00:00یہ سال ہے تین سو اٹیس قبل مسیح
00:03چہرونیا کے میدان پر گروبِ آفتاب کی سرخ روشنی پھیل رہی ہے
00:08دھول پڑ رہی ہے
00:10زمین لرز رہی ہے
00:13اور فضاء میں موت کی بو رچ بس گئی ہے
00:17ایک طرف ایتھنس اور تھبز کی عظیم افواج
00:21جو آزادی کے آخری محافظ ہیں
00:23دوسری طرف مکدونیا کا اہنی سیلاب فلپ دوم کی قیادت میں
00:29اور اس کے پہلو میں ایک کم عمر شہزادہ
00:32آنکھوں میں بجلی کی چمک
00:34جسے دنیا آنے والے وقت میں سکندرِ آزم کہے گی
00:39نیزے ٹکرانے کو ہیں
00:41ڈھالے بجنے کو ہیں
00:43تاریخ کا پیہ رکنے والا ہے
00:45اور پھر پلٹ کر کبھی ویسا نہ ہوگا
00:48یہ جنگ صرف یونان کے شہروں کے درمیان نہیں
00:51یہ وقت اور تقدیر کے درمیان ٹکراؤ ہے
00:55یہ وہ لمحہ ہے
00:57جب یونانی ازادی ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی
01:01اور ایک نئی سلطنت کا سورج تلو ہوگا
01:04یہ ہے چہرونیا کی جنگ
01:32سیاسی سفارتی اور جنگی میدانوں میں مکتونوی بادشاہ فلپ دوم کی کامیابی ہے
01:38یونان کی دیگر شہری ریاستوں کے لیے تشویش کا باعث تھی
01:42اس زمانے میں ڈیموس تینیز ایتھنز کے ایک مشہور خطیب نے فلپ کو اپنی مشہور تقاریر میں جو فلپیان کہلاتی
01:51ہیں
01:51یونانی جمہوریت اور یونانی شہری ریاستوں کا دشمن خاص قرار دیا اور اپنے ہم وطنوں کو فلپ کے خلاف جنگ
01:59پر امادہ کر لیا
02:06ادھر ریاست تھیبز نے مکدونیا کے خلاف ایتھنز سے اتحاد کر لیا
02:10ایتھنز نے مکدونیا کے خلاف اپنے اس حلیف کو بہت سی خصوصی مراعات دیں
02:15اور اعلان کیا کہ مکدونیا کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا ایک تہائی خرچہ وہ خود برداشت کرے گا
02:22ایتھنز اور تھیبز کے اس بہمی معاہدے سے ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی
02:27اور اگر یونان کی دوسری شہری ریاستیں بھی اس اتحاد میں شامل ہو جاتی
02:31تو اغلب امکان دیئے تھا کہ فلپ کی پیش قدمی روک لیتی
02:37سپارٹا، میڈیا، آرکیڈ اور آرگوس، ایتھنز اور مکدونیا کے معاملے سے الگ تھلگ رہی
02:48موسم بہار تین سو اٹیس قبل مسیح میں اہل ایتھنز نے نیموستینیز کو اس کے مکدونیا کے خلاف
02:54تقاریر کرنے کے انعام میں ایک خصوصی تلائی گھیرہ پہنایا
03:00اس موقع پر شاہ مکدونیا نے ایتھنز اور تھیبز سے صلح کی کوشش کی
03:04مگر ڈیموستینیز نے دونوں مملکتوں میں جنگ کو ناگزیر کر دیا
03:10بلاخر فریقین کے مبین چیرونیا مغربی بیوشیا کے مقام پر
03:16اگس سبتمبر تین سو اٹیس قبل مسیح میں ایک فیصلہ کن جنگ لڑی گئی
03:21فلپ کی فوج تیس ہزار پیادوں اور کمز کم دو ہزار سواروں پر مشتمل تھی
03:27گو اتحادی افواہ اتداد میں اس کی فوج سے زیادہ تھی
03:31مگر اس کے مقابلے میں فلپ کی جنگی چالے
03:34اور تجربہ کاری یقتہ تھی
03:37اس کے سپاہی اور سالار بھی نہائیت قابل تھے
03:40جبکہ اس کے مقابل فوج سب کی سب شہریوں اور ناتجربہ کاروں پر مشتمل تھی
03:46جو آزادی اور حریت کے جذبے سے سرشار تھے
03:50ان میں تھیبز والوں کی حمد بردانگی اور شجاعت ضرب المثل تھی
03:55اہل تھیبز میں تین سو سپائیں پر مشتمل ایک ایسا دستہ بھی تھا
04:00جس کا مقصد صرف مرنا یا مار دینا تھا
04:03یہ فہوی تقریباً تین سو اٹھتر قبل مصیح میں
04:07تھیبز کے جنرل گارجی داس نے بنائی تھی
04:10یہ سپاہی صرف ایک سو پچاس جوڑوں پر مشتمل تھے
04:14یونانی فلسفے کے مطابق
04:16اگر ایک سپاہی چاہے وہ اپنے محبوب کے ساتھ ہی کیوں نہ لڑ رہا ہو
04:20تو وہ شرم یا خوف کی وجہ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا
04:24بلکہ آخری دم تک لڑے گا
04:26یہ سپاہی انتہائی سخت تربیت یافتہ
04:30اور ہمیشہ آگلی صفوں میں موجود رہتے
04:33ان کا مقصد تھا کہ یا تو دشمن کو شکست دیں
04:36یا پھر خود لڑتے لڑتے مارے جائیں
04:38اس لئے انہیں یونانی دنیا کی سب سے بہادر
04:41اور نقابل شکست فوجی یونٹ سمجھا جاتا تھا
04:45ان کو سیکرٹ بینٹ آف تھپس کہا جاتا تھا
04:51اسی یونٹ نے لیکٹرا کی جنگ میں
04:53تین سو اکتر قبل مصیح میں
04:55سپارٹا کی نقابل شکست فوج کو شکست دی
04:58اور پہلی بار سپارٹا کے قرور کو توڑ ڈالا
05:02جو اس وقت یونان کی سب سے طاقتور فوجی ریاست تھی
05:06جب فلپ دوم اور سکندر اعظم نے
05:08تھپس اور ایتھنس کے اتحاد کو چیرونیا میں شکست دی
05:12تو اسی جنگ میں یہ سیکرٹ بینڈ آف تھپس
05:15آخری دم تک ڈٹا رہا
05:17یہ تین سو کے تین سو سپاہی جنگ میں مارے گئے
05:21لیکن کسی نے پسپائی اختیار نہیں کی
05:24روایت کے مطابق سکندر اعظم نے ان کی بہادری دیکھ کر کہا تھا
05:29یہ لوگ مرے ہیں مگر شکست نہیں کھائی
05:32ان کی قبریں آج بھی چیرونیا کے میدان میں موجود ہیں
05:36جسے لائن آف چیرونیا کی یادگار کے نام سے جانا جاتا ہے
05:40دوران جنگ اس دستے کو فلپ کے جوان سال بیٹے سکندر نے
05:44اکیلے ہی تہہ تے کر دیا تھا
05:50اب آتے ہیں دوبارہ میدان جنگ کے احوال کی طرف
05:53ایتھنز والوں کی افواج بھی تین کابل سپاہ سالاروں کے ماتحت تھی
05:57ابتدا میں ایتھنز کے میسرہ نے فلپ کی افواج کو شکست دی
06:01لیکن دوسری طرف سکندر تھپزیوں پر غالب آ گیا
06:05جب لڑائی میں سیکرٹ بینڈ کے تمام سپاہی لڑتے ہوئے مارے گئے
06:10تو اتحادی افواج میں کھلبلی مچ گئی
06:12اور پورا لشکر الٹے قدموں بھاگ اٹھا
06:15کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں ایک ہزار ایتھنز کے فوجی مرے گئے
06:19اور دو ہزار گرفتار ہوئے
06:21اس جنگ میں ایتھنز کے خطیب اعظم ڈیموس تینیز نے بھی
06:25ایک معمولی سپاہی کی حیثیت سے حصہ لیا
06:28چنانچہ پسپاہی کے دوران وہ بجائے زور خطابت سے
06:32اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے خود بھی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا
06:40جنگ چہرونیا میں یونانی قوم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ
06:43ایک موروسی بادشاہ نے اول درجہ کی یونانی شہری مملکتوں کو شکست دی
06:49لیکن یہ شکست ایسی تھی کہ مغلوب فریق کے لیے بھی اتنی ہی سود مند رہی
06:54جتنی فتح مند فلپ کے لیے
06:57یونانی ذتو وقار کو قائم رکھنے کے لیے
07:00تھبزیوں اور ان کے حلیفوں کی قبروں پر جو جنگ میں کام آئے تھے
07:04سنگ مرمر کا ایک شیر نصب کیا گیا
07:06جس کے بعض ٹکڑے اب تک محفوظ ہیں
07:09انیس سو پانچ میں اس مقام پر اسی طرح کا ایک شیر دوبارہ نصب کر دیا گیا ہے
07:15جنگ کے بعد فلپ نے ایتھنز کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی
07:19البتہ تھبز کا محاصرہ کر کے اسے ختم کر دیا
07:22نوجوان سکندر اور انٹی پاتاری کو ایتھنز روانہ کیا
07:27تاکہ ایتھنز کو سلح کی شرائط پیش کی جائیں
07:30ان شرائط میں بتایا گیا کہ ایتھنز حسب سابق آزاد رہے گا
07:34اور زائر ساموس اور دیلوس وغیرہ پر قابض بھی رہے گا
07:38یہاں تک فلپ نے ایل ایتھنز کو
07:41تھبزی مالگ نیمت میں سے حصہ بھی دیا
07:43اور کہا کہ آئندہ مقدونیاں اسے اپنا حلیف تصور کرے گا
07:50ایتھنز کے لیے سلح کی یہ شرائط باعث تعجب و حیرت تھی
07:53کہ ایک فاتح اپنے مفتوحین سے ایسا سلوک بھی کر سکتا ہے
07:59ڈیموستینیز کی مخالفت کے باوجود
08:01ایتھنز والوں نے یہ شرائط قبول کر لی
08:03بلکہ اظہار تشکر کے طور پر
08:06فلپ کو حق شہریت عطا کیا
08:08اور سر بازار اس کا ایک مجسمہ بھی نصف کرا دیا
08:15ایتھنز کو اعتماد میں لینے کے بعد
08:17فلپ نوم نے تمام یونانی ریاستوں کو دعوت دے کر
08:20ایک نئی لیگ یا انجمنے ہمسائیگان قیم کی
08:24جس کا نصف الاین یہ قرار پایا
08:27کہ اس لیگ کی رہبری بھی تمام یونانی مقدونیوں کے ساتھ
08:31ایران پر اسے ان حرکات کی سزا دینے کے لیے فوج کشی کریں گے
08:36جو ایران سے یونان پر حملہ کے دوران
08:39یونانی عبادتگاہوں کو نجس کرنے میں سرزد ہوئی تھی
08:43537 قبل مسیح میں کورنت کے مقام پر لیگ کا دوسرا ایجلاس منقد ہوا
08:49جس میں بقاعدہ ایران کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا
08:53اور فلپ نے اپنے ایک جرنیل کو ایشیا پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا
09:03اس درانے ایک محلاتی سازش کے انکشاہ پر
09:06فلپ نے اپنی ملکہ اولمپیاس اور اپنے بیٹے سکندر کو
09:11اپنے دارل حکومت پہلا سے جلا وطن کر دیا
09:14لیکن باپ اور بیٹا ایک دوسرے سے زیادہ دیر تک جدا نہ رہ سکے
09:18اور جلد ہی دونوں کے معوین صلاح ہو گئی
09:26موسیقی
Comments