Skip to playerSkip to main content
Step into the dramatic history of 338 BC, when the mighty Sacred Band of Thebes faced their ultimate challenge at the Battle of Chaeronea. This do-or-die unit, made of 300 elite warriors, fought bravely against Philip II of Macedon and his young son Alexander the Great.

In this video, we uncover:

The formation and courage of the Sacred Band of Thebes.

How Macedonian phalanx tactics changed ancient warfare forever.

The emotional and tragic last stand of the Thebans.

The rise of Alexander the Great as a military genius.

This was not just a battle—it was a turning point in Greek history.
🔥 Watch till the end to feel the suspense, heroism, and tragedy of this forgotten war.
#history #ancientgreece #BattleOfChaeronea #SacredBand #alexanderthegreat #greekhistory #epicbattles

Category

📚
Learning
Transcript
00:00یہ سال ہے تین سو اٹیس قبل مسیح
00:03چہرونیا کے میدان پر گروبِ آفتاب کی سرخ روشنی پھیل رہی ہے
00:08دھول پڑ رہی ہے
00:10زمین لرز رہی ہے
00:13اور فضاء میں موت کی بو رچ بس گئی ہے
00:17ایک طرف ایتھنس اور تھبز کی عظیم افواج
00:21جو آزادی کے آخری محافظ ہیں
00:23دوسری طرف مکدونیا کا اہنی سیلاب فلپ دوم کی قیادت میں
00:29اور اس کے پہلو میں ایک کم عمر شہزادہ
00:32آنکھوں میں بجلی کی چمک
00:34جسے دنیا آنے والے وقت میں سکندرِ آزم کہے گی
00:39نیزے ٹکرانے کو ہیں
00:41ڈھالے بجنے کو ہیں
00:43تاریخ کا پیہ رکنے والا ہے
00:45اور پھر پلٹ کر کبھی ویسا نہ ہوگا
00:48یہ جنگ صرف یونان کے شہروں کے درمیان نہیں
00:51یہ وقت اور تقدیر کے درمیان ٹکراؤ ہے
00:55یہ وہ لمحہ ہے
00:57جب یونانی ازادی ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے گی
01:01اور ایک نئی سلطنت کا سورج تلو ہوگا
01:04یہ ہے چہرونیا کی جنگ
01:32سیاسی سفارتی اور جنگی میدانوں میں مکتونوی بادشاہ فلپ دوم کی کامیابی ہے
01:38یونان کی دیگر شہری ریاستوں کے لیے تشویش کا باعث تھی
01:42اس زمانے میں ڈیموس تینیز ایتھنز کے ایک مشہور خطیب نے فلپ کو اپنی مشہور تقاریر میں جو فلپیان کہلاتی
01:51ہیں
01:51یونانی جمہوریت اور یونانی شہری ریاستوں کا دشمن خاص قرار دیا اور اپنے ہم وطنوں کو فلپ کے خلاف جنگ
01:59پر امادہ کر لیا
02:06ادھر ریاست تھیبز نے مکدونیا کے خلاف ایتھنز سے اتحاد کر لیا
02:10ایتھنز نے مکدونیا کے خلاف اپنے اس حلیف کو بہت سی خصوصی مراعات دیں
02:15اور اعلان کیا کہ مکدونیا کے خلاف لڑی جانے والی جنگ کا ایک تہائی خرچہ وہ خود برداشت کرے گا
02:22ایتھنز اور تھیبز کے اس بہمی معاہدے سے ایک نئی صورتحال پیدا ہو گئی
02:27اور اگر یونان کی دوسری شہری ریاستیں بھی اس اتحاد میں شامل ہو جاتی
02:31تو اغلب امکان دیئے تھا کہ فلپ کی پیش قدمی روک لیتی
02:37سپارٹا، میڈیا، آرکیڈ اور آرگوس، ایتھنز اور مکدونیا کے معاملے سے الگ تھلگ رہی
02:48موسم بہار تین سو اٹیس قبل مسیح میں اہل ایتھنز نے نیموستینیز کو اس کے مکدونیا کے خلاف
02:54تقاریر کرنے کے انعام میں ایک خصوصی تلائی گھیرہ پہنایا
03:00اس موقع پر شاہ مکدونیا نے ایتھنز اور تھیبز سے صلح کی کوشش کی
03:04مگر ڈیموستینیز نے دونوں مملکتوں میں جنگ کو ناگزیر کر دیا
03:10بلاخر فریقین کے مبین چیرونیا مغربی بیوشیا کے مقام پر
03:16اگس سبتمبر تین سو اٹیس قبل مسیح میں ایک فیصلہ کن جنگ لڑی گئی
03:21فلپ کی فوج تیس ہزار پیادوں اور کمز کم دو ہزار سواروں پر مشتمل تھی
03:27گو اتحادی افواہ اتداد میں اس کی فوج سے زیادہ تھی
03:31مگر اس کے مقابلے میں فلپ کی جنگی چالے
03:34اور تجربہ کاری یقتہ تھی
03:37اس کے سپاہی اور سالار بھی نہائیت قابل تھے
03:40جبکہ اس کے مقابل فوج سب کی سب شہریوں اور ناتجربہ کاروں پر مشتمل تھی
03:46جو آزادی اور حریت کے جذبے سے سرشار تھے
03:50ان میں تھیبز والوں کی حمد بردانگی اور شجاعت ضرب المثل تھی
03:55اہل تھیبز میں تین سو سپائیں پر مشتمل ایک ایسا دستہ بھی تھا
04:00جس کا مقصد صرف مرنا یا مار دینا تھا
04:03یہ فہوی تقریباً تین سو اٹھتر قبل مصیح میں
04:07تھیبز کے جنرل گارجی داس نے بنائی تھی
04:10یہ سپاہی صرف ایک سو پچاس جوڑوں پر مشتمل تھے
04:14یونانی فلسفے کے مطابق
04:16اگر ایک سپاہی چاہے وہ اپنے محبوب کے ساتھ ہی کیوں نہ لڑ رہا ہو
04:20تو وہ شرم یا خوف کی وجہ سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا
04:24بلکہ آخری دم تک لڑے گا
04:26یہ سپاہی انتہائی سخت تربیت یافتہ
04:30اور ہمیشہ آگلی صفوں میں موجود رہتے
04:33ان کا مقصد تھا کہ یا تو دشمن کو شکست دیں
04:36یا پھر خود لڑتے لڑتے مارے جائیں
04:38اس لئے انہیں یونانی دنیا کی سب سے بہادر
04:41اور نقابل شکست فوجی یونٹ سمجھا جاتا تھا
04:45ان کو سیکرٹ بینٹ آف تھپس کہا جاتا تھا
04:51اسی یونٹ نے لیکٹرا کی جنگ میں
04:53تین سو اکتر قبل مصیح میں
04:55سپارٹا کی نقابل شکست فوج کو شکست دی
04:58اور پہلی بار سپارٹا کے قرور کو توڑ ڈالا
05:02جو اس وقت یونان کی سب سے طاقتور فوجی ریاست تھی
05:06جب فلپ دوم اور سکندر اعظم نے
05:08تھپس اور ایتھنس کے اتحاد کو چیرونیا میں شکست دی
05:12تو اسی جنگ میں یہ سیکرٹ بینڈ آف تھپس
05:15آخری دم تک ڈٹا رہا
05:17یہ تین سو کے تین سو سپاہی جنگ میں مارے گئے
05:21لیکن کسی نے پسپائی اختیار نہیں کی
05:24روایت کے مطابق سکندر اعظم نے ان کی بہادری دیکھ کر کہا تھا
05:29یہ لوگ مرے ہیں مگر شکست نہیں کھائی
05:32ان کی قبریں آج بھی چیرونیا کے میدان میں موجود ہیں
05:36جسے لائن آف چیرونیا کی یادگار کے نام سے جانا جاتا ہے
05:40دوران جنگ اس دستے کو فلپ کے جوان سال بیٹے سکندر نے
05:44اکیلے ہی تہہ تے کر دیا تھا
05:50اب آتے ہیں دوبارہ میدان جنگ کے احوال کی طرف
05:53ایتھنز والوں کی افواج بھی تین کابل سپاہ سالاروں کے ماتحت تھی
05:57ابتدا میں ایتھنز کے میسرہ نے فلپ کی افواج کو شکست دی
06:01لیکن دوسری طرف سکندر تھپزیوں پر غالب آ گیا
06:05جب لڑائی میں سیکرٹ بینڈ کے تمام سپاہی لڑتے ہوئے مارے گئے
06:10تو اتحادی افواج میں کھلبلی مچ گئی
06:12اور پورا لشکر الٹے قدموں بھاگ اٹھا
06:15کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں ایک ہزار ایتھنز کے فوجی مرے گئے
06:19اور دو ہزار گرفتار ہوئے
06:21اس جنگ میں ایتھنز کے خطیب اعظم ڈیموس تینیز نے بھی
06:25ایک معمولی سپاہی کی حیثیت سے حصہ لیا
06:28چنانچہ پسپاہی کے دوران وہ بجائے زور خطابت سے
06:32اپنی قوم کا حوصلہ بڑھانے کے خود بھی میدان جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا
06:40جنگ چہرونیا میں یونانی قوم کی تاریخ میں پہلی مرتبہ
06:43ایک موروسی بادشاہ نے اول درجہ کی یونانی شہری مملکتوں کو شکست دی
06:49لیکن یہ شکست ایسی تھی کہ مغلوب فریق کے لیے بھی اتنی ہی سود مند رہی
06:54جتنی فتح مند فلپ کے لیے
06:57یونانی ذتو وقار کو قائم رکھنے کے لیے
07:00تھبزیوں اور ان کے حلیفوں کی قبروں پر جو جنگ میں کام آئے تھے
07:04سنگ مرمر کا ایک شیر نصب کیا گیا
07:06جس کے بعض ٹکڑے اب تک محفوظ ہیں
07:09انیس سو پانچ میں اس مقام پر اسی طرح کا ایک شیر دوبارہ نصب کر دیا گیا ہے
07:15جنگ کے بعد فلپ نے ایتھنز کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی
07:19البتہ تھبز کا محاصرہ کر کے اسے ختم کر دیا
07:22نوجوان سکندر اور انٹی پاتاری کو ایتھنز روانہ کیا
07:27تاکہ ایتھنز کو سلح کی شرائط پیش کی جائیں
07:30ان شرائط میں بتایا گیا کہ ایتھنز حسب سابق آزاد رہے گا
07:34اور زائر ساموس اور دیلوس وغیرہ پر قابض بھی رہے گا
07:38یہاں تک فلپ نے ایل ایتھنز کو
07:41تھبزی مالگ نیمت میں سے حصہ بھی دیا
07:43اور کہا کہ آئندہ مقدونیاں اسے اپنا حلیف تصور کرے گا
07:50ایتھنز کے لیے سلح کی یہ شرائط باعث تعجب و حیرت تھی
07:53کہ ایک فاتح اپنے مفتوحین سے ایسا سلوک بھی کر سکتا ہے
07:59ڈیموستینیز کی مخالفت کے باوجود
08:01ایتھنز والوں نے یہ شرائط قبول کر لی
08:03بلکہ اظہار تشکر کے طور پر
08:06فلپ کو حق شہریت عطا کیا
08:08اور سر بازار اس کا ایک مجسمہ بھی نصف کرا دیا
08:15ایتھنز کو اعتماد میں لینے کے بعد
08:17فلپ نوم نے تمام یونانی ریاستوں کو دعوت دے کر
08:20ایک نئی لیگ یا انجمنے ہمسائیگان قیم کی
08:24جس کا نصف الاین یہ قرار پایا
08:27کہ اس لیگ کی رہبری بھی تمام یونانی مقدونیوں کے ساتھ
08:31ایران پر اسے ان حرکات کی سزا دینے کے لیے فوج کشی کریں گے
08:36جو ایران سے یونان پر حملہ کے دوران
08:39یونانی عبادتگاہوں کو نجس کرنے میں سرزد ہوئی تھی
08:43537 قبل مسیح میں کورنت کے مقام پر لیگ کا دوسرا ایجلاس منقد ہوا
08:49جس میں بقاعدہ ایران کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا
08:53اور فلپ نے اپنے ایک جرنیل کو ایشیا پر حملہ کرنے کے لیے روانہ کیا
09:03اس درانے ایک محلاتی سازش کے انکشاہ پر
09:06فلپ نے اپنی ملکہ اولمپیاس اور اپنے بیٹے سکندر کو
09:11اپنے دارل حکومت پہلا سے جلا وطن کر دیا
09:14لیکن باپ اور بیٹا ایک دوسرے سے زیادہ دیر تک جدا نہ رہ سکے
09:18اور جلد ہی دونوں کے معوین صلاح ہو گئی
09:26موسیقی
Comments
Historicals1
Creator
The do-or-die unit, made of 300 elite warriors, fought bravely against Philip II of Macedon and his young son Alexander the Great.

Recommended