Skip to playerSkip to main content
What happened to the Lighthouse of Alexandria — one of the Seven Wonders of the Ancient World?

In this documentary, we explore the incredible story of the Lighthouse of Alexandria, built on the island of Pharos near Alexandria. This iconic structure stood for centuries as a symbol of human innovation, guiding ships safely through dangerous waters.

Constructed during the reign of Ptolemy II Philadelphus, the lighthouse was one of the tallest man-made structures of the ancient world. Designed by the engineer Sostratus of Cnidus, it showcased advanced engineering and architectural brilliance.

Ancient historians such as Strabo, Pliny the Elder, and travelers like Ibn Battuta described its grandeur and significance. Over time, earthquakes and natural disasters led to its gradual destruction.

In this video, you’ll discover:
• How the lighthouse was built
• Its unique three-tier architectural design
• The mystery behind its powerful light
• Roman and Arabic historical references
• The earthquakes that destroyed it
• The construction of the Fort of Qaitbay using its ruins
• Modern underwater archaeological discoveries

This is more than just a monument — it’s a story of human ambition, knowledge, and legacy.

📌 Watch till the end to uncover the secrets of this lost wonder.

#اسکندریہ #لائٹ_ہاؤس #سات_عجائبات #ancientwonders #historyurdu #egypthistory #pharos #documentaryurdu #ancienthistory #historicalfacts

Category

📚
Learning
Transcript
00:02سمندر کی گہرائیوں میں چھپی ایک کہانی
00:05رید اور وقت کے توفانوں میں گم ایک عظیم راز
00:10یہ ہے کہانی لائٹ ہاؤس آف الیکزنڈریا کے
00:14وہ منارہ نور جسے دنیا کبھی ساتھ آجائے بات میں شمار کرتی تھی
00:23تیسری صدی قبل از مسیح
00:25جب الیکزنڈریا علم تجارت اور طاقت کا مرکز تھا
00:30ایک ایسا منار تعمیر کیا گیا جو صرف جہازوں کو راستہ نہیں بکھاتا تھا
00:35بلکہ انسان کی عقل اور انجنرین کی انتہا کی علامت تھا
00:39کہتے ہیں کہ اس کی روشنی میلوں دور سمندر میں دکھائی دیتی تھی
00:43مگر سوال یہ ہے کہ وہ روشنی آخر کیسے پیدا کی جاتی تھی
00:48اور کیا واقعی وہ آئینوں کے ذریعے سورج کی شواؤں کو منقص کرتا تھا
00:53قدیم و عرخین رومی سیاہوں اور عرب جغرافیہ دانوں نے اس عجوبے کا ذکر کیا
00:59مگر ہر بیان میں کچھ نہ کچھ راز چھپا ہوا ہے
01:05پھر ایک دن زلزلوں نے اس عظیم منار کو زمین بوز کر دیا
01:09وہ روشنی جو صدیوں تک جہازوں کی رہنمائی کرتی رہی
01:14ہمیشہ کے لیے بجھ گئی
01:15لیکن کیا یہ کہانی یہیں ختم ہو جاتی ہے
01:19یا آج ہوئی زمندر کی تہہ میں اس کے اثار موجود ہیں
01:23جدید ماہرین اثار قدیمہ اور جیولوجی کے سائنستان
01:27آج بھی اس کے کھنڈرات کو تلاش کر رہے ہیں
01:30کیونکہ فاروس کا لائٹ ہاؤس صرف ایک امارت نہیں تھا
01:34یہ انسان کی جستجو علم اور روشنی کی علامت تھا
01:38تیار ہو جائیے ہم ایک ایسے سفر پر نکلنے والے ہیں
01:42جہاں تاریخ راز اور حقیقت آپس میں ٹکراتے ہیں
02:12سکندریہ کے ساحل کے سامنے ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا
02:14جو ساحل کے قریب آبی چٹانوں سے گرا ہوا تھا
02:18اس جزیرے کو شہر کی تعمیر کے وقت
02:20ایک موج شکندیوار کے ذریعے
02:23سکندریہ عظم کے حکم پر خوشکی سے ملا دیا گیا تھا
02:27چونکہ جزیرے کے ساحل کے نزیق آبی چٹانے اور کھاڑیاں واقعہ تھی
02:31جو جہاز رانی کے لیے خطرناک تھی
02:33اس لیے بیری جہازوں کو ان سے ہشیار رکھنے کے لیے
02:36شاہ مصر نے دو سو ناسی قبل مسیح میں
02:39فیروس جزیرے پر ایک ٹاور تعمیر کرایا
02:43چھٹی ستی اسوی تاکس ٹاور نور کو
02:46قدیم زمانے کے ساتھ اجائبات عالم میں سے ایک سمجھا جاتا تھا
02:50یہ اسکندریہ کا ٹاور جسے کبھی کبھی اسکندریہ کا فیروس کہا جاتا ہے
02:55جسے قدیم مصر کی بتلی موسی سلطنت نے
02:58پٹولمی ٹو فلاڈی لفظ
03:00دو سو اسی سے دو سو سنتالیس قبل مسیح کے دور میں بنایا تھا
03:04کئی صدیوں تک یہ دنیا کی سب سے اونچی انسانی ساختہ امارتوں میں سے ایک تھی
03:10خالی کارنس کے مقبرے اور گیزہ کے مجودہ عظیم احرام کے بعد
03:15یہ تیسرا طویل عرصے تک زندہ رہنے والا قدیم وجوبہ تھا
03:19جو چودہ سو اسی تک جزوی طور پر زندہ رہا
03:23جب اس کے آخری پتھروں کو
03:25اس جگہ پر قیتبے کے قلعے کی تعمیر کے لیے استعمال کیا گیا تھا
03:32یہ ٹاور زمانے قدیم کی تعمیری مہارت اور ٹیکنالوجی کی انتہائی شان درمثال تھا
03:38اسے تیسری تنجی قبل مسیح میں اس زمانے کے مشہور ماہری تعمیر سوسٹروٹوس نے تعمیر کیا تھا
03:44سکندری عظم کے مرنے کے بعد
03:46بطلیموس اول سوٹر نے 305 قبل مسیح میں خود کو باش اقرار دیا
03:51اور اس کے فوراں بعد اس کی تعمیر شروع کی
03:53یہ امارت اس کے بیٹے بطلیموس دوم فلاڈیلفز کے دور میں مکمل ہوئی تھی
03:58اور اسے مکمل ہونے میں 12 سال لگے تھے
04:01جس کی کل لاغت 800 ٹیلنٹ چاندی تھی
04:04کہا جاتا ہے کہ ٹاور زیادہ ترچونے کے پتھر اور گرین آئٹ کے ٹھوس بلوک سے بنایا گیا تھا
04:10اس کی بلندی کہا جاتا ہے کہ تقریباً 440 فٹ یا 135 میٹر تھی
04:16یہ ٹاور تین منزلوں پر مشتمل تھا
04:18پہلی منزل چکور
04:20دوسری منزل آٹھ پہلوالی
04:22اور تیسری یا بالائی منزل رستوانہ تھی
04:26اس منزل پر رات کو آگ جلا کر جہازوں کو سگنل دیا جاتے تھے
04:30روشنی سب سے اوپر ایک بٹی سے پیدا ہوتی تھی
04:33ایک روایت کے مطابق اس ٹاور کی روشنی بیری جہاز کو 25 میل دور سے نظر آنے لگ
04:39جس سے جہاز آسانی سے سمت تبدیل کر دیتے تھے
04:42ایک اور روایت کے مطابق
04:44اس ٹاور کی اوپر والی منزل پر
04:46بطلی موس اول یا اسکندر اعظم کے بت کے ساتھ ساتھ
04:50ایک ایسا آئینہ بھی نصب تھا
04:52جس میں بہرہ روم کے اس پار واقع قسطنطنیہ میں ہونے والا ہر عمل نظر آتا تھا
05:01یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس آئینے کو بوقت ضرورت
05:05ایک آتشی شیشے کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا
05:08جسے بہرہ روم میں سفر کرنے والے دشمنوں کے بیری جہازوں پر
05:11سورج کی شوائیں مرتقیز کر کے انہیں جلا دیا جاتا تھا
05:16مسلمانوں کے اسکندریاں فتح کرنے کے بعد
05:18ٹاور کی اوپر والی منزل سے بط ہٹا کر وہاں مسجد بنا دی گئی
05:22کہا جاتا ہے کہ آٹھویں صدی اسوی میں خلیفہ ولید بن عبد الملک کو
05:27شہنشاہ قسطنطنیہ نے چالاکی سے اسے مسمار کرنے پر رضا مند کیا تھا
05:31عیسائی شہنشاہ در اصل نہیں چاہتا تھا
05:34کہ مسلمان جہاز رانی میں اس ٹاور سے فائدہ اٹھائیں
05:36ایک روایت کے مطابق جب خلیفہ کے حکم پر یہ ٹاور آدھے سے زیادہ مسمار ہو گیا
05:41تو خلیفہ کو شہر روم کی چالاکی کا بطا چل گیا
05:45مگر اب کیا ہو سکتا تھا
05:47ایک دوسری روایت کے مطابق یہ ٹاور
05:50تیرہ سو پچھتھر اسوی میں ایک زلزلے سے منہدم ہوا تھا
05:53اس ٹاور کے گھنڈرات پر مصر کے مملوک سلطان قائمبائی نے
05:57چودہ سو ستتر میں ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا
06:03چودہ سو چورانوے میں فرانسیسی مہارین نے
06:06اثار قدیمہ کی ایک ٹیم نے
06:08سکندریہ کے مشرقی بندرگاہ کے پانی میں گھوتا لگایا
06:11اور سمندر کے فرش پر لائٹ ہوس کی کچھ باقی یاد دریافت کی
06:16دو ہزار سولہ میں مصر میں اثار قدیمہ کی وزارت نے
06:20قدیمہ سکندریہ کے زریعہ بھنڈرات کو
06:23بشمول فاروس کے بھنڈرات کو
06:25پانی کے اندر میوزم میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا
06:32اپنی انسائیکلوپیٹک مخطوطہ جیوگرافیکہ میں
06:35سٹرابو جس نے پہلی صدی کبھنی مسیح کے آواخر میں
06:38سکندریہ گادرو کیا
06:40رپورٹ کیا کہ کینیڈس کے سویسٹروس نے
06:43ٹاور پر دہاتی خطوط میں لکھا تھا
06:46نجات تہندہ خدا
06:48پہلی صدی اسوی کے رائٹر پلینی دی ایلڈر نے
06:51اپنی نیچرل ہسٹری میں کہا ہے کہ
06:53اس ٹاور کا ممار سوشٹروٹوس نہیں تھا
06:55بلکہ دوسری صدی اسوی کی کتاب میں
06:57روسیان نے دعویٰ کیا
06:59کہ سوشٹریٹوس نے اپنا نام پلاسٹر کے نیچے چھپا رکھا تھا
07:03جس پر بطلی موس کا نام تھا
07:06تاکہ جب پلاسٹر گرے
07:07تو پتھر میں سوشٹریٹوس کا نام نظر آئے
07:11عرب صدی فین بتاتے ہیں
07:13کہ لائٹ ہوس ہلکی رنگ کے پتھر کے بڑے بلوگ سے بنایا گیا تھا
07:17ٹاور تین ٹیپرنگ ٹائرز پر مشتمل تھا
07:20ایک نشلا مربع حصہ جس کا مرکزی کور ہے
07:22ایک درمیانی اکٹرنل سیکشن
07:25اور سب سے اوپر ایک سرکلر سیکشن
07:27المسعودی نے دسویں صدی میں لکھا
07:29کہ سمندر کے کنارے زیوس کے لیے مختص ایک دوشتہ تھا
07:34جیوغرافیتان الادریسی نے
07:36گیارہ سے چوون میں لائٹ ہوس کا دورہ کیا
07:38اور مستطیل شافٹ میں دیواروں میں سراخوں کو نوٹ کیا
07:41جس میں سیسا کو برنے کے ایجنٹ کے طور پر اتسامل کیا جاتا تھا
07:45جو بنیاد میں چنائی کے بلاکس کے درمیان تھا
07:48اس نے لائٹ ہوس کی کل انچائی تین سو دھرار ششت
07:52یعنی ایک سو باسٹھ میٹر شمار کی
07:55الیکزنڈرین ٹکسال میں ڈالے گئے مجودہ
07:58رومن سکھوں سے پتا چلتا ہے
08:00کہ امارت کے چاروں کونوں میں سے
08:01ہر ایک بار ٹرائٹن کا مجسمہ نصب تھا
08:04اور پوسیڈن یا زیوس کا مجسمہ اوپر کھڑا تھا
08:07ایک اور عرب سے یا یوسف ابن محمد البلاوی
08:12الاندلسی جس نے
08:15بیان کرتا ہے کہ اندرونی ریم پر
08:18دو گھڑ سوار ایک ساتھ چل سکتے تھے
08:20کلاک وائز ریم کی دوسری تیسری اور چوتھی منزل پر
08:24بل ترتیب اٹھارہ چودہ اور سترہ گمرے تھے
08:34تیرہ ستین کے کریڈ کے زلزلے کی تباہی کے بعد
08:38لائٹ ہوس کے بعد کے بیانات میں
08:40ابن بطوتہ شامل ہیں
08:42جو ایک مراکشی سکالر اور ایکسپلورر تھے
08:45وہ تیرہ ست چھبیس اور تیرہ ستین چاس میں
08:48اسکندریہ سے گزرے تھے
08:49انہوں نے لکھا کہ لائٹ ہوس کی صرف
08:51مستطیل ٹاور اور رینٹ کے طرح میں
08:53تباہ شدہ حالت ہی نمائیاں تھی
08:55ابن بطوتہ نے سلطان ناصر محمد کے
08:58سمنہتم ہونے والی جگہ کے قریب
09:00ایک نیا لائٹ ہوس بنانے کے
09:02منصوبے کی تفصیل بھی بتائی
09:04لیکن یہ تیرہ سو اکتالیس میں
09:06سلطان کی موت کے بعد
09:08ادوری ہی رہ گئی
09:09لائٹ ہوس کو سانسو چھانویں اور
09:12نو سو اکامن اسوی میں آنے والے
09:14زلزلوں سے جزوی طور پر نقصان پہنچا
09:16اس کے بعد انیس سو چھپن اور
09:18تیرہ سو تین کے زلزلوں میں
09:20ساختی تباہی ہوئی
09:22دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ انیس سو چھپن
09:24کا زلزلہ تعمیر کے سب سے
09:26اوپر بیس میٹر کے
09:28ڈانچے کے خاتمے کا سبب بنا
09:30اور نو سو چھپن کے زلزلے کے بعد
09:32دستاویزی مرمت میں اس مجسمے
09:39سب سے اوپر تھا چودہ سو اسی میں
09:41اس ٹاور کی باقیات اس وقت غائب ہو گئی
09:44جب مصر کے سلطان
09:45قیتبے نے گرے ہوئے پتھر کا
09:47استعمال کرتے ہوئے لائٹ ہوس
09:49سائٹ کے بڑے پلیٹ فارم پر
09:51کرونہ وسطہ کا قلعہ تعمیر کیا
09:54دستویز صدی کے عرب
09:55مصنف المسعودی نے ٹاور کی تباہی
09:58کی ایک افسانمی کہانی بیان کیا
10:00جس کے مطابق خلیفہ
10:01عبد الملک بن مروان
10:03ساسو پانچ سے ساسو پندرہ
10:05اسوی کے زمانے میں
10:06بازنٹینیوں نے خاجہ سرا کو بیجا
10:08جس نے بظاہر اسلام قبول کیا
10:11اور خفیہ طور پر
10:12اس ٹاور کی بنیادوں میں سے
10:14خزانہ تلاش کرنے کے لئے کھدائی کی
10:16جس سے اس لائٹ ہوس کی بنیادیں
10:18کمزور ہو گئیں
10:19اور یوں فروس منحدم ہو گیا
10:21جبکہ وہ خاجہ سرا
10:22ایک جہاز میں فرار ہونے میں
10:24کامیاب ہو گیا
10:25انیس سو سولہ میں
10:26گیسٹون جانڈٹ نے
10:28سکندریا کی پرانی بندرگاہ کے
10:30زیرہ آپ خندرات کی پہلی تفصیلی وضاحت کی
10:33اس کے بازی سار
10:34ریمڈ ویل نے اور
10:35انیس سو چالیس میں
10:36سر لیوپولڈ ہالیڈے سیوائل نے
10:39اس کی پیروی کی
10:39انیس سو اٹھ سٹھ میں
10:40لائٹ ہوس دوبارہ دریافت ہوا
10:42یونیسکو نے
10:43سمندری اثار قدیمہ کے
10:45ماہرین کی ایک مہم کو سپانسر کیا
10:47جس کی قیادت
10:48آن اور فراسٹ کر رہے تھے
10:50اس نے لائٹ ہوس کے
10:51خندرات کی وجود کی تصدیق کی
10:52ماہرین اثار قدیمہ کی
10:54کمی کی وجہ سے یہ
10:55اور یہ علاقہ کے
10:56فوجی زون بننے کی وجہ سے
10:58تلاش ملتوی کر دی گئے
10:59انیس سو چرانمے کے آخر میں
11:01فرانسیسی
11:02ماہرین اثار قدیمہ کی
11:04ایک ٹیم نے
11:04سکندریہ کی
11:06مشرقی بندرگاہ کے فرش پر
11:08لائٹ ہوس کی جسمانی
11:10باقیات کو
11:10دوبارہ دریافت کیا
11:12اس نے سینماٹو گرافر
11:13اسمال بکری کے ساتھ کام کیا
11:16جس نے گرے ہوئے کالموں
11:17اور مجسموں کی
11:22کیلئے پینتیس میلی میٹر کا
11:24کیمرہ استعمال کیا
11:25ان اہم دریافتوں میں
11:27گرین آئٹ کے بڑے بلوکس بھی
11:29شامل تھے
11:29جن کی نکاشی
11:31فرامیسس ٹو کے دور کی تھی
11:43قدیم عدب میں فیروز کا ذکر
11:48جولیس سیزر
11:49اپنی خانہ جنگی
11:51حصہ تھری
11:52ایک سو بارہ سے ایک سو گیارہ میں
11:54فاروس اور اس کی تذویراتی
11:56اہمیت کو بیان کرتا ہے
11:58لائٹ ہوس کا کنٹرول حاصل کرنے سے
12:00اسے بطلی موس
12:01تھرٹین کی فوجوں کو
12:03ارتالیس قبلی مسیح میں
12:05زیر کرنے میں مدد ملے
12:09یہودی مورخ جوزی فس نے
12:11اپنی کتاب
12:12دی جیوش وار میں بیان کیا ہے
12:14کہ جب وہ مصر کا
12:15جیغرافی جائزہ پیش کرتے ہیں
12:17اسے سو خاندان کے دور میں
12:20جنوبی بندرگاہی شہر
12:22کوانزو کے چینی کسٹم انسپیکٹر
12:24زاؤ روگو
12:25گیرہ سو ستر سے بارہ سو اٹھائیس کے ذریعے
12:28زو فینزی
12:29یعنی گیر ملکی لوگوں کے
12:31ریکارڈ میں بیان کیا گیا ہے
12:32ابن بطوتہ نے
12:34تیرہ سو چھپن میں
12:35لائٹ ہوس کا دورہ کیا
12:36اس کا ایک چہرہ
12:37کھنڈرات میں پڑا ہوا پایا
12:39پھر بھی وہ داخل
12:40خوصہ کار لائٹ ہوس کے
12:42سرپرست کے بیٹھنے کی جگہ
12:44اور وہ اسے دوسرے چیمبروں کو نوٹ کیا
12:46جب وہ تیرہ سو انچاس میں
12:48واپس آیا
12:49تو اس نے پایا کہ یہ
12:50اس قدر تباہ کن حالت میں پڑا ہے
12:52کہ اس میں داخل ہونا
12:53یا دروازے تک چڑھنا
12:54نممکن ہے
12:57دیگر کلاسیکی قدیم زمانے میں
12:59یہودی صحیفوں کے
13:01یونانی تراجم میں بھی
13:02اس کا ذکر ملتا ہے
13:07نظام شمسی کے سیارے
13:09نیپچون کے چاند
13:10پروٹیس پارے گڑے کا نام
13:12اس جزیرے کے نام پر فاروس رکھا گیا ہے
13:15یہ پروٹیس پر
13:16سب سے بڑا معروف گڑا ہے
Comments

Recommended