00:00کیا ہو اگر میں آپ کو بتاؤں کہ دو ہزار سال پہلے ایک انسان نے وہ سچ دیکھ لیا تھا
00:07جسے دنیا نے صدیوں تک جھٹلایا
00:10وہ وقت جب سب مانتے تھے کہ زمین ساکن ہے اور پوری کائنات اس کے گرد گھومتی ہے
00:18مگر ایک شخص تھا جس نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا نہیں حقیقت کچھ اور ہے
00:24یہ ہے کہانی ایک ایسے ذہن کی جس نے سورج کو مرکز بنایا
00:29اور زمین کو حرکت دی
00:31مگر اس کی آواز دب گئی اس کا سچ چھپ گیا
00:36یہ ہے داستان ریسٹاکس آف ساموس کی
00:39وہ انسان جس نے کائنات کو سمجھا مگر دنیا نے اسے نہ سمجھا
01:13اریسٹاکس آف ساموس تیسری صدی قبل مسیح کا ایک عظیم یونانی محر فلکیات تھا
01:19جس کی پیدائش تقریباً تین سو دس قبل مسیح اور وفات تقریباً دو سو تیس قبل مسیح میں ہوئی
01:26وہ قدیم دنیا کے ان چند سائنستانوں میں شمار ہوتا ہے
01:30جنہوں نے کائنات کے بارے میں روایتی نظریات کو چیلنج کیا
01:34اور ایک بالکل نیات سور پیش کیا
01:38اریسٹاکس کی ذاتی زنگی کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں
01:42بلکہ سوائے اس کے کہ وہ ساموس سے سکندریہ چلا آیا کچھ نہیں ملتا
01:47یا صرف یہ کہ اریسٹاکس نے سٹریٹو کی شاگردی میں
01:51فلکیات اور ریاضی کے اسرار سے واقفیت حاصل کی تھی
01:57یہ بات بھی حیران کن ہے کہ جہاں اس کی زندگی کے بارے میں
02:01معلومات بہت کم دستیاب ہیں
02:03وہی اس کے کام کے بارے میں کافی معلومات میں اثر ہیں
02:06جسے زمان قدیم کا کامیاب ترین مہر فلکیات ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں
02:13اس کا سب سے انقلابی خیال یہ تھا
02:16کہ زمین کائنات کا مرکز نہیں بلکہ سورج ہے
02:19اور زمین خود اپنے مہور پر گھومتی ہے
02:22اور سورج کے گرد گردش کرتی ہے
02:25یہ نظریہ اس دور کے عام واقیدے کے بلکو بریکس تھا
02:28کیونکہ اس وقت سمجھا جاتا تھا کہ زمین ساکن ہے
02:31اور تمام اجرام میں فلکی اس کے گرد گھومتے ہیں
02:34ریسٹاکس کے نظریات کو
02:36اس کے ہم اثر علماء نے زیادہ پذیرائی نہیں دی
02:40اس زمانے میں
02:41ارستو اور بعد میں
02:43بتلی موس کے جیوسینٹرک نظریہ کو زیادہ قبولیت حاصل دی
02:48جس میں زمین کو کائنات کا مرکز مانا جاتا تھا
02:53ریسٹاکس کے خیالات کو
02:54نہ صرف نظر انداز کیا گیا
02:56بلکہ بعض حلقوں میں
02:58انہیں خطرناک اور مذہبی طور پر
03:00نامناسب بھی سمجھا گیا
03:02ایک روایت کے مطابق
03:04ایک فلسفی نے اس پر
03:05بے دینی کا الزام لگانے کی بھی بات کی
03:08کیونکہ وہ زمین کی
03:09مرکزیت کو چیلنی کر رہا تھا
03:12اس کے باوجود
03:13اس کے نظریات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے
03:16بعد کے کچھ علماء جیسے
03:18آرکیمیڈیز نے اس کے نظریے کا ذکر کیا
03:21جس کی وجہ سے اس کی سوچ
03:23تاریخ میں محفوظ رہی
03:24صدیوں بعد یورپ میں
03:27نشات ثانیہ کے دور میں
03:28نیکولیس کوپرنیکس نے
03:30اس نظریے کو دوبارہ پیش کیا
03:33اور اسے ریاضیاتی بنیادوں پر
03:35مضبوط کیا
03:36کوپرنیکس نے خود بھی اس بات کا اطراف کیا
03:39کہ اس سے پہلے بھی کچھ مفکرین
03:41اس خیال کو پیش کر چکے تھے
03:43جس میں ریسٹاکورس کا نام نمائی ہے
03:46اس کے بعد کیپلر اور گلیلیو
03:48جیسے سائنسدانوں نے
03:49اس نظریے کو مزید مضبوط کیا
03:52اور یوں ہیلیو سینٹرک موڈل
03:54جدید فلکیات کی بنیاد بن گیا
04:02ریسٹاکورس کی اپنی تحریدیں
04:04زیادہ تر محفوظ نہیں رہیں
04:05لیکن اس کے نظریات کا ذکر
04:07بعد کی علماء جیسے
04:09آرکیمیڈیز اور پرو ٹارک نے کیا
04:11جن کی بدولت ہم اس کے خیالات کے بارے میں علم ہوا
04:15اس کی ایک اہم تصنیف
04:18On the sizes and distances of the sun and moon
04:22آج بھی موجود ہے
04:24جس میں اس نے جیومیٹری کی مدد سے
04:26سورج اور چاند کے فاصلے
04:28اور حجم کا اندازہ لگانے کی کوشش کی
04:31اگرچہ اس کے حسابات مکمل طور پر درست نہیں تھے
04:34لیکن اس نے یہ واضح کیا
04:36کہ سورج زمین کے مقابلے میں
04:38کہیں زیادہ بڑا ہے
04:40جو اس کے ہیلیوسینٹریک نظریے کی
04:42بنیاد بنا
04:47ریسٹاکورز
04:47اس زمین کی یومیہ گردش کو
04:49محوری تسلیم کرتا ہے
04:51اس خیال سے کہ
04:52سوابت کے ظاہری سکون اور آفتاب کی حرکت میں
04:56ایک قسم کا تتابق
04:58یا موافقت پیدا ہو جائے
05:00اس نے یہ فرض کیا
05:01کہ سوابت کا کررہ مدار
05:03زمین کے کررے سے کہیں بڑا ہے
05:06اس مفروضے سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے
05:08کہ ریسٹاکورز کی نظر میں
05:10کائنات کی بست اس سے کہیں زیادہ تھی
05:12جتنی کیس کے پیشروں کی نظر میں تھی
05:18سورج اور چاند کی فاصلوں کی پیمائش کے بارے میں
05:21اریسٹاکورز نے اپنے ایک رسالے میں
05:23ایک کلیا وضع کیا تھا
05:24جس کے نتائج اگرچہ غلط ہیں
05:26لیکن یہ کلیا بچائے خود
05:28درست اور صحیح ہے
05:30چاند اور سورج کے فاصلوں کے بارے میں
05:32اریسٹاکورز نے اس رسالے کی اہمیت
05:35ریاضیت کی نکتہ نظر سے بھی مسلم ہے
05:38کیونکہ اس میں جن نسبتوں کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے
05:41وہ فیل حقیقت مسلسی نسبتیں ہیں
05:45اس نے یہ بھی کہا کہ ستارے بہت زیادہ فاصل پر واقع ہیں
05:48اس لئے ہم ان کی پوزیشن میں کوئی واضح تبدیلی نظر نہیں آتی
05:53یہ خیال اس دور کے لئے نہیت یدید اور حران کن تھا
05:57کیونکہ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ کائنات بہت وسیع ہے
06:00اور انسان اس کے مرکز میں نہیں ہے
06:04ریسٹا کوز نے کالی پولی کے اس تخمینے میں
06:07جو سال شمسی کے لئے ساڑھے تین سو پین سٹھ آئیام پر مشتمل تھا
06:12اس میں ایک بڑا چھ سو تیس دن کا اضافہ کیا
06:15یہ اس لئے کہ وہ سال اکبر شمسی یا کمری دور کا طول
06:20دو شاریہ چار سو چراسی کرا دیتا ہے
06:23جس سے مراد غالباً دو شاریہ چار سو چونتیس سال ہے
06:27کہا جاتا ہے کہ اس نے جو دھوپ گھڑی ایجاد کی تھی
06:30وہ پہلے سے موجود دھوپ گھڑیوں سے زیادہ بہتر تھی
06:34ریسٹا کوز کے نظریات کو اس زمانے میں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا
06:39بعض فلسفیوں نے اسے بے دینی تقرار دینے کی کوشش کی
06:42کیونکہ وہ روایتی کائناتی تصور کو رد کر رہا تھا
06:46یہی وجہ تھی کہ اس کا نظریہ صدیوں تک نظر انداز ہوتا رہا
06:51تاہم بعد میں سولوی صدی میں کوپرنیکس نے اس خیال کو دوبارہ پیش کیا
06:56جس کے بعد یہ نظریہ جدی فلکیات کی بنیاد بن گیا
06:59آج ریسٹا کوز کو اس تاریخ کا ایک ایسا سائنستان مانا جاتا ہے
07:04جس نے اپنے وقت سے بہت آگے جا کر سوچا
07:07اور انسان کو کائنات کے بارے میں ایک نیا زاویہ نظر دیا
07:15اس کا کام اس بات کی مثال ہے کہ سچائی وقتی طور پر نظر انداز ہو سکتی ہے
07:20مگر آخر کار وہی علم کی بنیاد بنتی ہے
07:25ریسٹا کوز کی احمید صرف اس کے نظریات تک محدود نہیں
07:28بلکہ اس کی سوچ کے انداز میں بھی ہے
07:30اس نے مشاہدہ ریاضی اور منطق کو یک جا کر کے
07:34کائنات کو سمجھنے کی کوشش کی
07:36جب سائنسی طریقہ کار کی بنیادی خصوصیات ہیں
07:39اس کا کام اس بات کی علامت ہے کہ علم سے روایت پر نہیں
07:43بلکہ سوال اٹھانے اور نئے جوابات تلاش کرنے سے آگے بڑھتا ہے
07:48آج ریسٹا کوز کو تاریخ میں ایک ایسے سینستان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے
07:53جس نے اپنے وقت سے کہیں آگے جا کر سوچا
07:58اس کے نام پر چاند پر ایک نمائیاں گڑا یا کریٹر رکھا گیا ہے
08:02جو اس کی خدمات کا اطراف ہے
08:04اس کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے
08:06کہ سچائی کبھی کبھی فوراں قبول نہیں ہوتی
08:10لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہی نظریات دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں
08:24موسیقی
08:32موسیقی
Comments