00:00رات کی تاریکی میں مقدونیاں کا محل لرز رہا تھا
00:04ستونوں کے سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے
00:07اور تخت خالی کھڑا تھا
00:10جیسے کسی منتظر تقدیر کا راز چھپا ہو
00:16اچانک قدموں کی چاپ گنجی
00:18اور حال میں ایک نوجوان داخل ہوا
00:21چہرے پر اعتماد آنکھوں میں توفان
00:25یہ تھا سکندر
00:30لیکن کیا یہ صرف ایک تاج پوشی تھی
00:33یا پھر ایک ایسی کہانی کا آغاز
00:35جو صدیوں تک دنیا کو اپنے سائے میں رکھے گی
00:39تاریخ کی سانسیں تھم گئیں
00:42لمحہ فیصلہ کن تھا
00:45آنے والا وقت کس کا ہوگا
00:47دنیا کا یا سکندر عظم کا
01:22تاریخ کی اوراک میں دنیا کی عظیم اور قدیم شخصیات کے گرد
01:26افسانمی دھندل کے چھائے ہوئے ملتے ہیں
01:29جن کی وجہ سے ان شخصیتوں کے سئی حالات جاننا مشکل ہوتا ہے
01:35سکندر عظم بھی دنیا قدیم کی ایک ایسی ہی شخصیت ہے
01:38اس کے متعلق بعض قدیم اور رخین نے
01:41تو یہاں تک لکھ دیا ہے
01:43کہ مشہور یونانی دیوتا
01:45زیوس نے سکندر عظم کی شکل میں جنم لیا تھا
01:52بعض مسلم اور رخین نے جن میں ابن تاثیر اور نظام گنجوی شامل ہیں
01:57سکندر عظم کو قرآن کریم میں ذکر کیا جانے والا حکمران
02:01سکندر ذلقرنین قرار دیا ہے
02:04جبکہ فردوسی نے اپنے شاہ نامہ میں
02:07اس ایرانی بادشاہ داریوش یا دارہ عظم کا بیٹا بتایا ہے
02:12بہرحال مقدونیا کی تاریخ مطابق
02:15سکندر عظم وہاں کے
02:17الیکزنڈر نام کے تین حکمرانوں میں سے تیسرا تھا
02:24سکندر عظم 356 قبل مسیح میں
02:26فلپ دوم اور ملکہ علمپیاز کے ہاں
02:29پہلا میں پیدا ہوا
02:31فلپ دوم کی عرضو تھی
02:32کہ وہ مقدونیا کو دنیا کی عظیم ترین سلطنت منا دے
02:37اسے امید تھی کہ وہ اپنی زندگی میں
02:39اپنی اس عرضو کی تکمیل نہ کر سکا
02:42تو اس کا بیٹا سکندر
02:43اس کے خواب کو ضرور شرمندہ تعبیر کرے گا
02:47اس مقصد کو سامنے رکھ کر
02:49سکندر کی تعلیم و تربیت پر خاصت وجودی گئی
02:52کم سنی میں ایک دانشمند لیونیندس
02:56اس کی پرورش و تربیت کے لیے
02:58نگران خاص مقرر کیا گیا
03:00جب سکندر نے ہوشمندی حاصل کی
03:02تو فلپ دوم نے مشہور زمانہ
03:05یونانی فلسفی عرستو کو
03:07اس کا آتعلیق مقرر کیا
03:10عرستو نے صرف و نحب طبییات
03:12اور علوم فلسفہ اسے سکھائے
03:14ساتھ ہی ساتھ اس کی جسمانی
03:16اور اسکری تربیت بھی
03:18اعلی خطوط پر کی گئی
03:20ہونہار بردہ کے چکنے چکنے پات کے مستاق
03:24سکندر کی قبال مندی
03:25اس کے بچپن سے ہی ظاہر ہونے لگی تھی
03:27اس سلسلے میں
03:29مررخین نے اس کے بچپن کے
03:30کچھ واقعات درج کیے ہیں
03:32جن میں سے اچھیے ہیں
03:34ایک دفعہ
03:36تھسلی کے ایک فیلونی نامی باشندے نے
03:38شاہ فلپ دوم کے دربار میں
03:40ایک شاندار گھوڑا پیش کیا
03:42جس کا نام موس فالس تھا
03:45وہ اس گھوڑے کی قیمت
03:46تیرہ ٹیلنٹ یعنی تقریبا
03:48ساڑھے تین ہزار روپے مانگ رہا تھا
03:51جب ازمائش کے لئے اس گھوڑے
03:52کو مدان میں لائیا گیا تو وہ اپنی سرکشی
03:55اور شرارت سے کسی کے قابو میں
03:57نہ آیا فلپ دوم کے دربار
03:59سے منسلک تمام سائز
04:00اس کو قابو نہ کر سکے اور
04:02بڑے بڑے شاہ سوار ناکام ہو گئے
04:04جوان سالہ سکندر جو
04:06اس تمام کاروائی کو قریب سے دیکھ رہا تھا
04:09آخر بول اٹھا
04:10کہ تم لوگ اپنی کم حمتی
04:13اور نادانی سے ایک اچھا
04:15گھوڑا کھو دو گے
04:16فلپ دوم نے پہلے تو اس کی بات پر توجہوں نہ دی
04:18مگر جب اس کا اسرار بڑھا تو
04:20اسے بھی اس سرکش گھوڑے پر
04:22قابو پانے کا موقع فراہم کیا گیا
04:24سکندر نے گھوڑے کے لگام
04:26تھامتے ہی اس کا موں سورج کی طرف کر دیا
04:28دراصل وہ سمجھ چکا تھا
04:30کہ یہ گھوڑا اپنی پرچھائی سے بٹکتا ہے
04:33سکندر اس کی لگام تھام میں
04:34اسے تھوڑی دور تک لے جا کے چلا
04:36اور پھر یک بارگی جست لگا
04:38کر اس کی پشت پر سوار ہو گیا
04:40تھوڑی سی دیر میں گھوڑے کی اچھلکود
04:43اور سرکشی موقوف ہو گئی
04:44اور شاہ مکدونیا نے فخر سے
04:46سکندر کا ماتھا چوم لیا
04:48اس کے بچپن کا دوسرا واقعہ
04:50کچھ یوں ہے کہ ایک مرتبہ
04:52فلکڈوں کی عدم موجودگی میں
04:54ایران کے کچھ سفارتکار مقدونی آئے
04:57سکندر نے ان کی مہمانداری
04:58بڑے شاندار انداز میں کی
05:00اور بڑے جہاندیتہ سفارتکاروں
05:03کے انداز میں ان سے ایسی گفتگو کی
05:05کہ وہ اس کے گرویدہ ہو گئے
05:07اور دوسری طرف سکندر نے
05:09ان کے ملک کے امطلق بہت سی اہم
05:10فوجی اور غیر فوجی معلومات بھی
05:13حاصل کر لیں
05:16سکندر کا میدان جنگ میں
05:18اترنے کا پہلا تجربہ
05:19اسے جنگ چیرونیا میں حاصل ہوا
05:22اس جنگ میں فوج کے ایک حصے کی
05:24قیادت سکندر نے کی تھی
05:25اس وقت اس کی عمر صرف اٹھارہ سال تھی
05:28جولائی تین سو چھتیس قبل امسی میں
05:30جب فلپ دوم اپنی فتوحات کی خوشی میں
05:33جشن عظیم بپا کی ہوئے تھا
05:35اس سلسلے میں وہ ایک وسیع میدان میں
05:38قومی کھیلوں کا مظہرہ دیکھنے کے لیے گیا
05:40باشن عوام کی قربت حاصل کرنے کے لیے
05:42اپنی ذاتی محافظوں کو
05:44اپنے سے دور کر دیا
05:46اس موقع سے فیدہ اٹھاتے ہوئے
05:48پیوسانی آس نامی ایک شخص
05:50نے آگے بڑھ کر فلپ دوم کے
05:52سینے میں خنجر گھوم دیا
05:54جس سے وہ موقع پر ہلاک ہو گیا
05:56فلپ دوم کے قتل کے متعلق
05:58مورخین کی رائے مختلف ہیں
05:59کچھ کا خیال ہے کہ ملکہ لمپیاس
06:02نے اپنے شہر کو اس کی بے وفائی
06:04کا انتقام لینے کے لیے قتل کروایا
06:06کچھ کا خیال ہے کہ نئی ملکہ
06:08کلوپیترہ کے چچہ
06:10آتالوس کے ہاتھوں قاتل کو
06:11سخت تکلیف اٹھانا پڑی تھی
06:13چنانچہ آتالوس فلپ دوم کا
06:16مطمئت خاص اور سسر تھا
06:18جہادہ اس کا بدلہ قاتل نے
06:20خود فلپ دوم سے لیا
06:24فلپ دوم کی قتل کے بعد
06:25فوج اور عمراء نے بالاتفاق
06:28سکندر کو مقدونیا کے تخت پر
06:30بیٹھا دیا
06:30تخت نشینی کے وقت سکندر کی عمر
06:33صرف بیس برس تھی
06:35تخت نشینی کے بعد سکندر نے
06:37سب سے پہلا کام یہ کیا
06:38کہ ان سب رشتہ داروں کو موت
06:40گھاٹ اتار دیا
06:41جو کسی نہ کسی طرح
06:43تخت و تاج کے دعوے دار ہو سکتے تھے
06:45کہتے ہیں کہ اس نے اپنی ستیلی ماں کی
06:48ایک شیر خار بچی کو بھی زندہ نہ چھوڑا
06:55جہاں اسے اپنے باپ کی سلطنت
06:57ورسے میں ملی
06:58وہیں اس نے ایران اور ایران کے
07:00مقبوضات پر حملہ کرنے کا
07:02ارادہ بھی ورسے میں پایا
07:04مقدونیا کے داخلی امور پر
07:06دسترس حاصل کر کے
07:07سکندر نے یونان کے خارجی امور پر
07:10دوجہ دی
07:11سلطنت ایران پر حملہ کرنے سے پیش
07:13ترس ضروری تھا کہ وہ اپنے باپ کی طرح
07:15تمام یونانی ریاستوں کی قیادت
07:18حاصل کر لے
07:19انہی دنوں اتھنس کی شاہ پر
07:21تھبز نے مفوجی دستہ نکال باہر کیا
07:23جو فلپ دوم نے وہاں متعین کیا تھا
07:26ادھر پیلپونیز کے لوگوں نے بھی
07:28اعلان کیا وہ کہ سکندر کی مداخلت
07:30پسند نہیں کرتے
07:31سکندر نے کاروائی کا آغاز
07:32تھیلسلی کو اپنا ہم نواہ بنا کے کیا
07:35اہل تھیلسلی نے سکندر کے حق میں
07:38ایک قدم اور آگے بڑھایا
07:39اور خواہش ظاہر کی
07:40کہ انجمنے ہمسائیگان کے تحت
07:43سکندر کو ان کی متحدہ
07:45فواج کا سپا سلار بنا دیا جائے
07:47اس کے بعد اس نے یونان کے ساحلی
07:49علاقوں کی حمایت حاصل کر کے
07:51تھرماپولی کا رخ کیا
07:52یہاں تمام یونانی ریاستوں
07:54کا متحدہ اجلاس منقد ہوا
07:56جس میں سپاٹا کے علاوہ
07:58تمام ریاستوں کے کارندوں نے شرکت کی
08:00اس اجلاس میں متفقہ طور پر
08:03فیصلہ کیا گیا
08:04کہ یونان کی متحدہ فواج کی کمان
08:06سکندر کے سپرد کر دی ہے
08:08اس فیصلے کے بعد سکندر نے
08:10ان تمام ریاستوں کے خلاف کاروائی کی
08:11جو اس کے خلاف تھیں
08:13اس پر ایتھنج نے وہ کدام
08:15واپس لے لیے جو اس نے
08:16سکندر کے خلاف اٹھائے تھے
08:18اس کے بعد ایتھنج نے
08:19اپنا سفیر مکتونیاں بھیج کر
08:21ارادت کا اظہار کیا
08:23جب سکندر جنوبی ہمسائیوں سے
08:25اپنی تسلی کر چکا
08:26تو شمالی ہمسائیوں کی طرح متوجہ ہوا
08:28اور اس نے دوسرے سال
08:30بلکان کی ریاستوں کی ترپیش قدمی کی
08:33اور انہیں اپنا اطاعت رزار بنانے میں
08:35کامیاب رہا
08:36تین سو پیندیس قبل مسیح میں
08:38سکندر نے تھبز کا رخ کیا
08:40اور تمیز کا شہر بیوشیہ
08:42فتح کر کے وہاں کے حکمرانوں سے
08:44نرم شرائط پر صلاق کرنا چاہی
08:47وہاں کے حکمرانوں نے
08:48سکندر کی شرائط مسترد کر دی
08:50آخر سکندر نے تھبز پر حملہ کر کے
08:53اس کے چھ ہزار افراد کو
08:55تہتے کر دیا
08:56اور شہر کو زمین بوس کر دیا
08:59اس سختگیری کا انتیجہ یہ نکلا
09:01کہ سکندر کی دھاک بیٹھ گئی
09:04اور ینان کی باقی ریاستیں
09:06محتاط اور ویہ رکھنے پر
09:08مجبور ہو گئیں
09:11اس مہم سے سکندر جب لوٹ رہا تھا
09:14تو اپنی آئندہ کی
09:15مہمات ایشیا کے مطلق جاننے کے لیے
09:18ڈیلفی کے مشہور زمانہ
09:20ہاتف قدے میں حاضر ہوا
09:21سکندر کے ڈیلفی پہنچنے کا دن
09:23ایسا دن تھا جس دن وہاں کی
09:25کاہنہ پیشنگوئیاں نہیں کرتی
09:27مگر اس کے سرار پر اسے بولنا پڑا
09:30اس نے کہا کہ بیٹے
09:31تو کبھی مغلوب نہ ہوگا
09:33اور فاتح علم کہلائے گا
09:37ادھر جب ایران کے حکمران
09:39داریوش سوم کو
09:40اسکندر کی ایران پر حملہ کرنے کی
09:41رادے کے بارے میں علم ہوا
09:43تو اس نے بھی تیاریاں شروع کر دیں
09:45اور یونان ہی کے پچاس ہزار
09:47پیشاور سپائیوں کی خدمات حاصل کر لیں
09:50اپنے بحری بیڑے میں اضافہ کیا
09:52اور اپنے کی یونانی وفادار
09:54ممنون کو یونانی سپائیوں کا
09:56سپا سلار مقرر کیا
09:59ممنون نے اس سے پہلے
10:01ایران کے لیے مصر میں
10:02فوجی خدمات سر انجام دی تھی
10:04شاہران نے ممنون کو
10:06یونانی شہر سائزک کو
10:08مسخر کرنے کے لیے میسیا بھیجا
10:10اس اسنا میں
10:12سکندر اعظم کا ایک جرنیل
10:13پرمینیان ایشیا کوچے کے شہر
10:16گرینیاں پر حملہ آور ہوا
10:18یہ حملہ سکندر کی
10:20ایشیای مہم کے پیش خیمہ
10:22کے طور پر کیا گیا
10:35موسیقی
10:37موسیقی
Comments