00:01کیا آپ جانتے ہیں کہ کبھی سمندر کے کنارے ایک ایسا دیو کامت انسان کھڑا تھا جو سورج کی طرف
00:09دیکھتا تھا
00:10ایک ایسا مجسمہ جس کا سایہ جہازوں پر پڑتا تھا جس کی انچائی نے آسمان کو للکارا اور جس کی
00:17تباہی نے دنیا کو چونکا دیا
00:20یہ کوئی افسانہ نہیں یہ تاریخ کا دروازہ ہے جسے وقت نے دفن کر دیا
00:25قدیم دنیا کا ساتھویں جوبہ کولوسوس آف روڈس آخر کیوں بنایا گیا یہ کیسے گرا اور اس کا نام آج
00:34بھی زندہ کیوں ہے
00:35آج ہم اس راہ سے پردہ اٹھانے جا رہے ہیں
00:40یہ ہے کولوسوس آف روڈس دی لاؤسٹ ونڈر آف تی انسینٹ ورڈ
01:06دنیا قدیم کے ہفت اجائبات میں سے ایک جزیرہ روڈس کا دیوپیکر مجسمہ کولوسوس تھا
01:12اس کی تعمیر میں بارہ سال کا عرصہ لگا مگر یہ شاندار مجسمہ صرف چھپن سال عمر پاسکا
01:20ترکی کے ساحل سے بارہ میل دور بہرہ روم میں جزیرہ روڈس واقع ہے
01:25قدیم دور میں یہ شائع کوچھکی یونانی نو آبادیوں میں سے ایک تھا
01:30اپنے قدیم دور کی طرح یہ آج بھی ایک یونانی آبادی ہے
01:35اگرچہ اس جزیرے پر دنیا کی بہت سی اقوام قابض رہیں
01:38جن میں ایرانی، رومن، عربی، ایل ایوینس، ایل ایجینوہ اور ترک شامل ہیں
01:43اس جزیرے پر تمیر شدہ امارات میں ان کے ماضی کی تاریخ جلکتی نظر آتی ہے
01:49ماضی کے اس ورثے میں شامل اس کی بندرگاہ میں داخلے کے مقام پر دو سادہ ستون کھڑے ہیں
01:54یہ ستون اس جگہ کے طور پر جانے جاتے ہیں
01:58جہاں تیسری صدی قبل از مسیح میں قدیم دنیا کا یہ اجوبہ کھڑا تھا
02:03تین سو بارہ قبل از مسیح میں ایل ایروڈس نے شاہ مصر بٹلی موسول کی اتحادی کی طور پر
02:09مقدونیا کے بادشاہ انٹی گونس اول کے خلاف جنگ میں حصہ لیا
02:14اس جنگ میں شاہ مصر کو کامیابی حاصل ہوئی
02:17اور اہل مقدونیا یہ جنگ ہار گئے
02:20نتیجہ دن اہل مقدونیا اہل روڈس کے خلاف ہو گئے
02:23اور انہوں نے اپنی شکست کا بتلہ لینے کے لیے روڈس کا محاصرہ کر لیا
02:27اہل جزیرہ نے کامیابی سے ایک سال تک اپنے شہر کا دفاع کیا
02:32جب شاہ مصر کو اہل مقدونیا کے اس اقدام کی خبر ملی
02:36تو اہل روڈس کی مدد کو آ پہنچا
02:38تین سو چار قبل مسیح میں
02:40بتلی موس کی طرف سے بھیجی گئے
02:42بحری جہازوں کی ایک امدادی فورس پہنچی
02:44اور مقدونیا کے ڈیمیٹری سول
02:47یعنی انٹی گونس کا جو بیٹا تھا
02:49اور اس کی فوئے نے محاصرہ ترک کر دیا
02:51اور اپنے محاصرے کا زیادہ تر سامان اپنے پیچھے چھوڑ دیا
02:54اپنی فتح کا جشن منانے کے لیے
02:57روڈیائی باشندوں نے پیچھے چھوڑا ہوا سامان
03:00تین سو ٹیلنٹ میں بیج دیا
03:02اور اس رقم کو اپنے سرپرس دے ہوتا
03:04ہیل یوز کا ایک عظیم مجسمہ بنانے کے لیے
03:08استعمال کرنے کا فیصلہ کیا
03:16شہر کا دفاع کرنے والے بہادر لوگوں میں
03:18ایک سنگ تراش بھی شامل تھا
03:20جس کا نام کیریس تھا
03:21ہیل روڈس نے محاصرے سے نجات اور تشکر منانے کے لیے
03:25کیریس کو اس محاصرے سے نجات کی یادگار کے طور پر
03:29ایک عظیم شان مجسمہ تخلیق کرنے کو کہا
03:32یہ مجسمہ جزیرہ روڈس کی محافظ دیوتا
03:35سورج دیوتا کا تھا
03:37محاصرے سے نجات کے تشکر کے طور پر
03:40یہ مجسمہ کانسی کے ان احتیاروں کو
03:42ڈھال کر تعمیر کیا گیا
03:44جو اہل مقدونیا محاصرہ اٹھاتے ہوئے چھوڑ گئے تھے
03:48کہتے ہیں کہ اس مجسمہ کی تخلیق میں بارہ سال لگے
03:51جب یہ مکمل ہوا تو اس کے خالق نے محض اس بنا پر خودکشی کر لی
03:56کہ اس کی تخلیق میں اس سے کوئی سکم رہ گیا تھا
03:59اگر یہ صحیح ہے تو دنیا کی تاریخ میں
04:02یہ سب سے بڑا پہلا خود تنقیدی اقدام تھا
04:08تعمیر کا آغاز دو سو بانوے قبل مسیح میں ہوا
04:11اسے لوہی کی خسلاخوں کے ساتھ بنایا گیا تھا
04:14جس پر جلد بنانے کے لیے کانسی کی تختیاں لگائی گئی تھی
04:18اس ڈانچے کا درونی حصہ جو روڈس بندرگاہ کے داخلی دروازے کے قریب
04:23پندرہ میٹر اونچے سفید سنگ مرمر کے پیڈیسٹل پر کھڑا تھا
04:26اس کے بعد تعمیراتی کام کے دران پتھر کے بلاگ سے بھر دیا گیا
04:31دوسرے ذرائع کلوسوس کی بنیاد بندرگاہ میں ایک بریک وارٹر پر رکھتے ہیں
04:36زیادہ تر معاصر وضاحتوں کے مطابق
04:39مجسمہ خود تقریباً ایک سو پانچ فیٹ اونچا تھا
04:43بیس پیڈیسٹل کا کتر کم از کم اٹھارہ میٹر بتایا جاتا ہے
04:47پاؤں پتھر میں تراشے گئے تھے
04:49اور پیتل کی پتری پلیٹوں سے ڈھکے ہوئے تھے
04:52آٹھ لوہے کی سلاخوں نے ٹکنوں اور ٹانگوں کو تشکیل دیا
04:56نیچلی پلیٹیں گھٹنے تک موٹائی میں پچیس میلی میٹر
05:00اور گھٹنے سے پیڑ تک بیس میلی میٹر موٹی تھی
05:03جبکہ اوپری پلیٹیں چھ شریعہ پانچ سے بارہ شریعہ پانچ میلی میٹر موٹائی میں تھی
05:09بارہ سال کے بعد دو سو اسی قبل امسی میں یہ مجسمہ مکمل ہوا
05:16یہ مجسمہ چون سال تک کھڑا رہا
05:19یہاں تک کہ دو سو چھبیس قبل امسی کے زلزلے نے
05:22روڈس کے بڑے حصوں کو خاصا نقصان پہنچایا
05:25بشمول بندرگاہ اور تجارتی عمارتیں جو تباہ ہو گئیں
05:29یہ مجسمہ بھی گھٹنوں کے بل آگیرا
05:35بطلی موسوم نے مجسمے کی تعمیر نو کے لیے رقم ادا کرنے کی پیش کش کی
05:40لیکن ڈیلفی کے اوریکل نے روڈیائی باشندوں کو خوف زدہ کر دیا
05:44کہ انہوں نے ہیلیوس کو ناراض کیا ہے
05:47اور انہوں نے اسے دوبارہ تعمیر کرنے سے انکار کر دیا
05:55یہ باقیات آٹھ سو سال سے زائد عرصے سے زمین پر پڑی رہی
05:59اور ٹوٹی پھوٹی بھی وہ اتنی متاثر کن تھی
06:02کہ بہت سے لوگ انہیں دیکھنے کے لیے سفر کرتے تھے
06:10چوتھی صدی تک کروڈس عیسائی مذہب اختیار کر چکا تھا
06:14اس لئے اب وہاں کسی قدیم کافر مجسمے کی دیکھ بال
06:17یا تمیر نو کا امکان نہیں تھا
06:19یہ دات غالباً سسانی جنگوں جیسے تنازیات کے دوران
06:24سکھوں اور اوزاروں کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوگی
06:29چیسو تری پن اسوی میں مسلمان جنرل معاویہ اول کی قیادت میں
06:34ایک عرب فوج نے روڈس پر چھاپا مارا
06:36اور تھیوفینس دی کنفیسز کے کرونیکل کے مطابق
06:40مجسمے کی باقیات غنیمت کا حصہ بنی
06:43جسے پگلا کر ایڈیسا کے ایک یہودی تاجر کو بیچ دیا گیا
06:47یہی کہانی ہرہ برییس نے درچ کی ہے
06:50جو تیرمی صدی کے ایڈیسا میں سریائی زبان کے مصنف تھے
06:58مہر ایساری قدیمہ ارسولہ ویڈن نے دعویٰ کیا
07:02کہ کولوسوس بندرگاہ کے علاقے میں بالکل بھی واقع نہیں تھا
07:06بلکہ روڈس کے ایکروپولس کا حصہ تھا
07:08جو ایک پہاڑی پر کھڑا تھا
07:10جہاں سے بندرگاہ کا علاقہ نظر آتا تھا
07:17جدید کولوسوس پروڈیکٹس
07:19دی گارڈین نے رپورٹ کیا کہ بندرگاہ کے داخلی دروازے پر
07:23جرمن آرٹسٹ گیرٹ ہوف کی طرف سے
07:25کولون میں مقیم ایک ٹیم کی قیاد کرتے ہوئے
07:28ایک جدید کولوسوس تمیر کیا جانا تھا
07:31یہ ایک دیو حیکل روشنی کا مجسمہ ہونا تھا
07:34جسے جزوی طور پر دنیا بار کے پگلے ہوئے تھیاروں سے بنایا گیا تھا
07:38اس پر دو سو میلین یورو تک لاغت آئے گی
07:40تاہم اس طرح کے کوئی منصوبے پر عمل نہیں کیا گیا
07:45دسمبر دو ہزار پندرہ میں
07:47یورپی ماماروں کے گروپ نے
07:49بندرگاہ کے داخلی دروازے پر
07:51ایک جدید کولوسوس کی تعمیر کے منصوبوں کا اعلان کیا
07:55نیا مجسمہ چار سو نوے فٹ بلان
07:58جس پر ایک اندازے کے مطابق
08:00دو سو تراسی میلین یو ایس ڈالرز لاغت آئے گی
08:03جس انڈیجی اتیاد اور کراؤڈ سورسنگ سے فنڈ کی آگے جانا ہے
08:07سولر پینل سے چلنے والے اس منصوبے میں
08:10ایک ثقافتی مرکز
08:11ایک لائبریری اور ایک نماشی حال
08:14اور ایک لائٹ ہاؤس شامل ہوگا
08:15تاہم اس منصوبے پر بھی عمل نہیں کیا گیا
08:38موسیقی
Comments