Skip to playerSkip to main content
The Colossus of Rhodes was one of the Seven Wonders of the Ancient World, a colossal bronze statue built in ancient Greece to honor the sun god Helios. Standing over 100 feet tall, it symbolized power, victory, and human ambition—yet it mysteriously vanished after standing for only a few decades.

In this cinematic historical documentary, we explore the true history of the Colossus of Rhodes, how it was constructed, the myths surrounding its legendary stance over the harbor, and the devastating earthquake that destroyed it. Was it really standing with ships passing between its legs? Or is that just a myth?

This video dives deep into:

The engineering marvel behind the Colossus

The political and military context of ancient Rhodes

Why the statue collapsed

What happened to its remains

Why it still fascinates historians today

🎥 If you love ancient history, lost civilizations, and forgotten wonders, this video is for you.

📌 Watch till the end to discover why the Colossus of Rhodes remains one of history’s greatest mysteries.

#colossusofrhodes #sevenwonders #ancientworld #lostwonders #ancientgreece #historydocumentary #forgottenhistory #ancientmysteries #worldwonders #mythandhistory #epichistory

Category

📚
Learning
Transcript
00:01کیا آپ جانتے ہیں کہ کبھی سمندر کے کنارے ایک ایسا دیو کامت انسان کھڑا تھا جو سورج کی طرف
00:09دیکھتا تھا
00:10ایک ایسا مجسمہ جس کا سایہ جہازوں پر پڑتا تھا جس کی انچائی نے آسمان کو للکارا اور جس کی
00:17تباہی نے دنیا کو چونکا دیا
00:20یہ کوئی افسانہ نہیں یہ تاریخ کا دروازہ ہے جسے وقت نے دفن کر دیا
00:25قدیم دنیا کا ساتھویں جوبہ کولوسوس آف روڈس آخر کیوں بنایا گیا یہ کیسے گرا اور اس کا نام آج
00:34بھی زندہ کیوں ہے
00:35آج ہم اس راہ سے پردہ اٹھانے جا رہے ہیں
00:40یہ ہے کولوسوس آف روڈس دی لاؤسٹ ونڈر آف تی انسینٹ ورڈ
01:06دنیا قدیم کے ہفت اجائبات میں سے ایک جزیرہ روڈس کا دیوپیکر مجسمہ کولوسوس تھا
01:12اس کی تعمیر میں بارہ سال کا عرصہ لگا مگر یہ شاندار مجسمہ صرف چھپن سال عمر پاسکا
01:20ترکی کے ساحل سے بارہ میل دور بہرہ روم میں جزیرہ روڈس واقع ہے
01:25قدیم دور میں یہ شائع کوچھکی یونانی نو آبادیوں میں سے ایک تھا
01:30اپنے قدیم دور کی طرح یہ آج بھی ایک یونانی آبادی ہے
01:35اگرچہ اس جزیرے پر دنیا کی بہت سی اقوام قابض رہیں
01:38جن میں ایرانی، رومن، عربی، ایل ایوینس، ایل ایجینوہ اور ترک شامل ہیں
01:43اس جزیرے پر تمیر شدہ امارات میں ان کے ماضی کی تاریخ جلکتی نظر آتی ہے
01:49ماضی کے اس ورثے میں شامل اس کی بندرگاہ میں داخلے کے مقام پر دو سادہ ستون کھڑے ہیں
01:54یہ ستون اس جگہ کے طور پر جانے جاتے ہیں
01:58جہاں تیسری صدی قبل از مسیح میں قدیم دنیا کا یہ اجوبہ کھڑا تھا
02:03تین سو بارہ قبل از مسیح میں ایل ایروڈس نے شاہ مصر بٹلی موسول کی اتحادی کی طور پر
02:09مقدونیا کے بادشاہ انٹی گونس اول کے خلاف جنگ میں حصہ لیا
02:14اس جنگ میں شاہ مصر کو کامیابی حاصل ہوئی
02:17اور اہل مقدونیا یہ جنگ ہار گئے
02:20نتیجہ دن اہل مقدونیا اہل روڈس کے خلاف ہو گئے
02:23اور انہوں نے اپنی شکست کا بتلہ لینے کے لیے روڈس کا محاصرہ کر لیا
02:27اہل جزیرہ نے کامیابی سے ایک سال تک اپنے شہر کا دفاع کیا
02:32جب شاہ مصر کو اہل مقدونیا کے اس اقدام کی خبر ملی
02:36تو اہل روڈس کی مدد کو آ پہنچا
02:38تین سو چار قبل مسیح میں
02:40بتلی موس کی طرف سے بھیجی گئے
02:42بحری جہازوں کی ایک امدادی فورس پہنچی
02:44اور مقدونیا کے ڈیمیٹری سول
02:47یعنی انٹی گونس کا جو بیٹا تھا
02:49اور اس کی فوئے نے محاصرہ ترک کر دیا
02:51اور اپنے محاصرے کا زیادہ تر سامان اپنے پیچھے چھوڑ دیا
02:54اپنی فتح کا جشن منانے کے لیے
02:57روڈیائی باشندوں نے پیچھے چھوڑا ہوا سامان
03:00تین سو ٹیلنٹ میں بیج دیا
03:02اور اس رقم کو اپنے سرپرس دے ہوتا
03:04ہیل یوز کا ایک عظیم مجسمہ بنانے کے لیے
03:08استعمال کرنے کا فیصلہ کیا
03:16شہر کا دفاع کرنے والے بہادر لوگوں میں
03:18ایک سنگ تراش بھی شامل تھا
03:20جس کا نام کیریس تھا
03:21ہیل روڈس نے محاصرے سے نجات اور تشکر منانے کے لیے
03:25کیریس کو اس محاصرے سے نجات کی یادگار کے طور پر
03:29ایک عظیم شان مجسمہ تخلیق کرنے کو کہا
03:32یہ مجسمہ جزیرہ روڈس کی محافظ دیوتا
03:35سورج دیوتا کا تھا
03:37محاصرے سے نجات کے تشکر کے طور پر
03:40یہ مجسمہ کانسی کے ان احتیاروں کو
03:42ڈھال کر تعمیر کیا گیا
03:44جو اہل مقدونیا محاصرہ اٹھاتے ہوئے چھوڑ گئے تھے
03:48کہتے ہیں کہ اس مجسمہ کی تخلیق میں بارہ سال لگے
03:51جب یہ مکمل ہوا تو اس کے خالق نے محض اس بنا پر خودکشی کر لی
03:56کہ اس کی تخلیق میں اس سے کوئی سکم رہ گیا تھا
03:59اگر یہ صحیح ہے تو دنیا کی تاریخ میں
04:02یہ سب سے بڑا پہلا خود تنقیدی اقدام تھا
04:08تعمیر کا آغاز دو سو بانوے قبل مسیح میں ہوا
04:11اسے لوہی کی خسلاخوں کے ساتھ بنایا گیا تھا
04:14جس پر جلد بنانے کے لیے کانسی کی تختیاں لگائی گئی تھی
04:18اس ڈانچے کا درونی حصہ جو روڈس بندرگاہ کے داخلی دروازے کے قریب
04:23پندرہ میٹر اونچے سفید سنگ مرمر کے پیڈیسٹل پر کھڑا تھا
04:26اس کے بعد تعمیراتی کام کے دران پتھر کے بلاگ سے بھر دیا گیا
04:31دوسرے ذرائع کلوسوس کی بنیاد بندرگاہ میں ایک بریک وارٹر پر رکھتے ہیں
04:36زیادہ تر معاصر وضاحتوں کے مطابق
04:39مجسمہ خود تقریباً ایک سو پانچ فیٹ اونچا تھا
04:43بیس پیڈیسٹل کا کتر کم از کم اٹھارہ میٹر بتایا جاتا ہے
04:47پاؤں پتھر میں تراشے گئے تھے
04:49اور پیتل کی پتری پلیٹوں سے ڈھکے ہوئے تھے
04:52آٹھ لوہے کی سلاخوں نے ٹکنوں اور ٹانگوں کو تشکیل دیا
04:56نیچلی پلیٹیں گھٹنے تک موٹائی میں پچیس میلی میٹر
05:00اور گھٹنے سے پیڑ تک بیس میلی میٹر موٹی تھی
05:03جبکہ اوپری پلیٹیں چھ شریعہ پانچ سے بارہ شریعہ پانچ میلی میٹر موٹائی میں تھی
05:09بارہ سال کے بعد دو سو اسی قبل امسی میں یہ مجسمہ مکمل ہوا
05:16یہ مجسمہ چون سال تک کھڑا رہا
05:19یہاں تک کہ دو سو چھبیس قبل امسی کے زلزلے نے
05:22روڈس کے بڑے حصوں کو خاصا نقصان پہنچایا
05:25بشمول بندرگاہ اور تجارتی عمارتیں جو تباہ ہو گئیں
05:29یہ مجسمہ بھی گھٹنوں کے بل آگیرا
05:35بطلی موسوم نے مجسمے کی تعمیر نو کے لیے رقم ادا کرنے کی پیش کش کی
05:40لیکن ڈیلفی کے اوریکل نے روڈیائی باشندوں کو خوف زدہ کر دیا
05:44کہ انہوں نے ہیلیوس کو ناراض کیا ہے
05:47اور انہوں نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے سے انکار کر دیا
05:55یہ باقیات آٹھ سو سال سے زائد عرصے سے زمین پر پڑی رہی
05:59اور ٹوٹی پھوٹی بھی وہ اتنی متاثر کن تھی
06:02کہ بہت سے لوگ انہیں دیکھنے کے لیے سفر کرتے تھے
06:10چوتھی صدی تک کروڈس عیسائی مذہب اختیار کر چکا تھا
06:14اس لئے اب وہاں کسی قدیم کافر مجسمے کی دیکھ بال
06:17یا تمیر نو کا امکان نہیں تھا
06:19یہ دات غالباً سسانی جنگوں جیسے تنازیات کے دوران
06:24سکھوں اور اوزاروں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوگی
06:29چیسو تری پن اسوی میں مسلمان جنرل معاویہ اول کی قیادت میں
06:34ایک عرب فوج نے روڈس پر چھاپا مارا
06:36اور تھیوفینس دی کنفیسز کے کرونیکل کے مطابق
06:40مجسمے کی باقیات غنیمت کا حصہ بنی
06:43جسے پگلا کر ایڈیسا کے ایک یہودی تاجر کو بیچ دیا گیا
06:47یہی کہانی ہرہ برییس نے درچ کی ہے
06:50جو تیرمی صدی کے ایڈیسا میں سریائی زبان کے مصنف تھے
06:58مہر ایساری قدیمہ ارسولہ ویڈن نے دعویٰ کیا
07:02کہ کولوسوس بندرگاہ کے علاقے میں بالکل بھی واقع نہیں تھا
07:06بلکہ روڈس کے ایکروپولس کا حصہ تھا
07:08جو ایک پہاڑی پر کھڑا تھا
07:10جہاں سے بندرگاہ کا علاقہ نظر آتا تھا
07:17جدید کولوسوس پروڈیکٹس
07:19دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ بندرگاہ کے داخلی دروازے پر
07:23جرمن آرٹسٹ گیرٹ ہوف کی طرف سے
07:25کولون میں مقیم ایک ٹیم کی قیاد کرتے ہوئے
07:28ایک جدید کولوسوس تمیر کیا جانا تھا
07:31یہ ایک دیو حیکل روشنی کا مجسمہ ہونا تھا
07:34جسے جزوی طور پر دنیا بار کے پگلے ہوئے تھیاروں سے بنایا گیا تھا
07:38اس پر دو سو میلین یورو تک لاغت آئے گی
07:40تاہم اس طرح کے کوئی منصوبے پر عمل نہیں کیا گیا
07:45دسمبر دو ہزار پندرہ میں
07:47یورپی ماماروں کے گروپ نے
07:49بندرگاہ کے داخلی دروازے پر
07:51ایک جدید کولوسوس کی تعمیر کے منصوبوں کا اعلان کیا
07:55نیا مجسمہ چار سو نوے فٹ بلان
07:58جس پر ایک اندازے کے مطابق
08:00دو سو تراسی میلین یو ایس ڈالرز لاغت آئے گی
08:03جس انڈیجی اتیاد اور کراؤڈ سورسنگ سے فنڈ کی آگے جانا ہے
08:07سولر پینل سے چلنے والے اس منصوبے میں
08:10ایک ثقافتی مرکز
08:11ایک لائبریری اور ایک نماشی حال
08:14اور ایک لائٹ ہاؤس شامل ہوگا
08:15تاہم اس منصوبے پر بھی عمل نہیں کیا گیا
08:38موسیقی
Comments

Recommended