Skip to playerSkip to main content
Discover the fascinating life and timeless wisdom of Aristotle, one of history’s most influential philosophers. This complete documentary covers his biography, historical journey, groundbreaking works, and lasting impact on the world of knowledge.

In this video, you’ll learn:

Aristotle’s early life in Stagira and education under Plato

His travels, including time in Plato’s Academy and tutoring Alexander the Great

Key philosophical works: Nicomachean Ethics, Metaphysics, Poetics, Politics, and more

His impact on science, logic, ethics, and political thought

A detailed review of his classic book The Politics — exploring its key ideas on governance, justice, and the role of citizens in a state

📚 From ancient philosophy to modern influence, Aristotle’s ideas continue to shape the world. Watch this video for a complete understanding of his genius.

🔔 Subscribe for more history and philosophy documentaries!
#aristotle #philosophy #historydocumentary #thepolitics #ancientgreece

Category

📚
Learning
Transcript
00:02یونان کی پہاڑیوں اور سمندر میں بیان ایک ایسا ذہن پیدا ہوا جس نے سوچنے کا طریقہ بدل دی
00:10ایک ایسا شخص جو شاگرد بھی تھا استاد بھی اور حکمرانوں کا معلوم
00:16افلات ان کی اکیڈمی سے مک دنیا کے شاہی محل بھی اور لائسیم کے باغوں سے دنیا کے ذہنوں تک
00:24اس نے فطرت کا امتالیہ کیا سان کو پرکھا اور ریاست کا نقشہ کھینچا
00:30اس کا نام ہے ارسکو لیکن یہ کہانی صرف ایک فلسوی کی نہیں
00:36یہ کہانی ہے طاقت اور حکمت کی اختلاف اور دریافت کی
00:43اور اس ورثے کی جو دو ہزار سال بعد بھی ختم نہیں
01:16مشہور زمانہ یونانی فلسوی ارسکو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے ہر موضوع پر رائے دے
01:22سکتا تھا
01:23ارسکو دنیا کا وہ پہلا دانشور تھا جس نے اخلاقیات، حیاتیات، سیاسیات، طبیعیات، نفسیات، منطق اور جمالیات جیسے موضوعات پر
01:36لکھا
01:36اور ان علوم پر ابتدائی کام کیا
01:39ارسکو ایتھن سے دو سو میل دور ریاست مبدونیا کے ایک شہر ستائگرہ میں 384 قبل مسیح میں بیدا ہوا
01:48اس کا باپ نائکو ماشس طبیبوں کی ایک تنظیم اسیکلی پی ڈی آئی کا رکن تھا
01:56اور ریاست مبدونیا کے حکمران امائنتس جو اسکندر اعظم کا دادا تھا کا درباری طبیب اور دوست تھا
02:06ارسکو ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے والدین کا انتقال ہو گیا
02:10ارسکو کی زندگی کا پہلا اہم موڑ سترہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے
02:15جب وہ 366 قبل مسیح میں ایتھنز چلا آیا
02:19جہاں اس نے تحصیل علم کی گرس سے افلاتون کی اکیڈمی میں داخلہ لیا
02:24اور افلاتون کی شاگردی اختیار گی
02:27اگلے تیس سال تک وہ اکیڈمی سے وابستہ رہا
02:30پہلے ایک شاگرد کی حیثیت سے پھر ایک معلم کے طور پر
02:34افلاتون اس کی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے
02:38اسے اپنی اکیڈمی کا روح روان کہا کرتا تھا
02:41لیکن کہتے ہیں کہ علمی سطح پر استاذ شاگرد کے خیالات میں
02:45مکمل ہم آہنگی موجود نہ تھی
02:49اس اکیڈمی کے نصاب میں ریاضی کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی تھی
02:57اسکندر آدم کے باپ فیلکوس نے اسے اسکندر کا استاد مقرر کیا تھا
03:02اسکندر کو ارستو نے ہمر پڑھایا
03:05سیاسیات کی تعلیم لی اور ایران دشمر رویہ پنانے پر اکسایا
03:10اگرچہ اسکندر کی تخت نشینی کے بعد وہ شاید یہ سے دوبارہ ملا ہو
03:15مگر اسکندر نے ایشیہ بار سے اس کے لیے
03:17علمی افادیت کی اشیاء مسلسل یونان بجوائیں
03:21جن کی مدد سے ارستو نے دنیا کی پہلی حیاتیاتی اور نباتیاتی تجربہ کا قائم کی
03:27ارستو اپنی تحقیق و تدریس میں مصروف تھا
03:30کہ 323 قبل مسیح میں سکندر آدم کی اچانک وفات کی اطلاع ملی
03:35ساتھی اس کے دوستوں نے اسے مطلع کیا
03:38کہ اب ایتھن میں تمہارے لیے خطرہ ہے
03:40سکندر اور مقدونیا سے تمہارے تعلقات
03:43عوام کو تمہارے خلاف اوبارنے کے لیے کافی ہیں
03:46یاد کرو کہ سپرات کو کس طرح جھوٹے الزام کی پاداش میں
03:50زہر کا پیالا پینا پڑا تھا
03:52اب اگر تمہیں جان عزیز ہے تو فوراں ایتھن چھوڑ دو
03:57اور 62 سال کی عمر میں
03:58323 قبل مسیح میں
04:00ارستو پر خسروی لحات کا اجزام لگایا گیا
04:04لیکن دوستوں کی بروقتی تلاع
04:06اور سکرات کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے
04:09اس نے ایتھن کی آئینی رعایت سے فیدہ اٹھایا
04:12اور جلاب اتنی کو موت پر ترجیح دیتے ہوئے
04:15جزیرہ آئیوگیویا کے شہر کالکس میں رہنے لگا
04:20پھر بھی موت سے دستگاری حاصل نہ کا سکا
04:23اور کالکس میں صرف ایک سال بعد
04:26322 قبل مسیح میں
04:28آواز ساتھ زمانہ سے دل برداشتہ ہو کر
04:31مایوسی کے عالم میں اس دنیا سے رفصت ہوا
04:37امادانی تباہر علم اور خدمات کے لحاظ سے
04:41ارستو ان تاریخ انسانی میں اپنا سانی نہیں رکھتا
04:44اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے کوئی ایک ہزار کتب تصنیف کی
04:48جن میں سے بیشتر زمانے کی دست برد سے محفوظ نہ رہ سکی
04:56ارستو کا ایک بڑا کارنامہ سکندریازم کی تختنشینی کے بعد
05:01ایتھنز میں رواہ درسگاہ سکول پیریپیٹیٹک کا قیام تھا
05:06اس درسگاہ میں کتار در کتار ستون اور باغا تھے
05:10جن کے ترمیان ارستو چہل قدمی کرتے ہوئے
05:13اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتا تھا
05:15اس رائد سے اس درسگاہ میں تعلیم پانے والے
05:18مسالی پیریپیٹیٹک کہلاتے تھے
05:21اس درسگاہ میں صبح سے دوپہر تک صرف طلبہ کی تدریس کی جاتی تھی
05:26جبکہ سابیر کے وقت عام شہریوں کو بھی ترس میں شرکت کی اجازت تھی
05:30ارستو نے اس درسگاہ میں ایک لیبریری اور عجائب گھر بھی قائم کیا تھا
05:36سینسی تحقیق کے لیے بھی سہودیات میسر تھی
05:39اس وجہ سے روان درسگاہ کی فضاء مجموعی طور پر سینٹیفک زیادہ اور فلسفی آنیاں کم تھی
05:46ارستو نے اپنے شاگردوں کو تاقید خاص کر رکھی تھی
05:50کہ وہ سینسی نکتہ نظر کے حامل نمونے کٹھے کریں
05:53تاکہ نئے علوم کی بنیاد رکھی جا سکے
05:59ارستو کے سب سے زیادہ شہرت علم الہیات اور خلاقیات میں ہے
06:03اس مدان میں اس کی اہم ترین تصانیف علم الہیات یا میٹافیزکس اور نیکومیشن خلاقیات ہیں
06:11جن میں اس نے زندگی کا حرکی تصور پیش کیا ہے
06:15اس کا خیال تھا کہ زندگی ارتقاء نمو اور خلقی استعداد کی وجہ آوری کا نام ہے
06:21اس کی کتاب سیاسیات یا پولیٹکس بھی اہم ہے
06:24اس میں بھی زندگی کی یہی حرکی تصویر کاربرما ہے
06:28ارستو کی فتان سائنس اور فلسفہ کے ساتھ ساتھ عدب کا بھی احادتہ کرتی ہے
06:34اس شعبے میں ارستو کی دو تصانیف اہم ہیں
06:36ایک شیریات یا پولیٹکس ہے جو آج بھی عدب کی طلبہ کے لیے ضروری سمجھ جاتی ہے
06:42اور دوسری ریٹورک ہے جس کا موضوع خطاب پردازی ہے
06:49علم الحیاتیات پر بھی ارستو کی دو تصانیف ہیں
06:52ایک حوانات کے جزائے جسمانی پر
06:55اور دوسری تاریخ حوانات
06:57اس کتاب میں دیئے گئے زمینی ارتقاء کے بارے میں
07:00اس کے خیالات ابھی بھی قابل قبول سمجھ جاتے ہیں
07:03جن میں سطح زمین کے اوپر پہاڑوں کے اوبرنے
07:07موسموں کے تغیر و تبتل سے ان کی ٹوٹھوٹھ
07:10اور سطح کا برابر ہو کر پہاڑوں کا پھر سمندر سے مل جانا شامل ہے
07:17ارستو کے قدانہ علم سے ہم نے آج کتاب
07:20سیاسیات یا پولٹکس کو منتقب کیا ہے
07:23آئیے اس کا ایک جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں
07:28ارستو کی سیاسیات
07:31ارستو کے بارے میں کہا جاتا ہے
07:33کہ وہ دنیا کا پہلنا مفقر تھا
07:35جس نے سیاسیات کے موضوع پر کلم اٹھایا
07:38اور اسے بقاعدہ علم کا ترجہ دیا
07:40علم سیاسیات پر اس کی بقاعدہ تصنیف پولٹکس آج بھی موجود ہے
07:45ارستو کے اس تصنیف کا مزاج
07:47افلاتون کی جمہوریہ سے بلکل مختلف ہے
07:51اس میں ارستو افلاتون کی طرح پرجوش انداز میں دلائل نہیں دیتا
07:55بلکہ ٹھڑے اور متوازن انداز میں کاری کو قائل کرتا ہے
08:06پولٹکس آٹھ کتابوں پر مشتمل ہے
08:08ان آٹھ حصوں میں ارستو نے ہر معاملے کو شہری ریاست کے حوالے سے دیکھا ہے
08:13ارستو نے اس کتاب میں انسان کو ایک سیاسی حوان کرا دیا ہے
08:17اس اسطلاع سے ارستو کی مراد مدنی تباہ جاندار ہے
08:21انسان کی یہی خصوصیت اس نے پہلی کتاب میں اس طرح پیش کی ہے
08:25کہ گھر ہو یا گاؤں یا شہری ریاست
08:28سب کے قیام میں انسان کے مدنی تباہ ہونے کا جذبہ
08:33اشتراک کی خواہش اور ضرورت کو دخل ہے
08:36اسی کتاب میں غلاموں کے مسئلے پر بھی روشن جالی گئی ہے
08:39اور اموال کے حاصل کرنے کے جائز اور ناجائز تاریخوں پر بحث کی ہے
08:44دوسری کتاب ایک تاریخی جائزہ ہے
08:47جس میں ارستو نے فلاتون کے سیاسی افکار پر بھرپور تنقیب کرتے ہوئے
08:52سپارٹا، کریٹ اور کرتاجنا کے آئین خصوصی طور پر زیرے بحث لائے ہیں
08:58تیسری کتاب سیاسی مسائل، سواب اور ناسواب آئینوں پر بحث کے لیے مقصود ہے
09:04اس کے بعد ارستو نے مختلف قسم کی حکومتوں اور حکمران کے بعد جماعتوں کا ذکر کیا ہے
09:10اور ساتھ ہی ان کے خصائص پر بحث کی ہے
09:13ارستو یہ بھی بتاتا ہے کہ انقلاب کیوں اور کس طرح آتے ہیں
09:16ان سے بچنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے
09:19اور مختلف سیاسی نظاموں کو برقرار رکھنے کے طریقے پر بھی روشنی ڈالی ہے
09:28ارستو کے وضع کردہ قوانین اور سول سیاسیات سے آج بھی اس طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے
09:34جس طرح زمانہ قدیم میں کیا جاتا تھا
09:37ارستو کے جمہوریت کے بارے میں خیالات اور نظریات آج بھی قابل توجہ ہیں
09:42اس کے نزدیک اجتماعی فیصلے انفرادی فیصلوں سے زیادہ سود من ہوتے ہیں
09:47ساتھ ہی وہ قوانین کی بالادستی پر زور دیتا ہے
09:50اور بتاتا ہے کہ قانون کی برتری سے ریاست میں امن و انصاف کی فضا قیم کی جا سکتی ہے
09:56اپنی اس تصنیف میں ارستو نے آج سے چوبیس سو سال پہلے
10:01سیاسیات کے ایک بقائدہ سائنس بان جانے کے امکانات پیش کیے تھے
10:05آئی تقریباً یہ علم ایک بقائدہ سائنس کا درجہ حاصل کر چکا ہے
10:10اور اس کے بارے میں ارستو کی پیشنگوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی ہے
10:18موسیقی
Comments

Recommended