Skip to playerSkip to main content


Step into history and witness the enthronement of Alexander the Great — the young Macedonian warrior destined to become one of the greatest conquerors of all time. This cinematic documentary recreates the dramatic moment when Alexander was crowned, marking the beginning of his legendary empire.

⚔️ From the taming of Bucephalus to the golden crown placed on his head, this video brings alive the suspense, drama, and grandeur of Alexander’s rise to power.

🌍 Discover how a young prince became a world conqueror and changed the course of history forever.

📖 What you will see in this video:

The dramatic coronation of Alexander the Great

The symbolism of the golden crown

Historical moments from Macedonia

Alexander’s destiny as a world ruler
Part 2: https://youtu.be/kxcgV_Y8Eqs
#AlexanderTheGreat #HistoryDocumentary #CrowningAlexander #EpicHistory #TajPoshi #Macedonia #AncientHistory

👉 Don’t forget to LIKE, SHARE, and SUBSCRIBE for more epic history documentaries!

Category

📚
Learning
Transcript
00:00رات کی تاریکی میں مقدونیاں کا محل لرز رہا تھا
00:04ستونوں کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے
00:07اور تخت خالی کھڑا تھا
00:10جیسے کسی منتظر تقدیر کا راز چھپا ہو
00:16اچانک قدموں کی چاپ گنجی
00:18اور حال میں ایک نوجوان داخل ہوا
00:21چہرے پر اعتماد آنکھوں میں توفان
00:25یہ تھا سکندر
00:30لیکن کیا یہ صرف ایک تاج پوشی تھی
00:33یا پھر ایک ایسی کہانی کا آغاز
00:35جو صدیوں تک دنیا کو اپنے سائے میں رکھے گی
00:39تاریخ کی سانسیں تھم گئیں
00:42لمحہ فیصلہ کن تھا
00:45آنے والا وقت کس کا ہوگا
00:47دنیا کا یا سکندر عظم کا
01:22تاریخ کی اوراک میں دنیا کی عظیم اور قدیم شخصیات کے گرد
01:26افسانمی دھندل کے چھائے ہوئے ملتے ہیں
01:29جن کی وجہ سے ان شخصیتوں کے سئی حالات جاننا مشکل ہوتا ہے
01:35سکندر عظم بھی دنیا قدیم کی ایک ایسی ہی شخصیت ہے
01:38اس کے متعلق بعض قدیم اور رخین نے
01:41تو یہاں تک لکھ دیا ہے
01:43کہ مشہور یونانی دیوتا
01:45زیوس نے سکندر عظم کی شکل میں جنم لیا تھا
01:52بعض مسلم اور رخین نے جن میں ابن تاثیر اور نظام گنجوی شامل ہیں
01:57سکندر عظم کو قرآن کریم میں ذکر کیا جانے والا حکمران
02:01سکندر ذلقرنین قرار دیا ہے
02:04جبکہ فردوسی نے اپنے شاہ نامہ میں
02:07اس ایرانی بادشاہ داریوش یا دارہ عظم کا بیٹا بتایا ہے
02:12بہرحال مقدونیا کی تاریخ مطابق
02:15سکندر عظم وہاں کے
02:17الیکزنڈر نام کے تین حکمرانوں میں سے تیسرا تھا
02:24سکندر عظم 356 قبل مسیح میں
02:26فلپ دوم اور ملکہ علمپیاز کے ہاں
02:29پہلا میں پیدا ہوا
02:31فلپ دوم کی عرضو تھی
02:32کہ وہ مقدونیا کو دنیا کی عظیم ترین سلطنت منا دے
02:37اسے امید تھی کہ وہ اپنی زندگی میں
02:39اپنی اس عرضو کی تکمیل نہ کر سکا
02:42تو اس کا بیٹا سکندر
02:43اس کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کرے گا
02:47اس مقصد کو سامنے رکھ کر
02:49سکندر کی تعلیم و تربیت پر خاصت وجودی گئی
02:52کم سنی میں ایک دانشمند لیونیندس
02:56اس کی پرورش و تربیت کے لیے
02:58نگران خاص مقرر کیا گیا
03:00جب سکندر نے ہوشمندی حاصل کی
03:02تو فلپ دوم نے مشہور زمانہ
03:05یونانی فلسفی عرستو کو
03:07اس کا آتعلیق مقرر کیا
03:10عرستو نے صرف و نحب طبییات
03:12اور علوم فلسفہ اسے سکھائے
03:14ساتھ ہی ساتھ اس کی جسمانی
03:16اور اسکری تربیت بھی
03:18اعلی خطوط پر کی گئی
03:20ہونہار بردہ کے چکنے چکنے پات کے مستاق
03:24سکندر کی قبال مندی
03:25اس کے بچپن سے ہی ظاہر ہونے لگی تھی
03:27اس سلسلے میں
03:29مررخین نے اس کے بچپن کے
03:30کچھ واقعات درج کیے ہیں
03:32جن میں سے اچھیے ہیں
03:34ایک دفعہ
03:36تھسلی کے ایک فیلونی نامی باشندے نے
03:38شاہ فلپ دوم کے دربار میں
03:40ایک شاندار گھوڑا پیش کیا
03:42جس کا نام موس فالس تھا
03:45وہ اس گھوڑے کی قیمت
03:46تیرہ ٹیلنٹ یعنی تقریبا
03:48ساڑھے تین ہزار روپے مانگ رہا تھا
03:51جب ازمائش کے لئے اس گھوڑے
03:52کو مدان میں لائیا گیا تو وہ اپنی سرکشی
03:55اور شرارت سے کسی کے قابو میں
03:57نہ آیا فلپ دوم کے دربار
03:59سے منسلک تمام سائز
04:00اس کو قابو نہ کر سکے اور
04:02بڑے بڑے شاہ سوار ناکام ہو گئے
04:04جوان سالہ سکندر جو
04:06اس تمام کاروائی کو قریب سے دیکھ رہا تھا
04:09آخر بول اٹھا
04:10کہ تم لوگ اپنی کم حمتی
04:13اور نادانی سے ایک اچھا
04:15گھوڑا کھو دو گے
04:16فلپ دوم نے پہلے تو اس کی بات پر توجہوں نہ دی
04:18مگر جب اس کا اسرار بڑھا تو
04:20اسے بھی اس سرکش گھوڑے پر
04:22قابو پانے کا موقع فراہم کیا گیا
04:24سکندر نے گھوڑے کے لگام
04:26تھامتے ہی اس کا موں سورج کی طرف کر دیا
04:28دراصل وہ سمجھ چکا تھا
04:30کہ یہ گھوڑا اپنی پرچھائی سے بٹکتا ہے
04:33سکندر اس کی لگام تھام میں
04:34اسے تھوڑی دور تک لے جا کے چلا
04:36اور پھر یک بارگی جست لگا
04:38کر اس کی پشت پر سوار ہو گیا
04:40تھوڑی سی دیر میں گھوڑے کی اچھلکود
04:43اور سرکشی موقوف ہو گئی
04:44اور شاہ مکدونیا نے فخر سے
04:46سکندر کا ماتھا چوم لیا
04:48اس کے بچپن کا دوسرا واقعہ
04:50کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ
04:52فلکڈوں کی عدم موجودگی میں
04:54ایران کے کچھ سفارتکار مقدونی آئے
04:57سکندر نے ان کی مہمانداری
04:58بڑے شاندار انداز میں کی
05:00اور بڑے جہاندیتہ سفارتکاروں
05:03کے انداز میں ان سے ایسی گفتگو کی
05:05کہ وہ اس کے گرویدہ ہو گئے
05:07اور دوسری طرف سکندر نے
05:09ان کے ملک کے امطلق بہت سی اہم
05:10فوجی اور غیر فوجی معلومات بھی
05:13حاصل کر لیں
05:16سکندر کا میدان جنگ میں
05:18اترنے کا پہلا تجربہ
05:19اسے جنگ چیرونیا میں حاصل ہوا
05:22اس جنگ میں فوج کے ایک حصے کی
05:24قیادت سکندر نے کی تھی
05:25اس وقت اس کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی
05:28جولائی تین سو چھتیس قبل امسی میں
05:30جب فلپ دوم اپنی فتوحات کی خوشی میں
05:33جشن عظیم بپا کی ہوئے تھا
05:35اس سلسلے میں وہ ایک وسیع میدان میں
05:38قومی کھیلوں کا مظہرہ دیکھنے کے لیے گیا
05:40باشن عوام کی قربت حاصل کرنے کے لیے
05:42اپنی ذاتی محافظوں کو
05:44اپنے سے دور کر دیا
05:46اس موقع سے فیدہ اٹھاتے ہوئے
05:48پیوسانی آس نامی ایک شخص
05:50نے آگے بڑھ کر فلپ دوم کے
05:52سینے میں خنجر گھوم دیا
05:54جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گیا
05:56فلپ دوم کے قتل کے متعلق
05:58مورخین کی رائے مختلف ہیں
05:59کچھ کا خیال ہے کہ ملکہ لمپیاس
06:02نے اپنے شہر کو اس کی بے وفائی
06:04کا انتقام لینے کے لیے قتل کروایا
06:06کچھ کا خیال ہے کہ نئی ملکہ
06:08کلوپیترہ کے چچہ
06:10آتالوس کے ہاتھوں قاتل کو
06:11سخت تکلیف اٹھانا پڑی تھی
06:13چنانچہ آتالوس فلپ دوم کا
06:16مطمئت خاص اور سسر تھا
06:18جہادہ اس کا بدلہ قاتل نے
06:20خود فلپ دوم سے لیا
06:24فلپ دوم کی قتل کے بعد
06:25فوج اور عمراء نے بالاتفاق
06:28سکندر کو مقدونیا کے تخت پر
06:30بیٹھا دیا
06:30تخت نشینی کے وقت سکندر کی عمر
06:33صرف بیس برس تھی
06:35تخت نشینی کے بعد سکندر نے
06:37سب سے پہلا کام یہ کیا
06:38کہ ان سب رشتہ داروں کو موت
06:40گھاٹ اتار دیا
06:41جو کسی نہ کسی طرح
06:43تخت و تاج کے دعوے دار ہو سکتے تھے
06:45کہتے ہیں کہ اس نے اپنی ستیلی ماں کی
06:48ایک شیر خار بچی کو بھی زندہ نہ چھوڑا
06:55جہاں اسے اپنے باپ کی سلطنت
06:57ورسے میں ملی
06:58وہیں اس نے ایران اور ایران کے
07:00مقبوضات پر حملہ کرنے کا
07:02ارادہ بھی ورسے میں پایا
07:04مقدونیا کے داخلی امور پر
07:06دسترس حاصل کر کے
07:07سکندر نے یونان کے خارجی امور پر
07:10دوجہ دی
07:11سلطنت ایران پر حملہ کرنے سے پیش
07:13ترس ضروری تھا کہ وہ اپنے باپ کی طرح
07:15تمام یونانی ریاستوں کی قیادت
07:18حاصل کر لے
07:19انہی دنوں اتھنس کی شاہ پر
07:21تھبز نے مفوجی دستہ نکال باہر کیا
07:23جو فلپ دوم نے وہاں متعین کیا تھا
07:26ادھر پیلپونیز کے لوگوں نے بھی
07:28اعلان کیا وہ کہ سکندر کی مداخلت
07:30پسند نہیں کرتے
07:31سکندر نے کاروائی کا آغاز
07:32تھیلسلی کو اپنا ہم نواہ بنا کے کیا
07:35اہل تھیلسلی نے سکندر کے حق میں
07:38ایک قدم اور آگے بڑھایا
07:39اور خواہش ظاہر کی
07:40کہ انجمنے ہمسائیگان کے تحت
07:43سکندر کو ان کی متحدہ
07:45فواج کا سپا سلار بنا دیا جائے
07:47اس کے بعد اس نے یونان کے ساحلی
07:49علاقوں کی حمایت حاصل کر کے
07:51تھرماپولی کا رخ کیا
07:52یہاں تمام یونانی ریاستوں
07:54کا متحدہ اجلاس منقد ہوا
07:56جس میں سپاٹا کے علاوہ
07:58تمام ریاستوں کے کارندوں نے شرکت کی
08:00اس اجلاس میں متفقہ طور پر
08:03فیصلہ کیا گیا
08:04کہ یونان کی متحدہ فواج کی کمان
08:06سکندر کے سپرد کر دی ہے
08:08اس فیصلے کے بعد سکندر نے
08:10ان تمام ریاستوں کے خلاف کاروائی کی
08:11جو اس کے خلاف تھیں
08:13اس پر ایتھنج نے وہ کدام
08:15واپس لے لیے جو اس نے
08:16سکندر کے خلاف اٹھائے تھے
08:18اس کے بعد ایتھنج نے
08:19اپنا سفیر مکتونیاں بھیج کر
08:21ارادت کا اظہار کیا
08:23جب سکندر جنوبی ہمسائیوں سے
08:25اپنی تسلی کر چکا
08:26تو شمالی ہمسائیوں کی طرح متوجہ ہوا
08:28اور اس نے دوسرے سال
08:30بلکان کی ریاستوں کی ترپیش قدمی کی
08:33اور انہیں اپنا اطاعت رزار بنانے میں
08:35کامیاب رہا
08:36تین سو پیندیس قبل مسیح میں
08:38سکندر نے تھبز کا رخ کیا
08:40اور تمیز کا شہر بیوشیہ
08:42فتح کر کے وہاں کے حکمرانوں سے
08:44نرم شرائط پر صلاق کرنا چاہی
08:47وہاں کے حکمرانوں نے
08:48سکندر کی شرائط مسترد کر دی
08:50آخر سکندر نے تھبز پر حملہ کر کے
08:53اس کے چھ ہزار افراد کو
08:55تہتے کر دیا
08:56اور شہر کو زمین بوس کر دیا
08:59اس سختگیری کا انتیجہ یہ نکلا
09:01کہ سکندر کی دھاک بیٹھ گئی
09:04اور ینان کی باقی ریاستیں
09:06محتاط اور ویہ رکھنے پر
09:08مجبور ہو گئیں
09:11اس مہم سے سکندر جب لوٹ رہا تھا
09:14تو اپنی آئندہ کی
09:15مہمات ایشیا کے مطلق جاننے کے لیے
09:18ڈیلفی کے مشہور زمانہ
09:20ہاتف قدے میں حاضر ہوا
09:21سکندر کے ڈیلفی پہنچنے کا دن
09:23ایسا دن تھا جس دن وہاں کی
09:25کاہنہ پیشنگوئیاں نہیں کرتی
09:27مگر اس کے سرار پر اسے بولنا پڑا
09:30اس نے کہا کہ بیٹے
09:31تو کبھی مغلوب نہ ہوگا
09:33اور فاتح علم کہلائے گا
09:37ادھر جب ایران کے حکمران
09:39داریوش سوم کو
09:40اسکندر کی ایران پر حملہ کرنے کی
09:41رادے کے بارے میں علم ہوا
09:43تو اس نے بھی تیاریاں شروع کر دیں
09:45اور یونان ہی کے پچاس ہزار
09:47پیشاور سپائیوں کی خدمات حاصل کر لیں
09:50اپنے بحری بیڑے میں اضافہ کیا
09:52اور اپنے کی یونانی وفادار
09:54ممنون کو یونانی سپائیوں کا
09:56سپا سلار مقرر کیا
09:59ممنون نے اس سے پہلے
10:01ایران کے لیے مصر میں
10:02فوجی خدمات سر انجام دی تھی
10:04شاہران نے ممنون کو
10:06یونانی شہر سائزک کو
10:08مسخر کرنے کے لیے میسیا بھیجا
10:10اس اسنا میں
10:12سکندر اعظم کا ایک جرنیل
10:13پرمینیان ایشیا کوچے کے شہر
10:16گرینیاں پر حملہ آور ہوا
10:18یہ حملہ سکندر کی
10:20ایشیای مہم کے پیش خیمہ
10:22کے طور پر کیا گیا
10:35موسیقی
10:37موسیقی
Comments

Recommended