00:02یونان کی پہاڑیوں اور سمندر میں بیان ایک ایسا ذہن پیدا ہوا جس نے سوچنے کا طریقہ بدل دی
00:10ایک ایسا شخص جو شاگرد بھی تھا استاد بھی اور حکمرانوں کا معلوم
00:16افلات ان کی اکیڈمی سے مک دنیا کے شاہی محل بھی اور لائسیم کے باغوں سے دنیا کے ذہنوں تک
00:24اس نے فطرت کا امتالیہ کیا سان کو پرکھا اور ریاست کا نقشہ کھینچا
00:30اس کا نام ہے ارسکو لیکن یہ کہانی صرف ایک فلسوی کی نہیں
00:36یہ کہانی ہے طاقت اور حکمت کی اختلاف اور دریافت کی
00:43اور اس ورثے کی جو دو ہزار سال بعد بھی ختم نہیں
01:16مشہور زمانہ یونانی فلسوی ارسکو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دنیا کے ہر موضوع پر رائے دے
01:22سکتا تھا
01:23ارسکو دنیا کا وہ پہلا دانشور تھا جس نے اخلاقیات، حیاتیات، سیاسیات، طبیعیات، نفسیات، منطق اور جمالیات جیسے موضوعات پر
01:36لکھا
01:36اور ان علوم پر ابتدائی کام کیا
01:39ارسکو ایتھن سے دو سو میل دور ریاست مبدونیا کے ایک شہر ستائگرہ میں 384 قبل مسیح میں بیدا ہوا
01:48اس کا باپ نائکو ماشس طبیبوں کی ایک تنظیم اسیکلی پی ڈی آئی کا رکن تھا
01:56اور ریاست مبدونیا کے حکمران امائنتس جو اسکندر اعظم کا دادا تھا کا درباری طبیب اور دوست تھا
02:06ارسکو ابھی بچہ ہی تھا کہ اس کے والدین کا انتقال ہو گیا
02:10ارسکو کی زندگی کا پہلا اہم موڑ سترہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے
02:15جب وہ 366 قبل مسیح میں ایتھنز چلا آیا
02:19جہاں اس نے تحصیل علم کی گرس سے افلاتون کی اکیڈمی میں داخلہ لیا
02:24اور افلاتون کی شاگردی اختیار گی
02:27اگلے تیس سال تک وہ اکیڈمی سے وابستہ رہا
02:30پہلے ایک شاگرد کی حیثیت سے پھر ایک معلم کے طور پر
02:34افلاتون اس کی غیر معمولی ذہانت کی وجہ سے
02:38اسے اپنی اکیڈمی کا روح روان کہا کرتا تھا
02:41لیکن کہتے ہیں کہ علمی سطح پر استاذ شاگرد کے خیالات میں
02:45مکمل ہم آہنگی موجود نہ تھی
02:49اس اکیڈمی کے نصاب میں ریاضی کو غیر معمولی اہمیت دی جاتی تھی
02:57اسکندر آدم کے باپ فیلکوس نے اسے اسکندر کا استاد مقرر کیا تھا
03:02اسکندر کو ارستو نے ہمر پڑھایا
03:05سیاسیات کی تعلیم لی اور ایران دشمر رویہ پنانے پر اکسایا
03:10اگرچہ اسکندر کی تخت نشینی کے بعد وہ شاید یہ سے دوبارہ ملا ہو
03:15مگر اسکندر نے ایشیہ بار سے اس کے لیے
03:17علمی افادیت کی اشیاء مسلسل یونان بجوائیں
03:21جن کی مدد سے ارستو نے دنیا کی پہلی حیاتیاتی اور نباتیاتی تجربہ کا قائم کی
03:27ارستو اپنی تحقیق و تدریس میں مصروف تھا
03:30کہ 323 قبل مسیح میں سکندر آدم کی اچانک وفات کی اطلاع ملی
03:35ساتھی اس کے دوستوں نے اسے مطلع کیا
03:38کہ اب ایتھن میں تمہارے لیے خطرہ ہے
03:40سکندر اور مقدونیا سے تمہارے تعلقات
03:43عوام کو تمہارے خلاف اوبارنے کے لیے کافی ہیں
03:46یاد کرو کہ سپرات کو کس طرح جھوٹے الزام کی پاداش میں
03:50زہر کا پیالا پینا پڑا تھا
03:52اب اگر تمہیں جان عزیز ہے تو فوراں ایتھن چھوڑ دو
03:57اور 62 سال کی عمر میں
03:58323 قبل مسیح میں
04:00ارستو پر خسروی لحات کا اجزام لگایا گیا
04:04لیکن دوستوں کی بروقتی تلاع
04:06اور سکرات کے انجام کو سامنے رکھتے ہوئے
04:09اس نے ایتھن کی آئینی رعایت سے فیدہ اٹھایا
04:12اور جلاب اتنی کو موت پر ترجیح دیتے ہوئے
04:15جزیرہ آئیوگیویا کے شہر کالکس میں رہنے لگا
04:20پھر بھی موت سے دستگاری حاصل نہ کا سکا
04:23اور کالکس میں صرف ایک سال بعد
04:26322 قبل مسیح میں
04:28آواز ساتھ زمانہ سے دل برداشتہ ہو کر
04:31مایوسی کے عالم میں اس دنیا سے رفصت ہوا
04:37امادانی تباہر علم اور خدمات کے لحاظ سے
04:41ارستو ان تاریخ انسانی میں اپنا سانی نہیں رکھتا
04:44اس کے بارے میں مشہور ہے کہ اس نے کوئی ایک ہزار کتب تصنیف کی
04:48جن میں سے بیشتر زمانے کی دست برد سے محفوظ نہ رہ سکی
04:56ارستو کا ایک بڑا کارنامہ سکندریازم کی تختنشینی کے بعد
05:01ایتھنز میں رواہ درسگاہ سکول پیریپیٹیٹک کا قیام تھا
05:06اس درسگاہ میں کتار در کتار ستون اور باغا تھے
05:10جن کے ترمیان ارستو چہل قدمی کرتے ہوئے
05:13اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتا تھا
05:15اس رائد سے اس درسگاہ میں تعلیم پانے والے
05:18مسالی پیریپیٹیٹک کہلاتے تھے
05:21اس درسگاہ میں صبح سے دوپہر تک صرف طلبہ کی تدریس کی جاتی تھی
05:26جبکہ سابیر کے وقت عام شہریوں کو بھی ترس میں شرکت کی اجازت تھی
05:30ارستو نے اس درسگاہ میں ایک لیبریری اور عجائب گھر بھی قائم کیا تھا
05:36سینسی تحقیق کے لیے بھی سہودیات میسر تھی
05:39اس وجہ سے روان درسگاہ کی فضاء مجموعی طور پر سینٹیفک زیادہ اور فلسفی آنیاں کم تھی
05:46ارستو نے اپنے شاگردوں کو تاقید خاص کر رکھی تھی
05:50کہ وہ سینسی نکتہ نظر کے حامل نمونے کٹھے کریں
05:53تاکہ نئے علوم کی بنیاد رکھی جا سکے
05:59ارستو کے سب سے زیادہ شہرت علم الہیات اور خلاقیات میں ہے
06:03اس مدان میں اس کی اہم ترین تصانیف علم الہیات یا میٹافیزکس اور نیکومیشن خلاقیات ہیں
06:11جن میں اس نے زندگی کا حرکی تصور پیش کیا ہے
06:15اس کا خیال تھا کہ زندگی ارتقاء نمو اور خلقی استعداد کی وجہ آوری کا نام ہے
06:21اس کی کتاب سیاسیات یا پولیٹکس بھی اہم ہے
06:24اس میں بھی زندگی کی یہی حرکی تصویر کاربرما ہے
06:28ارستو کی فتان سائنس اور فلسفہ کے ساتھ ساتھ عدب کا بھی احادتہ کرتی ہے
06:34اس شعبے میں ارستو کی دو تصانیف اہم ہیں
06:36ایک شیریات یا پولیٹکس ہے جو آج بھی عدب کی طلبہ کے لیے ضروری سمجھ جاتی ہے
06:42اور دوسری ریٹورک ہے جس کا موضوع خطاب پردازی ہے
06:49علم الحیاتیات پر بھی ارستو کی دو تصانیف ہیں
06:52ایک حوانات کے جزائے جسمانی پر
06:55اور دوسری تاریخ حوانات
06:57اس کتاب میں دیئے گئے زمینی ارتقاء کے بارے میں
07:00اس کے خیالات ابھی بھی قابل قبول سمجھ جاتے ہیں
07:03جن میں سطح زمین کے اوپر پہاڑوں کے اوبرنے
07:07موسموں کے تغیر و تبتل سے ان کی ٹوٹھوٹھ
07:10اور سطح کا برابر ہو کر پہاڑوں کا پھر سمندر سے مل جانا شامل ہے
07:17ارستو کے قدانہ علم سے ہم نے آج کتاب
07:20سیاسیات یا پولٹکس کو منتقب کیا ہے
07:23آئیے اس کا ایک جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں
07:28ارستو کی سیاسیات
07:31ارستو کے بارے میں کہا جاتا ہے
07:33کہ وہ دنیا کا پہلنا مفقر تھا
07:35جس نے سیاسیات کے موضوع پر کلم اٹھایا
07:38اور اسے بقاعدہ علم کا ترجہ دیا
07:40علم سیاسیات پر اس کی بقاعدہ تصنیف پولٹکس آج بھی موجود ہے
07:45ارستو کے اس تصنیف کا مزاج
07:47افلاتون کی جمہوریہ سے بلکل مختلف ہے
07:51اس میں ارستو افلاتون کی طرح پرجوش انداز میں دلائل نہیں دیتا
07:55بلکہ ٹھڑے اور متوازن انداز میں کاری کو قائل کرتا ہے
08:06پولٹکس آٹھ کتابوں پر مشتمل ہے
08:08ان آٹھ حصوں میں ارستو نے ہر معاملے کو شہری ریاست کے حوالے سے دیکھا ہے
08:13ارستو نے اس کتاب میں انسان کو ایک سیاسی حوان کرا دیا ہے
08:17اس اسطلاع سے ارستو کی مراد مدنی تباہ جاندار ہے
08:21انسان کی یہی خصوصیت اس نے پہلی کتاب میں اس طرح پیش کی ہے
08:25کہ گھر ہو یا گاؤں یا شہری ریاست
08:28سب کے قیام میں انسان کے مدنی تباہ ہونے کا جذبہ
08:33اشتراک کی خواہش اور ضرورت کو دخل ہے
08:36اسی کتاب میں غلاموں کے مسئلے پر بھی روشن جالی گئی ہے
08:39اور اموال کے حاصل کرنے کے جائز اور ناجائز تاریخوں پر بحث کی ہے
08:44دوسری کتاب ایک تاریخی جائزہ ہے
08:47جس میں ارستو نے فلاتون کے سیاسی افکار پر بھرپور تنقیب کرتے ہوئے
08:52سپارٹا، کریٹ اور کرتاجنا کے آئین خصوصی طور پر زیرے بحث لائے ہیں
08:58تیسری کتاب سیاسی مسائل، سواب اور ناسواب آئینوں پر بحث کے لیے مقصود ہے
09:04اس کے بعد ارستو نے مختلف قسم کی حکومتوں اور حکمران کے بعد جماعتوں کا ذکر کیا ہے
09:10اور ساتھ ہی ان کے خصائص پر بحث کی ہے
09:13ارستو یہ بھی بتاتا ہے کہ انقلاب کیوں اور کس طرح آتے ہیں
09:16ان سے بچنے کا طریقہ بھی بتا دیا ہے
09:19اور مختلف سیاسی نظاموں کو برقرار رکھنے کے طریقے پر بھی روشنی ڈالی ہے
09:28ارستو کے وضع کردہ قوانین اور سول سیاسیات سے آج بھی اس طرح استفادہ کیا جا سکتا ہے
09:34جس طرح زمانہ قدیم میں کیا جاتا تھا
09:37ارستو کے جمہوریت کے بارے میں خیالات اور نظریات آج بھی قابل توجہ ہیں
09:42اس کے نزدیک اجتماعی فیصلے انفرادی فیصلوں سے زیادہ سود من ہوتے ہیں
09:47ساتھ ہی وہ قوانین کی بالادستی پر زور دیتا ہے
09:50اور بتاتا ہے کہ قانون کی برتری سے ریاست میں امن و انصاف کی فضا قیم کی جا سکتی ہے
09:56اپنی اس تصنیف میں ارستو نے آج سے چوبیس سو سال پہلے
10:01سیاسیات کے ایک بقائدہ سائنس بان جانے کے امکانات پیش کیے تھے
10:05آئی تقریباً یہ علم ایک بقائدہ سائنس کا درجہ حاصل کر چکا ہے
10:10اور اس کے بارے میں ارستو کی پیشنگوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی ہے
10:18موسیقی
Comments