00:02اندھیروں میں ڈوبا ایک وقت جہاں یونان کی عظیم ریاستے
00:06آپس کی خانہ جنگیوں میں برباد ہو رہی تھی
00:10ایتھنس اپنی شان کھو چکا تھا
00:13اسپاٹا کمزور پڑ چکا تھا
00:16اور تھپس تنہا کھڑا تھا
00:20کوئی نہیں جانتا تھا کہ شمال میں چھپی ایک غیر معروف
00:24اور کم ترسمجی جانے والی سرزمین
00:27مکدونیا تاریخ کا دھارہ بدلنے کے لئے اٹھ کھڑی ہوگی
00:31ایک بادشاہ فلپ دوم جس نے بکھری ہوئی ریاست کو متحد کیا
00:37ایک ناقابل عشقیس فو اتیار کی
00:40اور یونان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا
00:43اور پھر اس کے بعد آتا ہے ایک نوجوان سکندر
00:48جو دنیا کو فتح کرنے کا خواب حقیقت میں بدل دیتا ہے
00:54یہ ہے کہانی سلطنت کے عروج کی جہاں ایک غیر اہم قوم
00:59چند حائیوں میں دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئی
01:03یہ ہے مکدونیا کا عروج
01:31مکدونیا یا میسیڈونیا کا عروج
01:34یونان کی چوتھی صدی قبل مسیح کی سب سے بڑی سیاسی اور فوجی تبدیلی تھی
01:39یہ وہ دور تھا جب ایک نسبتا غیر نمائی خطے نے
01:44طاقتور یونانی ریاستوں کو زیر کر کے
01:47نہ صرف یونان پر تسلط قائم کیا
01:50بلکہ آگے چل کر ساری دنیا کو حلا دینے والی مہمات کی بنیاد ڈالی
01:58اس تبدیلی کا آغاز مکدونیا کے بادشاہ فلپ دوم کے دور حکومت سے ہوا
02:04اور اس کا نکتہ روج اس کے بیٹے سکندر اعظم کے اہد میں دیکھا گیا
02:14دو یونانی ریاستوں
02:15خریس اور تھیلی کے درمیان ایک چھوٹی ریاست مکدونیا واقعہ تھی
02:20یہاں کی عوام ایک جفاکش پہاڑی قوم تھی
02:23فلپ دوم کے قدار میں آنے سے پہلے
02:26مکدونیا ایک نیم وحشی اور یونانیوں کی نظر میں کم تر قوم سمجھی جاتی تھی
02:32یونانی ریاستیں جیسے ایتھن سپارٹا اور ٹپس اسے اکثر حکارت سے دیکھتے تھے
02:37مکدونیا اگرچہ رکبے کے لحاظ سے بڑا تھا
02:40لیکن یہاں کی ریاست منقسم تھی
02:42بلکہ مختلف سرداریوں میں بٹی ہوئی تھی
02:45اور یہ شرافیہ پس میں خانہ جنگی میں مصروف رہتی تھی
02:49بعض مورخین کے مطابق اہل مکدونیا ایسی یونانی تھے
02:54جو اپنی تحزید بہت تمدن میں
02:56ہی عمر کے عہد کی کیفیات سے آگے نہیں بڑھے تھے
02:59ارہ عمر کے عہد کی طرح یہاں ذاتی اقتدار کا بول والا تھا
03:06مکدونیا کا پہلا مشہور اکمران اور گیاس پردیکاس تھا
03:09جس کا زمانہ سات سو قبل مسیح کے بعد کا ہے
03:13پردیکاس کے بعد اس کے پانچویں حکمران
03:16امنتاس اول نے جس کے عہد میں
03:19ایرانیوں نے مکدونیا کو زیر کرنے کی کوشش کی
03:21لیکن اس کے بیٹے سکندر نے انہیں شکست دی تھی
03:25اسی خاندان میں تین سو بانوے قبل مسیح کی
03:28توائف الملوکی کے بعد
03:29سکندر اعظم کا دادا امنٹس سوم
03:32تخت مکدونیا پر بیٹھا
03:34اس کے عہد میں ملک کو شدید ترین مشکلات کا سامنا تھا
03:38ہمسائے ریاست علیریہ کے حملوں کی وجہ سے
03:42ایک وقت ایسا بھی آیا
03:43جب امنتاس کو تاج و تخت چھوڑ کر فرار ہونا پڑا
03:47اس کے بعد ایک شخص آرگیوس کچھ دینوں کے لیے حکمران بنا
03:51لیکن صرف دو سال بعد
03:53امنتاس جلاوطنی سے واپس آ گیا
03:55اور اپنی مراز پر دوبارہ قابض ہو گیا
03:58تین سو ستر قبل مسیح کے کچھ ہی عرصہ بعد
04:01امنتاس اپنے تین بیٹے چھوڑ کر
04:03جن کے نام سکندر پروکاس اور فلپ تھے
04:07راہی ملک ادم ہوا
04:10ان تینوں میں سے سکندر تخت نشین ہوا
04:12لیکن اس کی ماں کے ایک برادر نسبتی
04:15بیتلی موس یا پیٹولمی نے اسے قتل کر دیا
04:19بیتلی موس سکندر کے چھوٹے بھائی
04:21شاہ پروکاس کا متولی بن گیا
04:23اور اس نے شاہ پروکاس کی ماں سے شادی کر لی
04:29بعض معاملات پر اہلیان تھیسلی
04:31حکومران مکدونیا سے ناراض ہو گئے
04:34انہیں نے مکدونیا کے پچاس باعثر افراد کو
04:38یرگمال بنا لیا
04:39جن میں شہزادہ فلپ بھی شامل تھا
04:43تین سو پینسٹھ قبل مسیح میں
04:44شاہ پروکاس نے بطلی موس کو قتل کر کے
04:47زمام حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی
04:50اس کے بعد اس نے اہل اتھن سے مل کر
04:52انتوس نامی شہر پر یورش کی
04:54لیکن این اس موقع پر
04:56تین سو پینسٹھ قبل مسیح میں
04:58ایلیریا نے مکدونیا پر حملہ کر دیا
05:01اور باشا مآہ چار ہزار مکدونیاں کے
05:04اس جنگ میں کام آیا
05:13پروکاس کی موت کے بعد فلپ دوم تخت نشین ہوا
05:16اس وقت مکدونیا چاروں طرف سے خطروں میں گرا ہوا تھا
05:20خارجی طور پر اسے تھریز
05:22ایلیریا اور دیگر یونانی ریاستوں سے خطرہ تھا
05:25اس کے علاوہ داخلی طور پر شاہ فلپ کو
05:29ارکیو سنامی ایک شخص سے جو اس کا مد مقابل تھا
05:32سخت خطرہ تھا
05:34اس شخص کی تائید اور پشتے پنائی اہل ایتھنز کر رہے تھے
05:37اس طرح کام عمری میں مسائبوں مشکلات نے
05:40فلپ کی درخشان فطری قابلیت میں چار چاند لگا دیئے
05:45تخت نشین ہونے کے بعد فلپ نے پہلا کام یہ کیا
05:48کہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے
05:50فوج کو اثر نومنظم اور کار آمد بنایا
05:54اور ایک نئی جنگی ہکتے عملی کے تحت
05:56مقدونمی دست فلانکس ترتیب دیئے
06:00یہ دراصل نیزہ پردار سپائیوں کے دستوں کی تنظیم تھی
06:04فلپ دوم نے اپنی فوج کو بالکل نئے ہتھیاروں سے لیس بھی کیا
06:08ان ہتھیاروں میں ایک چار میٹر طویل نیزہ بھی شامل تھا
06:12جو فلپ کی اپنی اجاعت تھی
06:14سپاہی سخت تربیت کے ساتھ کتار در کتار کھڑے ہوتے
06:20اور ان کے نیزے دشمن کے لیے فلادی دیوار بن جاتے
06:24اس کے ساتھ ساتھ فلپ نے گھڑ سوار فوج کو بھی مضبوط کیا
06:28جو جنگ کے دران دشمن کے پہلو یا پیچھے سے حملہ کرتی تھی
06:33پیدل فوج اور گھڑ سواروں کے اس امتزاج نے
06:36مقدونیا کو نقابل شکست بنا دیا
06:38اور یہی نظامباد میں اسکندر اعظم کی فتوحات کی بنیاد بھی بنا
06:45اس ترتیب کے بعد مقدونوی فوج چار وانگ عالم مشہور ہو گئی
06:50فلپ نے مقدونیا کو مضبوط بنانے کے بعد
06:53اپنی توجہ یونانی ریاستوں کی طرف مبزول کی
06:56اس نے سب سے پہلے شمالی قبائل کو زیر کیا
06:59اور مقدونیا کو بریونی حملوں سے محفوظ بنایا
07:03پھر اس نے ایتھنز، سپارٹا اور ٹھپس جیسی بڑی ریاستوں کے خلاف
07:08کاروائیوں کا آغاز کیا
07:10ایتھنز اس وقت ایک کمزور بحری طاقت بن چکا تھا
07:14اور سپارٹا بھی پیلوپنیز کی جنگوں کے بعد کمزور ہو چکا تھا
07:18ٹھپس اگرچہ طاقتور تھا
07:20لیکن فلپ کی سیاسی چالاکی اور فوجی مہارت نے اسے بھی شکست دی
07:25اسل سفارتکاری کے ذریعے بعض ریاستوں کو اپنے ساتھ ملایا
07:29اور بعض کو شکست دے کر اپنے ماتحد کر لیا
07:35فلپ نے پہلے 3500 قبل مسیح میں ایمفی پولیس کو تسخیر کیا
07:40اب ایتھنز کے عرباب اقتدار نے اسے مطالبہ کیا
07:43کہ وہ ایمفی پولیس ان کے حوالے کر دے
07:45مگر اس نے ایسا نہ کیا
07:46جس پر اہل ایتھنز چراغ پا ہو گئے
07:49اور انہوں نے مقدونیا سے لڑائی کی دھان لی
07:52لیکن اسی اثنہ میں ایتھنز کے ان لیگی حلیفوں نے
07:56جو میں سپارٹا سے بچاؤ کے لیے اس کے گرد جمع ہوئے تھے
08:00اس کے خلاف بغاوت کر دی
08:02ایتھنز نے ان کے خلاف کاروائی کی
08:04مگر اس جنگ میں ایتھنز کو بشکست ہوئی
08:07اور اس کے کئی سرکردہ سپاہ سلار بھی مارے گئے
08:16اس دوران فلپ کو اپنے معاملات کی نگرانی کا بہترین موقع مل گیا
08:20اس نے ایمفی پولیس اور پینہ کے درمیان واقعی
08:24یونانی شہروں پر توجہ مرکوز کر دی
08:26ان شہروں میں اولیوس کو مرکزی حیثیت حاصل تھی
08:30فلپ نے اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا
08:32مگر امتھوس نے اسے فلپ کی جنگی چال سمجھتے ہوئے
08:37اسے مسترد کر دیا
08:38اور ایتھنز سے اس کے خلاف مدد مانگی
08:41لیکن اہل ایتھنز نے امداز سے انکار کر دیا
08:43جس پر اپن تھوس نے مقدونیا سے ناچار سلح کر لی
08:48جس پر فلپ نے انہیں شہر اتھیموس محافظے کے طور پر پیش کیا
08:52اور ایک شہر پوتیدیا بھی ان کے حوالے کر دیا
08:55اس دوران اس نے مقدونیا کے مشرق میں دریائے اسٹریمون کے پار
08:59زردار پہاڑوں میں ایک شہر اپنے نام پر فلمی فلپ کے نام سے آباد کیا
09:05اس شہر کے نواہ میں سونے کی کانیں دریافت ہوئیں
09:08مقدونیا کے روج میں اس کے قدرتی وسائل
09:11اور معاشی طاقت بھی نمائے کردار ادا کرتے ہیں
09:15اس شہر میں سونے اور چاندی کی کانیں موجود تھیں
09:17جنہیں فلپ نے بقاعدہ طور پر کھول کر
09:20ریاست کے لیے آمدنی کا ذریعہ بنایا
09:25اس دولت سے اس نے بڑی تدار میں فوجی بھرتی کیے
09:28جدید ہتھیار تیار کرائے اور مستقل فوج کو تنخائیں دی
09:33یونانی ریاستیں اکثر مالی مسائل کا شکار رہتی تھی
09:37لیکن مقدونیا کے پاس اس کے بریکس جنگی اخراجات کے لیے
09:41وافر وسائل موجود تھے
09:44ایک مضبوط معاشیت نے فلپ کو وہ طاقت بخشی
09:47جس کے بغیر اتنی بڑی فوجی اور سیاسی اصلاحات ممکنہ تھی
09:52ان کانوں سے مقدونیا کی آمدنی میں
09:54ایک ہزار طاقت سالانہ کا اضافہ ہوا
09:57جیسے یونانی شہری ریاستوں کے سیاستدانوں کو
10:01رشوت دینے میں آسانی پیدا ہو گئی
10:03دوسری طرح فلپ نے ایک مضبوط بحری بیڑا بھی تیار کیا
10:08جیسے ایتھنز کی بحری تجارت میں
10:10جارہ داری کو نقصان پہنچا
10:12اور مقدونیا کے اثر میں
10:14اوروج کی کیفیت پیدا ہوئی
10:16جو فلپ کی قابلیت کی وجہ سے تھی
10:18فلپ نوم کی ساب سے بڑی کامیابی
10:21تین سو اٹیس قبل مسیح کی چہرونیا کی جنگ تھی
10:24جس میں اس نے یونانی ریاستوں کے
10:26مشترکہ اتحاد کو شاکست دی
10:29اس جنگ میں اس کا نوجوان بیٹا اسکندر بھی شریعت تھا
10:32جس نے اپنی پہلی بڑی فوجی کامیابی حاصل کی
10:36اس جنگ کے بعد یونان کی آزادی ختم ہو گئی
10:39اور یونانی ریاست مقدونیا کی بالادستی تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے
10:46فلپ نے ایک قرنطی اتحاد قائم کیا
10:48جس میں یونان کی تمام بڑی ریاستیں شامل کی گئیں
10:51بظاہر یہ ایک مساوی اتحاد تھا
10:54لیکن در حقیقت اس کا سربرا مقدونیا تھا
10:57اور تمام یونانی ریاستیں اس کے فیصلوں کی بابان تھیں
11:00فلپ نے اس اتحاد کو بنیاد بنا کر
11:03ایران کے خلاف مہم کی تیاری شروع کی
11:05لیکن اس کی زندگی نے اسے محلت نہ دی
11:08تین سو چھتیس قبل مسیح میں
11:10وہ ایک سازش کے نتیجے میں قتل کر دیا گیا
11:14فلپ کی موت کے بعد اس کا بیٹا سکندر اعظم مقدونیا کا باشا بنا
11:18یونانی ریاستوں نے ابتدا میں اس کے خلاف بگاوت کی
11:21لیکن سکندر نے سختی سے انہیں دبا دیا
11:24پھر اس نے وہ خواب پورا کیا جو اس کے والد نے دیکھا تھا
11:28یعنی ایران کی سلطنت کو فتح کرنے کا خواب
11:32الیکزنڈر نے مقدونیا کی منظم فوج اور یونانی ریاستوں کے وسائل کو استعمال کرتے ہوئے
11:38ایسی فتوحات حاصل کی جن کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے
11:42چاندی برسوں میں اس نے ایران کی عظیم سلطنت کو شکست دی
11:46مصر کو فتح کیا اور اپنے قدم ہندوستان کی سرحدوں تک پہنچا دیئے
11:52یوں کہا جا سکتا ہے کہ مقدونیا کا رون یونانی دنیا کے لیے ایک نئے دور کی شروعات تھی
11:58اس نے یونانی ریاستوں کی قدیم آزادی اور ان کے درمیان طاقت کا توازن ختم کر کے
12:04ایک متحدہ سیاسی نظام قائم کیا
12:07مقدونیا نے نہ صرف یونان کو ایک مرکزیت دی
12:10بلکہ یونانی تحذیب کو مشرقی دنیا تک پھیلایا
12:13اسکندر کی فتوحات کے نتیجے میں ہیلینسٹک دور کا آغاز ہوا
12:18جس میں یونانی تحذیب مصر شام ایران اور وسطی ایشیا تک جا پہنچی
12:24یوں دیکھا جائے تو مقدونیا کا روج کئی عوامل کا نتیجہ تھا
12:28جن میں فلپ دوم کی شاندار قیادت، فوجی اصلاحات، یونانی ریاستوں کی کمزوری، موثر سفارتکاری، قدرتی وسائل کی فراوانی، محفوظ
12:41سرحدیں اور اسکندر آزم کی فتوحات
12:44یہ سب موامل ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مقدونیا کو ایک چھوٹی سی غیر اہم ریاست سے دنیا کی
12:51سب سے بڑی طاقت میں تبدیل کرنے کا سبب بنے
12:54اگر فلپ دوم مقدونیا کو ایک طاقتور ریاست نہ بداتا تو اسکندر آزم کے کارنامے بھی ممکن نہ ہوتے
13:01اس طرح مقدونیا کا روج ایک فیصلہ کن موڑ تھا جسے نے نہ صرف یونان کی تاریخ کو بدل دیا
13:08بلکہ دنیا کی تاریخ پر بھی نہ قابل فراموش اثرات چھوڑے
13:29موسیقی
Comments