام انسانوں میں فطری طور پر موجود ہوتی ہیں
10:56ان کا ہونا انسانی فطر کا حصہ ہے
10:59یہ تین وجوہات میں سے کسی ایک کے لیے ضروری ہیں
11:02خوشی کے لیے ضروری
11:03جسمانی تقلیف سے آزادی کے لیے ضروری
11:06اور زندگی کے لیے ضروری
11:08لباس اور پناہگا پہلی دو قسموں سے تعلق رکھتی ہے
11:11جبکہ خوراک جیسی کوئی چیز تیسرے سے تعلق کرتی ہے
11:15فطری لیکن ضروری نہیں
11:17یہ خوشات انسانوں کی فطری ہوتی ہیں
11:20لیکن ان کی خوشی یا بقاہ کے لیے انہیں پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہے
11:24بھوک لگنے پر مزے دار کھانا کھانے کی خوش فطری
11:28لیکن ضروری خوش کی مثال نہیں ہے
11:30ان خوشات کا بنیادی مسئلہ یہ ہے
11:32کہ یہ کسی شخص کی خوشی میں خطرخواہ اضافہ کرنے میں نہ کام رہتی ہیں
11:36اور ساتھ ہی ان کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کی بھی ضرورت ہوتی ہے
11:40اور اس غلط عقیدے کی وجہ سے لوگ اس کی خوش کرتے ہیں
11:43کہ وہ در حقیقت ضروری ہیں
11:45اس لیے ان سے بچنا چاہئے
11:47بیکار اور خالی خوشات
11:49یہ خوشات ناظ انسانوں کے لیے پدائشی ہیں
11:52اور نہ ہی خوشی یا صحت کے لیے ضروری ہیں
11:54در حقیقت وہ بھی لا محدود ہیں
11:57اور کبھی پوری نہیں ہو سکتا
11:58دولت یا شہرت کی خوشات اس طبقے میں آتی ہیں
12:01اور یہ ایسی خوشات سے پریز کیا جانا چاہئے
12:04کیونکہ یہ آخر کار تکلیف ہی لاتی ہیں
12:08اگر کوئی صرف فطری اور ضروری خوشات کی پیروی کرتا ہے
12:11تو اپیکیورس کے مطابق
12:13کوئی اپونیاں اور ٹاریکسیاں تک پہنچنے کے قابل ہو جائے گا
12:17اور اس طرح خوشی کی آلہ ترین شکل تک پہنچ جائے گا
12:20غیر ضروری اور خاص طور پر مسنوی طور پر پیدا کی جانے والی خوشات کو دبایا جانا چاہئے
12:29سیاست
12:31اپیکیورس نے خاندان شروع کر کے
12:33سیاسی معاشرے میں حصہ ڈالنے کی بھی حوصلہ شکنی کی
12:36کیونکہ بیوی اور بچوں کے فائدے
12:38خاندان کی وجہ سے پیدا ہونے والی پریشانیوں سے کہیں زیادہ ہیں
12:42اس کے بجائے
12:43اپیکیورس نے رویتی سیاسی ریاست سے باہر
12:46دوستوں کی ایک جماعت بنانے کی حوصلہ فضائی کی
12:49نیک دوستوں کی یہ جماعت
12:51داخلی معاملات اور نصاح پر توجہ دے گی
12:54تاہم اپیکیورن ازم
12:56حالات کے مطابق
12:57موافقت پذیر ہے
12:58جیسا کہ سیاست کے لیے اپیکیورن نکتہ نظر ہے
13:02درد اور خوف سے
13:03تحفظ کے لیے ایک ہی طریقے
13:05ہمیشہ کام نہیں کریں گے
13:06بعض حالات میں خاندان کا ہونا زیادہ فائدہ مند ہوگا
13:10اور بعض حالات میں سیاست میں
13:12حصہ لینا زیادہ فائدہ مند ہوگا
13:13یہ بلاخر اپیکیورن پر منحصر ہے
13:16کہ وہ اپنے حالات کا تجزیہ کریں
13:18اور جو بھی اقدام کریں وہ صورتحال
13:20کے مطابق ہو
13:24موت
13:25اپیکیورن ازم لا فانیت کو
13:28مسترد کرتا ہے یہ روح پر یقین رکھتا ہے
13:30لیکن تجویز کرتا ہے کہ جسم کی طرح
13:32روح فانی اور مادی ہے
13:34اپیکیورن نے موت کے بعد کی
13:36زنگی کے کسی بھی امکان کو
13:37مسترد کرتے ہوئے
13:39اب بھی یہ دعویٰ کیا
13:40کہ موت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے
13:42موت ہمارے لئے کچھ نہیں
13:44کیونکہ جو تحلیل ہو جاتا ہے
13:46وہ احساس کے بغیر ہوتا ہے
13:48اور جس میں احساس کی کمی ہوتی ہے
13:50وہ ہمارے لئے کچھ بھی نہیں ہے
13:56اپیکیورن ازم دیوتاؤں کے وجود سے انکار نہیں کرتا
13:59بلکہ یہ دنیا میں ان کے ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے
14:03اپیکیورن ازم کے مطابق
14:04دیوتا انسانی زندگیوں
14:06یا باقی کائنات میں
14:07کسی بھی طرح سے مداخلت نہیں کرتے
14:09اس طرح یہ اس خیال سے گریز کرتا ہے
14:12کہ خوفناک موسمی واقعات
14:14الہی انتقام ہیں
14:15اپیکیورن کو جن خوفوں سے آزاد ہونا چاہیے
14:18ان میں سے ایک خوف دیوتاؤں کے
14:20عمال سے متعلق ہے
14:36موسیقی
Comments

Recommended