Skip to playerSkip to main content
The East has already bowed before him…
Now, the Middle East awaits the shadow of Alexander the Great — the unstoppable conqueror from Macedonia.
From the ruins of Persia to the deserts of Babylon, this is the story of a man who challenged destiny itself.

Who was Alexander in his final campaign?
A visionary ruler… or a tyrant blinded by his own legend?

🔥 Step into the world where faith met fire, and ambition met resistance.
Experience the suspense, the power, and the last march of Alexander the Great — toward the heart of the Middle East.

🎬 Narration in Urdu | Cinematic Visuals | Historical Realism
📜 History Documentary | Ancient Empires | Greek & Persian Wars
#alexanderthegreat #historicaldocumentary #epichistory #ancientempires #cinematichistory #AlexanderConquest #MacedonianKing #persianempire #warhistory #urdudocumentary

Category

📚
Learning
Transcript
00:00ہزاروں میل کا سفر بے شمار سلطن دیں بے شمار جنگیں
00:05یونان فارس اور ہند کی سرزمینیں اس کے قدموں تلے آ چکی ہیں
00:12اب وہ جوان بادشاہ سکندر عظم ایک نئے خواب کے دھانے پر کھڑا ہے
00:19اس کے سامنے ہے مشرق وستہ
00:21وہ خطہ جہاں طاقت ایمان اور تقدیر ٹکرانے والی ہیں
00:28رات کے سناٹے میں سکندر اپنے خیمے کے باہر کھڑا آسمان کو دیکھتا ہے
00:34جہاں ستارے گویا اس کے اگلے مارکے کی پیشنگوئی کر رہے ہیں
00:39اس کے سوائی تھکے نہیں اس کے خواب رکے نہیں
00:43دنیا اس کے لیے بس ایک نقشہ ہے اور ہر سرحد اس کی اگلی فتح
00:50لیکن اس بار مقابلہ صرف تلواروں کا نہیں عقائد اور عزائم کا ہے
00:56کیا اس کے اندر اپنی آخری مہم میں بھی فتح یاب ہوگا
01:00یا مشرق وستہ اس کے غرور کی آخری منزل بن جائے گا
01:05یہ وہ لمحہ ہے جہاں ایک بادشاہ اور تقدیر آمنے سامنے ہیں
01:34جنگے احسوس میں کامیابی کے بعد سکندر نے فونیکیا یا فنیشیا کا رخ کیا
01:40جہاں ارادوس اور مراتوس نامی شہروں نے اتھیار ڈال کر اطاعت اختیار کی
01:46سکندر نے اپنے جرنال پارمنیان کو اپنی سوار فوج کے ہمراہ دمشق بھیجا
01:52تاکہ جو خزانہ داریو شیعظم نے وہاں بھیجا تھا
01:56اسے اپنے تصرف میں لے لے
01:58پارمنیان نے دمشقی تسخیر کے بعد شاہی خزانہ پر قبضہ کر لیا
02:03اور پھر وہ شام کے باقی علاقوں کی طرح متوجہ ہوا
02:06دمشقی تسخیر کی خبر سننے کے بعد شام کے تمام علاقوں نے
02:11سکندر کی اطاعت قبول کر لی
02:13اب سکندر کی خواہش تھی کہ جس قدر جلد ہو سکے
02:16ملک مصر پر قبضہ کر لے
02:18لیکن اس وقصد کے حصول کے راستے میں
02:21فنیشین شہر سور یا ٹائر حائل تھا
02:24اس نے سور کی ترپیش قدمی کی
02:30اسی اصنام میں داریوش نے جو بابل میں مقیم تھا
02:33سکندر سے سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی
02:37اور اسے ایک مراسلہ بیجا
02:39جس میں اس نے اپنے خاندان کے افراد کی
02:42واپسی کا تقاضہ بھی کیا
02:43اور دوستانموائدے کی پیشکش بھی کی
02:46لیکن سکندر نے اس کی تمام ترد تجاویز
02:49مسترد کر دی
02:50اور جوابت لکھا کہ
02:52اگر تم اپنے اہل خانہ کی رہائی
02:55یا کسی اور بات کی استعداء کرنا چاہتے ہو
02:58تو مجھے شہنشاہ ایشیا تسلیم کرتے ہوئے
03:01میرے دربار میں حاضر ہو کر
03:03یہ استعداء کرو
03:04اگر تمہیں میرے شہنشاہ ایشیا ہونے میں کوئی شبہ ہو
03:08تو دوبارہ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ
03:11اور اس مرتبہ میدان چھوڑ کر بھاگنا نہیں
03:13کیونکہ میں ہر جگہ تمہارے تواقم میں آوں گا
03:19دوسری طرف اہل سور نے یہ کہلائیا
03:22کہ وہ سکندر کی اطاعت پر رضا مند ہیں
03:25مغربات میں اس کے باشندوں کو
03:27اس خیال خام نے آگے رہا
03:29کہ وہ شاید سکندر کو نیچہ دکھانے کے اہل ہیں
03:32جب سکندر نے اہل سور کو یہ پیغام بیجا
03:35کہ وہ جدہ امجد ہرکیولیس
03:37یا ہراکل کے نام پر
03:39قربانی کرنے کی غرض سے شہر میں آنا چاہتا ہے
03:41تو انہوں نے جواب دیا
03:43کہ چونکہ اہل سور غیر جانبیدار ہیں
03:46اور انہوں نے پہلے ایران کو بھی شہر میں آنے نہیں دیا
03:49اس لئے ابو وائل یونان کو بھی شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے
03:54یہ جواب پاکر سکندر نے شہر کا محاصرہ کر لیا
03:58جب محاصرہ نے طول پکڑا
03:59تو سکندر اعظم کے انجینئروں نے
04:01سور کی فصیل کے ساتھ
04:03سمندر کی تہہ سے اٹھا کر
04:06ایک بہت بڑی مچاند تعمیر کی
04:08اتھر سکندر دو سو ساٹھ جہازوں کا ایک بحری بیڑا
04:12فرام کرنے میں کامیاب ہو گیا
04:14ان جہازوں کے ذریعے شہر کی مکمل ناکابندی کر دی گئی
04:18اور دیوار شکر مشینوں سے فصیل میں شگاف کر کے
04:21بلاخر سکندر شہر فتح کرنے میں کامیاب ہو گیا
04:25شہر میں داخل ہوتے ہوئے سکندر نے
04:28قتل اعام کا حکم دے دیا
04:29اس حکم کی تعمیل میں آٹھ ہزار شہری قتل ہوئے
04:34اور پلوٹار کے مطابق تیرہ ہزار انسان غلام بنا کر
04:38فروخت کر دئیے گئے
04:41سور کے محاصرے کے دوران
04:43داریوش نے ایک بار پھر سکندر سے خطو کتابت کی
04:46اور استعدا کی کہ وہ اس کی ایک شہزادی سے شادی کر لے
04:50اور بقی افراد کو واپس بجوا دے
04:53ساتھ ہی فراد کے ادھر تک علاقوں پر
04:56سکندر کا حق حکومت تسلیم کرنے کا یقین بھی دلایا
05:00سکندر بولا
05:01اگر میں پارمنیان ہوتا تو میری بھی یہی رائے تھی
05:04لیکن میں سکندر ہوں
05:06اور میرا جواب مختلف ہے
05:11سکندر نے اس مراسلے کے جواب میں دارہ کو لکھا
05:13وہ خود کو سکندر کے حوالے کر دے
05:15تو اس کے ساتھ ہر قسم کی مروت کی جائے گی
05:19لیکن دوسری صورت میں فیصلہ جنگ کرے گی
05:24اسی دوران داریوش کی ملکہ سکندر کے ہاں فوت ہو گئی
05:28سکندر کو بہت رنج ہوا
05:30اور اس نے ملکہ کو شاہنہ تزک و احتشام کے ساتھ دفن کیا
05:37اب سکندر سور سے نکل کر غزہ کی طرف بڑھا
05:40غزہ سور سے تقریباً
05:42ایک سو پچاس میل کے فاصلے پر تھا
05:45راستے میں وہ جہاں سے بھی گزرا
05:47لوگوں نے سر اطاعت خم کیا
05:51غزہ کے حکمران نے جو کہ ایک خاجہ سرا تھا
05:54سکندر کی اطاعت سے انکار کیا
05:56سکندر نے محاصرے کے بعد شہر کو فتح کر لیا
05:59اور حاکم شہر کی سرکشی کا شدید انتقام لیا
06:03اور اسے شہر کی فصیل پر گھوڑا گاڑی کے پیچھے بدھوا کر کھنچوایا
06:08اس شہر سے سکندر کے ہاتھ بہت سے قدیم خزانے لگے
06:17اب سکندر مصر کی طرف بڑھا
06:20حاکم مصر نے اپنے شہروں کے دروازے سکندر پر کھول دیئے
06:24اور اطاعت اختیار کی
06:26سکندر نے بھی مصری دیوی دیوتاؤں اور معاودوں کا احترام کیا
06:31دارل حکومت منفس میں سکندر نے مصری معاودوں کے نام پر قربانی کی
06:37مگر ساتھ ہی یونانی دیوتاؤں کے عزاز میں
06:40ورزش اور مسیقی کے مقابلے کا انعقاد کیا
06:44مصر میں اپنی آمد کی یاد میں
06:47سکندر نے ایک نیا شہر آباد کیا
06:49جو آج بھی سکندریہ کے نام سے موصوم ہے
06:53سکندر ایک مصری کو اپنے حکومت کا نمائندہ مقرر کر کے
06:57خود واپس سور آگیا
06:59اب اس نے اندرونے ایران تک پہنچنے کی تیاریوں کا آغاز کیا
07:07خدرداریوش نے بھی سکندر کی طرف سے
07:09مسالحت کی تمام کوششوں کو مصرد کر دینے کے بعد
07:13وسیع پیمانے پر جنگی تیاریوں کا آغاز کیا
07:16اور پوری مملکت کے وسائل جنگی تیاریوں میں جھونک دیئے
07:38موسیقی
Comments

Recommended